پوتن کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’ہوشیار‘ شخص ہیں

damiروس کے صدر ولادی میر پوتن کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ‘ہوشیار شخص ہیں جو اپنے عہدے کی ذمہ داریاں ‘بہت جلد سمجھ جائیں گے۔سرکاری نشریاتی ادارے این ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ نومنتخب امریکی صدر پہلے سے ہی ‘منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔‘صدر پوتن اس سے پہلے اس امید کا اظہار کر چکے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکہ اور روس کے تعلقات کو بہتر بنائے گی۔اپنی الیکشن مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ پوتن براک اوباما سے بہتر صدر ہیں اور اس بیان کے بعد انھیں امریکہ میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
پوتن نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ‘ٹرمپ ایک کاروباری شخصیت ہیں، وہ پہلے سے ہی ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور وہ امریکہ جیسے ملک کے سربراہ ہیں جو کہ دنیا کے سرکرداہ ممالک میں سے ایک ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘انھیں کاروبار میں کامیابی ہوئی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہوشیار ہیں۔ اگر واقعی میں وہ ایسے ہیں تو وہ جلد ہی اپنی نئی ذمہ داری کو مکمل طور پر سمجھ جائیں گے۔ ‘
پوتن نے یکم دسمبر کو روس کے سرکردہ سیاسدانوں سے کہا تھا کہ ‘ہم کسی سے اختلاف نہیں چاہتے۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ ہم نہ کسی دشمنی کی تلاش میں ہیں اور نہ ہم نے کبھی دشمنی کی ہے۔ ہمیں دوستوں کی ضرورت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘ہم نئی امریکی انتظامیہ سے تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ بین الاقومی سطح پر سلامتی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے پوتن کا کہنا تھا کہ ایک ایسی دنیا بنانے کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں کہ جہاں اقتصادی، فوجی اور ثقافتی طور پر صرف ایک ملک کا غلبہ ہو۔روس کے صدر پہلے بھی یہ بات امریکہ کے تناظر میں کرتے آئے ہیں کہ وہ عالمی معاملات میں اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران روس کے بارے میں ٹرمپ کے موقف پر ان پر نکتہ چینی ہوئی تھی اور وہ اس بات کو واضح کر چکے ہیں کہ وہ روسی لیڈر کا احترام کرتے ہیں۔ستمبر میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ پوتن کا ‘اپنے ملک پر زبردست کنٹرول ہے اور یہ کہ وہ صدر اوبامہ سے بہتر صدر ہیں۔
ٹرمپ کی توجہ میں جب یہ بات آئی کہ پوتن کی پسندیدگی کی ریٹنگ 82 فیصد ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے خیال میں اگر وہ میرے بارے میں کہتے ہیں کہ میں زبردست ہوں تو پھر تو میں اسے تعریف سمجھوں گا۔
صدارتی انتخاب سے پہلے امریکی انٹیلیجنس کے اہلکاروں کا الزام تھا کہ روس ‘ڈیموکریٹک نینشل کمیٹی کو ہیک کر کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے لیکن کریملن نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *