کشمیر کے لوگوں سے بات چیت ہی ایک راستہ

damiسری نگر میں، شہر میں بھی اور شمالی اور جنوبی کشمیر کے دیہاتوں میں بھی مکمل بندی ہے۔آندولنوں کی تاریخ میں ایسی دوسری مثال نہیں ملتی۔عام لوگ جو کماتے ہیں، کھاتے ہیں، وہ لوگ جو ٹیکسی یا بس چلاتے ہیں، وہ لوگ جو شکارا چلاتے ہیں، وہ سارے لوگ اس بند میں شامل ہیں۔ سڑکوں پر پبلک گاڑیاں نہیں چل رہی ہیں، دکانیں تقریبا ًبند ہیں۔ کوئی زبردستی نہیں ہے کہ وہ بند رکھیں، لیکن یہ ان کا ہندوستان کے تئیں یا مرکزی سرکار کے تئیں ایک خاموش بے چارگی یا سول نافرمانی کا آندولن ہے۔ میں پھر دوہرا رہا ہوں کہ اس بند کا کوئی ثانی ساری دنیامیں نہیں ہے، دوسری مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ محققین اس کی وجہ تلاش کریں گے کہ کیا سیاسی صورت حال تھی، کیا نفسیاتی صورت حال تھی،کیا قیادت کے تئیں اعتماد تھا ،کیوں لوگوں نے اتنا لمبا بند رکھا۔ سرکار کے سارے محکموں کے دبائو کے باوجود جن میں انکم ٹیکس ، سیلس ٹیکس، پولیس اور پارا ملٹری فورسیز شامل ہیں، لوگوں نے اپنی دکانیں نہیں کھولیں یا پبلک ٹرانسپورٹ کو بحال نہیں کیا۔محققین شاید قیادت کے اس پہلو کو بھی کھوجنے کی کوشش کریں جس نے تاریخ بنایا ۔ ایک ایسی قیادت ،جس میں کل 10یا 12 نام ہیں۔ اس میں اہم تین نام ہیں اور ان میں سے کسی کے پاس بھی سیاسی کارکنوں کی طاقت نہیں ہے،جو بند کرانے کے لئے استعمال کیا جائے۔ اگر سیاسی پارٹیوں جیسی طاقت حریت کے پاس نہیں ہے، تو پھر کیوں لوگ حریت کی بات مانتے ہیں اور حریت کے کیلنڈر کی لوگ اہمیت کے ساتھ تعمیل کرتے ہیں۔
گزشتہ پانچ مہینوں میں آندولن کا ایک الگ نمونہ ابھر کر سامنے آیا۔ طلبائ، جس میں 6 سال سے 20 سال کی عمر کے طلباء شامل ہیں، نے اپنی طرف سے پتھر بازی کا ہتھیار تلاش کیا۔ صبح 8 بجے سڑکوں پر پتھر رکھ کر انہوں نے سڑکیں روکیں۔ آتی جاتی گاڑیوں پر پولیس اور سی آر پی ایف جوانوں پر پتھر بازی کی۔ شام کو انہوں نے سڑکوں سے پتھروں کی رکاوٹ ہٹا دی اور شام 6بجے کے بعد نارمل زندگی شروع ہونے دیا۔ طلباء کا کوئی لیڈر نہیں تھا،کوئی تنظیم ان کی قیادت نہیں کر رہی تھی، لیکن طلباء نے تقریباً ہرکونے میں پتھر بازی کی۔ تقریباً دس ہزار کے آس پاس طلباء گرفتار ہوئے۔لیکن گرفتاری سے پتھر بازی پر کوئی بہت بڑا اثر پڑا ہو، اس کی جھلک نہیں دکھائی دی۔ پتھر بازی ایک مہینے پہلے سے کم ہونی شروع ہوئی،کیونکہ طلباء کو یہ لگا کہ ان کے امتحان ہوں گے اور اگر انہوں نے امتحان نہیں دیئے، تو ان کا ایک سال خراب ہو جائے گا۔ جموں و کشمیر کی سرکار نے مارچ میں امتحان کرانے کی مانگ نہیں مانی۔یہ مانگ حریت کے کچھ لیڈروں نے بھی کی تھی۔ اس کا سرکار نے ایک راستہ نکالا کہ جو نومبر میں ہونے والے امتحانوں میں بیٹھیں گے، ان سے آسان سوال پوچھے جائیں گے، نصاب کو تھوڑا ہلکا کیا جائے گا۔جو نومبر میں امتحان نہیں دینا چاہتے ہیں، وہ مارچ میں امتحان دے سکتے ہیں۔طلباء نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور تقریباً 98 فیصد طلباء نے امتحان مین حصہ لیا۔ اس کا مطلب انہوں نے پتھر بازی بھی کی تھی اور اپنی پڑھائی بھی۔ پتھر بازی سرکار کے تئیں غصہ تھا اور امتحان اپنے سال کو بچانے کی کوشش۔
سرکار سوچ رہی ہے کہ وہ اسکول کھولے ، نئے ایڈمیشن شروع ہوں، اس وجہ سے یہ آندولن پُرامن ہوجائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ سرکار کا سوچنا صحیح ہو۔ لیکن جتنے لوگوں سے میں نے بات کی، ان لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اگر ہماری تکلیف، ہمارے درد، ہماری بات کو سیاسی طور پر ایڈریس نہیں کیا گیا، تو کچھ مہینوں کے بعد، کچھ سالوں کے بعد ہم پھر سڑک پر آئیں گے۔یہ کیسی مانگ ہے اور کون سی مانگ ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *