چنئی حادثہ سرکار کی ناکامی اور اوڈ، ایون سسٹم اچھا فیصلہ

میگھناد دیسائی
چنئی حادثہ کو ممبئی میں ہر سال مانسون کے شروعات میں آنے والے سیلاب یا سری نگر کے سیلاب کی ڈرامائی واپسی کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔ اگر بنگلور ، کولکتا اور لکھنو کو بھی ایسے ہی حادثے کا سامنا کرنا پڑے تو کسی کو حیران نہیں ہونا چاہئے۔
ہندوستان کا شہری ایڈمنسٹریٹیو پوری طرح سے ناکام ہو گیا ہے۔ملک کے منتخب نمائندے زمین کے استعمال کو اپنے کنٹرول میں کرکے بھولے بھالے لوگوں کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ زمین کے استعمال میں بدلاﺅ لا کر اس کے الگ استعمال کی منظوری دے سکتے ہیں، یا کسی منصوبہ میں آبادکاری کا اوسط بڑھا سکتے ہیں، ان کے لئے یہ ایک فائدہ مند کارو بار ہے۔دن کی روشنی میں رہزنی جیسے ان معاملوں کی حمایت کرنے والے قدآورلوگ ،کبھی کبھی قتل جیسے سنگین معاملوں سے بھی صاف بچ کر نکل آتے ہیں۔ شہری انتظامیہ، ریاست اور پنچایت کے نظام کے بیچ کا انتظامیہ بن کر رہ گیا ہے۔ کئی شہری انتظامیہ تو ایک صدی سے بھی زیادہ وقت سے پرانے ہیں اور ان کی قیادت جواہر لال نہرو اور سبھاش چندر بوس جیسے عظیم لوگوں نے کی ہے۔اب وہ کمزور اور لچکدار ہو گئے ہیں۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ لندن یا نیو یارک کے طرز پر یہاں کوئی منتخب قابل لیڈر نہیں ہوتا ہے۔شہری پالیسی قابل اوربڑے بڑے خواب دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرتی ہے۔اس کا نتیجہ چنئی کے حادثے جیسے واقعات کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ تمل ناڈو، عام طور سے کامیابی کے ساتھ حکومت چلانے والا صوبہ ہے جہاں کی کمان ایک قابل وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں میں ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں کوئی دور اندیش سوچ نہیں ہے۔ یہاں نہ تو پرانے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری کی جاتی ہے اور نہ ہی ایمرجیسنی کی حالت میں بچاﺅ کے طریقوں کا جائزہ ہی لیا گیا ہے۔ایک ایسا ملک جو انجینئرنگ کے تجربات سے بھرپور ہے اور ایک ایسا شہر جس کی تاریخ دو سو سال پرانی ہے ،وہاں اس طرح کی آفت سمجھ سے باہر ہے اور سیاسی قیادت کی ناکامی کی علامت ہے
اسی وجہ سے اروند کجریوال کے اوڈ -ایون (طاق و جفت) کے انقلابی سسٹم کی تعریف کی جانی چاہئے۔میں گزشتہ 11 برس سے لگاتار دہلی آتا رہا ہوں۔اس دوران میں یہاں کی زندگی گزارنے کی سطح میں گراوٹ سے جتنا حیران ہوں اتنا ہی حیرانی مجھے سیاسی عہدیداروں کی یہاں کی زندگی کے تئیں بے حسی سے ہے۔اب اس سلسلے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ 10سال دیر سے ہی صحیح لیکن بدلاﺅ ہو رہا ہے۔ 1990 کی دہائی سے ہی میٹرو کی ضرورت محسوس ہونے لگی تھی۔ کاروں کی آنر شپ اور ان کے استعمال پر کنٹرول کی ضرورت کافی دنوں سے محسوس کی جارہی تھی۔ غیر قانونی پارکنگ تو برسوں پہلے ختم ہوجانی چاہئے تھی،لیکن یہاں بدلاﺅ کے بجائے بے حسی کی سیاست زیادہ چلتی ہے۔
کجریوال نے بہت سے ایسے کام کئے جو بچکانہ اور انا پر مبنی تھے۔ اب انہوں نے پہلی بار یہ دکھایا ہے کہ ضرورت پڑنے پر سخت فیصلے لینے کی صلاحیت ان میں ہے۔ کار رکھنے والے لوگ فطری طور سے کجریوال کے فیصلے کے ناکام ہونے کی پیشن گوئی کریں گے۔لندن میں بھی کنجیشن فیس لگانے سے پہلے یہ سسٹم آزمایا گیا تھا۔وہاں بھی بد نظامی کی بات کہی گئی تھی۔لیکن حکومت نے اسمارٹ تکنیک کے ذریعہ کنجیکشن فیس کی سختی سے وصولی کرکے بد نظامی کی باتوں کو غلط ثابت کر دیا۔ کجریوال کو بھی اس فیصلے پر ہونے والے اعتراض پر دھیان نہیں دینا چاہئے اور قانون کا اہتمام نہیں کرنے والوں کو کسی طرح کی چھوٹ نہں دینی چاہئے۔ عوام صورت حال کے اسی وقت عادی ہوں گے جب انہیں یہ احساس ہوگا کہ اس کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ کجریوال دہلی کے منتخب کئے وزیر اعلیٰ ہیں۔ ملک کے کسی دوسرے شہری ایڈمنسٹریٹر کو ایسی صورت حال کا سامنا نہیں ہے۔انہیں یہ ثابت کرناہے کہ ہندوستان کی سیاسی قیادت ایسے فیصلے لینے کے قابل ہے جس کے دور رس نتائج ہوں گے۔وہ اپنی غیر معمولی اکثریت کو اپنے سخت فیصلے کے لئے ڈھال بنا سکتے ہیں۔
ایک اچھا لیڈر اقتدار کا استعمال عوام کی بھلائی کے لئے کرتا ہے۔ وہ ایسے فیصلے بھی لیتا ہے جنہیں عوام کی منظوری نہیں ہوتی۔ کجریوال اپنے پہلے دور کار میں ناکام رہے تھے۔یہ ان کے لئے اچھا ہوگا کہ اپنے دوسرے دور میں بہتر کام کریں ،نہیں تو پھر تیسرا دور نہیں ملے گا۔ اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو ملک میں متبادل قیادت کی جگہ کو بھر سکتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *