اب سعودی خواتین بھی ملک کی ترقی میں حصہ دار

وسیم احمد
p-8سعودی عرب ایک قدامت پسند ملک ہے ۔یہاں کئی معاملوں میں مرد و عورت میں تفریق برتی جاتی ہے۔آج پوری دنیا میں معاشرے کی ترقی میں خاتون کو حصہ دار بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔اس کا مثبت نتیجہ سامنے آرہا ہے۔ عورتیں ہر میدان میں آگے بڑھ رہی ہیں اور ملک و قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔لیکن سعودی عرب میں اب تک عورتوں کی حصہ داری کو معیوب سمجھا جاتا رہا ہے جبکہ خواتین کی صلاحیتوں کا استعمال کرکے سعودی حکومت دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت بنا سکتی تھی کیونکہ اس کے پاس تعلیم یافتہ خاتون کی بہتات ہے۔آکسفورڈ اسٹریٹیجک کونسل کے مطابق 28 ملین سعودی آبادی کی 45 فیصد خواتین پر مشتمل ہے۔ ان 45 فیصد خواتین میں 57 فیصد اعلی تعلیم یافتہ ہیں جن کی صلاحیتوں کا استعمال کرکے ایک اعلیٰ سماج کو جنم دیا جاسکتا ہے ۔
اس اہم نکتے کوسابق فرمانروا مرحوم شاہ عبد اللہ نے محسوس کیا اور 2013 کی اصلاحات میں انہوںنے خواتین کی حصہ داری کا ضابطہ بنایا اور اپنے انتقال سے قبل جنوری 2015 میں 30 خواتین کو اعلی ترین مشاورتی کونسل کا رکن بنایا ۔سعودی عرب کی تاریخ میں ان کا یہ ایک اہم قدم تھا۔ان کے اس فیصلے کے نتیجے میں آج سعودی عرب میں خواتین کو ملک کی تعمیر میں حصہ داری کا حق ملا ہے ۔کئی ایسے میدان جہاں انٹری کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا ،اب اس میدان میں خواتین اپنی صلاحیتوں کا جوہر دکھا رہی ہیں۔ ابھی گزشتہ ہفتہ سعودی عرب میں میونسپل کونسل کا الیکشن ہوا ہے۔ مذکورہ قانون کے مطابق اس انتخاب میں خواتین کو حق رائے دہی کے علاوہ بحیثیت امیدوار کھڑی ہونے کا بھی حق دیا گیا ۔لہٰذا اس الیکشن میں 5938 مردوں کے ساتھ ساتھ 978 خواتین امیدواروں نے بھی حصہ لیا۔اس الیکشن کے لئے 13.5لاکھ مردوں کے ساتھ ایک لاکھ 30 ہزار خواتین کے ووٹ رجسٹر کئے گئے تھے۔کونسل کے اس انتخاب میں مجموعی طور پر 2100 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ بقیہ 1050 نشستوں پر شاہ کی منظوری سے تقرریاں کی گئی۔اس انتخاب میں مکہ صوبہ سے ایک خاتون امیدوار سلمیٰ بن حزاب العتیبی نے کامیابی حاصل کی۔بتایا جاتا ہے کہ ان کے علاوہ دیگر تین خواتین جوف اور تبوک کے شہروں سے کامیابی حاصل کی ہیں۔
سعودی عرب کی تاریخ میں یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے ۔اس تبدیلی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کی مرکزی وزیر نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ فرمانروا شاہ سلمان اور سعودی عرب کے عوام کو اس قابل تحسین کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے اپنے پیغام میں کویت اور سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے لئے اپنی کوششوں کو بتاتے ہوئے مرکزی وزیر نجمہ ہپت اللہ نے کہا کہ انٹر پارلیمنٹری یونین ( آئی پی یو) کی صدر رہتے ہوئے 2002 میں انہوں نے امیر کویت سے ملاقات کی تھی اور ان کے ملک کو آئی پی یو کی رکنیت دی تھی۔یہی نہیں 2003 میں سعودی فرمانروا شاہ عبد اللہ کی دعوت پر شوریٰ کونسل کے کام کاج کا جائزہ لینے گئیں۔ڈاکٹر ہپت اللہ نے شاہ سے ملاقات کے دوران سعودی عرب میں خواتین کے حقوق کے تعلق سے اقدامات کرنے کی سفارش کی تھی اور اسی سفر کے دوران سعودی عرب کے شوریٰ کونسل کو آئی پی یو کی رکنیت کی بھی سفارش کی کی تھی جس کے نتیجہ میں کویت کے بعد سعودی عرب آئی پی یو کارکن بنا تھا۔
بہر کیف سعودی عرب کا یہ قدم بہت ہی مستحسن ہے ۔ اس فیصلے کو عمل میں لانے میں ہندوستانی حکومت کا بھی اہم رول رہا ہے جیسا کہ مرکزی وزیر نجمہ ہپت اللہ کی تحریر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سعودی وزارت محنت نے آئی ایل او کے لیبر قانون کی دفعہ 149 کے مطابق ملک میں خواتین کو برابری کی بنیاد پر ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی ضمانت دی ہے بشرطیکہ اختیار کیا جانے والا پیشہ خواتین کے لئے خطرناک نہ ہو۔وزیر محنت کے مطابق مملکت میں سعودی خواتین مکمل بااختیار ہیں۔ وہ آزادانہ انتظامی عہدوں پر کام اور اپنا کاروبار کر سکتی ہیں۔ وہ تمام شعبوں میں کلیدی عہدوں پر کام کر سکتی ہیں۔ وزارت کی طرف سے مزید کہا گیا کہ خواتین سرکاری شعبے اور سیاسی معاملات میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ خواتین بلدیہ کا انتخاب لڑ سکتی ہیں اور ووٹ دے سکتی ہیں۔ وہ مملکت کے اعلی پالیسی ساز ادارے ‘شوری کونسل’ اور دیگر اہم اداروں کی رکن ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ خواتین کو آگے بڑھانے کے لئے سعودی حکومت نے مشرقی صوبہ ھفوف میں ایک ‘خواتین دوست’ شہر بسانے کا منصوبہ بنا رکھا ہے تاکہ مذہبی تعلیمات کا لحاظ رکھتے ہوئے خواتین کے لئے ملازمتوں کے مواقع بڑھایا جاسکے۔ نیز وزارت محنت نے ایک خصوصی پروگرام کے تحت خواتین کے زیر جامہ فروخت کرنے والی دکانوں پر سیلز گرلز مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ خواتین کے لئے زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کئے جاسکیں۔
سعودی عرب نے خواتین کو انتخاب میں حصہ دار بنانے کے علاوہ دیگر معاملوں میں بھی کئی اصلاحات کی ہیں۔ مثلاً پہلے کسی بھی نصابی کتاب میں خاتون کی تصویر چھاپنے کی اجازت نہیں تھی۔ اگر تصویر سے کچھ سمجھانا ہوتا تو صرف خاتون کا خاکہ ہی بنایا جاسکتا تھا لیکن حالیہ اصلاحات کے بعد انگریزی کے نصابوں میں نقاب پوش خاتون کو چھاپنے کی اجازت دی گئی ہے۔ظاہر ہے یہ ایک اچھی پیش رفت ہے اور امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں اس معاملے میں مزید گنجائش پیدا کی جائے گی۔
لیکن ابھی بھی سعودی عرب میں خواتین کو آگے لانے کے لئے کئی اہم قدم اٹھانے باقی ہیں۔ جب تک اس پر عمل نہیں ہوگا اس وقت تک خواتین کو قدم قدم پر مشکلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر وہاں کسی بھی خاتون کو ڈرائیونگ کی اجازت نہیں ہے۔جبکہ گاڑی چلانا بہت سارے مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے۔اس حوالے سے اب تک بہت سی مہم چلائی جا چکی ہے۔2009 میں انٹرنیٹ پر چلنے والی مہم میں نہ صرف عورتوں کو گاڑی چلانے کا حق دینے پر زور دیا گیا تھا بلکہ انہیں مرد سرپرست سے پوچھے بغیر ملازمت یا اپنا کاروبار قائم کرنے کی اجازت، طلاق لینے کے حق تک زیادہ رسائی، حجاب یا ہیڈ سکارف لینے کو ذاتی فیصلہ قرار دینے اور بچپن میں شادی کرنے کے رجحان پر پابندی لگانے پر بھی ا±کسایا گیا تھا۔
ڈرائیونگ کی اجازت نہ ہونے کی وجہ نہ صرف عام خواتین بلکہ عوام کی منتخب خاتون کو بھی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوام کا منتخب نمائندہ 24 گھنٹہ عوام کی خدمت کے لئے وقف ہوتا ہے۔ اگر کسی ایمرجینسی کے وقت اس منتخب خاتون نمائندہ کو کہیں جانا پڑے تو وہ اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرکے موقع پر نہیں جاسکتی ہیں ۔یہی نہیں،سعودی قانون کے مطابق گاڑی میں بیٹھتے وقت کسی رشتہ دار مرد کا ان کے ساتھ ہونا بھی لازمی ہوگا۔ ظاہر ہے یہ صورت حال ان کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں رکاوٹ پیدا کریں گی۔لہٰذا خاتون کو ڈارئیونگ لائسنس کے تعلق سے بھی سعودی حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ ورنہ الیکشن میں حصہ داری کے باجود افادیت معدوم رہے گی۔خواتین کو لائسنس دیئے جانے کے تعلق سے کئی تنظیمیں آواز اٹھارہی ہیں۔
حالیہ الیکشن میں خاتون امیدوار کی جیت کا اوسط بہت کم ہے۔ اگرچہ ملک میں خاتون کی حصہ داری کا یہ ابتدائی مرحلہ ہے اور اس مرحلے میں معمولی تعداد میں ہی سہی، ان کا کامیاب ہوجانا بڑی بات ہے ۔لیکن اس کم تعداد کا محرک سعودی عرب کا ایک قانون بھی ہے اور وہ قانون ہے انتخابی مہم کے دوران خواتین امیدواروں کا براہ راست مرد ووٹروں سے بات کرنے کی اجازت نہ ملنا۔ظاہر ہے ایک امیدوار جب انتخابی میدان میں اترتا ہے تو وہ ووٹروں کو اپنی پالیسی اور طریقہ کار کے بارے میں بتاتا ہے۔مگر جب اسے تمام ووٹروں سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی تو وہ اپنے ووٹروں تک اپنی بات کیسے رکھ پائے گا۔یہی رکاوٹ سعودی عرب کے حالیہ الیکشن میں خاتون امیدواروں کو پیش آئی۔
اس کے باوجود سعودی خواتین جوحاصل کر چکی ہیں اس کی تعریف ہونی چاہئے اور خواتین کے حقوق کے حصول اور ان حقوق کے نفاذ کے لئے ادارے اور طریقہ کار کی تشکیل میں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ اپنی آزادی کے لئے ان کی کوششوں کو سراہنا اور اپنی راہ کی قیادت خود کرنے کی اجازت دینا بہت ضروری ہے ،تاکہ ملک میں عورتوں کی دشواریوں کے بارے میں فیصلہ وہ خود سے کرسکیں۔امید ہے کہ بہت جلد انہیں دیگر ملکوں کی طرح پورے اختیارات ملیں گے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کرکے ملک و قوم کی تعمیر کے مواقع دیئے جائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *