پاکستان میں نئے فوجی سربراہ کی تقرری پر عرب میڈیا کی آراء

c-_users_razi-ahmad_desktop_319_339_damiخارجہ پالیسی میں تبدیلی کا امکان
ریاض ،سعودی عرب سے شائع ہونے والا ایک مشہور اخبار ’’ الشرق الاوسط ‘‘ پاکستان میں نئے فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کی تقرری کے بارے میں لکھتا ہے کہ پاکستان کو آزادہوئے تقریباً 69سال ہوچکے ہیں اور ان میں نصف عرصے تک اس ملک پر فوج نے حکومت کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں فوج کی اور فوجی سربراہ کی بڑی اہمیت دی جاتی ہے ۔کسی بھی جمہوری ملک میں تمام اختیارات منتخب حکومت کو ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔یہاں خارجہ پالیسی طے کرنے میں خاص طور پر ہندوستان اور افغانستان کی پالیسی طے کرنے میں فوج کا عمل دخل بہت زیادہ ہوتا ہے۔منتخب حکومتیں فوجی سربراہ کی مرضی کے مطابق ہی پالیسی طے کرتی ہیں ،اسی لئے یہاں فوجی سربراہ کے تعین کا چرچا مقامی اور عالمی سطح پر خوب ہوتا ہے۔موجودہ فوجی سربراہ کے بارے میں خیال جاتا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ مزاج آدمی ہیں لہٰذا ان کے آنے سے اندرون ملک اور خارجہ پالیسی میں جو افراتفری کا ماحول ہے، اس میں اس میں کمی آئے گی ۔
نئے فوجی سربرا ہ سے خطرہ نہیں
مصر سے شائع ہونے والا ایک اخبار ’’ الحیاۃ‘‘ لکھتا ہے کہ پاکستان نے نئے فوجی سربراہ کا تقرر کیا ہے۔نئے سربراہ کے اوپر سب سے بڑی ذمہ داری ہوگی سول حکومت اور فوج کے درمیان ہم آہنگی بنائے رکھنا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے اہم مسئلہ اور فوجی سربراہ کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہی ہوتا ہے کہ وہ عوام کا اعتماد بحال رکھنے کے علاوہ منتخب حکومت کے ساتھ مل جل کر کام کرے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ نواز شریف نے بڑی سمجھداری سے قمر جاوید کا تقرر اس عہدہ کے لئے کیا ہے۔ دراصل یہ ایک سنجیدہ آدمی ہیں اور نواز شریف کو لگتا ہے کہ وہ کبھی بھی ماضی کی طرح ان کا تختہ پلٹ کر حکومت پر قابض نہیں ہوںگے۔اپنی حکومت کو محفوظ رکھنے کے لئے ہی پہلے انہیں ترقی دی گئی اور پھر اس عہدہ کے لئے صدر مملکت سے سفارش کی گئی ۔ان کی سفارش کی توثیق کرتے ہوئے ممنون حسین نے باجوہ کو اس حساس عہدے پر مامور کردیا ہے۔
باجوہ کے لئے چیلنج
لندن سے شائع ہونے والا ایک عربی اخبار ’’ العرب‘‘ لکھتا ہے کہ قمر جاوید باجوہ پاکستان کے نئے فوجی سربراہ مقررکئے گئے ہیں۔ یقینا یہ ایک باوقار اور حساس عہدہ ہے جس پر انہیں فائز کیا گیا ہے۔ پاکستان کے ماحول میں کسی فرد کا فوجی سربراہ بن جانا بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے کیونکہ یہاں حکومت کے ہر فیصلے خاص طور پرخارجہ پالیسی کو طے کرنے میں فوج کا عمل دخل ہوتا ہے۔ اب نئے سربراہ کے لئے ایک بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ملک میں افراتفری کے ماحول کو خاص طور پر جہاں پر سابق فوجی سربراہ راحیل شریف نے فوجی آپریشن کیا ہے وہاں امن قائم رکھنا ایک بڑا مسئلہ ہوگا۔ حالانکہ باجوہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک سمجھدار اور سلجھے ہوئے سربراہ ہیں لہٰذا ان تمام حالات پر بخوبی قابو کرلیں گے لیکن خارجہ پالیسی میں ان کا نقطہ نظر کیا ہوگا یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔
ہندوستان باجوہ کے لئے آزمائش
مراکش عربی نیوز سائٹ ’’ مراکو پوست ‘‘ لکھتا ہے کہ پاکستان کی فوج دنیا کی چھٹی سب سے بڑی فوج ہے۔ ظاہر ہے اتنی بڑی طاقت کا سربراہ بننا ایک اعزاز کی بات ہے۔مگر ہندوستان کے ساتھ ان کا طریقہ عمل کیا ہوگا،یہ ان کے لئے ایک آزمائش ہوگی۔باجوہ اس سے قبل کشمیر سرحد پر اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان کے کام کو پاکستانی حکومت نے سراہا بھی تھا۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ کس طرح آگے بڑھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ جن خطوں میں ان کے پیشرو راحیل شریف نے جو آپریشن کیا ہے اور کشیدہ ماحول کو پُر امن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ،ان خطوں میں انہیں زیادہ توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔
باجوہ کا فوجی تجربہ گہرا ہے
قمر جاوید کی فوجی ٹریننگ کینڈا میں ہوئی ہے۔ وہ پاکستان کے متعدد عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ان کے تجربات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ پاکستان کے لئے سود مندہوں گے۔لیکن ایک فوجی سربراہ کی حیثیت سے کئی پہلوئوں کو دیکھنا پڑتا ہے اور ملک کی سا لمیت ،استحکام اور امن و امان کو ترجیحی بنیاد پر لینا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے فیصلے کرنے پڑتے ہیں جن سے خارجہ پالیسی متاثر نہ ہو۔ ان تمام پہلوئوں کے باجود وہ آنے والے معاملوں کو کس طرح ہینڈل کریں گے، اس کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا(وسیم احمد )

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *