جھابوا کی مات اور دس سال کا جشن

جاوید انیس
P-10bمدھیہ پردیش کی تاریخ میں دگ وجے سنگھ کے بعد شیو راج سنگھ چوہان ایسے دوسرے شخص بن گئے ہیں، جنھوں نے وزیر اعلیٰ کے طور پر ایک دہائی مکمل کی ہے۔ گزشتہ 29 نومبر کو انھوں نے وزیر اعلیٰ کے طو ر پر دس سالمکمل کےے ہیں۔ اس دوران ہوئے زیادہ تر انتخابات اور ضمنی انتخابات میں بی جے پی نے اپنی گرفت ڈھیلی نہیں پڑ نے دی اور اس کا پلڑا کانگریس کے مقابلے بھاری ہی رہا۔ لیکن رتلام جھابوا پارلیمانی ضمنی انتخاب کی ہار بی جے پی کی سب سے بڑی ہار بن چکی ہے۔ اس ہار نے دس سال کے جشن کو تو پھیکا کر ہی دیا، لیکن اپنے ساتھ یہ سوال بھی چھوڑ گئی کہ آخر اس ہار کا ذمہ دارکون ہے؟ کوئی اسے شیوراج کی ہار بتا رہا ہے، تو کوئی اسے مودی کی چمک پھیکی پڑنے اور دہلی اور بہار کے ایک سلسلے کی کڑی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
بہار کے طرز پر اپنی قومی قیادت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شیوراج سنگھ نے اس سیٹ کو اپنے وقار کا مسئلہ بنالیا تھا۔ وزیر اعلیٰ کی قیادت میں پارٹی کی ریاستی اکائی ، ان کی پوری کابینہ اور انتظامی عملہ انتخاب میںلگا تھا، لیکن اس کے باوجود ڈی ایس پی کی ملازمت چھوڑ کر سیاست میں آئے آدیواسی لیڈر کانتی لال بھوریا اپنی سیٹ ایک بار پھر واپس پانے میں کامیاب رہے اور وہ بھی قریب 90 ہزار ووٹوںکے فرق سے۔ اس جیت نے گزشتہ بارہ سالوں میں کانگریس کو پہلی بار یہ احساس کرایا ہے کہ وہ ریاستی سیاست میں ایک بار پھر مقابلے میں آسکتی ہے بشرطیکہ وہ ایسا کرنا چاہے۔
رتلام جھابوا پارلیمانی سیٹ کانگریس کا گڑھ رہی ہے، جسے پارلیمانی انتخاب 2014 میں بی جے پی کے دلیپ سنگھ بھوریا نے جیتاتھا، ان کے انتقال کے بعد ہوئے ضمنی انتخاب میں بی جے پی نے اس سیٹ کو بنائے رکھنے میں اپنی پوری طاقت جھونک دی اور کانگریس نے اسے اپنی واپسی کا دروازہ مانا۔ ایسا نہیں ہے کہ اس سے پہلے کانگریس کو واپسی کا موقع نہیں ملا، ڈمپر معاملہ، عالمی شہرت یافتہ ویاپم گھوٹالہ جیسے کئی ایسے موقعے اسے ملے تھے، لیکن اس دوران مدھیہ پردیش میںکانگریسیوں نے ایک دوسرے سے نمٹنے میں ہی سارا وقت لگا دیا۔
اس ضمنی انتخاب کو بی جے پی نے امت شاہ اسٹائل میں لڑا۔ سب سے پہلے تو الیکشن کی باگ ڈور پوری طرح سے شیوراج سنگھ نے اپنے ہاتھوں میں رکھی تھی، اکیلے وزیر اعلیٰ نے 16 دن انتخابی پرچار کیا اور 52 سبھائیں کیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں وزرائ، ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ وہاں جمے رہے۔تقریباً دو ہزار کروڑ روپے کے اعلانات کےے گئے۔ اس دوران سنگھ اور پارٹی کا کنبہ تو ساتھ تھا ہی۔ ان سب کے مرکز میں شیوراج ہی نظر آرہے تھے۔ بی جے پی امیدوار نرملا بھوریا تو فورم کے پیچھے تھیں۔ وہیں دوسری طرف کانگریس کی انتخابی مہم میں اس کے امیدوار کانتی لال بھوریا ہی مرکز میں رہے اور ریاست کے چیف ارون یادو بھی ان کا تعاون کرتے نظر آئے۔
اس الیکشن میں کوئی ایک مدعا نہیں تھا، پٹیل نوازی کا حادثہ، ویاپم گھوٹالہ، کسانوں کی خودکشی اور مہنگائی جیسے مدعے بی جے پی کے خلاف گئے۔ پٹیل نوازی ایک مقامی مدعا تھا، جس میں ہوئے دھماکے میں بڑی تعداد میںلوگ مارے گئے تھے۔ اس کے گنہگاروں پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی او راس کا لنک بھی بی جے پی کے لیڈروں سے جڑتا ہوا دکھائی دیا، گنہگاروں کو بچانے کی کوششوںکی سزا بی جے پی کو بھگتنا پڑی۔ ریاست کے پنچایتی راج کے عوامی نمائندے بھی اختیارات دےے جانے کی مانگ کو نہ مانے جانے اور بھوپال میںمظاہرہ کے دوران ہوئے لاٹھی چارج کو لے کر ناراض چل رہے تھے۔ نتیجتاً جھابوا ضمنی انتخاب میں تین سطحی پنچایتی راج سنگٹھن کے ذریعہ بی جے پی کو ہرانے کے لےے باقاعدہ فیصلہ لیا گیا۔ سنگٹھن کے صدر ابھے مشرا دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کے سنگٹھن کی وجہ سے ہی رتلام جھابوا میں بی جے پی کو ہار کاسامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک اور خاص مدعا بے روزگاری ہے، جس کی وجہ سے جھابوا سے بڑی تعداد میں روزگار کی تلاش میں لوگ گجرات کوچ کرنے کو مجبور ہیں۔ ادھر مودی سرکار آنے کے بعد سے منریگا میںرکاوٹ آئی ہے،جس کے نتیجے میں بے روزگاری اور نقل مکانی بڑھی ہے۔ لیڈروں کے بیانوں نے بھی اپنا اثر دکھایاہے۔الیکشن کے دوران کیلاش وجے ورگی نے ووٹروں کو کھلی دھمکی دی تھی کہ بی جے پی کو چھوڑ کر اگر کوئی دوسرا یہ سیٹ جیت گیا ،تو جھابوا کی ترقی رک جائے گی اور اس کے بعد اگر جھابوا کی ترقی سے متعلق کام لے کر کوئی وزیر اعلیٰ کے پاس گیا، تو مسائل کچرے کے ڈبے میںچلے جائیں گے۔ظاہر ہے کہ عوام کو یہ دھمکی ناگوار لگی ہوگی۔
مدھیہ پردیش بی جے پی کے ریاستی صدر نند کمار سنگھ چوہان نے ضمنی انتخاب میں ہار کے لےے سنگٹھن کو ذمہ دار بتاتے ہوئے اس کا جائزہ لینے کی بات کی ہے۔ انھوں نے شیوراج سنگھ کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی مقبولیت میںکمی نہیں آئی ہے۔ رتلام جھابوا میں بی جے پی کو جو ووٹ ملے ہیں، وہ سی ایم شیوراج کی ترقی کی بدولت ہی ملے ہیں۔ بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگی تو اسے کانتی لال بھوریا کی نجی جیت بتا رہے ہیں، جبکہ کانگریس اسے وزیر اعلیٰ کی ہار بتاتے ہوئے بی جے پی کے زوال کی شروعات بتا رہی ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدر ارون یادو کا کہناہے کہ رتلام جھابوا پارلیمانی سیٹ پرکانگریس کی جیت کسانوں کی جیت ہے، لوگوں نے مرکزی سرکار کے خلاف ووٹ دیا، یہ ریاست ہی نہیںملک کے لےے بھی اچھا اشارہ ہے۔
کچھ بھی ہو اس ہار نے مودی کی لہر اور شیوراج سنگھ کے جادو پر سوال تو کھڑا ہی کردیا ہے۔ رتلام جھابوا پارلیمانی سیٹ پر بی جے پی کی ہار شیوراج سرکار کے لےے ایک جھٹکا ہے، لیکن اس جیت سے لگاتار پٹ رہی کانگریس کا حوصلہ بڑھا ہے۔وہ اسے بہار اور گجرات کے مقامی انتخابات کے نتیجوں کی کڑی سے جوڑ کر اپنے نئی زندگی کی شکل میں دیکھ رہی ہے۔ لیکن اس جیت کی خوشی میں کانگریس یہ بھول رہی ہے کہ رتلام جھابوا پارلیمانی سیٹ اس کا پرانا گڑھ رہا ہے۔ 2014 کے پارلیمانی انتخاب میں جن دلیپ سنگھ بھوریا نے اس سے یہ سیٹ چھینی تھی، وہ پہلے کانگریس پارٹی سے ہی جڑے تھے۔پھر 23 ہزار ووٹ نوٹا کے طورپر پڑے ہیں، جو کانگریس کے لےے جیت کی خوشی کے ساتھ ساتھ ایک پیغام بھی ہے۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے ریاستی سکریٹری بادل سروج کا کہنا ہے کہ رتلام جھابوا کے ضمنی انتخاب میں عوام نے کانگریس کو نہیں جتایا، بلکہ بی جے پی کو ہرایا ہے۔ یہ مودی سرکار کے ذریعہ وعدوںکو نظر انداز کرنے اور عوام پر بوجھ بڑھانے والی پالیسیوںکے خلاف ڈالا گیا ووٹ ہے اورریاستی سرکار کی بدعنوانی اور بے عملی وجابرانہ رخ کے خلاف مینڈیٹ ہے۔
شیوراج سنگھ چوہان مدھیہ پردیش میںبی جے پی کی علامت بن چکے ہیں۔ یہی ان کی طاقت ہے او رکمزوری بھی۔ طاقت اس طرح سے کہ فی الحال ریاست میںان کا کوئی متبادل نہیں ہے اور جو متبادل بن سکتے تھے،انھیںریاست کی سرحدوں سے باہر بھیج دیا گیا ہے، وہیںکمزوراس طرح سے کہ بی جے پی کی موجودہ اعلیٰ قیادت اپنے علاوہ کسی اور کو مضبوط طاقت کے طور پر دیکھناپسند نہیں کرتی ہے۔ سیاسی پنڈت اندازہ لگا رہے تھے کہ اگر بہار انتخاب میں بی جے پی جیتتی ہے، تو شیوراج سنگھ کی وداعی ہوسکتی ہے۔ شاید انھیںمرکز میںوزیر بنادیاجاتا، لیکن بہار میںہار کے بعد مودی اور شاہ کی جوڑی خود بیک فٹ پر ہے۔شیوراج سنگھ چوہان کی ایک پسندیدہ کہاوت ہے ’پاو¿ں میںچکر،منہ میںشکر‘، ماتھے پر برف اور سینے میںآگ، اسے وہ اکثر دہراتے رہتے ہیں اور یہی ان کی کامیابی کا منتر بھی ہے۔ تبھی تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہار کے فوراً بعد وہ جھابوا کا ہی رخ کرتے ہیںاور پھرسے عوام کی نبض دیکھنے اور غلطی درست کرنے کی کوشش میں اپنے پورے انتظامی عملے کو لگادیتے ہیں۔
بی جے پی کی یہ ہار اور کانگریس کی جیت کتنی پائیدار ہے، اس کا اصل امتحان ستنا ضلع کے میہر اسمبلی ضمنی انتخاب میں ہونے والاہے۔ فی الحال تو بی جے پی میں ابھی بھی سب کچھ شیوراج سنگھ کے کنٹرول میں ہے۔ اب وہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر سب سے طویل عرصہ تک رہنے کے نئے ریکارڈ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مرکز میں بھیجے جانے کے خدشے بھی بند ہوچکے ہیں۔بدنام ویاپم تو پہلے ہی ٹھنڈا کردیا گیا ہے۔کانگریس کو بھی ایک بار پھر سے یہ سبق ملا ہے کہ اگر اس کے لیڈر ایک دوسرے کے خلاف گول کرنے کے بجائے بی جے پی کے خلاف لڑیں، تو مدھیہ پردیش میں اس کی واپسی ممکن ہے۔دیکھناہوگاکہ کانگریس اس سبق کو کب تک یاد رکھ پاتی ہے ۔ فی الحال اس جیت سے صوبیدار ارون یادو کی کرسی پر سے خطرہ ٹل چکا ہے اور ان کی ٹیم کے حوصلے بلند ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *