مسلمانوں کا قصوروارصرف ٹرمپ ہی کیوں؟

damiڈونالڈ ٹرمپ کے مسلم مخالف بیانات کی وجہ سے مسلمانوں میں عمومی طور پر خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ٹرمپ کے عتاب سے بچنے کے لئے امریکہ میں مسلم تنظیمیں ٹرمپ حامی ہونے کا یقین دلا رہی ہیں ۔اس صورت حال سے ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے صرف ٹرمپ ہی ہیں ؟ اس کا صحیح جواب تو آنے والے وقتوں میں ہی دیا جاسکتا ہے ۔مگر اس سلسلے میں ایک نکتہ بہت اہم ہے کہ جہاں ٹرمپ نہیں ہیں ،وہاں بھی تو مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے ،ان کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں بلکہ ٹرمپ مسلمانوں کا جتنا ممکنہ نقصان پہنچا سکیں گے ، اس سے کہیں زیادہ نقصان مسلمانوں کا میانمار میں ہورہا ہے، بنگلہ دیش میں ہورہا ہے۔شیعہ سنی کے نام پر پاکستان میں ہورہا ہے۔ مسلکی بنیاد پر عراق و شام میں ہورہا ہے ،فلسطین میں ہورہا ہے تو پھر ٹرمپ ہی کو قصوروار کیوں ٹھہرایا جارہا ہے؟
برمی فوج نے روہنگیائی مسلمانوں کے ہزاروں گھروں کو تباہ کردیا ہے۔ درجنوں بستیاں ویران ہو چکی ہیں۔ ہزاروں روہنگیا ئی مسلم پناہ کی تلاش میں بنگلہ دیش کی طرف بھاگ رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار روہنگیاؤں کی نسل کشی کر رہا ہے۔ پریشان حال روہنگیائی پناہ کی تلاش میںبنگلہ دیش کا رخ کرتے ہیں ، مگر وہاں سرحد پر انہیں لوٹا دیا جاتا ہے۔ان کی بے بسی کو دیکھ کر بنگلہ دیش کے عوام پگھل گئے اور ڈھاکہ میں ہزاروں مسلمانوں نے روہنگیائی مسلمانوں کی حمایت میں مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ ملک کی سرحدیں روہنگیائی پناہ گزینوں کے لیے کھول دے۔ یہ درد تو عوام کے دلوں میں امنڈتا ہے لیکن کیا حکمراں کے دل بھی کبھی پگھلتے ہیں، شاید کبھی نہیں ۔اسی لئے تو روہنگیا ئیوں کی بے بسی تو دور، بنگلہ دیشی حکمراں کو اپنے ملک میں ہندو اقلیت کی بھی ٹیس محسوس نہیں ہورہی ہے۔ مذہبی تفریق اور نفرت کے سبب 1964 سے 2013 تک ایک کروڑ 13 لاکھ ہندو بنگلہ دیش چھوڑ چکے ہیں۔ کسی جمہوری و سیکولر ملک کے لئے اس سے زیادہ شرمناک بات اور کیا ہو سکتی ہے؟
پڑوسی ملک پاکستان ایک مسلم ملک کہلاتا ہے ،مگر یہاں کی صورت حال کیا ہے ،جگ ظاہر ہے۔بلوچستان اور کوئٹہ میں مسلم آبادی ہے مگر وہ اپنی ہی حکومت سے اس قدر پریشان ہیں کہ جلاوطن حکومت کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔ ابھی حال ہی میں’’چوتھی دنیا‘‘کے شمارہ نمبر 335، 14تا 20نومبر 2016 میں پہلے صفحہ پر نائلہ بلوچ کا انٹرویو چھپا تھا۔ اس انٹرویو کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتاہے کہ وہاں علاقائی بنیاد پر مسلمانوں پر کس طرح ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں۔پاکستان میں یہ تکلیف دہ پہلو نہ بحث کا موضوع ہے اورنہ ہی یہ ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ کئی عشروں سے شیعہ مساجد، اسکول، امام بارے یہاں تک کہ تہوار بھی شدت پسندوں کی زد میں ہیں۔
خود ہمارے ملک ہندوستان میںمذہبی منافرت اب سیاست سے نکل کر عوام کے ذہنوں میں داخل ہو رہی ہے۔ انسان انسان سے اجنبی ہوتا جا رہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران کئی سیاسی جماعتیں آسام میں عشروں سے آباد لاکھوں بنگالی مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ آسام اور شمال مشرقی ریاستوں کے لاکھوں مسلمانوں کوروہنگیا ئیوں جیسے مستقبل کا خدشہ لاحق ہے۔ ہر طرف فضا میں ایک بے چینی سی ہے۔
مسلمانوں کے بارے میں امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خیالات پر ہر طرف نکتہ چینی ہو رہی ہے۔ لیکن نکتہ چینی کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ٹرمپ جو کچھ کہہ رہے ہیں اور مسلم مخالف بیانات دے رہے اور ان بیانات کی بنیاد پر جو ممکنہ نقصانات مسلمانوں کو ہونے والا ہے، اس سے کہیں زیادہ نقصان مختلف ملکوں میں مذہبی منافرت کی وجہ سے پہنچایا جارہا ہے۔مگر ان نقصانات کے بارے میں نہ تو عالم عرب اور نہ کسی ملک کی مسلم تنظیمیں سوچ پارہی ہے اور نہ ہی کسی طرح کے خدشات کا اظہار کررہی ہیں۔ان تمام صورت حال کے پس منظر کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی تہذیب ایک خطرناک دورسے گزر رہی ہے۔ اقتصادی بے یقینی نے مذہبی نفرت اور جنون کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ مذہب جو امن ،محبت اور آشتی کا محرک ہوتا ہے ، اب یہ لوگوں کی نظر میں نفرت، تشدد اور تفریق کی بنیاد بن چکا ہے۔مذاہب انسانیت کی بقا کے لئے ہوتے ہیں مگر آج مذہب ہی انتہا پسندی کی زد میں ہے۔
نفرتوں کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک موجودہ اقتصادی صورت حال میں ایک ٹھہراؤ نہیں آ جاتا۔ یہ باتیں اس لئے کہی جاسکتی ہے کہ آج مذہبی منافرت کو بنیاد بنا کر کوئی بھی پارٹی، فرد آسانی سے اقتدار کی کرسی تک پہنچ جاتا ہے۔اسی نکتے کو ٹرمپ نے سمجھا اور انتخابی تشہیر کے دوران مسلمانوں کے خلاف بیانات دے کر اقتصادی مسائل کوحل کرنے کا خواب دکھایا ۔ انہوں نے یہ طریقہ اقتدار تک پہنچنے کے لئے اختیار کیا تھا ،جس میں وہ کامیاب رہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخاب میں کامیابی پانے کے کچھ دنوں بعد ہی انہوں نے اپنے ان بیانوں سے دستبرداری کا اظہار کردیا ۔اس سے یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ ٹرمپ کا مسلم مخالف کارڈ محض ایک انتخابی تشہیر تھا،لیکن دیگر ملکوں میں جس کی کچھ مثالیں بالا سطروں میں دی گئی ہیں، عملی طور پر نہ صرف منافرت پھیلائی جارہی ہیں بلکہ ان کے وجود کو بھی خطرے میں ڈالا جارہا ہے۔
اب یہاں ایک سوال بڑا اہم ہے کہ آخر پوری دنیا میں اقتدار تک پہنچنے کے لئے مسلم مخالف بیانات کو ہی سیڑھی کے طور پر کیوں استعمال کیا جاتا ہے۔تو اس کا صاف جوا ب یہ ہے کہ اس صورت حال کے لئے صرف اسلام مخالفین ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ خود مسلمان بھی ذمہ دار ہیں ۔آج مسلمانوں نے اپنی امیج ہی ایسی بنالی ہے کہ جو منفی باتیں ان کے لئے کہی جاتی ہیں وہ تہمت کی طرح ان سے جڑ جاتی ہے اور دنیا اسے آسانی سے قبول بھی کرلیتی ہے ۔ اگر مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف دھکیلا جاتا ہے تو وہ اسی طرف چل پڑتے ہیں۔ذرا دیکھئے کیسے داعش نے اسلام کے نام پر یوروپ سے لے کر ایشیا تک کے مسلم نوجوانوں کو گمراہ کیا اور یہ بڑی آسانی سے ان کے جھانسے میں آکر ذلت و رسوائی کا سبب بنے۔ دوسری طرف مسلم ممالک بھی مغربی سازشوں کے جال میں پھنستے چلے گئے اوراسے اپنا مقدر مان لیا جبکہ اس کا توڑ صرف علم وحکمت سے ہوسکتا تھا مگر مسلم دنیا اسی میدان میں سب سے زیادہ پیچھے ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ قدرتی وسائل مسلم ملکوں کے پاس ہیں۔ سب سے زیادہ دولت انھیں ملکوں کی ملکیت میں ہے اور اگر وہ چاہتے تو دنیا کا ایک بھی شخص جاہل نہیں رہتا۔ ساری دنیا میں اسکولوں اور کالجوں کا جال بچھ جاتا مگر آج دنیا میں سب سے زیادہ ان پڑھ اور جاہل مسلمان ہیں اور سائنس وٹیکنالوجی میں تو ان کا کہیں نام ونشان تک نہیں ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم نوجوانوں کوجدھر لے جایا جاتا ہے ،وہ ادھر مڑ جاتا ہے اور ان کا بیوقوفانہ عمل اقتدار کے پجاریوں کے لئے معاون بن جاتا ہے۔
چونکہ عالم اسلام اور مسلم طبقے نے اپنی نئی نسل کو علم و حکمت میں مہارت دینے پر زیادہ توجہ نہیں دی۔یہ صورت حال نہ صرف انفرادی یا قبائلی سطح تک محدود ہے بلکہ بیوقوفی کا یہ عمل قومی اور ملکی سطح پر بھی ہوتا ہے جس کا فائدہ یوروپ اٹھاتا ہے اور انہیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ اس کی مثالیں نہ صرف تاریخ میں محفوظ ہیں بلکہ حالیہ برسوں میں ہم اس کی مثال سعودی عرب اور یمن کے درمیان ہونے والی جنگ سے دے سکتے ہیں، عراق اور ایران کے درمیان آٹھ برسوں تک چلنے والی جنگ سے دے سکتے ہیں، عراق کا کویت پر حملے سے دے سکتے ہیں۔ شام کی طاقت ابھر رہی تھی تو اسے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر کچل دیا گیا۔ مصر میں اخوان کا احیاء ہوا تو سنبھلنے سے پہلے ہی اس کے خلاف سازشیں کرکے حکومت کی باگ ڈوراس سے چھین لی گئی۔ ترکی کی موجودہ حکومت کے خلاف سازشیں جاری ہیں اور کئی بار فوج کو جمہوری حکومت کے مد مقابل لانے کی ناکام کوشش ہوچکی ہے۔ ترکی کے اسلام پسندمغرب کی آنکھ میں کھٹک رہے ہیں اور انھیں برباد کرنے کی سازشیں جاری ہیں اور مسلمان کم علمی کی وجہ سے ان کی سازشوں کا شکار ہوررہے ہیں۔یہ تو مثالیں ہیں جنہیں ہماری نئی نسل اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے ۔اگر ماضی قریب میں اس کی مثالیں تلاش کریں توسویت یونین جب امریکہ اور اس کے حواریوں کے لئے خطرہ تھا تو اس کا ٹکراؤ مسلمانوں سے کرادیا گیا۔ افغانستان میں اس کے مداخلت کی حوصلہ افزائی کی گئی، چیچنیا کے مسلمانوں کو بھی روس کے خلاف کھڑا کیا گیا۔ غرضیکہ مثالیں بھری پڑی ہیں جن سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیںکہ مسلم طبقہ انفرادی، قبائلی اور قومی سطح پر علم و خواندگی کے فقدان کی وجہ سے دوسروں کے لئے آلہ کے طورپر استعمال ہوتا رہا ہے ۔
امریکہ میں ٹرمپ کی جیت کے بعد پوری دنیا میں مسلمان کے چہرے مرجھائے ہوئے ہیں۔یقینا اس کی وجہ یہی ہے کہ ٹرمپ نے مسلمانوں کے خلاف کئی بیان دیئے ہیں۔ لیکن جو لوگ انھیں جانتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ وہ آف کیمرا ایک بالکل مختلف شخص ہیں۔اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے مائیک پینس کو اپنے نائب کے طور پر انتخاب کیا ہے۔وہ ایک خاموش طبع اور سنجیدہ شخصیت ہیں۔اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ اگر وہ ویسے ہی ہوتے جیسا کہ نظر آتے ہیں تو کبھی بھی ایک سنجیدہ شخص کو اپنا نائب منتخب نہ کرتے کیونکہ ایک غیر سنجیدہ شخص کسی غیر سنجیدہ شخص کو اپنا نائب مقرر کیسے کرسکتا ہے؟ظاہر ہے ٹرمپ ظاہر میں جو کچھ نظر آتے ہیں، وہ اندر سے ویسے نہیں لگتے ہیں۔ٹرمپ اپنے بارے میں خود کہتے ہیں کہ وہ ایک مذہبی آدمی ہیں۔ بظاہر یہ ایک مضحکہ خیز دعویٰ لگتا ہے مگر انتخاب جیت لینے کے بعد جیسا کہ انہوں نے اپنے تمام بیانات سے دستبرداری اختیار کرلیا، یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کا ظاہر و باطن الگ الگ معاملے ہیں۔
جہاں تک مشرق وسطیٰ کے تعلق سے ٹرمپ کی پالیسی کی بات ہے تو غور کرنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہیلری سے کہیں بہتر ہیں۔ٹرمپ نے شام میں ایران کی مداخلت اور جوہری معاہدے کو متعدد مرتبہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ناکام معاہدہ ہے۔وہ تہران میں رجیم پر پابندیوں کے حق میں ہیں۔ان کے اس نظریہ سے خلیجی ممالک کے تئیں ان کا نرم گوشہ نظر آتا ہے۔ جہاں تک ہلیری کی بات ہے تو ان کا نقطہ نظر صدر اوباما جیسا ہی ہے اور صرف شام کے بارے میں وہ ایک مختلف نقطہ نظر کی حامل ہیں۔اگر یہ تجزیہ صحیح ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ جس طرح سے اوبامہ کے دور اقتدار میں پورا خلیجی خطہ کشت و خون میں لت پت رہا اگر ہیلری جیت کر آجاتی تو اس صورت حال میں کوئی فرق نہیں آتا جبکہ ٹرمپ سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے حریف پارٹیوں سے ہٹ کر فیصلہ کریں گے اور برسوں سے آگ و خون میں نہائے خلیج کو کچھ سکون میسر ہوگا۔ویسے عالم عرب کو کسی بھی امریکی صدر پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنے ہوش و حواس کا استعمال کرکے قدرتی وسائل کو نئی نسل کو بنانے سنوارنے میں لگانا چاہئے ۔اگر ایسا کرلیا گیا تو کسی بھی امریکی، یوروپی یا دیگر ملکوں کو انہیں اپنا آلہ کار بنانے کا موقع نہیں مل پائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *