جاگئے ورنہ ہمیں وحشی سماج میں جینا ہوگا

دہلی میں نربھیا حادثہ کے نام سے مشہور عصمت دری کی شکار لڑکی اب ہمارے بیچ نہیں ہے۔لیکن اس حادثے نے ملک کے لوگوں کو جھنجھوڑ دیا اور دلی میں تو عصمت دری کے خلاف بے مثال آندولن ہوا۔ ساری دلی تقریباً اس لڑکی کو انصاف دلانے کے لئے سڑکوں کے اوپر تھی۔ دن گزرے،لوگوں کے دماغ سے وہ لڑکی بھی نکلتی چلی گئی ، صرف ایک واقعہ بن کر رہ گئی۔ جبکہ عصمت دری کا موضوع ان دنوں بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے۔سرکار نے سخت قانون بھی بنایا اور اس کا بھی اثر لوگوں کے دماغ پر نہیں پڑا۔ جن دنوں نربھیا کی حمایت میں دہلی میں آندولن ہو رہاتھا، ان دنوں بھی ملک میں کم سے کم 11سے 12 ایسے مقدمے سامنے آئے تھے، جن میں تقریبا ًاسی طرح کی درندگی لوگوں نے دکھائی تھی۔ سال گزر گئے، لیکن عصمت دری کے تئیں لوگوں میں غصہ نہیں پیدا ہوا۔

حالت یہ ہے کہ ملک میں ہر جگہ عصمت دری کے واقعات ہورہے ہیں۔ اور دماغی پستی اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ تین سال کی بچی ہو ،پانچ سال کی بچی ہو، بارہ سال کی بچی ہو کسی کو بخشا نہیں جارہا ہے۔ پڑوس کی لڑکی ہو یا سڑک پر چلتی لڑکی ہو ، حیوانیت کے ساتھ درندگی کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ گینگ ریپ نام کی چیز مسلسل ہو رہی ہے ۔پولیس پکڑ بھی رہی ہے، لیکن پولیس کی ترجیحات میں اس طرح کے معاملے نہیں ہیں۔ لیکن سوال پولیس یا قانون کا نہیں ہے۔سوال سماج کی ذہنیت کاہے۔ سماج کی سوچ کا ہے اور سماج کے ذریعہ لوگوں میں پیدا ہوئی ذہنی بیماری کاہے۔ کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ کھلے عام کوئی عصمت دری کی حمایت نہیں کرتا،لیکن عصمت دری کے تئیں عوامی احتجاج کا مظاہرہ بھی نہیں ہوتا ۔اخبار میں ایسی خبر پڑھ کر، مسکرا کر لوگ دوسری خبر کے اوپر چلے جاتے ہیں۔
گزشتہ 20سالوں سے جب سے ٹیلی ویژن چینل شروع ہوئے ہیں، تب سے ہر چینل کے اوپر روحانیت کا زور طوفان مچا رہاہے۔کسی نہ کسی چینل پر کوئی نہ کوئی بابا، کوئی نہ کوئی سادھو،کوئی نہ کوئی مہنت،کوئی نہ کوئی جگت گرو جیون کی شکشا دیتے دکھائی دے رہاہے۔ اس کے بعد صرف روحانیت کا پرچا کرنے والے کئی چینلوں کی شروعات ہو گئی، جن میں 24گھنٹے یا تو کوئی سادھو یا تو کوئی بابا لوگوں کو مذہب کے تئیں بیدار کرتا دکھائی دیتا ہے یا ست سنگ کرتن ہوتا ہے۔جیسے جیسے چینل بڑھے،جیسے جیسے سادھو مہاراج ست سنگ کرنے ٹیلی ویژن پر آنے لگے، یہ المیہ ہے کہ ویسے ویسے سماج میں جرائم کا گراف بھی بڑھا، ویسے ویسے انسانیت کو شرمسار کرنے والے جرائم جیسے عصمت دری کی بھی وحشتناکی بڑھی۔یہ کیا المیہ ہے ،آخر کون سی ذہنیت ہے ؟کیا ہم دھرم کے نام پر ڈھونک کررہے ہیں یا جو لوگ مذہب کی تعلیم دیتے ہیں ان میں روھانی صلاحیت نہیں ہے یا پھر سماج اخلاقیات یا دھرم کی باتوں کو قبول نہیں کرنا چاہتا ۔یہ سوچنے کا موضوع تو ہے۔
پہلے عصمت دری کا مطلب لڑکیوں سے عصمت دری ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب عصمت دری کے معنی بدل گئے ہیں۔ کئی ریسرچ ایسے سامنے آئے ہیں جن میں یہ کہا جارہا ہے کہ لڑکیوں سے عصمت دری کی تعداد کے مقابلے لڑکوں سے عصمت کے معاملوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے،اور خاص طور پر شو بزنس میں جو لوگ ہیں، ان کے ساتھ تو عصمت دری ہوتی ہی ہے۔ ابھی ایک مشہور اداکار نے خلاصہ کیا کہ وہ بھی کاسٹنگ کاﺅچ کا شکار رہا ہے۔ اس کا مطلب اس کے ساتھ زبردستی کی گئی اور اس نے کام پانے کے لئے سمجھوتہ کیا ۔ملک میں ہم جنس لوگوں کے آندولن چل رہے ہیں ،جنہیں سماج قبول کررہا ہے۔دوسری طرف انٹر نیٹ کے اوپر فحش سائٹرس کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ پہلے تو بہت سارے ٹی وی چینل رات 11 اور ایک بجے کے بعد سافٹ پونوگرافی والی کہانیاں دکھاتے تھے اور فلمیں بھی دکھاتے تھے۔ ابھی چینل ایسا نہیں کررہے ہیں۔ لیکن انٹر نیٹ کے اوپر فحش کی دھوم ہے اور 10-12 سال کے بچے اس دھوم کے لیڈر بنے ہوئے ہیں۔ انٹر نیٹ ،یو ٹیوب اور فیس بک ویسے ویڈیو کلپس کھلے عام دکھا رہے ہیں ،جنہیں دیکھنا پہلے ممنوع سمجھا جاتا تھا ۔وہ فلمیں ہٹ ہورہی ہیں جن میں سافٹ پونوگرافی کا اشارہ ہے یا ذو معنی اشارے ہیں۔ کیا ہمارا سماج ان کے خطرے نہیں پہنچانتا ؟10-12 سال کے بچے لڑکے و لڑکی کے رشتوں کی ہر باریکی سے واقف ہیں۔ اب انہیں کسی ٹیلی ویژن سیریل یا فلم سے سیکھ کی ضرورت نہیں ہے۔انٹر نیٹ ایک ایسا ذریعہ ہے ،جو انہیں ان ساری چیزوں کی حسین دنیا میں لے جاتاہے اور وہاں سے ان کے من میں جسم کے تئیں وہ جاذبیت دکھائی دیتی ہے جس کے لئے عصمت دری کا لفظ بعد میں استعمال میں لایا جاتاہے۔ اتفاق رائے سے بہت سارے رشتے بنتے ہیں۔ اب تو 10-11 سال کے نوجوان میں رشتے بننے لگے ہیں۔لیکن جہاں پر رشتے نہیں بن پاتے ،وہاں زبردستی ہوتی ہے اور وہ زبردستی حیوانیت میں بدل جاتی ہے۔
میں یہ بات اس لئے کہہ رہاہوں ،کیونکہ ہمارا سماج جب اتنی چیزیں غلط نہیں مانتا تو پھر وہ عصمت دری کو بھی غلط نہیں مانتا ہوگا۔ شاید اسی لئے ایک آندولن ہونے کے بعد عصمت دری کو لے کر کوئی دوسرا آندولن نہیں ہوا۔ کوئی بیداری نہیں آئی۔ اب تو ٹی وی سیریلوں میں کھلے عام لڑکیاں آپس میں بات کرتی نظر آتی ہیں کہ ’ وداﺅٹ بوائز نو پارٹی‘۔اگر ہم دیکھیں تو دوسری طرف یہ ایک صحت مند روایت بھی ہے۔ جتنا زیادہ گھلیں گے ، ملیں گے اتنا ہی مرد و عورتوں کے بیچ جاذبیت کو لگام لگے گی۔ لیکن ہم اپنے بچوں کو یہ کیوں نہیں سمجھا پاتے کہ اتفاق اور زبردستی ،دونوں لفظوں کا مطلب کیاہے؟روحانی دنیا سے جڑے لوگ یا سادھو سنت کوئی اثر نہیں ڈال پارہے ہیں اور جب میں یہ ایڈیٹوریل لکھ رہا ہوں ،میرے سامنے خبر آرہی ہے کہ تین سال کی بچی کے ساتھ عصمت دری ہوئی۔ مجرم لاپتہ ہے۔
تو ہم کیا مانیں کہ اس کے لئے سرکار ذمہ دار ہے؟میرا ماننا ہے کہ اس کے لئے سرکارذ مہ دار نہیں ہے، بلکہ سماج ذمہ دار ہے۔ہم میں سے ہر ایک کو اپنی بیٹی، اپنی بہن کے ساتھ ہونے والے کسی بھی ممکنہ جرم کے لئے تیار کر لینا چاہئے، کیونکہ جب ہم اس جرم کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہے ہیں تو یقین کیجئے ،کوئی دوسرا بھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائے گا۔ اس لئے عصمت دری جیسے غیر انسانی کرتوت تب تک سماج میں کم نہیں ہوں گے، جب تک سماج خود ان کے خلاف کھڑا نہیں ہوگا۔ عوامی بیداری پیدا نہیں کی جائے گی اور اتنا سخت نہیں ہوگا کہ وہ ان کا خاندانی بائیکاٹ کرنے کا ماحول بنائے جو ایسے جرائم میں ملوث ہیں۔ اس لئے یہ سماج کا موضوع ہے اور سماج کو چاہئے کہ وہ ایک مہذب سوسائٹی کی جگہ بربری سوسائٹی یا جنگلی سماج کی طرف قدم بڑھانے سے ہچکے ۔ ورنہ خون کے آنسو کل انہیں بھی رونے پڑیں گے جو آج آواز نہیں اٹھا رہے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *