مسلمان ،بہو جن سماج پارٹی کی گود میں

damiسماج وادی پارٹی کے اندرونی اختلاف کا فائدہ بہو جن سماج پارٹی اٹھانے جارہی ہے۔ مایاوتی کی پوری قواعد سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک میں سیندھ لگانے کی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے مسلم ووٹ بینک میں تذبذب کی صورت حال ہے۔ یہ تذبذب پارٹی کی یکجہتی سے لے کر ٹکٹ تقسیم کے تضاد تک ہے۔ سوا سو ٹکٹ مسلمانوں کو دینے کے بہو جن سماج پارٹی کے اعلان سے مسلمان خوش ہیں اور مایاوتی کے حق میں ووٹ ڈالنے کا موڈ بنا رہے ہیں۔

دلت-مسلم یکجہتی کے بہو جن سماج پارٹی ایجنڈے کو ٹھوس شکل دینے کی کوششیں تیز ہوتی جارہی ہیں۔ مسلمانوں کے بیچ تقسیم کی جارہی ایک کتابچہ مسلمانوں میں کافی چرچا میں ہے۔ آٹھ صفحات کی اس کتاب کا نام دیا گیاہے،’ مسلم سماج کا سچا خیر خواہ کون؟فیصلہ آپ کریں‘۔ قابل ذکر ہے کہ سمبلی انتخابات میں 128 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینے کا اعلان مایاوتی پہلے ہی کر چکی ہیں۔ مسلمانوں میں تقسیم ہو رہی کتاب کے کور پر مایاوتی کا فوٹو ہے اور ہندی اور اردو زبان میں مایاوتی نے مسلمان ووٹروں کے درمیان سے اٹھ رہے مختلف سوالوں پر صفائی پیش کی ہیں۔ ان میں کئی سوال بی جے پی و بہو جن سماج پارٹی گٹھ بندھن کو لے کر ہیں۔ یہ کتاب خاص طور پر مشرقی اور مغربی اتر پردیش کے مسلم اکثریتی علاقوں میں تیزی سے تقسیم کی جارہی ہے۔ بی جے پی کے ساتھ تین بار سرکار بنانے کے بارے میں مایاوتی نے اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوںنے اصولوں کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور بی جے پی کو اپنا ایجنڈا لاگو کرنے کی اجازت نہیں دی۔ بہو جن سماج پارٹی سرکار کے رہتے ایودھیا، متھرا اور کاشی میں کوئی مذہبی سرگرمی نہیں ہونے دی۔ مایاوتی نے اس کتاب میں سماج وادی پارٹی پر تلخ حملہ کیا ہے۔وہ لکھتی ہیں کہ ریاست میں جب بھی سماج وادی پارٹی کی سرکار رہی ہے ،مرکز میں بی جے پی کی طاقت بڑھی ہے۔ اس دلیل پر مایاوتی نے 2009 اور 2014 کی مثال پیش کی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ 2009 میں جب بہو جن سماج پارٹی کی سرکار تھی تب بی جے پی کو صرف 9لوک سبھا سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی، جبکہ 2014 میں جب سماج وادی پارٹی اقتدار میں تھی تب بی جے پی 73 لوک سبھا سیٹوں پر جیتی۔
کتاب میں مایاوتی نے لکھا ہے کہ 1999 میں بی جے پی کو بہو جن سماج پارٹی نے ہی سبق سکھایا تھا، جب ایک ووٹ کی وجہ سے سرکار گری تھی۔ بوکلیٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سماج وادی پارٹی سپریمو ملائم سنگھ یادو کے ساتھ قربت کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور اس کے لئے یادو خاندان کی شادی میں مودی کی سیفئی میں موجودگی کی مثال پیش کی گئی ہے۔ کتابچہ میں مایاوتی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ سماج وادی پارٹی کا ابھرنا بی جے پی کی مدد سے ہوئی تھی۔ کہا گیا ہے کہ جن سنگھ کی مدد سے سماج وادی سپریمو ملائم سنگھ یاد ونے پہلی بار 1967 میں جسونت نگر سیٹ پر کامیابی حاصل کی تھی اور انتخاب جیتنے کے بعد 1977 میں انہوں نے جن سنگھ کی مدد سے سرکار بنائی اور وزیر بنے تھے۔ 1989 کے لوک سبھا انتخاب میں ملائم سنگھ یادو اور وشو ناتھ پرتاپ سنگھ نے دو لوک سبھا سیٹیں جیت کر بی جے پی کو نئی زندگی دی تھی۔ اس وقت لوک سبھا میں بی جے پی کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی تھی۔ کتاب میں یہ بھی الزام ہے کہ ملائم سنگھ یادو نے 1990 میں سومناتھ سے ایودھیا رتھ یاترا کے دوران لال کرشن اڈوانی کو مدد دی تھی۔ اسی طرح کے دلائل پر مبنی بہو جن سماج پارٹی کی کتاب اب مسلمانوں کے درمیان کافی اثر جما رہی ہے۔
سماج وادی پارٹی کے ہی درمیانی درجے کے ایک مسلم لیڈر کہتے ہیں کہ اس بار مسلمان سب سے زیادہ پس و پیش میں ہیں کہ وہ کس کے ساتھ جائیں۔ سماج وادی پارٹی کا گھریلو اختلاف مسلمانوں کو زیادہ تذبذب سے بھر رہاہے، کیونکہ مسلمان اسی پارٹی کو اپنی حمایت دیں گے جو بی جے پی سے سیدھا مقابلہ کرتی ہوئی دکھائی دے گی۔ سماج وادی پارٹی لیڈر اگر یہ کہیں کہ مسلمان ووٹر بہو جن سماج پارٹی کی طرف کھسکتا دکھائی دے رہا ہے، تو اس کی سنگینی کا احساس کیا جاسکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بابری مسجد انہدام کے بعد سے اتر پردیش میںسب سے زیادہ مسلم ووٹر ملائم سنگھ یادو اور سماج وادی پارٹی سے جڑے رہے۔ گزشتہ کچھ انتخابات سے مسلمانوں کا ملائم سے پیار میں کمی ہوتی ہوئی دکھائی دی۔ 2002 کے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو 54فیصد مسلم ووٹ ملے تھے، لیکن 2007 کے اسمبلی انتخاب میں یہ فیصد کم ہوکر 45فیصد رہ گیا۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو سب سے بڑی جیت ملی،لیکن اسے ملنے والے مسلم ووٹ کا فیصد کم ہو کر 39 فیصد پر آ گیا۔ اعدادو شمار صاف بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کا رجحان دھیرے دھیرے بہو جن سماج پارٹی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ 2002 میں بہو جن سماج پارٹی کو 9فیصد مسلم ووٹ ملے تھے۔ 2007 کے انتخابات میں یہ بڑھ کر 17 فیصد ہو گئے۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں حالانکہ بہو جن سماج پارٹی ہار گئی لیکن اسے ملنے والا مسلم ووٹ 17 فیصد سے بڑھ کر 20فیصد ہوگیا۔ مسلمانوں کی تھوڑی توجہ کانگریس کو بھی ملی۔ 2002 کے انتخاب میں کانگریس کو 10 فیصد مسلم ووٹ ملے تھے جو 2012 میں بڑھ کر 18فیصد ہو گیا۔ یعنی بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ ساتھ کانگریس کی سرگرمیوں پر بھی مسلمان ووٹروں کی گہری نظر ہے۔
اتر پردیش میں مسلمانوں کی آبادی 19 فیصد کے قریب ہے۔ تقریباً 140 اسمبلی سیٹوں پر مسلم آبادی 10سے 20 فیصد تک ہے۔ 70سیٹوں پر 20سے 30فیصد اور 73سیٹوں پر 30فیصد سے زیادہ مسلم آباد ی ہے۔ صاف ہے کہ مسلم ووٹرس 140 سیٹوں پر سیدھا اثر ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخاب کے وقت تمام پارٹیاں خاص طور پر مسلم ووٹروں کو اپنی طرف کھینچنے میں سرگرم ہوجاتی ہیں۔ دانشور ڈاکٹر محمد صرف عالم کہتے ہیں کہ مسلم ووٹروں کی ووٹنگ کا انداز اسمبلی انتخابات میں کچھ اور ہوتا ہے اور لوک سبھا انتخاب میں کچھ اور ۔ ڈاکٹر عالم مانتے ہیں کہ مسلم طبقے کا ووٹ کبھی کبھار تقسیم بھی ہو جاتا ہے، لیکن زیادہ تر یکمشت ایک ہی پارٹی کو جاتا ہے۔ مایاوتی اسی کوشش میں ہیں کہ سماج وادی پارٹی کے خلاف چل رہی صورت حال کا پورا فائدہ بہو جن سماج پارٹی کو ملے اور مسلمانوں کا یکمشت ووٹ اسے ملے۔ مایاوتی کا سوشل انجینئرنگ فارمولہ اس بار بدل کر ’سوشیو ریلجیس انجینئرنگ ‘ فارمولہ بن گیا ہے، جس میں صرف مسلمان اور دلت مرکز میں ہیں۔ اس بار برہمن بہو جن سماج پارٹی کی سیاست کے مرکز میں نہیں ہیں۔
مسلمانوں کی سماج وادی پارٹی سے دوری مظفرنگر فساد کے وقت سے ہی ہونے لگی تھی۔ دادری کے واقعہ نے اسے اور گہرا کردیا۔ بہار انتخاب کے دوران مہا گٹھ بندھن سے الگ ہونے کے ملائم کے اعلان سے بھی اترپردیش کے مسلمان ووٹر اچانک سکتے میں آگئے تھے۔ مسلمان سماج وادی پارٹی کے اس فیصلے کو بھاجپائی ملی بھگت کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ اسے بھانپتے ہوئے ہی مایاوتی نے مسلمانوں کو ٹکٹ دینے کی دریا دلی دکھانی شروع کردی۔
تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ اتر پردیش میں 30فیصد تک ووٹ پانے والی پارٹی سرکار بنانے کی پوزیشن میں آجاتی ہے۔ یو پی میں دلت اور مسلم طبقے کا ووٹ فیصد مل کر 39 فیصد ہوتا ہے۔ یہ اعدادو شمار مایاوتی کو لبھا رہے ہیں اور وہ اسی کوشش میں ہیں کہ ان دو طبقوں کے ووٹ کے سہارے وہ اقتدار تک پہنچ جائیں۔ حالانکہ کانگریس اور چھوٹی پارٹیوں کا ممکنہ کٹھ جوڑ اور اس میں اسد الدین اویسی کی مسلم -دلت پالیسی مایاوتی کی کوشش میں روڑے اٹکا سکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش میں چھوٹی چھوٹی مسلم تنظیموں کے اتحاد فرنٹ میں ڈاکٹر محمد ایوب کی ’پیس پارٹی‘ سمیت کئی مسلم تنظیمیں شامل ہیں۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں چار سیٹیں جیتنے والے ڈاکٹر ایوب اس بات کا امکان بتاتے ہیں کہ فرنٹ میں ابھی کئی اور پارٹیاں جڑیں گی۔ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ، ایم آئی ایم لیڈر اسد الدین اویسی اور کانگریس سے بھی ایک ساتھ آنے کی بات چل رہی ہے۔
کانگریس کے پالیسی ساز پرشانت کیشور بھی اس سمت میں سرگرم ہیں۔کانگریس نے مسلمانوں کو متاثر کرنے کے لئے ہی غلام نبی آزاد کو یو پی کا انچارج بنایا، لیکن فی الحال اس کا کوئی خاص اثر نہیں دکھائی دے رہا ہے۔بہو جن سماج پارٹی کے ایک لیڈر نے یہ امکان ظاہر کیا کہ اسد الدین اویسی بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ آسکتے ہیں، اس کی کوشش چل رہی ہے۔بہو جن سماج پارٹی لیڈر نے کہا کہ اویسی بھی دلت – مسلم اتحاد کی حمایت کرتے ہیں اور مایاوتی پر کبھی حملہ نہیں کرتے۔اویسی اصولی طور پر بہو جن سماج پارٹی کے موقف کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
اس انتخاب میں مایاوتی مسلم کارڈ کھل کر کھیل رہی ہیں۔ انہوں نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر مسلمانوں نے ان کا ساتھ دیا تو بہو جن سماج پارٹی بی جے پی کو ہرا سکتی ہے۔ مایاوتی سوچ سمجھ کر یہ بیان دے رہی ہیں کہ بی جے پی اور سماج وادی پارٹی ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں اور کانگریس اتر پردیش میں ہاری ہوئی لڑائی لڑ رہی ہے، لہٰذا مسلمان ووٹروں کو اپنا ووٹ بیکار نہیں کرنا چاہئے۔ مایاوتی نے تین طلاق کے مسئلے پر اور بھوپال میں جیل سے بھاگے سیمی کے آٹھ مبینہ دہشت گردوں کے مڈبھیڑ میں مارے جانے پر بھی سیدھا بیان دے کر مسلمانوں کا دھیان اپنی طرف کھینچا۔
سیمی سے پابندی ہٹانے سے لے کر سیمی کی حمایت میں کھلا بیان دینے والے ملائم سنگھ کی اس بار کی خاموشی مسلمانوں کو کھَل رہا ہے۔ مسلمانوں کی فلاح کے لئے کئے گئے اعلانات کو عمل میں نہیں لائے جانے کے سبب بھی مسلمان سماج وادی پارٹی سے ناراض ہیں۔ سماج وادی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو 18 فیصد ریزرویشن دینے، سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشر کمیشن کی سفارشوں کو اپنی سطح سے لاگو کرنے اور دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں بند بے قصور مسلمانوں کے مقدمے واپس لینے سمیت کئی وعدے کئے تھے لیکن یہ وعدے ادھورے ہی رہ گئے۔
سماج وادی پارٹی کے قلعے میں دکھائی دے رہے سوراخ کو اور بڑا کرنے اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ متاثر کرنے کی جوابدہی مایاوتی نے نسیم الدین صدیقی کو سونپا ہے۔ نسیم الدین صدیقی کے بیٹے افضل صدیقی کو بھی اس مہم میں شریک کیا گیا ہے۔ افضل صدیقی کو میرٹھ، سہارن پور، بریلی، مرادآباد، علی گڑھ اور آگرہ ڈویژن کا انچارج بنایا گیا ہے۔ مایاوتی نے اپنے لیڈروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ بوتھ سطح تک جاکر مسلمانوں کے درمیان کام کریں اور خاص طور پر مغربی اتر پردیش کے مسلم نوجوانوں کو بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ جوڑیں۔ اسی ہدف کو دھیان میں رکھ کر نسیم الدین کے بیٹے کو خاص ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
مایاوتی نے گزشتہ دنوں باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا فائدہ سماج وادی پارٹی میں محفوظ نہیں ہے اور سماج وادی پارٹی کو ووٹ دینے کا مطلب ہے بی جے پی کی جیت کو یقینی کرنا، مایاوتی نے کہا کہ ’ اتر پردیش کے پورے سماج کے ساتھ ساتھ مسلم طبقے کو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ان کا فائدہ سماج وادی پارٹی میں بالکل محفوظ نہیں ہے۔ اب دو خیموں میں بٹی ہوئی سماج وادی پارٹی کو ووٹ دینے کا مطلب ہے بی جے پی کو مضبوط کرنا اور اسے جتانا‘‘۔ مایاوتی نے یہ بھی کہا کہ اتر پردیش میں جب سے سماج وادی پارٹی سرکار بنی ہے، تب سے قانون کا راج ختم ہو گیا ہے اور اس کی جگہ غنڈوں ، بدمعاشوں، مافیائوں، قانون کے توڑنے والوں، بدعنوانوں اور فرقہ پرست عناصر کا جنگل راج چل رہا ہے۔
مایاوتی نے دعویٰ کیا ہے کہ 2017 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹ ان کی پارٹی کو ہی ملے گا۔ مایاوتی کا کہنا ہے کہ یو پی کے مسلم بہوجن سماج پارٹی کے ساتھ واپس آرہے ہیں۔ مایاوتی نے کہا کہ’’ اب مسلم ہمارے ساتھ آ گئے ہیں۔ اب ان کے دل میں کوئی شک نہیں ہے۔ سماج وادی پارٹی کے اندرونی تنازع سے مسلم ووٹر ان سے دور ہوا ہے‘‘۔ بہو جن سماج پارٹی جنرل سکریٹری نسیم الدین صدیقی کہتے ہیں کہ سماج وادی پارٹی مسلمانوں کو بریانی میں تیز پتے کی طرح استعمال کرتی ہے۔ اس کا احساس مسلمانوں کو اب خود بخود ہو رہا ہے۔ سماج وادی پارٹی مسلمانوں کو دھوکہ دینے والی پارٹی ہے ۔ مسلمان گزشتہ 25برسوں سے سماج وادی پارٹی کو ووٹ دے رہے ہیں، لیکن مسلمانوں کو کیا ملا؟انتخاب ہونے کے بعد سماج وادی پارٹی مسلمانوں کو اکیلا چھوڑ دیتی ے۔ صدیقی نے مسلمانوں اور دلتوں کے متحد ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اپنے خاندان میں ہی ایک دوسرے سے لڑنے والے سماجوادی پارٹی کے لیڈروں کے لئے اب مسلمان ووٹ نہیں ڈالنے والے۔ نسیم الدین نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں نے بہو جن سماج پارٹی کو ووٹ نہیں دیا تو یو پی میں ایک بھی مسلم ایم ایل اے نہیں بن پائے گا۔
کچھ مسلمان مایاوتی کے دعوے کو زمینی حقیقت نہیں مانتے ۔ الٰہ آباد کے ڈاکٹر نور عالم کہتے ہیں کہ مسلمان سماج وادی پارٹی سے الگ نہیں ہو سکتے۔ حالانکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کچھ کام ہونا چاہئے تھا، اتنا نہیں ہوا، لیکن پھربھی مسلمان اکھلیش سے ناراض نہیں ہیں۔ شیو پال نے بھی بہت جدو جہد کی ہے،ان سے بھی لوگوں کو ہمدردی ہے۔ پارٹی کے ٹوٹنے کی حالت میں ہی ووٹوں کا بکھرائو ہو سکتا ہے اور تب مسلمان بہو جن سماج پارٹی کی طرف جاسکتے ہیں۔ لکھنو کے فرقان کا کہناہے کہ مسلمان ملائم کے ساتھ ہی رہیں گے۔ ان کے سامنے کوئی اور متبادل نہیں ہے۔ سابق ایم ایل اے شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے نیتاجی نے بہت کچھ کیا ہے۔ اس لئے مسلمان نیتا جی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
مسلمانوں کو یقین ہے کہ ملائم کے رہتے سماج وادی پارٹی میں ٹوٹ نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا مسلم ووٹوں میں کوئی بکھرائو ہی نہیں ہے۔کنوج کے حاجی ضرار خان کا کہناہے کہ مسلمان اکھلیش کے ساتھ ہیں۔ پارٹی اگر تقسیم بھی ہوجاتی ہے تو مسلمان اکھلیش کے ساتھ چلے جائیںگے۔ اکھلیش نے مسلمانوں کو جو سہولتیں دی ہیں، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔میرٹھ کے گل شیر ملک کہتے ہیں کہ مسلمان تو اکھلیش کی ہی طرف ہیں۔ قبرستان کی چہار دیواری بنانے کا مسئلہ ہو یا کوئی دیگر معاملے۔ اکھلیش نے مسلمانوں کے لئے بہت کام کرائے ہیں۔ پارٹی میں ٹوٹ ہوئی تو 80فیصد مسلمان اکھلیش کی ہی طرف جائیں گے۔ بلیا کے پرویز روشن کا کہناہے کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اکھلیش نے مسلمانوں کے لئے کام نہیں کیا ،وہ ٹھیک جانکاری نہیں رکھتے۔ اکھلیش نے مسلمانوں کے لئے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ ملائم کی اصلی وراثت ہیں اکھلیش،اس لئے مسلمان ان سے الگ نہیں ہوسکتے۔
پروانچل کے محسن خاں کہتے ہیں کہ اگر ٹکٹ کی تقسیم اور امیدواروں کا انتخاب غیر جانبداریت سے ہوئی اور اس پر تنازع حاوی نہیں ہوا تو آنے والے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو واضح اکثریت ملے گی۔ محسن خاں سماج وادی پارٹی کے وہ لیڈر ہیں جنہیں سماج وادی پارٹی کے تنازع کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ اس کے باوجود وہ بہوجن سماج پارٹی کے دعوے کو پوری طرح ٹھکرا دیتے ہیں۔ گورکھپور کے ضلع صدر محسن خان اور گونڈا کے ضلع صدر محمد محفوظ خاں کو ہٹایا گیا ، لیکن ان کی سماج وادی پارٹی کے تئیں وفاداری قائم ہے۔ محمد محسن خاں اسٹیٹ گیسٹ ہائوس کانڈ میں ملزم بنائے گئے تھے اور جیل بھی گئے تھے۔ وہ مقدمہ آج بھی چل رہا ہے۔علاقہ کے مسلمان اس کارروائی سے کافی خفا ہیں کہ پارٹی نے انہیں ٹکٹ بھی نہیں دیا اور ضلع صدر کا عہدہ بھی چھین لیا۔
مسلم دوری کی وجہ خود ملائم
سماج وادی پارٹی کی سلور جوبلی تقریب میں ملائم سنگھ یادو کے بیان نے مسلمانوں میں بھرم بڑھا دیا۔ ملائم نے کہا کہ آج اگر سب سے زیادہ ظلم کسی پر ہو رہا ہے تو وہ مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ مسلمانوں پر ظلم سماج وادی پارٹی کی سرکار میں بھی ہو رہا ہے۔ ملائم نے کہا کہ ’’ میں اکھلیش یادو سے کہتا ہوں کہ وہ انتظامیہ کو حکم دے کر ایسا ہونے سے روکیں‘‘۔ ہمیں ملک کے کسانوں اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر فرقہ وارانہ طاقتوں سے لڑنا ہے۔ ہماری لڑائی فرقہ وارانہ طاقتوں کے خلاف ہیں۔ عوام مایوس ہو رہے ہیں، کارکنان کو عوام کے بارے میں سوچنا ہے۔ بہت کچھ کرناہے۔ جو نعرہ دیتے ہو ،اس کی تعمیل کرو۔ مسلمانوں میں زیادہ بھروسہ پیدا کرنے کے لئے کہی گئی ملائم کی باتوں نے مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی مایوسیوں کو مزید نشان زد کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *