کشمیریوں کے خلاف شروع سے سازشیں ہوتی ہیں

damiحریت نے حال ہی میں ایک میٹنک بلائی تھی جس میں سبھی طرح کے لوگ آئے تھے۔ ہمیں بھی بلایا گیا تھا۔ اکالی دل ، بادل، مان سکھ گروپ فیڈریشن گئے تھے وہاں پر۔ وہاں کا ماحول ایسا تھا کہ ہر آدمی کچھ ڈر ڈر کر بول رہا تھا۔کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ اتنی بڑی میٹنگ میں پاکستان کا فیور کرنے والے لوگ بھی بیٹھے ہیں۔ آزادی کی مانگ کرنے والے لوگ بھی بیٹھے ہیں،ہندوستان کا فیور والے لوگ بھی بیٹھے ہیں، تو ہم کیسے کھل کر یہاں اپنی بات رکھیں۔ گیلانی صاحب کو چاہئے تھا کہ انہیں الگ الگ بلاتے، تب ایک صحیح رائے ملتی۔لیکن ہم سرداروں نے جو نہ آگے دیکھتے ہیں نہ پیچھے دیکھتے ہیں بات کھل کر رکھ دیتے ہیں۔ ہم نے ان سے کہہ دیا کہ صاحب 300 مسلم مجھے روز ملتے ہیں ۔جب میں ان سے رائے لیتا ہوں تو ایک ڈیفرنٹ اپروچ ہوتا ہے بات کرنے کا۔ اگر میں وہ بات یہاں آپ سے کہوں تو شاید کئی لوگ یہاں ناراض ہو جائیں گے، اس لئے یہاں میں وہ بات نہیں رکھنا چاہوں گا۔ دوسری بات ہم نے ان سے یہ کہی کہ چار مہینے ہو چکے ہیں۔ آل ریڈی ساری کمیونیٹی نے سامنا کیا ہے7-6 مہینے پہلے آئے سیلاب کا ۔ابھی وہ اس سے باہر نہیں آئے کہ ایک زبردست اکانومیکل دھکا لگا۔ دکانیں اور کاروبار بند ہوگئے، ٹرانسپورٹ بالکل بند ہو گیا۔ دیگر کئی طرح کے مسائل ہیں۔ دوسرا بڑا پرابلم یہ ہے کہ ٹورزم کے دو بڑے میجر سیکٹر ہیں۔ ایک پہل گائوں اور دوسرا گلمرگ۔پہل گائوں میں کوئی 25 ہزار ملازموں کو ایک مہینے کے بعد بینک ، ہوٹیلیئرس نے باہر نکال دیا۔ کیونکہ ان کی نوکری بھی ہوتی ہے سات، آٹھ مہینے کے لئے، سردیوں میں ہوٹلس کے کا م نہیں ہوتے ہیں ۔یہ 25ہزار آدمی وہاں سے نکل گئے۔ 25ہزار سے زیادہ گلمرگ میں بھی ہیں۔ ان کی روزی روٹی کہاں سے چلے گی؟گیلانی صاحب ، یاسین ملک اور عمر فاروق نے اس بات کو کوٹ کیا میٹنگ میں۔ دوسرا میجر سیکٹر تھا ایجوکیشن ۔پہلے بھی ہم ماس پرموشن دے چکے ہیں۔دوسرا ماس پروموشن دینے کی تیاری ہو رہی ہے۔ بغیر پڑھے بچے آگے جارہے ہیں ،’’دیئر از نو ڈائوٹ دیٹ از این ایکسٹریملی انٹلی جنٹ کمیونیٹی وی ہیو ان کشمیر‘‘ لیکن ایک ماحول جو آپ دے رہے ہو،وہ غلط ہے ۔میٹنگ میں جو تیسری بڑی بات ہم نے کہی وہ یہ کہ یہاں پر 30-25 ہزار سے زیادہ مسلمانوں کی گاڑیاں توڑی گئی ہیں اور توڑنے والے کون ہیں ،وہ بھی مسلمان ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کی جانچ ہو۔ یہ مارنے والے کون ہیں؟کیا یہ حریت کے لوگ ہیں۔ کیا یہ نیشنل کانفرنس کے لوگ ہیں یا کون لوگ ہیں؟ سارا کشمیر مل کر لڑ رہا ہے لیکن اس میں یہ تو نہیں کہا گیا کہ آپ کسی مسلمان کو ماریں۔ میرا کہناتھا کہ آپ نے تو کہہ دیا کہ بند کر دو، لیکن یہ پتھر کون مار رہا ہے؟ گیلانی صاحب ایک تجربہ کار لیڈر ہیں ۔ان کو معلوم ہے کہ اس سوسائٹی کو، کمیونیٹی کو کہاں لے جاناہے؟ اندھیرے میں لے جائیں گے یا روشنی کی طرف لے جائیں گے؟آپ کو فیصلہ کرناہے، ہم سے مت پوچھئے۔ آپ کو جو اچھا لگتا ہے ،وہی فیصلہ لیجئے۔
میں نے یہ بھی کہا کہ 89 19سے سکھ کمیونیٹی کے 300 کے قریب ہمارے لوگ مارے گئے ہیں۔یہ تعداد کشمیری پنڈت سے زیادہ ہے۔ دو قتل عام ہوئے ہیں ابھی تک۔چھتیس سنگھ پورا میں جو ہواتھا، اس کی کوئی انکوائری نہیں ہوئی ۔میں نے کہا کہ آپ سب لوگ کشمیر میں کشمیری پنڈتوں کے لئے چلا رہے ہو، لیکن کیا آپ لوگ کبھی سکھوں کے لئے بات کرتے ہو؟ہم نے یہاں پر سُکھ دُکھ میں آپ کا ساتھ دیا ہے۔ لیکن ایک بات جس کی میں تعریف کرتا ہوں، وہ یہ کہ جب بھی 20-15 دن کی ہڑتال ہوئی، تو سب سے پہلے سکھوں کے محلوں میں سبزیاں، دودھ دیئے گئے ،بعد میں مسلم گھروں میں ۔ ہمیں آپ سے کوئی شکوہ شکایت نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ 80 ہزار پاپولیشن ہے سکھ کمیونیٹی کی جموں اور کشمیر میں ۔ اس میں سے 70 پرسینٹ پاپولیشن گائوں میں رہتی ہے۔ کشمیرمیں سب سے زیادہ اگریکلچر ، ہارٹی کلچر کا کام بھی سکھوں کے پاس رہا ہے۔ لیکن کیا ہوا 89 19میں بد امنی شروع ہوئی۔ اس وقت تو انتظامیہ پوری طرح سے فلاپ ہو گیا۔ تب گائوںمیں کھلے عام گن چلی، سیکورٹی فورسیز کی بندوقیں چلیں، حزب المجاہدین، جے کے ایل ایف کی بندوقیں چلیں۔اس سے ہماری کمیونیٹی میں خوف پیدا ہوا ۔ اس کے بعد گائوں کے 70فیصد سردار گائوں سے اٹھ کر شہر میں آگئے۔ پراپرٹی وہیں رہ گئی۔ شہر میں آئے تو تین چار کالونی میں آکر ایک ایک کمرہ لے کر رہنے لگے۔ لیکن انہوںنے کشمیر نہیں چھوڑا۔ ان کی آمدنی کا ذریعہ ختم ہو گیا۔ مالی حالت خراب ہو گئی۔ تب تک میں سکھ پالٹیکس میں نہیں تھا۔ میں ایک سماجی کارکن تھا۔ میں نے دیکھا کہ ان کا مسئلہ کوئی نہیں دیکھ رہاہے۔دوسری طرف، کشمیری پنڈتوں کو پیکج بھی ملنے شروع ہو گئے۔ نہ سینٹر نے نہ ہی اسٹیٹ نے ان کو دیکھا۔ پھر میں نے مطالبہ شروع کیا کہ سکھوں کو مائنارٹی اسٹیٹس دیا جائے تاکہ یہ لوگ کہیں سیٹ ہو جائیں۔پھر میں نے کہا کہ ان کے اگریکلچرل ، ہارٹی کلچرل نقصان ہوئے ہیں۔ اس کی بھرپائی کی جائے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ عوام کشمیرمیں اسٹیٹ سبجیکٹ ہیں۔ یہاں نوکری ، تعلیمی اداروں میںانٹری کے لئے ایک اہم چیز ہے ۔میں نے کہا کہ یہی فیسلیٹی آپ سکھوں کو دے دو،جس طریقے سے آپ نے دوسروں کو دیا۔ عمر عبد اللہ کے ساتھ میری 6-5 میٹنگیں اس معاملے کو لے کر ہوئیں۔وہ ہمیشہ تیار تھے، آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں میں بس کر دوں گا، کل کر دوں گا۔میں نے کہا ٹھیک ہے ۔ پورے پانچ سال انہوں نے مجھے اس میں الجھائے رکھا۔
ہم نے کشمیر کو کیا دیا؟جب پچھلے بار احتجاج ہو رہا تھاتو پلوامہ میں ان لوگوں نے کہا کہ ’’ سکھ ویل جوائن دی پروسیشنس ‘‘ تو سکھ پریشان ہو گئے، کہا کہ ہم کیسے بولیں گے اللہ ہو اکبر ۔گیلانی صاحب ، فارق صاحب ، یاسین ملک سے میں نے ٹائم لیا۔میں نے ان سے کہا کہ آپ دنیا کو یہ دکھایئے کہ سکھ ہمارے پاس کشمیر کے ہر کونے میں بیٹھے ہیں۔لیکن اگر آپ ہمیں مجبور کریں گے کہ ہم آپ کے جلسے جلوس میں نکلیں اور اللہ ہو اکبر کہیں تو یہ ہم سے نہیں ہو سکتا۔ اگر اس بات کے لئے مجبور کریں گے تو ہم اپنا بوریا بستر اٹھا لیں گے۔ آپ پر پہلے سے ہی کشمیری پنڈتوں کو بھگانے کا الزام ہے اور یہ دوسرا الزام لگ جائے گا۔ انہوں نے اسی وقت عمر فاروق صاحب سے کہا کہ کوئی سکھ کو مجبور نہیں کرے گا جلسے جلوس میں آنے کے لئے ۔یہ ہے سکھوں کی عام کہانی۔
’’ دلی ہیز بین آلویز پلے اِنگ گیم ان کشمیر ‘‘ 1947 میں جب انڈیا کا پارٹیشن ہوا، جو مسلم پاکستان جانا چاہتے تھے ،وہ پاکستان چلے گئے اور جو مسلم ہندوستان پسند کر رہے تھے وہ ہندوستان میں رہے۔ جناح کشمیر آئے،جناح کو یہاں کے لوگوں نے نکال دیا اور شیخ عبد اللہ کی قیادت میں لوگوں نے ہندوستان کے ساتھ رہنا پسند کیا ۔لیکن فوراً ہی ان کے خلاف یہاں سازشیں شروع ہو گئیں۔ سازشیں کرنے والے کشمیری پنڈت تھے۔یہ جو اس وقت کشمیر کی لڑائی ہے، یہ ہے مسلم ورسیز کشمیری پنڈت۔ اب مسلم ناراض ہو کر یہ نعرہ دے رہا ہے کہ مجھے آزادی چاہئے، پاکستان چاہئے ۔کیونکہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ 1947 میں اندرا -شیخ ایکارڈ ہوا ۔ 1947سے 1974 کا جو پیر یڈ ہے۔ اس کو پورا کشمیر پنڈت چلا رہا تھا اور اس دور میں انہوں نے 2فیصد شیئر دیا یہاں کی میجارٹی کو۔ گورمنٹ جاب میں صرف دو پرسنٹ مسلمان تھے۔ ہندوستان نے کبھی یہاں کے لوگوں کو کنفیڈنس میں نہیں لیا اور کشمیر پنڈت سیلفش رہے شروع سے ۔ آج دیکھئے 1989 تک صرف 6مسلم جرنلسٹ تھے۔ جب جب کشمیری پنڈت یہاں سے نکلے تب 300مسلم جرنلسٹ یہاں بن گئے۔ کشمیر کے 13-12 مسلمان اب آئی اے ایس میں ہمیشہ آرہے ہیں۔ کشمیری پنڈت نہیں آرہے ہیں۔
بریک تھرو یہ ہے کہ یہ لوگ (حریت) اتنے ہارڈ اینڈ فاسٹ نہیں ہیں۔ جیسے کچھ دن پہلے کی بات تھی کہ ہم میٹنک میں بیٹھے تھے۔ سب کا نظریہ یہ تھا کہ کوئی بہانہ ملے آپس میں ملنے جلنے کا۔ اس دن گرو نانک جی کا بڑا دن تھا۔ حریت کے ہڑتال کیلنڈر میں اس دن تھا کہ لال چوک چلو۔ ،ہمارا گرو دوار لال چوک پر ہے۔ اس دن ہم سکھ لوگ سیلیبریٹ کرتے ہیں۔ بڑا گرودوارا ہے وہاں پر ۔جب لال چوک چلوگے تب تک وہاں کرفیو لگ جائے گا۔گرو نانک جی کا برتھ ڈے تھا اسی دن جس دن ان کی ہڑتال کی کال آئی۔ میں نے کہا کہ گیلانی صاحب ہم مائنارٹی کے لوگ ہیں۔ آپ نے کال کر دیا۔ اس کو واپس لو اور انہوں نے اپنی کال واپس لے لی۔لہٰذا اس دن سارا بازار کھل گیا۔ ٹریفک چلا،دکانیں چلیں۔ یہ سیکنڈ ٹائم ہے جب گیلانی صاحب نے میرے کہنے پر اپنی کال کو واپس لیا۔اسی طرح ایک دیوالی کی کال واپس لی آج سے دو سال پہلے۔ مطلب کہنے کا یہ ہے کہ ہمارا سکہ بھی چلتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں تو وہ بات سنتے بھی ہیں۔
میرا اندازہ ہے کہ یہاں پر گورمنٹ کو کائونٹر کرنے کے لئے بدنام کرنے کے لئے ملی ٹینسی کو پُش کرتے ہیں۔ایسے میں ’’ دے ویل ڈیفی نیٹلی ٹیک کیئر ‘‘۔ اس سے اسٹرائک کرنے کا موقع بھی مل جاتاہے۔ مجھے کچھ کمیونیٹی سینٹرس میں جہاں کہیں گرودواروں میں بولنے کا موقع ملا تو کھل کے ڈرانے کی کوشش تو نہیں کی لیکن میں نے دبی دبی آواز میں کہا کہ حالات بہت خراب ہونے والے ہیں اپنے علاقے میں۔ آپ لوگ تھوڑا سا دھیان رکھئے، سچویشن پر نظر رکھئے، سچویشن صحیح بنانے کے لئے ان کو کنفیڈنس میں لینا پڑے گا۔ دلی والوں ، صاحب آپ بکواس بند کرو۔ ایک تو آپ نے 60سال وہاں کی کمیونیٹی کو اس کا شیئر نہیں دیا اور آج آپ ہمیں ایکسپلائٹ کرتے ہو۔ اس لئے یہ بند کرو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *