نوٹ بندی کرنسی گھوٹالہ کی یا لیپا پوتی

untitled-1’’ چوتھی دنیا ‘‘ کے پاس تقریباً ساڑھے 6 ہزار اور دیگر صنعتکاروں کی لسٹ دستیاب ہے، جن کے ذریعہ ہڑپے گئے قرض کی رقم کل 4903180.79 لاکھ روپے ہے۔ ان 6 ہزار اہم صنعتکاروں کے نام بھی ہمارے پاس ہیں، جنہوں نے کئی بینکوں کے قرض کے 53,144.54 کروڑ روپے ہڑپ لئے۔ بینکوں کا قرض ہڑپنے والے کاروباریوں، سرمایہ داروں، صنعتکاروں اور ان کا ساتھ دینے والے بینکوں کی لسٹ کافی لمبی ہے، لہٰذا ہم اسے قسط وار چھاپتے رہیں گے
مرکزی سرکار نے نوٹ بندی کا فیصلہ کالے دھن پر لگام لگانے کے لئے نہیں بلکہ اقتصادی خسارے کی وجہ سے ہانپ رہی مانیٹری حالت کو رفتار میں لانے کے لئے لیا۔ کالے دھن پر لگام کسنے کا ارادہ رہتا تو نوٹ بندی کے فیصلے کے ساتھ ہی مرکزی سرکار ان سرمایہ داروں اور لیڈر بنے صنعتکاروں کی لسٹ بھی عام کرتی جو بینکوں کے اربوں روپے ارادتاً ہڑپ کر بیٹھ گئے۔ مرکزی سرکار ان بینکوں کے چیئر مین اور سینئر منیجروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتی جن کی ملی بھگت سے دھنا سیٹھوں نے بینکوں کے روپے ہڑپے اور ملک کے عام لوگوں کو بھیانک تکلیف میں ڈال دیا۔ نوٹ بندی کے ذریعہ مرکزی سرکار نے عام لوگوں کا پیسہ بینکوں میں جبراً جمع کروا کر بینکوں اور مالیاتی اداروں کے اب تک کے سارے نقصانات کی بھرپائی کر لی۔ اس طرح بینکوں کے قرض کے اربوں روپے ہڑپنے کی منظم سازش اور ان کے ساتھ سانٹھ گانٹھ رکھنے والے بینکوں کی تو موج ہو گئی۔ ساری تکلیفیں عام لوگوں کو اٹھانی پڑیں جن کے پیسے بینکوں میں جمع ہوئے، لیکن کام کے وقت وہ اسے نکال نہیں پائے۔ اس وجہ سے ملک کے لوگوں کا ملک کے بینکنگ سسٹم سے بھروسہ اٹھ گیا۔
حقائق اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ بینکوں، سرمایہ داروں ، لیڈروں اور نوکر شاہوں کی سانٹھ گانٹھ سے جو ملک کا سب سے بڑا سلسلہ وار کرنسی گھوٹالہ ہوا، نوٹ بندی کے فیصلے نے اس کی یکبارگی لیپا پوتی کر دی۔ نوٹ بندی کا فیصلہ اس بڑے گھوٹالے سے خالی ہوئے خزانے کو بھرنے کے لئے لاگو کیا گیا، جس نے خزانہ بھی بھر دیا اور بڑے کرنسی گھوٹالے کو قبر میں بھی دفن کردیا۔ سب سے بڑے کرنسی گھوٹالے کے ’نیکسس‘ سے ملک کے وزیر خزانہ ، فنانس سکریٹری، کابینی سکریٹری، اقتصادی معاملوں کے سکریٹری سمیت کئی اہم لوگ جڑے دکھائی دیئے۔ آپ اس ’نیکسس ‘ کا اندازہ اس بات سے ہی لگا سکتے ہیں کہ نریندر مودی کابینہ کے ممبر وائی ایس چودھری بینک قرض کے سینکڑوں کروڑ روپے ارادتاً ڈکار جانے والے قد آوروں میںشامل ہیں، لیکن وزیر اعظم کی نگاہ ان پر نہیں جاتی۔ بینکوں کا قرض منصوبہ بند گھوٹالے کا لمبے عرصے سے ذریعہ بنا رہا۔ لیڈر، صنعتکار، بینک اور نوکر شاہ مل کر خزانہ لوٹتے رہے اور ہم کالا دھن ،کالا دھن رٹتے اور بیوقوف بنتے رہ گئے۔یہ گھوٹالہ اتھاہ ہے اور اسے سوچے سمجھے طریقے سے الجھا کر رکھا گیا ہے۔ اس کی گہرائی میں اترتے چلے جائیں تو آپ کو اندر کی بھیانک بھول بھلیوں کا احساس ہوگا، سطح کا اندازہ تو ملے گا ہی نہیں۔ بینک قرض گھوٹالہ اور نوٹ بندی انہی عُقدوں اور بھول بھولیوں کا حصہ ہے ۔ بینکوں کے قرض کے اربوں روپے ارادتاً ہڑپنے والے وجے مالیا یا للت مودی جیسے کچھ دھنا سیٹھوں کا نام آپ نے سنا، لیکن زیادہ تر نام خفیہ ہی رہ گئے۔
انہی میں سے ایک نام ہے مودی سرکار میں وزیر وائی ایس چودھری کا، جو اعلانیہ ’ ویل فل ڈیفالٹر ‘‘ ہیں۔ یعنی وزیر مذکور نے ارادتاً منظم طریقے سے بینک قرض کے سینکڑوں کروڑ روپے ہڑپ لیے۔ وائی ایس چودھری کی کمپنی سوجانا میٹلس کا بینکوں سے لیا گیا قرض پانچ سال میں 765 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1572 کروڑ روپے ہو گیا جبکہ کمپنی کا فائدہ ان پانچ برسوں میں محض 26 کروڑ رہا۔ کمپنی کا مارکیٹ کیپٹلائزیشن محض 75 کروڑ روپے تھے۔ پھر بینکوں نے اناپ شناپ قرض کیوں دے دیئے؟یہ سوال ہوا میں ہی رہ گیا اور 2013 میں کمپنی کو سی ڈی آر بل آئوٹ پیکج کا فائدہ دے کر ڈیفالٹر ہونے کے داغ سے نجات دلانے کی سازش رچ دی گئی۔ اسی طرح سوجانا ٹاورس کا ٹرن اُوَر 1803 کروڑ روپے تھا جبکہ بینکوں کا بقایا دو ہزار کروڑ روپے۔ اس کمپنی کو بھی سی ڈی آر ( کارپوریٹ ڈیبٹ ریسٹرکچنگ ) بل آئوٹ پیکج دے کر پاک صاف کر دیا گیا۔ سوجانا یونیورس کا نیٹ فائدہ ایک فیصد سے کبھی اوپر نہیں گیا۔ اس کے باوجود اسے قرض دینے کا سلسلہ جاری رہا اور وہ 195 کروڑ سے بڑھتا ہوا 425 کروڑ روپے تک چلا گیا۔ بینکوں پر اس کمپنی کا بقایا 1609 کروڑ روپے ہے۔ سینٹرل بینک اور بینک آف انڈیا کے ڈیفالٹروں کی لسٹ میں اس کمپنی کا نام شامل ہے، جس نے ان دو بینکوں کے 920 کروڑ روپے نہیں دیئے۔
بینکوں کے قرض میں لمبے عرصے سے چل رہا سلسلہ وار گھوٹالہ ملک کا ہی نہیں ، دنیا کا اب تک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہے۔ اس میں بینکوں کی پوری ملی بھگت ہے۔ بینکوں نے صنعتکاروں کے ساتھ مل کر یہ گھوٹالہ کیا۔ این پی اے کے ٹیگ سے بچنے کے لئے بینکوں کے ذریعہ صنعتکاروں کوقرض پر قرض دیئے جاتے رہے۔ صنعتکاروں کے بقایا جات کو ’لونگ ٹرم لون ‘ کی شکل میں بدلا جاتا رہا اور ملی بھگت سے خزانہ خالی ہوتا رہا۔ بینکوںنے بڑے صنعتکاروں سے ڈیفالٹر س کا فائدہ اٹھا کر خود بھی خوب پیسہ کمایا۔ بینکوں نے بڑے بقایا دار صنعتکاروں کے خلاف کبھی کوئی قانونی کاررروائی کے لئے پہل نہیں کی۔ وہ تو ماریشس بینک نے جب ’ ہیسٹا ہولڈنگس‘ کے خلاف قانون کا سہارا لیا، تب پول کھل کر سامنے آیا۔ تب یہ بھی عام ہوا کہ تمام دیگر بینک خاموشی سادھے کیوں بیٹھے تھے۔ کینگ فیشر، لینکو، پروگریسیو کنسٹرکشن جیسی کمپنیاں تو گھوٹالوں کی ہانڈی کے کچھ چاول بھر ہیں۔مرکزی سرکار میں بیٹھا وزیر بھی اسی ہانڈی کا ایک چاول ہے جس کے خلاف وارنٹ تک جاری ہو گیا تھا۔ ماریشس کمرشیل بینک کے 106 کروڑ روپے کا بقایا نہیں دینے پر مرکزی وزیر وائی ایس چودھری کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری ہو گیا تھا۔ ماریشس میں واقع کمپنی ہیسٹا ہولڈنگس مرکزی وزیر کی سوجانا یونیورسل انڈسٹریز کا انٹرپرائز ہے۔ بڑے ’ویل فل ڈیفالٹرس ‘ کی لسٹ میں سوجانا گروپ کی دو کمپنیوں سوجانا ٹاورس اور سوجانا یونیورسل انڈیا لمیٹیڈ کے نام شامل ہیں۔ حالانکہ جانکار یہ بھی بتاتے ہیں کہ سوجانا گروپ پر بینکوں کے پانچ ہزار کروڑ روپے باقی ہیں۔
بینکوں سے ارادتاًہڑپے گئے قرض کا بیورا چونکانے والا ہے۔ نیشنل بینکوں کے 3192 کھاتوں سے 29ہزار 775 کروڑ روپے ہڑپے گئے ۔اسٹیٹ بینک اور اس سے متعلق بینکوں کے 1546 کھاتوں کے ذریعہ 18 ہزار 576 کروڑ روپے ہڑپ لئے گئے۔ پرائیویٹ بینکوں کے 792 کھاتوں کے ذریعہ 10 ہزار 250 کروڑ روپے ہڑپے گئے۔ مالیاتی اداروں کے 42کھاتوں کے ذریعہ 728 کروڑ روپے اور غیر ملکی بینکوں کے 38 کھاتوں کے ذریعہ 463 کروڑ روپے، یعنی کل 5610کھاتوں کے ذریعہ 58 ہزار 792 کروڑ روپے کا قرض منصوبہ بند طریقے سے ہڑپ لیا گیا۔ بینکوں کا قرض ارادتاً ہڑپے جانے کے کھیل میں سارے بینکوں کا رول رہا۔ یہ کوئی انجانے میں نہیں ہوا بلکہ اسے بڑے ہی منظم طریقے سے انجام دیا گیا ۔آپ قرض ہڑپے جانے کے کھیل کی تفصیل میں جائیں تو ملک کے سارے بینک آپ کو مجرم نظر آئیں گے،یہ الگ بات ہے کہ سرکار کی نظر میں ارادتاً قرض ہڑپنے والے ( وہل فل ڈیفالٹرس ) صنعتکار یا ان کا ساتھ دینے والے بینک مجرم نہیں ہیں۔
قرض ہڑپنے کے کھیل کی تفصیلی صورت حال یہ ہے کہ پنجاب نیشنل بینک کے 944505.71 لاکھ روپے کے قرض ہڑپے گئے۔ اسی طرح سینٹرل بینک آف انڈیا کے 357409 لاکھ روپے ، اورینٹل بینک آف کامرس کے354583 لاکھ وپے ،یونین بینک آف انڈیا کے 299087.09 لاکھ، آندھرا بینک کے 242847 لاکھ ، وجیہ بینک کے 189491.46 لاکھ، بینک آف بڑودہ کے 136879لاکھ ، انڈین بینک کے 120027.69 لاکھ، دینا بینک کے 80230لاکھ ، بینک آف مہاراشٹر کے 77555.65 لاکھ، الٰہ آباد بینک کے 48774.05 لاکھ ، پنجاب اینڈ سندھ بینک کے 24755.53 لاکھ اور انڈین اُوَر سیز بینک کے 1380.09 لاکھ روپے،کل ملا کر 2877525.27 لاکھ روپے کے قرض ارادتاً یعنی سوچی سمجھی پالیسی بنا کر ہڑپ لئے گئے۔
قرض ہڑپنے کا کھیل یہیں نہیں رکا ہے۔ اب ذرا بھارتیہ اسٹیٹ بینک اور اس سے متعلق بینکوں کا بھی کھیل دیکھتے چلیں۔ سرمایہ داروں اور بینکوں کی ملی بھگت سے بھارتیہ اسٹیٹ بینک کے 1209122.59 لاکھ روپے، بینک آف حیدرآباد سے 208871.82 لاکھ روپے، اسٹیٹ بینک آف بیکانیر اینڈ جے پور کے 160906 لاکھ روپے، اسٹیٹ بینک آف میسور کے 102984.67 لاکھ روپے ، اسٹیٹ بینک آف تراونکور کے 90976 لاکھ روپے اور اسٹیٹ بینک آف پٹیالہ کے 84785.43 لاکھ روپے، یعنی اسٹیٹ بینک اور اس سے جڑے بینکوں کے کل 1857646.51 لاکھ روپے کے قرض سازش کرکے کھا لئے گئے۔
قرض ڈکارنے کے کھیل میں نیشنلائزڈ بینکوں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کے بینک، غیر ملکی بینک اور مالیاتی ادارے بھی شامل رہے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کے بینک کوٹک مہندرا سے 544219.57 لاکھ روپے کے قرض ہڑپ لئے گئے۔ اسی طرح ایکسیس بینک کے 99388.40 لاکھ روپے، انڈس اینڈ بینک لمیٹٹیڈ کے 89975.18 لاکھ روپے، دی فیڈرل بینک لمیٹیڈ کے 80309.06 لاکھ روپے ، دی سائوتھ انڈین بینک لمیٹیڈ کے 52497 لاکھ روپے، آئی سی آئی سی آئی بینک لمیٹیڈ کے 39353.63 لاکھ روپے، کرور ویشیہ بینک لمیٹیڈ کے 37537.28 لاکھ روپے ، ایچ ڈی ایف سی بینک لمیٹیڈ کے 24267.41 لاکھ روپے، تمل ناڈو مرکنٹائل بینک لمیٹیڈ کے 17854.88 لاکھ روپے، دھن لکشمی بینک لمیٹیڈ کے 16463لاکھ روپے ، کیتھلک سیرین بینک کے 10873 لاکھ روپے، کرناٹک بینک لمٹیڈ کے 6054 لاکھ روپے ، یس بینک کے 3023 لاکھ روپے، دی رتناکر بینک لمیٹیڈ کے 3017 لاکھ روپے ، دی جموں اینڈ کشمیر بینک لمیٹیڈ کے 122.18 لاکھ روپے اور ڈیولپمنٹ کریڈٹ بینک لمیٹیڈ کے 20.39 لاکھ روپے، یعنی پرائیویٹ بینکوں کے کل 1024974.98لاکھ روپے کے قرض ارادتاً ڈکار لئے گئے۔
غیر بینکوں میں اسٹنڈرڈ چارٹرڈ بینک کے 30141.47 لاکھ روپے، دوہرا بینک کے 7205لاکھ روپے، ڈیوش بینک کے 3184 لاکھ روپے، بینک آف بحرین اینڈ کویت کے 2331 لاکھ روپے، سٹی بینک کے 1829.80 لاکھ روپے اور کریڈٹ ایگریکول کارپوریٹ اینڈ انوسٹمنٹ بینک کے 1606.15 روپے، یعنی غیر ملکی بینکوں کے بھی کل 46297.42 لاکھ روپے کے قرض ہڑپے گئے۔ مالیاتی اداروں میں یونٹ ٹرسٹ آف انڈیا کے 37853.93 لاکھ روپے کے قرض ہڑپے گئے۔ ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف انڈیا کے 22311.12 لاکھ روپے اور یو ٹی آئی میوچول فنڈ کے 12628.66 لاکھ روپے ، کل ملا کر مالیاتی اداروں کے بھی 72793.71 لاکھ روپے کے قرض ہڑپ لئے گئے۔
31 مارچ 2002 سے لے کر موجودہ سال 2016 کے 31مارچ تک بینکوں کی 18 لاکھ 24 ہزار 675 کروڑ روپے کی بھاری رقم ڈوب چکی۔ عجیب لیکن سچی بات یہ ہے کہ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد یعنی 2014 سے لے کر 2016 کے بیچ بینکوں کے 1035611کروڑ روپے ڈوبے ۔ 2013 میں بینکوں کے روپے ڈوبنے کے اعدادو شمار 1¡64¡461کروڑ روپے ہیں جو 2014 میں بڑھ کر 216739کروڑ ، 2015 میں 278877 کروڑ اور 2016 میں 539995 کروڑ روپے ہو گئے ۔ڈوبا ہوا یا ڈبویا گیا پیسہ ملک کے عام لوگوں کا پیسہ ہے،جس کی اگاہی کے لئے مرکزی سرکار یا بینکوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ بڑے آرام سے اتنی بڑی رقم کو بٹے کھاتے میں ڈال کر ڈوبا ہوا مان لیا گیا۔ جن ہستیوں نے اتنی بڑی مقدار میں ملک کا پیسہ کھایا، ان کے نام تک (کچھ لوگوں کو چھوڑ کر) سرکار نے شائع نہیں ہونے دیا ، مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ڈوبی ہوئی رقم کو بڑے آرام سے ’رائٹ آفر ‘ بتا کر مطمئن ہو گئے۔ اسے ہی اصل ہندی میں ڈوبا ہوا پیسہ کہتے ہیں۔ تقریبا ً400 ’’ ویل فل ڈیفالٹرس ‘‘ نے بینک قرض کے 70 ہزار کروڑ روپے ہضم کر لئے ہیں۔ مارچ 2008 میں بینکوں کا ڈوبا ہوا قرض (بیڈ لون ) 39 ہزار کروڑ روپے تھا، جو ستمبر 2013 میں بڑھ کر دو لاکھ 36ہزار روپے پر پہنچ گیا۔ گزشتہ 7 برسوں میں ڈوبے ہوئے قرض کی رقم 4.95رقم لاکھ کروڑ تک پہنچ گئی۔ ان میں 24بینکوں کے محض 30 ڈوبے قرض (بیڈ لون ) کی رقم 70 ہزار تین سو کروڑ ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کے بینکوں کے ڈوبے ہوئے قرض کی رقم 48 ہزار 406 کروڑ روپے ہے۔
سازش سے بھرپور ارادہ بنا کر بینکوں کا قرض ہڑپنے والے 50 بڑے ہڑپ کرنے والوں میں کینگ فیسر کا نام سرخیوں میں رہا، لیکن اس سے زیادہ پیسہ کھایا ونسم ڈائمنڈ اینڈ جویلری کمپنی لمیٹیڈ نے۔ وجے مالیہ کی کینگ فیشر ایئر لائنس نے 2673 کروڑ روپے ہڑپے جبکہ ونسم ڈائمنڈ اینڈ جویلری کمپنی لمیٹیڈ نے 2982 کروڑ روپے ڈکارے ۔ الیکٹرو تھرم انڈیا لمیٹیڈ نے 2211 کروڑ ، جوم ڈیولپرس پرائیویٹ لمیٹیڈ نے 1810 کروڑ روپے، اسٹرلنگ بایو ٹیک لمیٹیڈ نے 1732 کروڑ، ایس کمارس نیشن وائڈ لمیٹڈ نے 1692سوریہ ونایک انڈسٹریز لمیٹڈ نے 1446 کروڑ، کارپوریٹ اسپات ایلائز لمیٹڈ نے 1360 کروڑ، فار ایور پریسس جویلری اینڈ ڈائمنڈس نے 1254 کروڑ، اسٹلنگ آئل ریسورسیز لمیٹڈ نے 1197 کروڑ، ورون انڈسٹریز لمیٹڈ نے 1129 کروڑ، آرچڈ کیمیکلز اینڈ فارماسیوٹکل لمیٹڈ نے 938 کروڑ، مرلی انڈسٹریز اینڈ ایکسپورٹس لمیٹڈ نے 884 کروڑ، نیشنل ایگریکلچرل کو آپریٹو نے 862کروڑ، ایس ٹی سی ایل لمیٹڈ نے 860 کروڑ، سوریہ فرما پرائیویٹ لمیٹڈ نے 726 کروڑ، زائلنگ سسٹمس انڈیا لمیٹڈ نے 715 کروڑ، پکسیان میڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ نے 712 کروڑ، ڈیکن کرونیکل ہولڈنگس لمیٹڈ نے 700کروڑ، کے ایس آئل ریسورسیز لمیٹڈ نے 678 کروڑ، آئی سی ایس (انڈیا) لمیٹڈ نے 646 کروڑ، انڈین ٹیکنومیک کمپنی لمیٹڈ نے 629 کروڑ، سینچری کمیونکیشن لمیٹڈ نے 624 کروڑ، موزیر بایر انڈیا لمیٹڈ اینڈ گروپ آف کمپنیز نے 581 کروڑ، پی ایس ایل لمیٹڈ نے 577کروڑ، آئی سی ایس اے انڈیا لمیٹڈ نے 545کروڑ ، لینکو ہاسکوٹ ہائی وے لمیٹڈ نے 533 کروڑ، ہاؤسنگ ڈیولپمنٹ اینڈ انفرا لمیٹڈ نے 526 کروڑ، ایم بی ایس جویلرس پرائیویٹ لمیٹڈ نے 524 کروڑ، یوروپین پروجیکٹس اینڈ ایوئیشن لمیٹڈ نے 510 کروڑ، لی میریڈین انفرا پروجیکٹس نے 488 کروڑ، پرل اسٹوڈیوز پرائیویٹ لمیٹڈ نے 483 کروڑ، ایڈوکامپ انفراسٹرکچر اینڈ اسکول مین نے 477 کروڑ، جین انفرا پروجیکٹس لمیٹڈ نے 472 کروڑ، کے ایم پی ایکسپریس وے لمیٹڈ نے 461 کروڑ، پردیپ اوورسیز لمیٹڈ نے 437 کروڑ، رجت فارما و رجت گروپ نے 434 کروڑ، بنگال انڈیا گلوبل انفراسٹرکچر پرائیویٹ لمیٹڈ نے 428 کروڑ، اسٹلنگ ایس ای زیڈ اینڈ انفراسٹرکچر پرائیویٹ لمیٹڈ نے 408 کروڑ، شاہ ایلائز لمیٹڈ نے 408 کروڑ، شیوانی آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن لمیٹڈ نے 406 کروڑ، آندھرا پردیش راجیو سوگرہ کارپوریشن لمیٹڈ نے 385 کروڑ، پروگریسو کنسٹرکشنس لمیٹڈ نے 351 کروڑ، ڈیلہی ایئر پورٹ میٹ ایکس لمیٹڈ نے 346 کروڑ، گوالیار جھانسی ایکسپریس وے لمیٹڈ نے 346 کروڑ، آلپس انڈسٹریز لمیٹڈ نے 338 کروڑ، اسٹلنگ پورٹ لمیٹڈ نے 334 کروڑ، ابھجیت فیرورٹیک لمیٹڈ نے 333 کروڑاور مرکزی وزیر کی وائی ایس چودھری کی ایک کمپنی سجانا یونیورسل انڈسٹریز نے 330 کروڑروپے کا بینک قرض منصوبہ بندطریقے سے ہڑپ لیا۔ اس طرح ان ٹاپ 50صنعت کاروں نے ہی بینکوں کی ملی بھگت سے لون کے 40,528 کروڑ روپے کھالیے۔ لیکن مرکزی سرکار نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان کے علاوہ بڑے ہڑپوؤں میں بیٹا نپتھال بھی شامل ہے جس نے 960 کروڑ روپے ہڑپ کیے۔ رضا ٹیکسٹائلس لمیٹڈ نے 695 کروڑ ہڑپ کیے تو ری ایگرو لمیٹڈ نے 589 کروڑ، ایگنائٹ ایڈوکیشن لمیٹڈ و ٹیلی ڈاٹا میرین سالیوشنس پرائیویٹ لمیٹڈ نے 578 کروڑ روپے اور زائیلاگ سسٹمس لمیٹڈ نے 565 کروڑ روپے ہڑپ کیے۔
باکس:
نوٹ بندی سے ابھرنے میںملک کو ابھی چھ سے آٹھ مہینے اور لگیں گے۔ اس طویل مدت تک بازار میں نقدی کا بحران بنا رہے گا۔ اس کا سب سے برا اثر عمارتی تعمیراور چھوٹے خوردہ کاروبار اور زرعی مصنوعات کے دھندے پر پڑ رہا ہے۔ عمارتی تعمیر (کنسٹرکشن) میں تقریباً ساڑھے چار کروڑ مزدوروں کو کام ملتا ہے۔ اس میںآرگنائزڈ سیکٹر میں ڈیڑھ کروڑ مزدور اور اَن آرگنائزڈ سیکٹر میں تقریباً تین کروڑ مزدور ہیں۔ کرنسی کی کمی سے ان مزدوروں کے اپنے روزگار سے ہاتھ دھوبیٹھنے کا اندیشہ ہے۔ ان سے متعلق دیگر صنعتیں، تجارت،کاروبارمتاثر ہوں گے۔ اس طرح کی خبریں بھی آرہی ہیں کہ سیمنٹ اور تعمیراتی کمپنی لارسن اینڈ ٹوبرو نے ہزاروں مزدوروں کو ہٹا دیاہے۔ ادھر بھیلواڑہ سے لے کر دہلی تک کی صنعتی اکائیوں میںپیداوار آدھی رہ گئی ہے، جس کے سبب مزدوروں کو کام سے ہٹایا جارہا ہے۔ گجرات میںموربی ٹائلس، میرٹھ کی قینچی صنعت، لدھیانہ کا سائیکل کاروبار،آگرہ کا چمڑے کے جوتے بنانے کا کاروبار، بھدوہی کا قالین کاروبار اور بنکروں کا کاروبار نوٹ بندی کا شکار ہورہا ہے اور ان سے جڑے لاکھوں لوگ گھر بیٹھ گئے ہیں۔نوٹ بندی کا اثر زراعت پر بھی ہے۔ ابھی خریف کی فروخت اور ربیع کی بوائی کا وقت ہے۔ کسانوںکو پیسہ چاہیے، لیکن پہلے تو نوٹ بندی کے نام پر کسانوں کی ساری کرنسی ان کے بینکوں میں رکھوالی گئی اور اب یہ رول لگا دیا گیا کہ پرانے پانچ سو اور ہزار کے نوٹ سے کوآپریٹو سے بیج خرید سکیں گے۔ لیکن اب کسانوں کے پاس پیسہ ہی نہیں ہے تو وہ بیج کہاں سے خریدیں؟ زرعی شعبے میں 10 کروڑ مزدور ہیں اور کسان مزدور گاؤں سے شہر بھی آتے ہیں، لیکن شہروں میں کام نہیں ملنے کی وجہ سے انھیں واپس گاؤں لوٹنا پڑ رہا ہے۔
ریزرو بینک کی دفعہ 26(2)میںیہ پروویژن ہے کہ نوٹ بندی میں کوئی خاص سیریز بند کی جاسکتی ہے، لیکن پوری سیریز بند نہیں کی جاسکتی۔ لیکن سرکار نے پانچ سو اور ہزار کے نوٹوں کی ساری سیریز بند کردیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ نوٹ بندی کا فیصلہ خفیہ کیسے تھا؟ مرکز کی خواہش پر نوٹ بندی کا رسمی فیصلہ ریزرو بینک بورڈ کے ڈائریکٹر کرتے ہیں۔ آر بی آئی کے ڈائریکٹرس کو اس بارے میںایک مہینے پہلے اطلاع دینی پڑتی ہے اور سرکار کو ایجنڈا بتاناپڑتا ہے۔ ریزرو بینک کے بورڈ میںتین ڈائریکٹر نجی کمپنیوںسے جڑے ہیں، جنھیں قاعدے کے مطابق نوٹ بندی کے فیصلے کی جانکاری ایک مہینے پہلے دی گئی ہوگی۔ اب سرکار کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ نوٹ بندی کے بارے میں قاعدے کے مطابق آر بی آئی بورڈ کو ایک مہینے پہلے اطلاع دی گئی تھی یا آر بی آئی رولس اینڈ گائڈ لائنس کو کنارے رکھ کر نوٹ بندی کا فیصلہ لے لیا گیا۔ آربی آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نچیکیتا آئی سی آئی سی آئی بینک سے جڑے رہے ہیں۔ ڈاکٹر نٹراجن ٹاٹا کنسلٹنسی سروس (ٹی سی ایس) کے ایم ڈی اور سی ای او رہ چکے ہیں۔ بھرت نروتم دوشی مہندرا اینڈ مہندرا لمیٹڈ کے سی ای او رہ چکے ہیں اور گودریج سے بھی جڑے رہے ہیں۔ سرکار کی رازداری والی بات ملک کے عام لوگوں کے سامنے واضح نہیں ہے۔ ریزرو بینک کے رولز کے مطابق کرنسی پالیسی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ رسمی طور پر ریزرو بینک بورڈ ہی کرتا ہے اور پھر مرکزی سرکار سے اسے نافذ کرنے کے لیے فارورڈ کرتا ہے۔ ایسے میں رازداری برتنے کا سرکاری دعویٰ رول کے مطابق نہیں ہے۔
8 نومبر کو نوٹ بندی کے اعلان کے بعد سے ہی سرکار روزانہ ہی کوئی نہ کوئی نوٹیفکیشن لارہی ہے۔ اب تک درجن بھر سے زیادہ نوٹیفکیشن آچکے ہیں۔ سرکار کے یہ نوٹیفکیشن اس کی فہم و بصیرت پر بھی سوال اٹھاتے ہیں، جس میں پرانے نوٹوں کے ایئرپورٹ، پیٹرول پمپوں، مال ، ریلوے وغیرہ پر چلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ ہندوستانی جمہوریت کا المیہ ہے کہ جہاز سے چلنے والے طبقے کی سرکار فکر کرتی ہے، لیکن ہل چلانے والے کسانوں کے بارے میں سرکار کوئی فکر نہیں کرتی۔ کوآپریٹو گرامین بینکوں پر غریب کسانوں کا انحصار کتنا رہتا ہے، اسے لوگ جانتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کوآپریٹو بینکوں کو کرنسی کے تبادلہ سے دور رکھا گیا۔ مرکزی سرکار نے پہلے ہی یہ خواب دیکھ لیا تھا کہ کالا دھن پانچ سو اور ہزار کے نوٹ کی شکل میں ہی ہے اور نوٹ بندی کے بعد وہ (قریب تین لاکھ کروڑ روپے) واپس نہیں آ پائے گا لیکن جس رفتار سے بینکوں میں پیسہ آرہا ہے اور جمع ہورہا ہے اس سے حکومت ہند کا وہ دعویٰ مونگیری لال کا سپنا ہی نظر آرہا ہے۔ سرکار کو امید تھی کہ پانچ سو اور ہزار کے نوٹوں کی شکل کے کل 14.6لاکھ کروڑ روپے میں سے 10 فیصد بینکوں میں جمع نہیں ہوپائیں گے، لیکن جس رفتار سے روپے جمع ہورہے ہیں، وہ سارے اندازے اور اعداد و شمار پار کررہے ہیں اور کالے دھن کے سرکاری ’کانسپٹ‘ کی مذاق اڑا رہے ہیں۔ نوٹ بندی نافذ ہونے کے مہینے بھر کے اندر 11.55 لاکھ کروڑ روپے بینک میں واپس آگئے۔ یہ پانچ سو ہزار کے نوٹوں کی کل رقم 14.17 لاکھ کروڑ کا 81 فیصد ہے۔ یعنی اب صرف 2.62 لاکھ کروڑ روپے ہی جمع ہونے باقی ہیں۔ نوٹ بندی نافذ ہونے کے بعد 17 دن تک 5522 کروڑ روپے فی گھنٹہ اور 50 ہزار کروڑ روپے یومیہ کی رفتار سے پیسے بینکوں میںجمع ہوئے۔ 17دن میں ہی 8.44لاکھ کروڑ روپے جمع ہوگئے تھے۔ اس میں محض 33 ہزار 948 کروڑ روپے ایکسچینج کے لیے لیے گئے، جبکہ 8,11,033 کروڑ روپے باقاعدہ جمع ہوئے۔ اس درمیان اے ٹی ایم کے ذریعہ 2.16کروڑ روپے کی نکاسی ہوئی۔ 17 دنوں کے دوران اے ٹی ایم سے 1415 کروڑ روپے فی گھنٹہ اور 12,800 کروڑ روپے یومیہ کی شرح سے نکاسی ہوئی۔
یوپی کے جن دھن کھاتوں میں جمع ہوئی ریکارڈ رقم
نوٹ بندی نافذ ہونے کی 14 دن کی مدت میںسب سے زیادہ رقم اترپردیش کے جن دھن کھاتوں میں جمع ہوئی۔ یوپی میں 3.8 کروڑ جن دھن کھاتے ہیں، جن میں محض 14 دنوں میں 11,781 کروڑ روپے جمع ہوگئے۔ دوسرے نمبر پر مغربی بنگال رہا، جہاںجن دھن کھاتوں میں 8840 کروڑ روپے جمع ہوئے۔ تیسرے نمبر پر راجستھان رہا، جہاں 6104 کروڑر وپے جمع ہوئے۔ ملک بھر کے 25.68 کروڑ جن دھن کھاتوں میں 14 دن میں 27,200 کروڑ روپے جمع ہوئے، جبکہ 9 نومبر تک یہ رقم 70 ہزار کروڑ پار کرگئی تھی۔ اترپردیش کے جن دھن کھاتوں میں سب سے زیادہ رقم جمع ہونے کے معاملے کو آنے والے اسمبلی انتخاب سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ دلچسپ یہ ہے کہ جو 16.47 لاکھ نئے جن دھن کھاتے کھلے اس میں سے بھی 22.3 فیصد کھاتے اترپردیش کے ہیں۔
دہشت گردوں تک کیسے پہنچ رہے ہیں نئے نوٹ
نوٹ بندی نافذ کرنے کے بعد مرکزی سرکار نے دعویٰ کیا تھا کہ اس سے دہشت گردوں کی فنڈنگ رک گئی۔ لیکن خبریں بتاتی ہیںکہ کشمیر میں پکڑے جارہے یا مارے جارہے دہشت گردوں کے پاس سے دو ہزار کے نئے نوٹوں کے بنڈل برآمد کیے جارہے ہیں۔ نقلی نوٹوں پر قابو کا دعویٰ ٹھیک ہے لیکن نئے آئے نوٹوں کی نقل کا دھندہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ نوٹ بندی کے بعد 10 نومبر سے 27 نومبر کے بیچ 9.6 کروڑ روپے کے جعلی نوٹ پکڑے گئے۔ ان میںہزار کے نوٹ کے 5.3 کروڑ روپے اور پانچ سوکے نوٹ کے 4.3 کروڑ روپے شامل ہیں۔ اندازہ ہے کہ ملک میںچار سو کروڑ روپے کے نقلی نوٹ چلن میںتھے، جو نوٹ بندی کے سبب چلن سے باہر ہوگئے۔ کچھ ایسی بھی خبریں آئیں کہ نیا نوٹ آنے کے ساتھ ہی دو ہزار کا نقلی نوٹ بھی بازار میںآگیا۔ نقلی نوٹ دیکھنے میںبالکل نئے نوٹ جیسا ہے۔ چکمگلور کے اے پی ایم سی بازار میں دو ہزار روپے کا نقلی نوٹ پکڑا گیا، جسے بعد میںواپس کردیاگیا۔ وہ نقلی نوٹ نئے دو ہزار کے نوٹ جیسا تھا۔ اس واقعہ کے بعد ہی آر بی آئی نے نئے نوٹ کی پہچان کے ’سیکورٹی فیچرس‘عام کیے۔
بغیر پین کے 90 لاکھ لین دین
نوٹ بندی سے پہلے مرکزی سرکار کی طرف سے چلائی گئی انکم ڈسکلوزر اسکیم کے درمیان ہی یہ خلاصہ ہوگیا تھا کہ 90 لاکھ بینک ٹرانزیکشن پین نمبر کے بغیر کیے گئے۔ فطری بات ہے کہ بینکوں کی ملی بھگت کے بغیر یہ لین دین نہیںہوا۔ بغیر پین نمبر انٹری کیے ہوئے 90 لاکھ ٹرانزیکشن میں 14 لاکھ بڑے (ہائی ویلیو) ٹرانزیکشن پائے گئے تھے اور سات لاکھ بڑے ٹرانزیکشن ’ہائی رسک‘ والے۔ ان سات لاکھ بینک ٹرانزیکشن کے سلسلے میں نوٹس جارے کیے گئے تھے، لیکن وہ سب لوٹ کر واپس آگئے۔ ’انکم ڈسکلوزر اسکیم‘ (آئی ڈی ایس) کی دھجیاں اڑ جانے کے باوجود مرکزی سرکار نے اس منصوبہ بند گھوٹالے میں شامل بینکوں پر شکنجہ نہیں کسا۔ ’چوتھی دنیا‘ نے تب بھی اسے شائع کرکے مرکزی سرکار کو آگاہ کیا تھا۔ انکم ٹیکس محکمہ کے اعلیٰ افسر نے بتایا تھا کہ بینکوں کی ملی بھگت سے فارم 60,61 کی سہولت کا بیجا استعمال ہورہا ہے۔ یہ زراعتی آمدنی کو ٹیکس سے چھوٹ دینے کی سہولت ہے لیکن اس کا استعمال انکم ٹیکس چرانے کے لیے کیا جارہا ہے۔ سال 2011 میںزرعی آمدنی کے نام پر قریب دو ہزار لاکھ کروڑروپے کی غیر اعلانیہ اسیٹساجاگر ہوئی تھی۔ یہ وہ رقم تھی جسے فارم 60 اور 61 سے ملنے والی سہولت کی آڑ لے کر بچائی گئی تھی۔ تبھی اس کا سرکاری طور پر خلاصہ ہوا تھا کہ کسانوں کے ملک میںکالے دھن کا دھندہ کرنے والے سرگرم ہیں او ربینکوں کی ملی بھگت سے فارم 60 اور 61 کا بیجا استعمال کررہے ہیں۔ زرعی شعبے کے نام پر ہونے والی آمدنی کی اس رقم پر سرکار کا دھیان بھی گیا، لیکن پھر بھی ٹیکس چوری روکنے کا کوئی پختہ انتظام نہیں ہوا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *