گنگا جمنا تہذیب کے علمبرداربیکل اتساہی

damiہندوستانی لب ولہجہ کے ممتاز و منفرد شاعر،گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار اور راجیہ سبھا کے سابق رکن پارلیمنٹ محمد شفیع خان بیکل اتساہی کا 3 دسمبر کو دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال میں علاج کے دوران انتقال ہوگیا۔ انتقال کے بعد بیکل اتساہی کوان کی دہلی میں واقع سرکاری رہائش گاہ 25 ساؤتھ ایونیو لایا گیا جہاں سے ان کے جسد خاکی کو ان کے آبائی وطن بلرام پور اترپردیش لے جایا گیا اور اگلے دن بعد نماز ظہرانھیں سپرد خاک کردیا گیا۔
محمد شفیع خان بیکل اتساہی کی پیدائش یکم جون 1928 کو موضع گوررمواپور، اترولہ ضلع گونڈہ کے ایک جاگیر دار گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد جعفر خان اور والدہ کا نام بسم اللہ بی بی تھا۔ گاؤں کے لوگ انھیں بھلن بھیا کہتے تھے۔ ابتدائی تعلیم گاؤںکے مکتب سے حاصل کی ۔ اس کے بعد بلرامپور کے موجودہ ایم پی پی انٹر کالج سے انٹر میڈیٹ پاس کیا۔ بعد ازاں مختلف مقامات سے انھوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔شاعری کا لگاؤ بچپن سے تھالیکن ان کے والد کو یہ شوق پسند نہیں تھا۔ چنانچہ وہ اودھی زبان میںخاموشی کے ساتھ شاعری کرتے رہے۔ اس دوران ان کے والد حج کے لیے گئے تو مکہ مکرمہ میں انھوں نے اپنے بیٹے کی نعت سنی۔ وہ بہت خوش ہوئے اور جب حج بیت اللہ سے واپس گھر لوٹے تو بیٹے کو گلے سے لگالیا اور شاعری کرنے کی اجازت دے دی۔اس کے بعد بیکل اتساہی کی شاعری منظر عام پر آنے لگی۔
بیکل اتساہی کا اصل نام محمد شفیع لودی تھا۔شروعات میں انھوںنے اپنا قلمی نام بیکل وارثی رکھا۔ ان کے بیکل اتساہی بننے کے پیچھے بھی دو واقعے ہیں۔ ایک واقعہ یہ ہے کہ وہ دیویٰ شریف کے نعتیہ مشاعرے میںنعت پڑھ رہے تھے کہ ایک صوفی بزرگ کے منہ سے برجستہ نکلا ، کیا بیکل ہے۔ دوسرا واقعہ یہہوا کہ 1952 میں کانگریس کے ایک الیکشن پروگرام میں شامل ہونے کے لیے ملک کے اولین وزیر اعظم پنڈت جواہرلعل نہرو گونڈہ پہنچے تو ان کی موجودگی میں انھوں نے بڑے جوش کے ساتھ ’’کسان بھارت کا‘‘ عنوان سے ایک نظم پڑھی، جسے سن کر پنڈت جواہر لعل نہرو بہت متاثر ہوئے اور انھوں نے کہا، یہ تو ہمارا اتساہی شاعر ہے۔اس طرح محمد شفیع لودی بیکل اتساہی کے طور پر مشہور و معروف ہو گئے۔
بیکل اتساہی نے شاعری کا آغاز 1944 سے کیا جو ان کے موت کے سفر تک جاری رہا۔ انھوں نے انگریزحکومت کے خلاف سیاسی شاعری کی جس کے نتیجے میں انھیںکئی بار جیل بھی جانا پڑا۔انھوں نے فرقہ پرستی کے خلاف سیکولرزم کے لیے ہندی اور اردو زبان کے امتزاج سے ایک نئی جہت فراہم کی۔ حالانکہ بیکل اتساہی نے ہر اصناف سخن حمد،مناجات، نعت، درود و سلام، مناقب، قصیدے، مرثیے، غزلیں، نظمیں، گیت، گیت نما، دوہے، ہائیکو اور ماہیے میں خوب طبع آزمائی کی لیکن نعت گوئی ان کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ بیکل اتساہی سادگی پسند اور فطرت کے شیدائی تھے۔ انھیں اپنی دھرتی، کھیت ، کھلیان سے بے حد لگاؤ تھا۔ گاؤں کی صبح و شام اور بولیوں سے پیار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری وطن کی مٹی سے رچی بسی ہوئی ہے اور سماج و زندگی کے اٹوٹ رشتے کو مضبوط دھاگے میں باندھتی ہے۔
1976 میں انھیں صدر جمہوریہ ہند فخرالدین علی احمدنے پدم شری اعزاز سے نوازا اور اترپردیش سرکار نے اپنے اہم ترین اعزاز یش بھارتی ایوارڈ سے سرفراز کیا۔ ان کے علاوہ بھی وہ بہت سے ایوارڈ سے نوازے گئے۔ مشاعروں اور کوی سمیلنوں میںان کی نمائندگی کو باعث فخر سمجھا جاتاتھا۔ ان کا دلکش ترنم سامعین کومسحور کردیتا تھا۔ ہندوپاک کے تمام دینی ، ادبی اور فلمی رسائل میںان کا کلام تواتر سے شائع ہوتارہا۔1986 میں آنجہانی راجیو گاندھی نے انھیںراجیہ سبھا کا رکن بنا کر پارلیمنٹ میںبھیجا۔
بیکل اتساہی ایک عظیم شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت شریف النفس ،انتہائی مخلص اور غریب دوست انسان تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کی خبر سن کر چاروں طرف رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف شخصیات نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انھیںقومی ورثہ اور ملک میں گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار قرار دیا۔ انتقال کے بعد بیکل اتساہی کے گھر پہنچے راجیہ سبھا میں کانگریس کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔ سماجوادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ اپنے تعزیتی پیغام میں انھوں نے کہا کہ بیکل اتساہی نے ہمیشہ اپنی شاعری سے سیکولرزم کا پیغام دیا اور مذہبی بنیاد پرستی کی مخالفت کی جس کے لیے انھیں پدم شری اور یش بھارتی سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بھی بیکل اتساہی کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیکل اتساہی اعلیٰ درجہ کے شاعر اور کوی تھے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر شہپررسول نے بیکل اتساہی کو ’شاعروں کے پریم چند‘ کے طور پر یاد کیا۔سابق رکن پارلیمنٹ ، سفارتکار اورکانگریس کے ترجمان م۔ افضل نے بیکل اتساہی کے انتقال کو اردو کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کاانتقال میرا ذاتی سانحہ اور خسارہ ہے۔ انھوں نے کہ کہا کہ بچپن میںہم مشاعروں میںانھیں سن کر ان کے انداز ااور ترنم پر سردھنا کرتے تھے۔ انھوںنے کہا کہ میںدہلی کے ایسے کئی مشاعروں کا عینی شاہد ہوں جنھیںبیکل صاحب نے اپنے کلام اور اپنی آواز سے لوٹ لیا۔ م۔ افضل نے کہا کہ اتفاق دیکھئے کہ جب میںراجیہ سبھا کا ممبر ہوا تو بیکل صاحب راجیہ سبھا میں پہلے سے موجود تھے۔پورا ایوان انھیںتوجہ سے سنتاتھا۔قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین پروفیسر طاہر محمود نے اپنے دیرینہ ذاتی مراسم کاذکرکرتے ہوئے ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ جمعیتہ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے بیکل اتساہی کی موت پرگہرے رنج وغم کااظہار کیا اور ان کے پسماندگان سے تعزیت کرتے ہوئے جمعیتہ علماء ہند کے وابستگان سے دعائے مغفرت کی اپیل کی۔ ان کے علاوہ بھی متعدد ادبی،سیاسی اور سماجی شخصیات اور تنظیموں نے بیکل اتساہی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
بلاشبہ بیکل اتساہی کے انتقال سے گنگا جمنی تہذیب کوناقابل تلافی نقصان پہنچاہے۔اردو اور ہندی ادب ایک عظیم شاعر اور شہنشاہ گیت سے محروم ہوگیا ہے۔ لیکن یہ دنیافانی ہے ۔ ہرنفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ان کی وفات کے بعد ان کی تصانیف ہمیشہ زندہ و تابندہ رہیں گی۔ ان کی تقریباً 22 تصانیف طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں۔ ’ چوتھی دنیا‘ کو بھی ان کا انٹرویولینے کا شرف حاصل ہے جوآج بھی یادگار کے طور پر ریکارڈ میںمحفوظ ہے۔ان کے انتقال پر ادارہ’ چوتھی دنیا‘ ان کے پسماندگان کے غم میںبرابر کا شریک ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *