اب تعلیم بھی غیر ملکیوں کے حوالے

سنسکرت میں ایک شلوک ہے ،اس شلوک کا مطلب ہے کہ علم سے تواضع،تواضع سے اہلیت،اہلیت سے دولت،دولت سے مذہب اور مذہب سے راحت ملتی ہے۔لیکن یہ ماضی کی بات تھی۔ اب جو تیاری چل رہی ہے، اس کے مطابق تعلیم اب صرف دولت کمانے کا ذریعہ ہی بنے گی۔ تعلیم اب صرف ہنر دینے کا ہی ذریعہ بنے گی ۔جیسے آپ انگریزی بولنا تو سیکھ جائیں گے لیکن انگریزی ادب کو سمجھنا، پڑھنا آپ کے بس کی بات نہیں ہوگی۔ اعلیٰ تعلیم کے سیکٹر میں اگر ہندوستان ڈبلیو ٹی او سے کئے گئے اپنے کمٹمنٹ کو پورا کرتا ہے تو یقین مانئے ،اس ملک میں علم حاصل کرنے اور دان کرنے کی نہیں، کاروبار کی چیز بن کر رہ جائے گی۔

ششی شیکھر
P-1تعلیم ہر ایک کا حق ہے۔تعلیم قومی تعمیر کی بنیاد ہے،لیکن دنیا کی نظر میں یہی تعلیم ایک کارو بار ہے۔ہندوستان کی 125 کروڑ آبادی، دنیاکے لئے محض ایک بازار ہے۔یہاں کے کھیت، یہاں کے کسان، یہاں کی ہر ایک چیز دنیاکے لئے صرف ایک تجارتی چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ گزشتہ  25سالوں میں دھیرے دھیرے سب کچھ عالمی مارکیٹ کے ہاتھوں میں چلا گیا۔باقی رہ گئی تھی تعلیم۔اب عالمی تجارتی تنظیم ( ڈبلیو ٹی او) نے جنرل اگریمنٹ آن ٹریڈ ان سروسز (گیٹس) کے تحت تعلیم کو بھی تجارتی سروس سے مشروط کردیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح سے دنیا بھر کی کمپنیوں کے لئے ہندوستان کے کھیت و کھلیان کے راستے کھول دیئے گئے تھے، اب اسی طرح سے ہندوستان کی اعلیٰ تعلیم کا سیکٹر بھی ان غیر ملکی کمپنیوں کو منافع کمانے کے لئے کھول دیاجائے گا۔ ظاہر ہے،جب بات منافع کمانے کی ہوگی تو پھر کیسی اور کتنی تعلیم آپ کے بچوں کو ملے گی؟اس کا آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
عالمی تجارتی تنظیم کے تین کثیر جہتی معاہدے ہیں جس میں ایک اہم سمجھوتہ ہے جنرل اگریمنٹ آن ٹریڈ ان سروسز ( گیٹس) ۔ گیٹس کے تحت تعلیم کو بھی ایک سروس مانا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ عالمی تجارتی تنظیم میں شامل ملک ،ایک دوسرے کے یہاں تعلیم کا کارو بار کرسکتے ہیں۔ اپنے اپنے کالج، یونیورسٹی کھول سکتے ہیں۔ اپنے حساب سے نصاب طے کرسکتے ہیں۔ وہ یہ طے کرسکتے ہیں کہ اس ملک کے بچوں کو کیا پڑھانا ہے ،کیا نہیں پڑھانا ہے۔ اب سوال ہے کہ ان سب کے بیچ ہندوستان کا اس میں کیا کردار ہے اور ان سب سے ہندوستان پر کیا اثر پڑے گا ۔ہندوستان کا تعلیمی نظام کیسے متاثر ہوگا اور ہندوستان کا سماجی، اقتصادی اور تعلیمی طور پر محروم طبقہ کیسے اس پورے عمل سے متاثر ہوگا۔
اس پوری کہانی کا آغاز ہوتا ہے 2001 سے۔ قطر کی راجدھانی دوحہ میں منعقد عالمی تجارتی تنظیم کے وزراءسطح کی کانفرنس سے۔ اس کانفرنس میں اعلیٰ تعلیم کے دروازے کو کارو بار کرنے کے لئے کھولنے پر بات چیت ہوئی۔ کہا گیا کہ اس چرچا کو ہم آگے جاری رکھیں گے اور اس پر اتفاق رائے بنانے کی کوشش کریں گے کہ عالمی تجارتی تنظیم میں شامل ملک اپنے یہاں اعلیٰ تعلیم میں کارو بار کی منظوری دے۔ اس تجویز پر ہندوستان ، چین سمیت تقریباً 60 ممالک رضامندی دے چکے ہیں۔ جبکہ یہ پروویژن ہے کہ ہندوستان یا کوئی بھی ملک چاہے تو اس سمجھوتے سے باہر رہ سکتا ہے۔جیسے افریقن اور یوروپین یونین نے سیدھے سیدھے اس سمجھوتے کو ماننے سے انکار کردیا اور کہا ہے کہ ہم اپنے یہاں کی اعلیٰ تعلیم کو عالمی تجارتی تنظیم کے حوالے نہیں کریں گے۔ویسے ہندوستان اور چین کے ذریعہ اس سمجھوتے پر دی گئی رضامندی میں فرق ہے۔ ہندوستان کے مشہور ماہر تعلیم انیل سدگوپال بتاتے ہیں کہ جہاں ہندوستان نے گیٹس کے سارے پروویژنوں کو ماننے کی بات کی ہے وہیں چین نے غیر مشروط (کوئی پابندی نہیں ) کا متبادل اپنے لئے محفوظ رکھا ہے۔فی الحال یہ جاننا ضروری ہے کہ ہندوستان کے ذریعہ گیٹس کے پروویشنز کو ماننے اور اپنی اعلیٰ تعلیم ،عالمی تجارتی تنظیم کے حوالے کرنے کا مطلب کیا ہے؟گیٹس کے مطابق اس سمجھوتے کے تحت جو بھی ملک اپنے یہاں تعلیم میں کاروبار کی منظوری دے گا اسے اپنے یہاں اعلیٰ تعلیم میں انٹری کرنے والے کارپوریٹ گھرانوں (غیر ملکی سرمایا کار سمیت ) کو مناسب زمین مہیا کرانا ہوگا۔

عالمی تجارتی تنظیم کے تین کثیر جہتی معاہدے ہیں جس میں ایک اہم سمجھوتہ ہے جنرل اگریمنٹ آن ٹریڈ ان سروسز ( گیٹس) ۔گیٹس کے تحت تعلیم کوبھی ایک سروس مانا گیاہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ عالمی تجارتی تنظیم میں شامل ملک ایک دوسرے کے یہاں تعلیم کا کارو بار کرسکتے ہیں۔اپنے اپنے کالج، یونیورسٹی کھول سکتے ہیں۔ اپنے حساب سے کورس طے کر سکتے ہیں۔ وہ یہ طے کرسکتے ہیں کہ اس ملک کے بچوں کو کیا پڑھانا ہے ،کیا نہیں پڑھانا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سب کے بیچ ہندوستان کا اس میں کیا کردار ہے اور ان سب سے ہندوستان کیسے متاثر ہوگا۔ ہندوستان کا تعلیمی نظام کیسے متاثر ہوگا اور ہندوستان کے سماجی، اقتصادی اور تعلیمی طور پر محروم طبقے کیسے اس پورے عمل سے متاثر ہوںگے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہندوستان میں کوئی غیر ملکی کمپنی اپنی یونیورسٹی کھولتی ہے تو اسے ہندوستان کی دیگر یونیورسٹیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے یکساں مواقع ،کامن لینڈ مہیا کرنا ہوگا۔ اس بات کو سمجھاتے ہوئے ہندوستان کے مشہور ماہر تعلیم انیل سد گوپال کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آج اگر ہندوستان میں یونیورسٹی گرانٹ کمیشن (یو جی سی) دلی یونیورسٹی کو 100کروڑ کا گرانٹ عمارت بنانے، نیا ڈھانچہ تیار کرنے، ریسرچ کے لئے ،تعلیم کے لئے دیتاہے تو اسے اس نجی یونیورسٹی کو بھی یہی سہولت دینی ہوگی۔ لیکن چونکہ یہ ممکن نہیں ہے،اس لئے یو جی سی یکساں سہولت مہیا کرانے کے لئے دلی یونیورسٹی کو بھی یہ سہولت دینی بند کردے گی۔ انیل سد گوپال بتاتے ہیں کہ مستقبل میں یہ بھی ممکن ہے کہ سرکاری کالجوں یا یونیورسٹیوں کو اپنا فنڈ خود سے اکٹھا کرنے کے لئے کہا جائے گا۔ ان سے کہا جائے گا کہ آپ کے پاس جو اضافی زمین ہے ،اسے بیچ کر فیس بڑھا کر اپنا خرچ پورا کیجئے ۔تاکہ گیٹس سمجھوتے کے تحت سبھی اداروں کو آپس میں مقابلہ کرنے کے لئے یکساں زمین مل سکے۔
ظاہر ہے ،اگر ایسا ہوتا ہے تو مستقبل میں یہ ممکن ہے کہ سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو تنخواہ کے بھی لالے پڑ جائیں۔ اگر کل کو یہ سرکاری ادارے فنڈز جمع کرنے کے لئے خود پر منحصر ہوجاتے ہیں تو ان کا کورس بھی مارکیٹ کنٹرولڈ ہوجائے گا۔اس بات کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ آنے والے وقت میں ان اداروں کو مارکیٹ کے تقاضے کے مطابق انتظام کرنا پڑے گا۔ ظاہر ہے،مارکیٹ کو ہنر مند یا نیم ہنر مند کارکن چاہئے نہ کہ اسکالر ۔ایسے میں ان اعلیٰ سرکاری تعلیمی اداروں میں آج جو ریسرچ وغیرہ کا کام ہوتا ہے ،اس کے برعکس صرف مارکیٹ کی ضرورت کے حساب سے افراد کی فراہمی کرنی ہوگی۔ اسے ایک مثال سے سمجھ سکتے ہیں۔ مارکیٹ کو انگریزی بولنے والے لوگ چاہئے تو یہ اعلیٰ تعلیمی ادارے انگریزی ادب پڑھانے کی جگہ صرف ایسے طلباءتیار کریں گے جو صرف انگریزی بول سکیں، نہ کہ انہیں انگریزی ادب کا علم ہو۔بائیولوجی کی پڑھائی کی جگہ صرف بائیو ٹکنالوجی پڑھانے کی مجبوری ہوگی۔ انیل سد گوپال بتاتے ہیں کہ تعلیم کے تین مقصد ہوتے ہیں۔ نالج،ویلیو اور اسکیل۔ آنے والے وقت میں اگر ہندوستان کی سرکار گیٹس سمجھوتے کو اپنا لیتی ہے تو تعلیم میں سے نالج اور ویلیو ختم ہو جائے گی اور صرف بچے گا اسکیل۔اسکیل یعنی ہنر مند اور نیم ہنر مند کارندوں کو پیدا کرنا۔
یو پی اے حکومت نے عالمی تجارتی تنظیم کے اس پروویژن کے مطابق ملک کے قانونی ڈھانچے کو بدلنے کے لئے اعلیٰ تعلیم سے متعلق 6بل پارلیمنٹ میں پیش کئے تھے۔ اس میں غیر ملکی یونیورسٹیوں کو منظوری دینے سے متعلق بل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان بلوں میں یو جی سی، میڈیکل کاﺅنسل آف انڈیا، اے آئی سی ٹی ای، این سی ٹی ای، بی سی آئی کو ہٹانے کی بھی بات تھی، تاکہ ان ریگولیٹری اداروں کو ختم کر کے غیر ملکی سرمایا کاروں کے لئے آسان راستہ تیار کیا جاسکے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے ایک بھی بل پاس نہیں ہوا۔ لیکن اس طرح کے بلوں کو موجودہ سرکار کے ذریعہ پاس کرائے جانے کا امکان تب تک بنا ہوا ہے جب تک کہ سرکار خود کو ایسے سمجھوتے سے خود کو پوری طرح الگ نہ کرلیں ۔اس طرح کے خدشات کو اور زیادہ طاقت تب ملتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ موجودہ مرکزی سرکار دلی یونیورسٹی یا دیگر یونیورسٹیوں میں ’چوائس بیسٹ کریڈٹ سسٹم ‘ تھوپتی ہے ، یکساں یونیورسٹی قانون بننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسا کہا جارہا ہے کہ یکساں یونیورسٹی کا پروویژن عالمی تجارتی تنظیم یعنی ڈبلیو ٹی او کے ایجنڈے کا ہی ایک حصہ ہے۔ حال ہی میں یو جی سی کے ذریعہ نیٹ نان اسکالر شپ کو بند کرنے کا فیصلہ بھی ڈبلیو ٹی او کے ایجنڈہ کے مطابق تعلیم پر عوامی اخراجات کو گھٹانے کے پروویژنوں کے مطابق ہی لیا گیا فیصلہ مانا  جارہا ہے۔

 

یو پی اے سرکار نے عالمی تجارتی تنظیم کے اس پروویژنوں کے مطابق ملک کے قانونی ڈھانچے کو بدلنے کے لئے اعلیٰ تعلیم سے متعلق 6 بل پارلیمنٹ میں پیش کئے تھے۔ ان میں غیر ملکی یونیورسٹیوں کو منظوری دینے سے متعلق بل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان بلوں میں یو جی سے ،میڈیکل کاﺅنسل آف انڈیا ، اے آئی سی ٹی ای، این سی ٹی ای، بی سی آئی کو ہٹانے کی بھی بات تھی تاکہ ان ریگولیٹری اداروں کو ختم کر کے غیر ملکی سرمایا کاروں کے لئے آسان راستہ تیار کیا جاسکے۔یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے ایک بھی بل پاس نہیں ہوا۔ لیکن اس طرح کے بلوں کو موجودہ سرکار کے ذریعہ پاس کرائے جانے کا امکان تب تک بنا ہوا ہے جب تک کہ سرکار خود کو ایسے سمجھوتے سے خود کو پوری طرح الگ نہ کرلے۔

بہر حال یہ سب کب سے اور کیسے نافذ ہو تا ہے، اس کے بارے میں فی الحال تو کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ڈبلیو ٹی اے کے دوحہ مذاکرات کے دوران ہی ہندوستان نے ابھی اگست 2005 میں اعلیٰ تعلیم میں غیر ملکی مارکیٹ کی انٹری کو لے کر اپنے عزم کا اظہار کردیا تھا ۔حالانکہ ڈبلیو ٹی اے میں ابھی تک کاروباری سمجھوتے ( کارو بار میں ہی تعلیم بھی شامل ہے) ابھی تک کسی آخری نتیجے تک نہیں پہنچ پائے ہیں۔ لیکن 2005 کے بعد سے ہی شاید کہ اس سے پہلے سے ہی سرکاریں مسلسل اعلیٰ تعلیم میں غیر ملکی سرمایاکاری لگے اور غیر ملکی کمپنیاں یہاں کالج و یونیورسٹیاں کھول سکیں۔ اس کے لئے کام کرتی رہی ہیں۔کئی ساری کمیٹیوں نے بھی اس کی وکالت کی۔ مثلاً سیم پترودا کی صدارت میں بنے ’نیشنل نالج کمیشن ‘ نے کہا تھا کہ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں بھاری سرمایا کاری کرنے کے لئے تقریباً 190بلین امریکی ڈالر کی ضرورت ہے ،تاکہ ہدف کو پورا کیا جاسکے اور اس کے لئے کمیٹی نے ایف ڈی آئی کے ذریعہ فنڈ اکٹھا کرنے کی تجویز دی تھی ۔ظاہر ہے ان سب کا مقصد یہ تھا کہ سرکار دھیرے دھیرے سب کو یکساں تعلیم دینے کی اپنی جوابدہی سے آزاد ہوتی چلی جائے گی اور اس کی جگہ ملکی و غیر ملکی پرائیویٹ کمپنیاں تعلیم کا کارو بار کر سکیں گی ۔
بہر حال سرکار اور ڈبلیو ٹی اے کی اس کوشش کی دنیا سمیت پورے ہندوستان میں مخالفت ہورہی ہے۔ ہندوستان میں اس کے خلاف مختلف نظریات ،مختلف خیالات کی تنظیمیں شامل ہیں۔ ” اکھل بھارتیہ شکشا ادھیکار منچ“ کے بینر تلے مختلف صوبوں کی سینکڑوں تنظیمیں اعلیٰ تعلیم کو ڈبلیو ٹی او کے حوالے کرنے کی مخالفت کررہی ہیں۔ تلنگانہ سے شروع ہوئی مخالفت کا یہ سلسلہ دسمبر کے مہینے میں دہلی تک پہنچا ،جہاں جنتر منتر پر پورے ملک سے آئی تنظیموں نے سرکار سے ڈبلیو ٹی او میں اعلیٰ تعلیم کے کمرشیلائزیشن کے تئیں دکھائی گئی اپنی دلچسپی کو فوری طور پر واپس لینے کی مانگ کی ۔” اکھل بھارت شکشا ادھیکار منچ“ کا ماننا ہے کہ اگر غیر ملکی یونیورسٹیاں ملک میں نالج کی تشہیر یا پھرنالج کے تبادلے کے لئے صرف آئیں اور ان کا مقصد صرف آپس میں تعلیمی اور ثقافتی رشتے کو مضبوط کرنا ہی ہوتا تو اس کی مخالفت کرنے کی ضرورت نہیں تھی،لیکن کہانی اتنی سیدھی نہیں ہے۔ یہاں کہانی اس سے کہیں آگے کی ہے۔ اس منچ کا کہنا ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم کے زمانے میں ہندوستان میں جو غیر ملکی یونیورسٹی آئے گی وہ صرف اور صرف منافع کمانے کے لئے کام کریں گے نہ کہ عوامی خدمت کے لئے ۔ایسے قانون کی آڑ میں گھٹیا سطح کی غیر ملکی یونیورسٹیاں بھی اپنی شاخیں کھولیں گی ،بڑی فیس وصول کریں گی اور منافع کمائیں گی۔
سماج پر اثر
اگر ہمارے ملک کی اعلیٰ تعلیم میں یہ معاہدہ نافذ ہو جاتا ہے تو اس کا سماج پر کیا اثر پڑگے گا ؟اس سلسلے میں انیل سد گوپال کہتے ہیں کہ پہلے سے ہی ہمارے ملک میں او بی سی طبقہ کے بمشکل دس فیصد بچے بارہویں تک پڑھائی کرپاتے ہیں۔ آدیواسیوں اور اقلیتوں کی تعداد اس سے بھی کم ہے۔ اگر اعلیٰ تعلیم میں غیر ملکی مداخلت ہوتی ہے تو یہ اتنی مہنگی ہو جائے گی کہ اس کا خرچ اٹھا نا سماج کے پسماندہ ، غریب ، محروم طبقے کے لئے اور زیادہ مشکل ہو جائے گا۔ ظاہر ہے، گیٹس پروویژنوں کے مطابق جب ملک میں سرکاری اعلیٰ تعلیمی اداروں کی بھی خود پر منحصر ہونے کی مجبوری ہوگی، تب پڑھائی کی فیس بڑھے گی۔ابھی تو سرکاری گرانٹ یا سبسڈی کی وجہ سے عام آدمی دلی یونیورسٹی یا جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پڑھنے کی ہمت بھی کر پاتاہے ،لیکن تعلیم کے مکمل کاروباری اور نجکاری کی صورت میں اعلیٰ تعلیم عام آدمی کی حیثیت سے باہر کی چیز ہو جائے گی۔
کیسے کیسے پروویژن
عالمی بینک نے حال ہی میں انٹرنیشنل مارکیٹ کے لئے کئی ریگولیٹرز اور اداروں کی جگہ آزاد ریگولیٹری اتھارٹی (آئی آر اے ) ،سنگل وِنڈو کلیئرنس کا مشورہ دیا ہے۔مثال کے لئے ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم سے جڑے اداروں اور ریگولیٹری اتھارٹی میں یو جی سی، اے آئی سی ٹی ای، این سی ٹی ای، بار کاﺅنسلنگ آف انڈیا، میڈیکل کاﺅنسل آف انڈیا وغیرہ شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اتنے سارے اداروں کے ہونے کی وجہ سے انٹرنیشنل مارکیٹ کو اپنا کارو بار چلانے میں مشکلیں آئیں گی، اس لئے انہیں ختم کر کے ایک اکلوتا ادارہ بنا دیا جائے۔ ان اداروں کو ہٹانے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ سرکاری اداروں سے مقابلہ کرنے میں غیر ملکی اداروں کو آسانی ہوگی۔ سرکار اور متعدد کمیٹیوں کی طرف سے اس بارے میں پرپیگنڈے بھی شروع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یشپال کمیٹی نے کہا ہے کہ اس کی جگہ ایک ہی ادارہ نیشنل کاﺅنسلنگ آف ہائر ایجوکیشن ریسریچ بنایا جائے،وہیں نیشنل انالیج کمیشن نے بھی اسی طرح کا ایک ادارہ بنانے کی بھی تجویز دی ہے۔ 2014 کے اپنے انتخابی منشور میں بھی بی جے پی نے اعلیٰ تعلیم کی خوبیوں کو بہتر بنانے کے لئے کئی اداروں کے بجائے ایک اعلیٰ اختیاراتی مرکزی انسٹی ٹیوٹ بنانے کی بات کہی تھی۔ انیل سد پال بتاتے ہیں کہ یہ سب کرنا خطرناک ہوگا۔اس سے اعلیٰ تعلیم کی برتری کو خطرہ پہنچے گا۔ آگے چل کر ایسی صورت میں ہماری سرکاروں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے کوئی نیا منصوبہ لانے سے پہلے ڈبلیو ٹی او ٹریڈ ریگولیشن کاﺅنسل (بزنس کاﺅنسل ریگولیشن) کے پاس جانا ہوگا۔ ایک ٹریڈ پالیسی ریویو میکانزم ہر سال ممبر ملکوں کی پالیسیوں کی جانچ کرے گا اور تجویز دے گا۔ ظاہر ہے ان سب کا مطلب سیدھے سیدھے اپنے ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو ڈبلیو ٹی او کے ہاتھوں گروی رکھنے جیسا ہوگا۔

 

دنیا کے بازار کو سستے ہنر مند نیم ہنر مند کارندے چاہئیں۔ انہیں ایسے کارندے نہیں چاہئے جو سوال کر سکے۔ اس لئے ہماری سرکار کہتی ہے کہ ہم تمہیں ہنر سکھائیں گے ،غریبوں کے بچے ابھی بھی اعلیٰ تعلیم نہیں حاصل کر پارہے ہیں۔اس لئے غریب بچوں کو ہنر مند کرکے دنیا کے بازاروں کی ضرورت کو پوری کرنے کا کام کیا جائے گا۔ ان سب کے لئے منموہن سنگھ کی سرکار کے وقت سے ہی پالیسیاں بنائی جارہی تھی۔ اب نریندر مودی انہی پالیسیوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔یہ سب ڈبلیو ٹی او کے ایجنڈا کو پورا کرتا ہے۔
انیل سدروپال، ماہر تعلیم

 

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *