مودی سرکار وقف بورڈ کو نہیں دے رہی ہے پیسہ

چوتھی دنیا بیورو
p-5bمودی سرکار اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے مفاد کی باتیں خوب کرتی ہے،لیکن دیکھیں تو مودی سرکار کا یہ دعویٰ کھوکھلا ثابت ہورہا ہے۔ مودی سرکار نے اپنے ڈیرھ سال کے دور کار میں مسلمانوں کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔ نریندر مودی کے پاس مسلمانوں میں بنی ان کی خراب اور غیر اطمینان بخش شبیہ کو سدھارنے کا بڑا موقع وزیر اعظم کی شکل میں ملا تھا،لیکن مسلمانوں کے تئیں ان کے کاموں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اپنی شبیہ نہیں سدھارنا چاہتے ہیں۔
بی جے پی کے لیڈروں اور وزیروں کے ذریعہ مسلمانوں کے بارے میں بے حد قابل اعتراض ریمارکس کئے گئے۔ اس پر بھی وزیر اعظم خاموش رہے۔ وزیر اعظم کہتے تو ضرور ہیں کہ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘، لیکن یہ صرف ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے۔یہ بات لوک سبھا میں اقلیتی معاملوں کے وزیر مختار عباس نقوی سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب سے پتہ چلتا ہے۔ نقوی کے ذریعہ لوک سبھا میں دیئے گئے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے کی مودی سرکار کے ذریعہ وقف بورڈ کے منصوبوں کے لئے کوئی فنڈ جاری نہیں کیا گیا اور ان منصوبوں کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا ہے۔
اقلیتی معاملوں کے اسٹیٹ منسٹر مختار عباس نقوی نے راجستھان کے اودے پور کے اپنے ہی ممبر پارلیمنٹ ارجن لال مینا کے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دو منصوبوں ریاستوں کے وقف بورڈ کے ریکارڈ کے کو کمپیوٹرائز کرنے اور ریاستی وقف بورڈ کے اصلاحات کے لئے اور ایک اور نن پلان شہری وقف جائدادوں کی ترقی کے تحت وقف بورڈ کو فنڈ فراہم کیا جاتاہے۔ وزارت برائے اقلیتی امور کے ذریعہ جو اعداد و شمار فراہم کرائے گئے ہیں اس سے پتہ چلا کہ مودی سرکار کے ذریعہ وقف بورڈ کو ابھی تک کوئی فنڈ فراہم نہیں کرایا گیا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے یو پی اے سرکار نے کم سے کم ریاستی وقف بورڈ کے ریکار ڈ کو کمپیوٹرائز کرنے کے لئے 89.70 لاکھ اور 40.09لاکھ روپے بالترتیب 2012-2013 اور 2013-2014 کے لئے جاری کئے تھے۔
حالانکہ سال 2014-2015 کے لئے کوئی فنڈ الاٹ نہیں کیا گیا ہے ۔ وزارت نے کہا ہے کہ کمپیوٹرائز کے کام کو آﺅٹ سورس کیا ہے اور مرکزی وقف بورڈ کونسل کے ذریعہ کام کیا جارہا ہے۔ جہاں تک دوسرے منصوبوںکے تحت ریاستی وقف بورڈ کے اصلاحات کا تعلق ہے تو سرکار نے اس سال کے لئے بھی کوئی فنڈ نہیں جاری کیا ہے جوکہ تشویش کی بات ہے ۔ یو پی اے سرکار نے 2014-15 کے لئے الاٹ 7کروڑ روپے کے بدلے 3.95 کروڑ روپے جاری کئے تھے۔ وزارت نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ منصوبہ 2014-15 میں شروع کیا گیا تھا ،لیکن لوک سبھامیں 5اگست 2015 کو دیئے گئے جواب سے پتہ چلتا ہے کہ اس منصوبے کے لئے یو پی اے سرکار نے 5کروڑ روپے اور 7کروڑ روپے بالترتیب 2012-2013اور 2013-2014 کے لئے الاٹ کئے تھے، حالانکہ اس فنڈ کا پوری طرح استعمال نہیں کیا گیا۔
نان پلان شہری وقف جائداد کی ترقی، جس کا کام مرکزی وقف کونسل کے ذریعہ کیا جارہا ہے۔ اس کے لئے گزشتہ سرکار کے مقابلے میں مودی سرکا ر نے بہت کم فنڈ الاٹ کیا ہے۔ کیرل اور کرناٹک ایسے دو صوبے ہیں ،جن کو اس منصوبے کے تحٹ زیادہ فائدہ ملا ہے۔ اس رپورٹ سے مودی سرکار کے دعوﺅں کی سچائی کا پتہ چلتا ہے کہ وقف بورڈ کو اس کے منصوبوں کے لئے کوئی فنڈ فراہم نہیں کیا گیا۔بلکہ یو پی اے سرکار کے ذریعہ جو فنڈ فراہم کرایا گیا تھا اس میں بھی کٹوتی کر دی گئی۔
آخر وقف بورڈ کیا ہے؟وقف ایک عربی لفظ ہے۔جس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ جائداد جو اللہ کے نام پر دی گئی ہو۔ تاکہ اس کا استعمال غریبوں کی بھلائی کے لئے ہو سکے۔ ہندوستان میں وقف جائدادوں کا وجود 800برسوں سے ہے۔
اسی طرح سرکار مدرسوں کے جدید کاری کی بات خوب کرتی ہے۔ لیکن مدرسوں کو جاری ہونے والے فنڈ کو کم کر دیا گیا ہے۔ مودی سرکار پر وقت بوقت مسلمانوں سے تفریق کے الزام لگتے رہتے ہیں۔جہاں تک وقف بورڈ کی بات ہے تو اس کا بھی استعمال غریبوں کے لئے کیا جاتاہے۔ مودی سرکار کو چاہئے کہ وقف بورڈ کو دیئے جانے والے فنڈ کو روکنے کے بجائے اسے جاری کرے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *