نوٹ بندی کی حمایت اور مخالفت کس میں کتنا دم؟

damiنوٹ بندی کولاگو ہوئے ایک مہینے سے یادہ کا وقت گزر چکا ہے۔ اس موضوع پرملک میں نئے ماہرین اقتصادیات کا ایک بڑا طبقہ تیار ہو گیا ہے۔ان کے نام سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔ انہیں نوٹ بندی کے سبب پیدا شدہ حالات کی وجہ سے عام لوگوں کو ہو رہی فوری تکلیف میں دور رس فائدے نظر آرہے ہیں۔ ان ناموں میں کچھ نام ایسے ہیں جو شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ کے درمیانی درجے والے ملک، پنامہ سے لیک ہوئے کاغذات سے مبینہ طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ ان اقتصادی امور کے جانکاروں کے برعکس خیال رکھنے والے جو نام دیئے جارہے ہیں ان میں ملک کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے پروفیسر، اخباروں میں اقتصادی معاملوں پر ریمارکس کرنے والے، عالمی بینک سے جڑے، نوبل ایوارڈ جیتنے کے کئی پروجیکٹوں پر تعاون کر چکے اور یہاں تک کہ خود اقتصادیات کا نوبل ایوارڈ جیت چکے لوگوں کے نام شامل ہیں۔ اب آگے اگر یہ لسٹ از سر نو ایڈٹ ہوتی ہے تو اس میں ملک کے ایک برے بینکر کا نام بھی شامل ہو جائے گا۔ کیونکہ ملک کے ایک بڑے پرائیویٹ بینک کے چیئر مین جو پہلی والی لسٹ میں شامل تھے، اب یو ٹرن لے کر دوسری لسٹ میں شامل ہو چکے ہیں۔ پہلے درجے کے ماہرین اقتصادیات کے جلوے کو دیکھ کر کسی منچلے نے اپنے فیس بک پیج پر یہ بھی لکھ دیاکہ ملک کی یونیورسٹیوں میں اقتصادیات پڑھا رہے اور ملک و بیرون ملک میں سمیناروں میں پرچے پڑھنے جارہے اور ملک و بیرون کے اقتصادی اخباروں میں چھپ رہے اقتصادیات کے پروفیسروں کی فوراً چھٹی کر دینی چاہئے۔کیونکہ انہیں سرکار کی اس پہل کا دور رس فائدہ دکھائی دیتا نظر نہیں آرہا ہے۔
اقتصادیات کے لئے نوبل ایوارڈ جیت چکے امرتیہ سین کا کہنا ہے کہ لاکھوں بے قصور لوگوں کو ان کے اپنے ہی پیسوں سے محروم کیا جارہاہے۔ انہیں اپنے پیسے واپس حاصل کرنے کی کوشش میں دشواری اور پریشانی کے علاوہ رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا صرف ایک آمر سرکار ہی کرسکتی ہے۔عالمی بینک کے اہم ماہر اقتصادیات کیشک بسو کہتے ہیں کہ نوٹ بندی کا فیصلہ ظاہری طور پر بد عنوانی ، دہشت گردی کی فنڈنگ اور افراط زر کے خلاف جنگ کے طور پر کیا گیا تھا۔لیکن اس کا نفاذ ٹھیک ڈھنگ سے نہیں کیا گیا۔ مارکیٹ کے طور طریقوں پر بالکل کم دھیان دیا گیا، اس لئے اس کے ناکام ہونے کا پورا امکان ہے۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا ماننا ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے ملک کا جی ڈی پی 2 فیصد تک نیچے جاسکتا ہے۔ کالے دھن پر کتاب لکھ چکے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات پروفیسر ارون کمار نے نوٹ بندی کو بیوقوفانہ قدم بتایا اورکہا کہ اس سے سب سے زیادہ متاثر غریب ہوں گے ۔انہیں سے ملتی جلتی رائے ظاہر کرنے والے لوگوں میں میراسنیال ، رگھو رام راجن، پربھات پٹنائک، ارون شوری، جین دریج، لیری سمرس وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
مذکورہ ماہرین اقتصادیات کے ٹھیک برعکس مودی سرکار کا نوٹ بندی کا فیصلہ کچھ لوگوں کو بہت اچھا لگ رہاہے۔ ابھیشیک بچن کہتے ہیں کہ کوئی بھی آدمی اگر ملک کے لئے اچھا کام کر رہا ہے تو اس کی حمایت کی جانی چاہے اور نوٹ بندی صحیح سمت میں ایک مثبت قدم ہے۔ امیتابھ بچن نے اپنی فلم ’پنک‘ سے 2000 روپے کے گلابی رنگ کے نوٹ کا موازنہ کرتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ رشی کپور نے اپنے ٹویٹر ہنڈل سے کرکٹ کی زبان میں نوٹ بندی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گیند 6 رنوں کے لئے بائونڈری کے باہر چلی گئی۔ فلم اسٹاروں میں سلمان خاں ، عامر خاں، انوشکا شرما سے لے کر انوراگ کیشپ تک، اجے دیو گن سے لے کر اکشے کمار سبھی کو یہ فیصلہ دمدار لگا۔
جب فلم والے نوٹ بندی کے فیصلے کو لے کر تعریفوں کے پل باندھ رہے تھے تو کرکٹر کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ وریندر سہواگ اور وراٹ کوہلی بھی میدان میں آموجود ہوئے۔ انوپم کھیر، شری شری روی شنکر اور بابا رام دیو کو بھی اس لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ بابا رام دیو تو ایک قدم آگے جاتے ہوئے نوٹ بندی کی مخالفت کرنے والوں کو ملک کا غدار قرار دے دیا۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کے اس قدم سے لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے۔ اس جرات مندانہ فیصلے کی وجہ سے بینکوںاور اے ٹی ایم کے سامنے اپنے ہی پیسوں کے لئے جان دے رہے لوگوں کو شاید تکلیف ہورہی ہے، لیکن یہ تو ڈنکے کی چوٹ پر کہا جاسکتا ہے کہ مذکورہ لوگوں میں سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہو رہی ہوگی ۔کیونکہ ان میں سے کوئی بھی بینک اور اے ٹی ایم کے سامنے لگی قطاروں میںاب تک دکھائی نہیں دیئے ہیں۔نوٹ بندی کے کئی حامی ایسے بھی ہیں جو اس فیصلے کی حمایت میںلائن میں کھڑے ہوکر جان دینے کی قسمیں کھارہے تھے، بعد میں کئی لاکھ نئے نوٹوںکے ساتھ گرفتار ہوئے۔ خیر جو گرفتار ہوئے ان کی خبر تو ہو گئی لیکن نہ جانے کئی ایسے ہوں گے جن پر ہاتھ ڈالنا پولیس کے لئے ممکن نہیں ہو سکا ہوگا۔
بہر حال نوٹ بندی کو لے کر اپوزیشن کالا دیوس منا رہا ہے اور برسراقتدار اس کو لے کر تقریباً ہر دن نئے نئے اعلانات کر رہا ہے۔اپوزیشن کا منہ بند کرنے کیلئے نوٹ بندی کی حمایت میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے حال ہی میں کہا کہ ملک میں سات دہائیوں سے رائج نارمل حالات میں رکاوٹ آگئی ہے۔دراصل نئے نارمل صورت حال کی طرف جانے کے لئے اس رکاوٹ کو لانا لازمی تھا۔ اب صورت حال کو نارمل بنانے کی سرکار کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں ( نیا نارمل اب قابو میں ہورہا ہے) ۔ایک مہینے پہلے جو ابتدا ہوئی تھی وہ اب نارمل شکل لیتی جارہی ہے۔ایک مہینے پہلے لوگوںکے ہاتھ جس طرح کیش سے خالی ہوئے تھے، وہ آج بھی خالی ہیں اور بینکوںاور اے ٹی ایم کے سامنے لگنے والی قطاروںکا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ان قطاروں میں لوگوں کی دھکا مکی اور پولیس کے لاٹھی چارج کا سلسلہ بھی چل رہا ہے۔ قطاروں میں کھڑے کمزور دل اور کمزور جسم والے لوگوں کے مرنے کی خبریں بھی گاہے بگاہے آرہی ہیں ۔سب کچھ نارمل طور سے چل رہاہے۔ لوگوں کی شادیاں ڈھائی لاکھ روپے میں ہو جارہی ہیں۔ ملک کے زیادہ تر اے ٹی ایم عام طور سے خالی پڑے ہیں۔ بینکوں کا کیش نارمل طریقے سے ہر دن دوپہر تک ختم ہو جاتاہے۔ اس حالت کو نارمل بنانے میں بینکوں کا بھی بہت بڑا رول ہے۔جہاں لوگوں کی قطاریں لگتی ہیں،وہیں کسی کونے میں دیوار پر بینک والوں نے ایک پرچہ آویزاں کر رکھا ہے، جس میں لکھا ہے کہ اگر کسی نے بینک والوں سے بدسلوکی کرنے کی حماقت کی تو اسے فلاں دفعہ کے تحت جیل جانا پڑ سکتا ہے اور غریب آدمی غالب کی طرح یہ کہہ کر دل کو بہلا لیتا ہے کہ :مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساںہو گئیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *