ہم وسط مدتی انتخاب کی طرف بڑھ رہے ہیں

damiآج جو مدعا پریس کے ساتھ ساتھ سب کے دماغ پر چھایاہوا ہے، وہ ہے 1000اور 500 روپے کی نوٹ بندی۔ نوٹ بندی سبھی ملکوںکی مالیاتی وزارتوںکا ایک جانا مانا ہتھیار ہے۔ نوٹ بندی اپنے آپ میں کوئی بری چیز نہیں ہے، لیکن ہندوستانی تناظر میں یہ تھوڑی الگ ہے۔ سب سے پہلے اس کے سائز کو دیکھتے ہیں۔ سرکار نے 84 فیصد نوٹوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا سائز بہت ہی وسیع ہے۔ اگر 10 سے 20 فیصد ہائی ویلیو کے نوٹوںکی نوٹ بندی ہوتی، تو یہ ایک الگ بات ہوتی،لیکن اگر 84 فیصد مروجہ نوٹوں کو آپ بدلنا چاہتے ہیں تو یہ بہت ہی مشکل ہے۔ یہ کام جلد بازی میں،بغیر اچھی طرح غور و فکر کیے اور بیشکبغیرتیاری کے کیا گیا ہے۔ یہ پہلا مسئلہ ہے۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستانی تناظر میںزرعی شعبہ انکم ٹیکس سے آزاد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے کروڑوںہندوستانی ہوںگے،جنھوںنے قانونی طور پر اپنا پیسہ کیش میںرکھا ہوگا۔ تو اب کالا کیش اور سفید کیش میں کیسے امتیاز کیا جاسکتا ہے؟ نوٹوں کے اوپر یہ تو نہیں لکھارہتا کہ یہ پیسہ کالا ہے اور یہ پیسہ سفید۔ تو پھرایسی حالت میںکیا ہوگا؟ ٹیکس میںچھوٹ کی حد دو لاکھ ہے۔ ایسے میںکوئی اپنے دو لاکھ روپے کسی کسان کو دے سکتا ہے، جو ان روپوںکو قانونی طور پر اپنے بینک کھاتے میںجمع کرکے بعد میںاس کی نکاسی کرسکتا ہے۔ اس خدمت کے بدلے کمیشن کے طور پر 20 ہزار روپے اپنے پاس رکھ کر باقی پیسہ آپ کو واپس کرسکتا ہے۔ اب سرکار بچکانہ حرکت کررہی ہے۔ اب وہ اس چیز کو سمجھ گئی ہے او رکہہ رہی ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو سزا دیںگے۔ آپ کیسے سزا دیںگے، ذرا ہمیں بھی بتائیے۔
اگر کسان اپنے کھاتوںمیںپیسے جمع کرتے ہیں، تو آپ انھیںسزا نہیںدے سکتے۔ اگر وہ اپنے پیسے کی نکاسی کرتے ہیں تو بھی آپ انھیںسزا نہیں دے سکتے۔ ا س کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسانوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ تمہارا پیسہ ہے، تم اسے اس کے اصل مالک کو مت دو۔ کیا آپ یہ سوچتے ہیں کہ یہ کارگر ہوگا؟ گاندھی کے ملک میں آپ لوگوںکو ایک دوسرے کے تئیں بے ایمانی سکھا رہے ہیں۔ سرکار کو ٹیکس ادا نہ کرنا غلط ہے۔کسان بے ایمان نہیں ہیں، کیونکہ ان کے اوپر ٹیکس لاگو نہیںہوتا۔ انسانوں کی طرح ملکوں کا بھی تشخص ہوتا ہے۔لہٰذا جو اقتصادی ماڈل واشنگٹن، شکاگو وغیرہ سے آرہے ہیں،وہ ضروری نہیںکہ ہندوستان میںبھی کارگر ثابت ہوں۔ اسے لاگو کرنے میں ہوشیاری برتنی چاہیے یا پھر اپنے ملک کے لیے خود کا ماڈل تیار کرنا چاہیے۔
یہ کسی کو پتہ نہیںکہ نوٹ بندی کافیصلہ کس نے کیا؟ وزیر اعظم مودی نے یا پھر نوکر شاہوں نے کیا۔ آر بی آئی کے سابق گورنر رگھو رام راجن اس کے خلاف تھے۔ موجودہ گورنر اُرجت پٹیل کا اس پر کیا رخ ہے،ہمیںمعلوم نہیں۔ نوٹ بندی کے تین ہفتوںمیں ہم نے ان کی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں سنا۔سوال یہ ہے کہ آپ کو اتناہی کھانا کھانا چاہیے، جتنا آپ ہضم کرسکیں،یعنی وہی کامکیجئے،جسے کرنا ممکن ہو۔موجودہ سرکار نے بیشک ایک بہت ہی مشکل کام اپنے سر پر لے لیا ہے۔
میںسیاسی بات نہیںکررہا ہوں کہ لوگوںمیںبے چینی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کے پاس بدلنے کے لیے کافی نوٹ نہیں ہیںاور یہ بری چیز ہے۔ آپ نوٹ بندی لاگو کیجئے، لیکن جیسے ہی نوٹ بدلنے کے لیے آئیں،آپ انھیں فوراً بدلیے۔ اب یہ پیسہ کالا ہے یا سفید،یہ ہر شخص انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو واضح کرے گا۔ بینک کے کلرک یہ فیصلہ نہیںکرسکتے ہیں کہ یہ نوٹ کالے ہیں یا سفید۔ کلرک نے پین نمبرلے لیے ، اس کا کام ختم۔ جن دھن اور کسانوں کے معاملے میںپین نمبرکا سوال نہیں ہے، آپ کو انھیں دو لاکھ کی چھوٹ دینی ہوگی۔ اب دو لاکھ کا وہ کیا کریںگے،یہ ان کامعاملہ ہے۔
جلد بازی میںاعلان کرنے کے بعد سرکار روزانہ اپنی باتوںسے پلٹ رہی ہے۔ اب نیا مذاق یہ ہے کہ کالے دھن کے لیے ایمنسٹی اسکیم (معافی اسکیم) جاری رہے گی۔ 30 ستمبر تک 45 فیصد کی ایمنسٹی اسکیم تھی،اب یہ 50 سے 60 فیصد ہوجائے گی۔ یہ کیسا مذاق ہے؟ ایمنسٹی اسکیم کیوںہے؟ حالانکہ ہونایہ چاہیے تھا کہ سرکار نوٹ بندی کا اعلان کرتے وقت یہ کہتی کہ چھ مہینوںکے بعد ان نوٹوں کی کوئی قیمت نہیںرہے گی۔ لہٰذا کسی کے پاس اگر کالا دھن ہے تو اس اسکیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے ابھی جمع کرا دے۔ایمنسٹی اسکیم کا لالچ دیا جانا چاہیے تھا،لیکن سرکار نے ایسانہیںکیا۔فی الحال نوٹ بندی میںتعجب کا کائی پہلو نہیںہے۔ مان لیا کوئی 30 ستمبر کے ونڈو کو استعمال کرنے سے چوک گیا تو اس کا کیا؟ آپ کو 8 نومبرکو یہ نہیںکہناچاہیے تھا کہ آج رات سے یہ نوٹ بیکار ہوجائیں گے، بلکہ کہنایہ چاہیے تھا کہ آج سے 31 مارچ کے بیچ اپنے نوٹوں کو بدلوا لیجئے۔ نوٹوںکو بدلنا ایک عام عمل ہے۔ اس کا ٹیکس سے کوئی لینا دینا نہیںہے۔آپ کے پاس نئے نوٹ نہیں ہیں اور آپ لوگوںسے کہہ رہے ہیں کہ نوٹ بدل لو۔ لازمی طور پر اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اے ٹی ایم کے سامنے لمبی قطاریںہوںگی،کسی کو غصہ آئے گا،کوئی مررہا ہوگا۔ ان سب سے بچا جاسکتا تھا۔ یہ ڈرامہ ضروری نہیں تھا۔
وزیر اعظم بھاشن کے فن میں ماہر ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیںکہ غریب ان کے ساتھ ہیںاور امیر لوگوں کے پاس کالا دھن ہے،لیکن اب تو انھوںنے حد ہی پار کرلی ہے،جسے جمہوریت میںنہیںکرنا چاہیے۔ وہ کہہ رہے ہیںکہ اپوزیشن پارٹیوںکے پاس کالا دھن ہے، اس لیے وہ اس نوٹ بندی کے قدم کی مخالفت کررہی ہیں۔ ان کا بیان اشتعال انگیز ہے۔ یہ پارلیمنٹ کی توہین ہے۔اگر میںپارلیمنٹ میںبول رہا ہوں، توآپ مجھ سے متفق ہوسکتے ہیں،غیر متفق ہوسکتے ہیں، آپ ہماری نیت پر سوال نہیں اٹھا سکتے ہیںکہ میںکسی خاص وجہ سے ایسا بول رہا ہوں۔یہ پارلیمنٹ کی توہین ہے۔ انھوںنے ایوان کے استحقاق کی خلاف ورزی کی ہے۔بہر حال یہ تکنیکی معاملے ہیں۔
اس سے کچھ سیاسی سوال اٹھتے ہیں۔ میرے حساب سے یہ انتخاب میںجانے کی تمہید ہے۔ اترپردیش اور پنجاب میںانتخاب ہونے والے ہیں۔ اگر وہ اترپردیش اور پنجاب میں ہار جاتے ہیں تو 2019 ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ان کے لیے صحیح قدم یہ ہوگا کہ وہ عام انتخابات کا اعلان اترپردیش اور پنجاب کے انتخابات کے ساتھ کردیں۔ اپریل میںانتخاب ہوئے تو جیتنے کا امکان 50-50 ہے، لیکن ہوسکتا ہے کہ کچھ کم سیٹیں ملیں۔
2020میں کیا ہوگا؟لوگ اپنی بے چینی اور پریشانی بھول جائیں گے،لیکن اقتصادی نظام کا کیا ہوگا؟معاشیات کا کوئی بھی طالب علم آپ کو بتا سکتا ہے کہ جہاں بھی نوٹ بندی ہوتی ہے ، وہاں جی ڈی پی نیچے چلی جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے عام کاروبار رک جاتا ہے اور ہندوستان جیسے ملک میں اور زیادہ رکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں کارو بار کا 60-70 فیصد لین دین نقد میں ہوتا ہے، یہاں تک کہ کسان بھی اپنی فصلوں کی خرید و فروخت نقد میں کرتے ہیں۔ نقد کا مطلب کالادھن نہیں ہوتا، یہ سفید پیسہ ہے۔ ہندوستان میں لوگوں کو نقد استعمال کرنے کی عادت ہے۔ ایک غریب آدمی نوٹ سمجھتا ہے، پلاسٹک منی اس کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔
وزیر اعظم کا یہ کہنا اچھا لگتا ہے کہ ہم’ کیش لیس ایکونومی ‘ہیں، یہاں پے ٹی ایم اور اے ٹی ایم ہیں۔وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ 20 سال پہلے کسی نے اس کی توقع نہیں کی تھی کہ ہر ہندوستانی کے پاس موبائل فون ہوگا اور کچھ سالوں میں ہر کوئی کارڈ استعمال کرنے لگے گا۔ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ لوگ سیل فون اس لئے استعمال کرنے لگے،کیونکہ سیل فون کا استعمال ، پی سی او میں جانے، کھلے پیسے دینے یا کسی سے اس کا فون استعمال کرنے کی گزارش کرنے سے زیادہ آسان تھا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سیل فون آسان آلہ ہے۔ہندوستان میں استعمال کے لحاظ سے نقد کے مقابلے کارڈ زیادہ مشکل متبادل ہے۔ اگر کارڈ سے نقد کی طرف لوٹانا ہو تو لوگ لوٹ آئیںگے۔ نقد سے کارڈ کی طرف لوٹنے میں ہم جیسے لوگوں کو، جو کاروبار میں ہیں، انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس اعلان سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ میں کبھی نقد لے کر نہیں چلتا۔ اگر میں ہوائی جہاز سے سفر کرتا ہوں تو بل آتا ہے اور چیک جاتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جو سماج کے اونچے طبقے کے لوگ ہیں، وہ متاثر نہیں ہوںگے، لیکن کرانہ کاروباری، دودھ والے، سبزی بیچنے والے، کسان متاثر ہوں گے۔ آپ نے انہیں اقتصادی طور پر چوٹ نہیں پہنچائی ہے،لیکن آپ نے ان کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ بہر حال ایک لمبی رکاوٹ میں (کیونکہ وزیر اعظم ڈیجیٹل انڈیا کو پسند کرتے ہیں) یہ اچھی چیز ثابت ہو سکتی ہے۔ایسے حالات میں نیا انتخاب کرانے کا نظریہ اچھا ہوگا، کیونکہ اس اسکیم کو پورا کرنے کے لئے آپ کو پانچ سال کا وقت مل جائے گا۔
لیکن کسی ملک کا ایک تشخص ہوتا ہے۔ ہندوستان کے تشخص کو نہیں بدلا جاسکتا ہے، کم سے کم نریندر مودی کے ذریعہ تو نہیں۔ وہ بہت کمزور ہیں، بہت چھوٹے ہیں، بہت ہی کم تجربہ کار ہیں۔ یہاں تک کہ مہاتما گاندھی اپنی پوری زندگی قربان کرنے کے باوجود صرف پانچ ڈگری ہی ملک کے تشخص کو بدل پائے۔ وہ ہندوستان کے لوگوں کو عدم تشدد، سچائی، سوچھ بھارت کا سبق دے رہے تھے۔ مجھے خوشی ہے کہ وزیر اعظم سوچھ بھارت کے لئے مہاتما گاندھی کا نام لے رہے ہیں۔ لیکن سوچھ بھارت کے لئے آپ کو ہندوستان کے لوگوں کی ذہنیت کو بدلنا ہوگا۔ میں یہ سمجھ سکتا ہوں کہ دیہی علاقوں میں لوگ کھلے میں ٹوائلٹ اس لئے کرتے ہیں کیونکہ یہاں ٹوائلٹ نہیں ہے۔ تو ان کے لئے ٹوائلٹ کی تعمیر کروائیے۔ گائوں میں لوگوں کے ذریعہ کھلے میں ٹوائلٹ کرنے کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ ان کے پاس ٹوائلٹ نہیں ہے۔ (بیشک ان کے پاس ٹوائلٹ نہیں ہے)، بلکہ وہ ایسا مانتے ہیں کہ کھلے میں ٹوائلٹ کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔وہ لوگ جو کررہے ہیں، اس سے کچھ نقصان نہیں ہورہا ہے۔ یہ ایکولوجیکل عمل ہے۔ وہ ٹوائلٹ کرتے ہیں، وہ مٹی میں مل جاتاہے۔ لہٰذا لوگوں کی سوچ کو بدلنا ایک لمبا عمل ہے۔کوئی سرکار صرف پانچ سال میں یہ نہیں کرسکتی اور موجودہ سرکار تو بالکل ہی نہیں۔
وہ ہر کام ایک ساتھ کر لینا چاہتے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کاروبار اور جی ڈی پی اوپر چلی جائے۔ وہ بلیٹ ٹرین چلانا چاہتے ہیں، وہ سوچھ بھارت چاہتے ہیں، یہ تمام چیزیں ایک جھٹکے میں نہیں کی جاسکتیں۔ آپ اپنے دور حکومت میں کیا کرسکتے ہیں، اس کے حساب سے اپنا پروگرام بنائیے۔آپ کے دور حکومت میں نوٹ بندی نے اقتصادی ترقی اور جی ڈی پی کو متاثر کر دیا ہے۔ نوٹ بندی سے یقینی طور سے جی ڈی پی نیچے آئے گی۔ یہ سہ ماہی تو گزر گئی ،اگلی سہ ماہی میں یہ اندازہ سے دو فیصد نیچے رہے گی۔ شیئر مارکیٹ ، جس کا میں بہت قائل نہیں ہوں، یہ دکھا رہا ہے کہ نوٹ بندی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے۔
اب نوٹ بندی لاگو ہو گئی ہے۔ اپوزیشن پارٹی سرکار کا مذاق اڑا رہی ہیں۔ لوگوں کی قطاریں لمبی ہیں، لوگ مر رہے ہیں وغیرہ۔ اصل ایشو پر آنے کے بجائے سرکار ان کو جواب دے رہی ہے۔انہیں کہنا چاہئے کہ ہم نوٹ چھاپ رہے ہیں، تھوڑا صبر کریں، یہ نہ کہیں کہ 10یا 15 دن میں یہ کام کر لیاجائے گا۔یہ کہئے کہ 31مارچ تک زیادہ تر مسائل ختم ہو جائیں گے۔ ایک بار آپ نے عمل شرع کردیا،تو اس میں وقت لگے گا۔ لیکن دونوں طرف سے جھگڑا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ غلام نبی آزاد نے اس کا موازنہ سرحد پر مارے گئے لوگوں سے کیا اور آپ ہنگامہ کرنے لگے۔ سرکار کو زیادہ پختہ ہونا چاہئے جو قدم اٹھائے گئے ہیں، یہ بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ اگر اقتصادی نظام کے لئے یہ قدم سنجیدگی سے اٹھایا گیا ہے تو برائے مہربانی نقصان کو کنٹرول کیجئے اور یہ یقین کیجئے کہ نوٹ بندی کے مفید نتیجے سامنے آئیں گے۔
کالا دھن نقد میں نہیں ہوتا ہے، آپ غلط سمت میں جارہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ پانچ فیصد کالا دھن نقد میں ہو، جو آبھی سکتا ہے اور نہیں بھی آسکتا ہے۔ جعلی روپے واپس آسکتے ہیںجو صرف چار سے پانچ سو کروڑ ہوگا۔ اس سے زیادہ نہیں ہوگا۔ جہاں تک دہشت گردوں کے پیسے کا سوال ہے، تو یہ ایک مذاق ہے۔ ابھی حال میں دو دہشت گرد مارے گئے ۔ان کے پاس سے 2000 کے نئے نوٹ ملے ہیں۔دہشت گردہیر ی پھیری میں ہمیشہ آگے رہتے ہیں۔یہ ایک بالکل الگ طرح کی صنعت ہے۔ سرکار دہشت گردوں کے لئے پالیسی نہیں بنا سکتی۔ آپ کو ملک کے لئے پالیسی بنانی پڑے گی۔ دوسرا اعلان انہوں نے پاکستان کے تعلق سے کیا ہے۔اگر آپ انتخاب کرواتے ہیںتو ووٹ حاصل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ کہیںکہ میں غریبوں کے لئے ہوں، میں ملک کے لئے ہوں اور پاکستان کے خلاف چھوٹی موٹی لڑائی شروع کر دیجئے۔ جہاں تک اس کالم نگار کا سوال ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہم وسط مدتی انتخاب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *