پے ٹی ایم مت کرو

ہندوستان کا نظام معیشت آہستے آہستے چین کے چنگل میں پھنستا جارہا ہے۔ ملک کے عوام کا پسیہ چینی کمپنی علی بابا کے ہاتھوں گروی ہونے والا ہے۔ جولوگ پے ٹی ایم کا استعمال کررہے ہیں، انہیں ایلرٹ رہنا چاہئے کیونکہ دنیا کے سب سے بڑے نازار چین کے موبائل پیمنٹ سروس پر برتری قائم کرنے کے بعد علی بابا نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کی شروعات کرلی ہے۔ عجب بات تو یہ ہے کہ حکومت نے الیرٹ ہونے کے بجائے چینی کمپنی علی بابا کی مکھوٹا کمپنی پے ٹی ایم کے مالک کو ریزروبینک آف انڈیا کے ذریعے بینکنگ لائسنس دلوایا۔ جب سے وزیراعظم نریندر مودی نے نوٹ بندی کا اعلان کیاہے تب سے ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک تماشہ ہورہاہے۔ کون فیصلے لے رہا ہے؟افراتفری کی حالت یہ ہے کہ جو لائن میں لگے ہیں، انہیں پیسہ نہیںمل رہا ہے اور حوالہ کاروباری اور دھوکے بازوں کے پاس سے کروڑوں روپے نکل رہے ہیں۔ ہر دوسرے دن نئے ضابطہ کا اعلان ہوجاتا ہے۔ ہر طرف تذبذب کی حالت ہے۔ مودی حکومت کو لوگوں کے پیسے اور پریشانی کی فکر تو دور ملک کے نظام معیشت کی حفاظت کا بھی کوئی دھیان نہیں ہے۔ اسی غیر یقینی صورتحال میںکچھ کمپنیاں ملک کے عوام کو لوٹنے میں لگی ہوئی ہیں۔ حکومت ایسی کمپنیوں کو بڑھاوا دے رہی ہے جو دشمن ممالک کی کمپنیوں کو ساتھ ملکر ملک کے عوام کو چونا لگا رہی ہیں۔ حکومت ریزروبینک آف انڈیااور وزارت خزانہ کے حکام کی ملی بھگت کی وجہ سے اس کمپنی کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ حیرانی تو اس بات کی ہے کہ اپوزیشن کی پارٹیوں جو کہ ان خطرات سے حکومت کو آگاہ کرنا چاہتی ہیں،ا نہیںپارلیمنٹ میں نہ تو بولنے کا موقع ملا اور نہ ہی انہیں پے ٹی ایم کی حقیقت کا اندازہ ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ نے پے ٹی ایم سے جڑے تنازعہ کی چھان بین کی۔ اس تحقیقات سے کئی حیرت انگیز باتیں سامنے آئی ہیںجو کہ پے ٹی ایم اورا س کے مالک پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔
ایک طرف حکومت ہے جولوگوں کو کیش لیس ہونے کو کہہ رہی ہے۔ بینکوں کو وافر نوٹ کی سپلائی نہیں ہورہی ہے۔ لوگوں کو اپنے ہی پیسے نکالنے کے لیے بینکوں کے چکر لگانے پڑرہے ہیں پھر بھی پیسے مل نہیں رہے ہیں۔ وہیں دوسری طرف کیش لیس بھگتان کا دھندہ کرنے والی کمپنیاں لوگوں کو اپنے حال میں پھنسارہی ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرنے میں پے ٹی تیم نامی کمپنی سب سے آگے ہے۔ ٹی وی اور اخباروں میں بڑے بڑے اشتہار دے کر پے ٹی ایم لوگوں کو گمراہ کررہی ہے۔ لوگںکو گمراہ کرنے کی ضرورت اس لیے ہے کہ ہندوستان میں جس سطح پر یہ کام کرنا چاہتی ہے،ا س کے لیے پے ٹی ایم کے پاس نہ تو تکنیک ہے نہ ہی اتنا سازوسامان اور نہ ہی نیٹ ورک ہے۔ اس لیے پے ٹیم ایم نے چین کی ایک ایک بہت بڑی کمپنی سے ساتھ ہاتھ ملا یا ہے۔ ہم ان دونوںکمپنیوں کے رشتے کا خلاصہ کریں گے لیکن اس سے پہلے اس بات کو سمجھا ضروری ہے کہ کچھ دن پہلے پے ٹی ایم نے سی بی آئی میں دھوکا دھڑی کی ایک شکایت درج کرائی تھی۔ پے ٹی ایم نے سی بی آئی کو یہ بتایا تھا کہ کچھ دنوں میں تقریباً 26ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں کمپنی کے اندر ہی ایک تحقیقاتی کمیٹی بنی جس کی رپورٹ سی بی آئی کو دے دی گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق 26ایسے معاملوں میں تقریباً ایک لاکھ 62ہزار روپے کی ہیرا پھیری ہوئی اورہیرا پھیری کرنے والے لوگ پے ٹی ایم کے ہی ملازمین ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پے ٹی ایم کمپنی کے اندر ہی ایسے لوگ ہیں جو ہیراپھیری میں شامل ہیں۔ یہ کوئی الزام نہیں ہے۔ بلکہ پے ٹی ایم کمپنی کی شکایت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جس کمپنی کے ملازمین ہی گھپلے بازی میں ڈوبےہوئے ہوں تو ایسی کمپنی کے ہاتھ میں لوگ اپنی گارھی کمائی کیسے دے سکتے ہیں؟ ایسے میں پے ٹی ایم پر بھروسہ کیسے کیاجاسکتاہے؟ معاملہ سی بی آئی کے پاس ہے۔ اس لیے حکومت نےا یسی کمپنی کے مالک کو بینکنگ لائیسنس کس بھروسے پر دے دیا؟
آئے دن پے ٹی ایم سے جڑی مضحکہ خیز خطرناک خبریں آرہی ہیں۔ ایک معاملہ میں ایک بیگ بیچنے والے دوکاندار نے لوگوں سے جی بھر کے پے ٹی ایم سے بھگتان لیا لیکن ایک چوک سے اس کی ساری کمائی ہوا ہوگئی۔ پے ٹی ایم سے اس کا سارا پیسہ غائب ہوگیا۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ پے ٹی ایم والوں کو بھی یہ پتہ نہیںہے کہ اس کا پیسہ کہاں گیا؟ اس دوکاندار کے لین دین کا پورا ریکارڈ بھی غائب ہے۔ یہ غریب دوکاندار پےٹی ایم کمپنی کے چکر لگارہاہے مگر کمپنی کی طرف سےہر بار یہی کہا جاتا ہے کہ شکایت ای میل کے ذریعےکرو۔ اب بے چارہ یہ دوکاندار کہاں سے اور کیسے ای میل کرے گا؟ کیا اگر وہ ای میل نہیں کرے گا تو اس کا سارا پیسہ ڈوب جائے گا؟ ایک بے چارے دوکاندار نے سامان بیچا لیکن پیسے اس کے اکائونٹ میں جمع ہونے کے بجائے باہر چلے گئے۔ اسی طرح کی خبریں آرہی ہیں کہ بگیر کچھ کئے لوگوں کے پیسے خالی ہوجارہے ہیں۔ اسی طرح سورت شہر میں تین افراد آن لائن دھوکادھڑی کے شکار ہوئے اوران کا سارا پیسہ ڈوب گیا۔ ان کے بھی پسیہ کی کوئی کھوج خبر نہیں ہے۔ ان معاملوں سے جڑی کمپنیوں نے بھی ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں۔ ایک اور خبر آئی کہ مدھیہ پردیش پولس نے پے ٹی ایم سمیت کئی دیگر والیٹ پورٹلز کے خلاف دھوکا دھڑی کا کیس درج کیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں دھوکہ دھڑی کے 300سے زیادہ معاملے اب تک سامنے آچکے ہیں۔ ایسی خبروں کی بھر مار ہے جہاں غریب اور چھوٹے دوکانداروں کے ساتھ دھوکہ دھڑی ہوری ہے۔ ان کو تویہ پتہ بھی نہیں ہے کہ وہ کہاںجائیں۔
حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں صرف چار سائیبر تھانے ہیں اور آن لائن دھوکہ دھری کے معاملوں میں سیلاب سا آگیا ہے۔ ملک کا قانون نئے زمانے کے آن لائن ملزم کو سزا دلانے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم ایسی حالت پر پہنچ گئے ہیںکہ لوگوں کے پیسے کی ضمانت حکومت ہند کی ہوتی ہے لیکن جب ہم کیش لیس ہوجائیں گے تو لوگوں کے پیسے کی ضمانت کون دے گا؟ یہ سوال گمبھیر اس لیے ہے کہ پیسے کے بھگتان پر پورا کنٹرول چین کی ایک کمپنی کا ہوگا۔ چین کی کمپنی کو ہندوستان میں پیر جمانے کا موقع پے ٹی ایم نے دیا ہے۔

 

علی باباچین کی کمپنی ہے جو کہ ہندوستان میں پے ٹی ایم نامی کمپنی کے ذریعے موبائل پیمنٹ سروس میں گھس چکی ہے۔ علی بابا اور پے ٹی ایم کے بیچ2015میں معاہدہ ہوا۔ علی بابا کے بالمقابل پے ٹی ایم ایک چھوتی کمپنی ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق علی بابا کی پے ٹی ایم میں 40فیصد داری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پے ٹی ایم کے حکام اور ہندوستان کی میڈیا علی بابا کی سرمایہ کاری کو صرف 25فیصد ہی کیوں بتارہاہے؟ اس جھوٹ کا پرچار کیوںکیاجارہاہے؟ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ پے ٹی ایم نےہر اخبار اور ٹی وی چینلوں پر اپنے اشتہار دے کر سچ پر پردہ ڈال دیا ہے؟ یہ شبہ اس لیے بھی پختہ ہوتاہے کہ پے ٹی ایم اور علی بابا کا یہ رشتہ صرف پیسے کا نہیں ہے۔ علی بابا صرف ایک سرمایہ کار ہی نہیں ہیں بلکہ ہندوستان میں پے ٹی ایم کے پورے کاروار کی کنجی اس کے اہتھ میں ہے۔ ریزروبینک آف انڈیا کے مطابق موبائل کے ذریعے کیش لیس بھگتان کے بازار پر74فیصد علی بابا اور پے ٹی ایم کا قبضہ ہوچکا ہے۔ ان کمپنیوں کا مقصد ہندوستان کے 200شہروں میں 500ملین لوگوں کو موبائل کےذریعے کیش لیس پیمنٹ پر منحصر کرانا ہے۔ اگر علی بابا پے ٹی ایم اس مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ہندوستان کا پورا نظام معیشت اس چینی کمپنی کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن جائے گا۔ حیرانی تو اس بات پر ہے کہ مفت میں اس کے سب سے ابھرے ہوئے پرچارک ہمارے ملک کےوزیراعظم بنے ہوئے ہیں۔
پے ٹی ایم کے بانی اور سی ای او جے شیکھر شرما خود کو محب الوطن بتاتے ہیں لیکن یہ ایک چینی کمپنی علی بابا کے ذریعے لوگوں کی گاڑھی کمائی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ یا یوں کہئے کہ چین کی ایک کمپنی کو ہندوستان کے کیش لیس بھگتان کے بازار پر قبضہ کرنے کے لیے راستہ دکھارہے ہیں۔ حیرانی اس بات پر بھی ہے کہ ملک کی حکومت نے انہیں اس کام کو کرنے کے لیے نہ صرف کھلی چھوٹ دے رکھا ہے بلکہ اس پرتمام اصول وضوابط کی اندیکھی کرنے کا الزام بھی لگ رہا ہے۔ حال میں ہی ایک ٹی وی چینل پر دیئے گئے ایک انٹر ویو میں وجے شیکھر شرما نے کہا کہ علی بابا صرف ایک سرمایہ کار ہیں جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔ علی بابا نے صرف پیسہ ہی نہیںلگا یا ہے بلکہ سارا آپریشن ان کے ہاتھوں میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علی بابا نے 500ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ساتھ ہی20تکنیکل سپورٹ ٹیم کو بھی ہندوستان بھیجا جو کہ پے ٹی ایم کےہر پہلو کا آپریشن دیکھ رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ پے ٹی ایم کے مالک وجے شیکھر شرما میڈیا میں لگاتار اپنی حب الوطنی کی قسمیں کھا رہے ہیں اور لگاتار اپنے آپ کو حب الوطن ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ پھر یہ بات انہوں نے کیوں نہیں بتائی کہ ان کی کمپنی کاسارا آپریشن چین سے آئی ٹیم کی نگرانی میں چل رہا ہے۔ وہ ہر انٹرویو میں اس بات پر کیوں زور دیتے ہیں کہ پے ٹی ایم پوری طرح سے ہندوستانی کمپنی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ چین سے آئی اس ٹیم کو ویزا تو حکومت نے ہی دیا ہوگا تو حکومت یہ کیوں نہیں پوچھ رہی ہے کہ اس نام نہاد ہندوستانی کمپنی میں چین سے آئی ٹیم کیاکررہی ہے؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ پے ٹیم ایم نے ایسی کیا تکنیک اپنائی ہے جسے آپریٹ کرنے والےہندوستان میں نہیںہیں؟ پوری دنیا میں ہندوستان کے سافٹ ویئر انجینئروں نے دھاک جما رکھی ہے۔ ہندوستان میں دنیا کے سب سے اچھے سافٹ ویئر انجینئرس موجود ہیں۔ پھر ایسی کیا بات ہے یا وہ کون سی مجبوری ہےکہ پے ٹی ایم کو چین سے ٹکنیکل ٹیم کی ضرورت پڑگئی؟
حیرت تو اس پر بھی ہے کہ چین سے آئی علی بابا کی ٹکنیکل ٹیم نہ صرف آپریشن کی دیکھ ریکھ کررہی ہے بلکہ علی بابا کی یہ ٹکنیکل ٹیم ہی پے ٹی ایم کے ہر پروڈکٹ کو تیار کررہی ہے۔ یہی ٹیم پے ٹی ایم ٹکنیکل سسٹم کو تیار کررہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سرور سے لے کر سارا ہارڈ ویئر چین سے لایا گیا ہے۔ سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ علی بابا کی ٹیم ہی پے ٹیم ایم کے آپریشن کے رسک کنٹرول کی صلاحیت کا ڈولپ منٹ کررہی ہے۔ ساتھ ہی پے ٹی ایم کی مارکیٹنگ مہم کو چلارہی ہے۔ ان سب ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے علی بابا کے سابق ڈائریکٹر (ہول سیل بزنس) بھوشن پاٹل کو پے ٹی ایم کا نائب صدر بنادیا ہے۔ لہٰذا اب سوال یہ ہے کہ علی بابا کی تکنیک علی بابا کے لوگ، علی باباکا پروڈکٹ، علی بابا کا سسٹم اور خطرے سے نمٹنے کی ذمہ داری یعنی سب کچھ علی بابا کے ہاتھ میں ہے تو پے ٹی ایم کو تو یہی کہنا پڑے گا یہ کمپنی چینی کمپنی علی بابا کے ہاتھوں کی ایک کٹھ پتلی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہندوستانی کمپنی کے نام کے سائے میں چینی کمپنی علی بابا ہندوستان کے موبائل پیمنٹ کے بازار پر قبضہ کررہی ہے اور ملک کی حکومت کمبھ کرن کی نیند میں سوئی ہوئی ہے۔
علی بابا کے جنرل منیجر چین یان نے حال ہی ایک چینی میگزین کو بتایا کہ علی بابا گزشتہ ایک برس سے پے ٹی ایم کے ساتھ ٹیکنالوجی اور بزنس ماڈل کو ساجھہ کررہاہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ علی بابا جس تکنیک کے تحت چین میںموبائل پیمنٹ کی سہولت دے رہا ہے، وہی تکنیک پے ٹی ایم علی بابا کی مدد سے ہندوستان میںنافذ کررہاہے۔ علی بابا چین میں ’کویک ریسپانس‘ یعنی کیو آر کوڈ پیمنٹ ٹکنالوجی کا استعمال کرتا ہے۔ اس میں دوکاندار موبائل فون میں بار کوڈ کے ذریعے بھگتان کرتا ہے۔ وجے شیکھر شرما نے کئی بار چین کا دورہ کیاہے جہاں وہ ہینگج جھوشہر میں واقع علی بابا کے ہیڈ کوارٹرز میں جاکر اس تکنیک کو دیکھا۔ شرما خود ایک سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ جب انہوں نے علی بابا کی تکنیک دیکھی تو وہ حیران رہ گئے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک انہوں نے خود چین آکر نہیں دیکھا تھا تب تک اس تکنیک کے ذریعے بھگتان کرنےکی بات پر ان کو بھروسہ نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علی بابا کی ٹکنالوجی کے بارے میں انہیںکوئی جانکاری نہیں تھی۔ یہاں بھی یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی تکنیک کو ہندوستان میں وہ پے ٹی ایم کیوں نافذ کررہاہے جس کے بارے میں اسے کوئی جانکاری ہی نہیںہے۔مستقبل میں اگر کوئی گڑبڑی ہوئی، لوگوں کا پیسہ ڈوبایا ہندوستان کے نظام معیشت پر اس کا اثر پڑا تو اس کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟تب کیا وہ کہیں گے کہ انہیں اس تکنیک کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی۔

 

ایک سوال جو کہ کسی کے ذہن میں اٹھ سکتا ہے کہ آخر علی بابا تو ایک کمپنی ہی ہے، اس سے اتنا خطرہ کیوں ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کمپنی چین کی ہے۔ چین سے ہمارے رشتے اچھے نہیں کہے جاسکتے۔ جس طرح سے چین اور پاکستان دونوں ملکر ہندوستان کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع نہیں کھوتے، مستقبل میںہند-چین سرحد، دہشت گردی، تبت اور دوسری عالمی واقعات کو لے کر ہندوستان اور چین میںٹکرائو کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ ایک دہائی سے ہندوستان میں میںموبائل نیٹ ورک سے جڑا تمام ہارڈ ویئر اور تکنیک چین سے آرہاہے۔ اسے لے کر بھی کئی سلامتی ماہرین نے آگاہ کیا ہے۔ ہندوستان کے موبائل نیٹ ورک پر چین کا قبضہ ہے۔ اب پے ٹی ایم کے ذریعہ چین کی ایک اور کمپنی اقتصادی میدان میں صرف گھس ہی نہیں رہی ہے بلکہ اس نے جستکنیک کو اپنایا ہے اس سے چینی کنزیومر مستقبل میں ہندوستان میں کیو آر کوڈ کے ذریعہ پیمنٹ کرنے کے قابل ہوجائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی بھی آدمی یا بزنس مین جو چین سے کوئی سامان خریدتا ہے یا بیچتا ہے تو پی ٹی ایم کے ذریعہ سیدھے پیمنٹ کر سکتا ہے۔ یہ فیما کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے کیونکہ بیرون ملک جانے والا کوئی کتناپیسہ باہر لے جاسکتا ہے اس پر ایک حد مقرر ہے۔اگر علی بابا اور پے ٹی ایم کے ذریعہ ادائیگی کرنے کا سسٹم تیار ہو جاتا ہے تو اس حد کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا۔ لوگ چین جاکر پے ٹی ایم کے ذریعہ جتنامن چاہے ،اتنا پیسہ پیمنٹ کرسکتے ہیں۔ چین سے کوئی بھی سمجھوتہ کرنے سے پہلے ہمیں یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ چین ایک عالمی طاقت بننا چاہتا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ اس کے رشتے اچھے نہیں ہیں۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ بغیر چینی سرکار کی رضامندی کے چین کی کوئی کمپنی بیرون ملک میں کام نہیں کرسکتی ہے۔ ہمیں یہ بھی دھیان رکھنا چاہئے کہ ان کمپنیوں کے ذریعہ چین دوسرے ملکوں کے اقتصادی نظام میں گھس کر اس پر قبضہ کر کے اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے۔ چین کئی ملکوں میں اپنے سستے سامان ڈمپ کرکے کئی ملکوں کی صنعت کو برباد تو کر ہی چکا ہے اور اب چینی ٹکنالوجی اور کمپنی کے ذریعہ کیش لیس پیمنٹ کے بازار پر قبضہ کرنے کی فراق میں ہے۔ کسی بھی غیر ملکی کمپنی کی ہندوستان کے اقتصادی نظام میں اس طرح سے مداخلت ممکن نہیں ہے۔ اس لئے چینی کمپنی نے ہندوستان کے بازار پر قبضہ کرنے کے لئے پے ٹی ایم کو چنا۔ ایسا لگتا ہے کہ پے ٹی ایم چینی کمپنی علی بابا کا محض ایک چہرہ ہے جس کا کام سرکاری سسٹم کو مینیج کرنا اور میڈیا میں کمپنی کو خالص قومی کمپنی ثابت کرنے کی تشہیر کرنا ہے۔

 

علی بابا کو لے کر ایک اور سچ جو زیادہ تر لوگوں کومعلوم نہیں ہے وہ یہ ہےکہ چینی کمپنی علی بابا کی صرف پے ٹی ایم میں ہی سرمایہ کاری نہیں ہے۔ گزشتہ سال علی بابا نے اسنیپ ڈیل نام کے آن لائن شاپنگ ویب سائٹ میں بھی 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ علی بابا نے ڈی ایچ ایل اور ڈیلہیوری کے ساتھ بھی پارٹنر شپ کی۔ علی بابا ایک بڑے وسائل والی کمپنی ہے اور ہندوستان کا کیش لیس پیمنٹ کا بازار ابتدائی مرحلے میں ہے۔اس پڑائو پر اگر کسی دشمن ملک کی کثیر وسائل والی کمپنی کو بازار میں بے روک ٹوک انٹری ملتی ہے تو خطرہ بالکل طے ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ہم جیسے ہی پے ٹی ایم سے جڑتے ہیں اور پیمنٹ کرتے ہیں، ویسے ہی ہماری ساری جانکاری جس میں مالی تفصیلات ، لوکیشن، فوٹو ویڈیو، کانٹیکٹ اور بیک گرائونڈ کی جانکاری انٹرنیشنل نیٹ ورک میں شیئر ہو جاتی ہے ۔یہ خطرناک ہے کیونکہ یہ تمام جانکاریاں سیدھے چین کی کمپنی علی بابا کے پاس پہنچ جاتی ہیں یعنی چین پہنچ جاتی ہیں۔ اس پر سرکار کو فوری طور پر روک لگانا چاہئے۔ کسی بھی بیرونی کمپنی کو براہ راست یا بالواسطہ طریقے سے اس سیکٹر میں آپریٹ کرنے کی چھوٹ نہیں ملنی چاہئے۔ سرکار اور ریزرو بینک آف انڈیا کو اپنا نیٹ ورک اور اپنی تکنیک سے یہ کام کرناہوگا۔ جب تک سرکار کے پاس یہ تکنیک نہیں ہے ،تب تک اس کیش لیس کی مہم کو ٹال دینا چاہئے۔ کیونکہ جیسے جیسے یہ بازار ڈیولپ ہوتا جائے گا،علی بابا کی پکڑ مضبوط ہوتی جائے گی۔ ایک ایسا وقت آئے گا کہ اگر ہندوستان کی سرکار انہیں ہٹانا چاہے توبھی نہیں ہٹا پائے گی۔یہ خطرہ اس لئے پختہ ہے کیونکہ ہندوستان میں علی بابا کو ٹکر دینے والی کوئی دوسری ملکی یا باہری کمپنی نے ابھی تک موبائل پیمنٹ کے بازار میں انٹری نہیں کی ہے۔ اگر موبائل پیمنٹ ہندوستان کے گائوں گائوں تک پہنچ گیا تو علی بابا کے ذریعہ چین ہندوستان کے اقتصادی نظام کو تباہ کرنے کی طاقت حاصل کر لے گا۔ بغیر جنگ کئے ہندوستان کو وہ آسانی سے گھٹنے پر لانے میں کامیاب ہوجائے گا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *