مسئلہ کشمیر سیاسی حل کا متقاضی

dami9دسمبر کا دن تھا جب جنوبی کشمیر کے ایک دیہات میں فورسز کے ساتھ مقابلے میں جاں بحق ہونے والے دونوں جوانوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے لوگوں کا حد نظر تک دکھائی دینے والا ہجوم جمع ہوا اوران کے جنازے میں شرکت کی۔ ایسا لگ رہا تھا گویا وہ انتہائی بہادر جوان کوئی بڑا معرکہ انجام دے کر لوٹے ہیں۔ یہ کشمیر میں تشدد کی تازہ لہر 8جولائی سے جاری ہے جب جنوبی کشمیر کے ہی ایک دیہات میں فورسیز کے ساتھ مقابلے میں حزب المجاہدین سے وابستہ برہان وانی ماراگیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ 2016کی پرتشدد لہر نے اس سے قبل یعنی 2008اور 2010کی ایسی ہی پرتشدد لہروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اگر سیاسی پنڈتوں کی بات مان لی جائے تو مستقبل اس سے بھی زیادہ خراب ہوسکتا ہے۔ ان لوگوںکو فی الحال اپنا فیصلہ محفوظ رکھنا چاہئے جو سرینگر اور ملحقہ جات کی سڑکوں اور گلیوں پر جاری نقل و حرکت کو دیکھ کر اس کا تقابلی جائزہ جوالائی اور اگست کی شدت کے ساتھ کرتے ہیں اوراس تبدیلی کو اس شورش کے خاتمے کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں جس سے ہم لوگ ایک عرصے سے گزررہے ہیں۔
آج کی تاریخ میں کشمیر کس جانب جارہاہے؟اس سوال کا جواب دینے کے لیے اگر کچھ اور کہنے کو نہ بھی ہو لیکن فورسیز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جانے والے نوجوانوں کے جلوسوں میں عوام کی شرکت کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے کہ ان پانچ ماہ کے حالات کی وجہ سے یہاں کے عوام کے دل دو دماغ میں کتنا غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ اس دوران جنوبی کشمیر کی عوام نے جان و مال کے نقصان کے لحاظ سے سب سے زیادہ مصائب برداشت کیے ہیں او راگرچہ امید کی جارہی تھی کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت جس میں سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک شامل ہیں، کی جانب سے جاری کئے جانے والے احتجاجی کلینڈر میں دی جانے والی چھوٹ کی وجہ سے عوام کو کچھ راحت ملے گی لیکن زمینی سطح پر موجود حالات اس بات کا اشارہ کررہے ہیں کہ اس حوالے سے کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی ہے سوائے اس کے کہ عوام نے یہ بات سمجھ لی ہے کہ زندگی کو آگے جاری رکھنے کے لیے نارملسی کی بھی ضرورت ہے۔
وادی کی دو بڑی مین اسٹریم جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلزڈیموکریٹک پارٹی نے جنوبی کشمیر میں اپنے جلسے او رکنونشن انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے سائے منعقد کرائے ہیں اور کئی مقامات پر جہاں توقع تھی کہ احتجاجی ریلیاں تشدد پر آمادہ ہوسکتی ہیں۔ یہ بات اب یاد ماضی میں گزر گئی ہے لیکن اس کے برعکس جس طریقے سے عوام ایک جاں بحق عسکریت پسند کے جلوس جنازے میں شرکت ہوتے وقت نظم وضبط کا خیال رکھتے ہیں، اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہاں کے عوام نے سیاسی جھگڑے کو آگے لے جانا سیکھ لیا ہے۔ ہربان وانی کی موت ایک ایسا پیش خیمہ ثابت ہوئی، جو گزشتہ26برسوں کی کشمیر شورش کے دوران اپنی مثال آپ ہے۔ حالانکہ 1990کی دہائی میں اس سے بھی بڑے بڑے عسکریت پسند جاں بحق ہوئے جن کو عوام سچ مچ اپنا ہیرو مانتے تھے لیکن ان کی موت پر بھی اس قدر لہر نہیں چلی جتنی کہ برہان کی وجہ سے چلی، اس حقیقت کے باوجود کہ اگر چہ عوام نے اس دوران کھلے عام عسکریت کی حفاظت نہیں کی لیکن بظاہر انہوںنے خود کو عکسری سیاست سے قدرے دور کرلیا تھا اور ایک ایسا خلاضرور پیدا ہوا تھا۔ حالات صاف بتاتے ہیں کہ عوام نے 2003سے2007کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان امن و امان کے حالات کا تہہ دل سے خیر مقدم کیا تھا۔ اسی طرح سے نئی دہلی اور سرینگر کے درمیان پائی جانے والی قدرے بہتر صورت حال کا بھی عوام نے خیر مقدم کیا لیکن اس کے باوجود اس سے کچھ زیادہ حاصل نہیںکیالیکن جو نہی یہ دونوں عوامل پٹری سے اتر گئے ایک بار پھر عوام کی اکثریت کے دل و دماغ میں مایوسی اور افسردگی نے گھر کرنا شروع کردیا جنہیں اس مسئلہ کے اگر چہ حتمنی نہیں بلکہ عبور کل کی ضرور امید تھی۔ اس وجہ سے نہ صرف عسکریت کی حمایت کے حوالے سے عوام میں از سر نو ایک سوچ پیدا ہوئی بلکہ اس میںمقامی عنصر کا داخلہ بھی ممکن ہوگیا، جو ابھی تک غیر ملکی عسکریت پسندوں کا مرہون منت تھا۔ اس ضمن میں 2013میں افضل گرو کی پھانسی نے بھی کافی رول ادا کیا، جس کا اعتراف اس کے بعد گرفتار ہونے والے کئی عسکریت پسندوں نے انٹروگیشن کے دوران بھی کیادریں اثنا عسکریت میں مقامی نوجوانوں کی شمولیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور برہان وانی کے گرد اور بھی متعدد نوجوان جمع ہونے لگے جنہوں نے حزب المجاہدین تنظیم کو پوری طرح سے ایک مقامی تنظیم کے طورپر کھڑا کر کے اس میں ایک نئی روح پھونک دی۔ عسکریت نے محاذ سنبھالا تو سیاسی خلاپیدا ہوئی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں نے برہان کی موت پر اس قدر ہلہ گلہ برپا کیااور حکومت کو ایک واضح پیغام دیا کہ انتخابات اپنی جگہ لیکن وہ ایک بندوق بردار عسکریت پسند کا ہی ساتھ دینا پسند کرتےہیں۔
آج تقریباًپانچ ماہ کی شدید ترین شورش کے بعد جب کشمیر مسئلہ کے حل کے حوالے سے کہیں ایک افواہ بھی سنائی نہیں دے رہی ہے کہ اس کا کیا کرنا ہے، عوام نے واضح کردیا ہے کہ وہ ایک عسکریت پسند کی مدح سرائی کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ وادی کشمیر کے کسی بھی دیہی علاقے میں چلے جائیں، وہاں کے لوگ آپ کو بتادیں گے کہ وہ نہ تو جھکے ہیں اور نہ ہی خوفزدہ ہیں بلکہ یہی ایک ایسا راستہ ہے جس کے ذریعے بھارت کو احساس دلایا جاسکتا ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اوراس کو سیاسی طورپر حل کیا جاناچاہئے۔ عوامی احساسات کو سمجھنے کے حوالے سے نئی دہلی کی مسلسل بے حسی اور یہاں پیش آنےو الے واقعات کا کوئی نوٹس نہ لینے کی روش نے بھی عوام غم و غصے میں اضافہ کرتے ہوئے جلتی پرتیل کاکام کیا ہے، جس کا خاص اثر نوجوان طبقے نے قبول کیا ہے۔
دوسری جانب علیحدگی پسند محاذ نے اپنی اتھارتی منواتے ہوئے ثابت کردیا ہے کہ وہ جب عوام سے کہیں گے کہ کام کرو تو وہ کام کریں گے اور جب کہیں گے کہ ہڑتال کرو تو ہڑتال کریں گے۔ ان کے اوران کے طریقہ کار کے ساتھ اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام ان کی بات سنتے ہیں۔ ان لوگوں کو نظرانداز کرنے کی کوئی بھی کوشش مزید بے چینی اور گلی گلی پائی جانے والی افراتفری میں اضافے کا باعث ہی بن سکتی ہے لیکن اس کے باوجود ان پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنا راستہ انتہائی ہوشیاری کے ساتھ طے کریں۔ خود کو اذیتیں دینے کا طریقہ ہمیشہ چلنے والا نہیں ہونا بلکہ اپنے طریقے کار پر وقتاً فوقتاً نظر ثانی اور تبدیلی کرتے رہنا اکثر اوقات مفید ثابت ہوتاہے۔ حالانکہ بعض لوگ نیشنل کانفرنس کے سرپرست اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے حالیہ بیان کو ان کی متلون مزاجی کا نتیجہ قرار دے کر اس کو سرینگر اور اسلام آباد حلقوں میں آنے والے پارلیمانی انتخابات کے ساتھ بھی منسوب کریں گے لیکن اس کے باوجود اس بیان کو نظرانداز بھی نہیںکیاجاناچاہئے۔ ڈاکٹر فاروق مین اسٹریم سیاست میں ریاست کے قد آور لیڈر مانے جاتے ہیں اور ان کی جانب سے حریت کانفرنس کی تحریک کو جائز قرار دینا اور ان کو حمایت دینے کی بات کہنا بھی زمینی حقائق سے ازخود پر وہ اٹھارہاہے۔ یہ الگ بات ہے کہ حریت والے ان کی حمایت کو تسلیم کریں گےیا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ حمایت انہیں ایک ایسے شخص کی جانب سے مل رہی ہے، جس نے اپنے عہد اقتدار میں ان کو جھیلم برد کردینے کی بات کہی تھی۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی دہلی میں مین اسٹریم جماعتوں کے لیے بھی قافیہ کس قدر تنگ ہوچکا ہے۔ باوجود اس کے کہ عوام لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے رہ کر JIOسم کارڈخریدتے یا نوکریوں کے لیے فارم جمع کرواتے نظر آئیں گے لیکن اس کے باوجود یہ بات فراموش نہیں کی جاسکتی کہ جس کشمیر میں ہم رہ رہے ہیں وہاں اور بھی کئی مسائل پائے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اور حقیقت اس وقت سامنے آئی جب شوپیان کے دورے کے دوران بھارت کے سابق وزیرداخلہ یشونت سنہا سے وہاں کے نوجوانوں کےایک گروپ نے برملا یہ کہا کہ’’اگر بھارت نے ضد اور ہٹ دھرمی ترک نہ کی تو 2016سے بھی زیادہ بدترین اور شدید ترین احتجاجی لہر چل سکتی ہے کیونکہ بھارت اوراس کے فورسز نے ہمارے دل و دماغ سے بندوق کا ڈر اور موت کا خوف نکال دیا ہے۔ اس لیے اب ہمیں کسی بات کی پرواہ نہیں۔‘‘ یہ اب تک کا شدید ترین بیان ہے جو براہ راست نوجوانوں کی جانب سے سامنے آیا ہے اوراس کو کشمیری جوانوں کو مزید تباہی کی طرف دھکیلنے کے لیے استعمال کیاجاسکتا ہے۔ یہاں تشدد اور شورش کی ایک تازہ لہر چل سکتی ہے کیونکہ ایسا ان لوگوں کے حق میں بھی جاتا ہے جو ایسے مواقع کے منتظر رہتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *