قیادت کا فقدان مولانا محمد علی جوہر کی یاد دلاتا ہے

au-asif-for-webیہ سوال یقینا بہت ہی اہم ہے کہ ایک ایسا شخص جو کہ 20ویں صدی کے اوائل میں بر صغیر کے منظر نامہ پر چھایا ہوا تھا مگر بعض حلقوں کی نظر میں متنازعہ بھی گردانا جاتا تھا، لندن میں گول میز کانفرنس کے بعد اپنے انتقال کے تقریباً 86 برس بعد آج بھی زندہ ہے۔آزادی کے بعد سرکاری سطح پر خدمات کا پوری طرح اعتراف نہ کرنے کے باوجود ملت ہر سال 10دسمبر کو ان کا یوم پیدائش مناتی ہے اور 3 جنوری کو یوم وفات پر خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔اس موقع پر بلا تفریق مذہب و ملت متعدد افراد ان پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو بعض حلقوں میں آج تک متنازعہ قرار دیا جاتا ہے،کون تھا اور ملت اسلامیہ و دیگر افراد انہیں آخر کیوں یاد کرتے ہیں؟
ظاہر سی بات ہے کہ یہ شخص کوئی اور نہیں مرد غیور مولانا محمد علی جوہر تھے جو کہ رامپور (اترپردیش ) میں 10 دسمبر 1878 کو پیدا ہوئے تھے۔آئی سی ایس میں ناکامی کے بعد انہوں نے تحریک آزادی، سیاست، ملت ،صحافت اور ادب و شاعری کا رخ کیا اور یہاں ایسے اثرات مرتب کئے کہ 20ویں صدی کی ایک چوتھائی سے زیادہ تاریخ ان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے صرف 52 برس کی قلیل عمر پائی لیکن اس عرصہ میں ان کی بے شمار خدمات کا تجزیہ کرتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کام ایک صدی پر بھی بھاری ہے۔
لہٰذا سوال یہ ہے کہ آخر ان کی خدمات کیا ہیں اور انہوں نے کام کیا کئے جس کے لئے وہ ابھی تک یاد کئے جاتے ہیں اور ان کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔مولانا محمد علی جوہر کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے 20 ویں صدی کے پہلے چوتھائی حصے سے زائد عرصہ میں قومی و بین الاقوامی طور پر تمام ملی و قومی ایشوز میں بھرپور دلچسپی لی اور اس سلسلے میں اپنے اردو روزنامہ ’ہمدرد ‘ اور انگریزی اخبار ’کامریڈ‘ کے ذریعے ان ایشوز کو موضوع بحث بنایا ۔یہی وجہ ہے کہ دیگر مسلم رہنمائوں کے بالمقابل انہیں ملک و ملت کے علاوہ عالمی طور پر بھی تسلیم کیا گیا۔ تبھی تو 3جنوری 1931 کو لندن میں ان کی وفات کے بعد جب یہ مسئلہ اٹھا کہ انہیں کہاں دفن کیا جائے کیونکہ انہوں نے گول میز کانفرنس کے دوران برطانوی وزیر اعظم ریمزے سے صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ اگر آپ نے آزادی کا پروانہ میرے ہاتھوں میں نہیں دیا اور پھر میری موت یہاں ہوگئی تو میں ایک غلام ملک (ہندوستان ) میں دفن ہونا پسند نہیں کروں گا اور اس صورت میں آپ کو اپنے ملک برطانیہ جو کہ آزادہے ، میں میری قبر کے لئے زمین دینی پڑے گی،تب اس وقت مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی نے اعلان کیا تھا کہ مولانا محمد علی جوہر ایک بین الاقوامی شخصیت تھے، لہٰذا انہیں بیت المقدس میں دفن کیا جائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا۔ وہ متعدد پیغمبروں کے درمیان دفن کئے گئے۔ انہوں نے ملک بھر میں خلافت اور عدم تعاون کے لئے گاندھی جی و دیگر رہنمائوں کے ساتھ دورے کئے تھے۔ ان دوروں کے دوران سب سے بڑا کام جو ہوا وہ ہندو -مسلم اتحاد کی کوشش تھا۔ ان کی ان تمام کوششوں میں ان کے بڑے بھائی مولانا شوکت علی ان کے ساتھ تھے۔ ان دونوں بھائیوں کی جوڑی اتنی مشہور ہوگئی تھی کہ یہ علی برادران بھی کہلاتے تھے۔ گاندھی جی ان بھائیوں پر اس قدر اعتماد کرتے تھے کہ اکثر تقریروں اور تحریروں میں کہا کرتے تھے کہ ’’ میں محمد علی شوکت علی کی جیب میں ہوں ‘‘ یا ’’ میں علی برادران کی جیب میں ہوں‘‘۔یہی وجہ ہے کہ ان کی موت پر شاید ہی کوئی قومی لیڈر ایسا رہا ہو جس نے آنسو نہ بہایا ہو۔
گاندھی جی کے ساتھ یہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو ) گئے اور طلباء اور اساتذہ سے تحریک آزادی میں شرکت کے لئے کہا۔ مگر جب انہیں ناکامی ہاتھ آئی تو انہوں نے 1920 میں یہ سوچ کر کہ یہ سرسید کا ایم اے او کالج برطانوی پارلیمنٹ سے یونیورسٹی کا درجہ پانے کے بعد مزید برطانیہ نواز اور تحریک آزادی مخالف ہوجائے گا، اس کے بدلے سرسید کے خواب کے مطابق حقیقی تعلیم گاہ قائم کرنے کا ارادہ کیا جس کا 29اکتوبر 1920 کو علی گڑھ میں ہی سنگ بنیاد رکھا گیا اور جو کہ بعد میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کہلایا اور دہلی میں پہلے قرول باغ اور پھر اوکھلا منتقل ہوا اور اس وقت اس علاقہ کی زینت بنا ہوا ہے۔ یہ وہی جامعہ ہے کہ سینٹرل یونیورسٹی کادرجہ پاکر آج ایک تاریخی تعلیم گاہ بنا ہوا ہے۔ اس طرح نتیجہ آخر میں یہ نکلا کہ اے ایم یو اپنی جگہ رہا اور آزادی کے بعد سب سے بڑی مسلم تعلیم گاہ بن گیا اور اسی کے ساتھ ساتھ مولانا محمد علی جوہر کی پیش رفت پر شروع کی گئی تعلیم گاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی شکل میں ملک و ملت کو مل گئی جو کہ چند برس قبل اقلیتی درجہ پانے کے بعد ترقی کی جانب رواں دواں ہے۔
مولانا محمد علی جوہر سرسید کے ایم اے او کالج کے تعلیم یافتہ تھے اور پھر بعد میں اس کے ٹرسٹی بھی بن گئے تھے۔ 1920 میں یہ جامعہ کے اولین شیخ ہی نہیں بلکہ بانی بھی قرار دیئے گئے تھے۔ انہیں یہ حیثیت 92 رکنی جامعہ فائونڈیشن کمیٹی نے دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ 1920 سے 1938 تک اس کے دستور العمل میں ان کی تصویر ’بانی جامعہ ‘ کے نام سے شائع ہوتی رہی۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مولانا محمد علی جوہر کے نا م پر انگریزی میں ’جوہر ‘ میگزین شیخ الجامعہ کی ادارت میں نکلتا ہے جس کے ادارتی صفحہ پر اوپر مولانا محمد علی جوہر کی تصویر ہوتی ہے اور اس کے نیچے ’فائونڈر‘ لفظ لکھا ہوتا ہے۔یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ جس شخص کی تحریک پر جامعہ بنی، کو اس کے اس حق سے 18برسوں تک ماننے کے بعد محروم کیا جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟جو حلقے اور افراد ہر سال ان کے یوم پیدائش اور یوم وفات پر بولنے میں آگے آگے رہتے ہیں،وہ اس ایشو پر کیوںنہیں بولتے ہیں؟
مولانا محمد علی جوہر نے کینڈا میں کانگریس اجلاس کی صدارت کی تھی اور تاریخی خطبہ دیا تھا۔ انگریزوں کے خلاف موپلا بغاوت ان کی اور گاندھی جی کی سرپرستی میںتحریک عدم تعاون کے بعد ہوئی تھی جس میں کئی سو افراد شہید ہوئے تھے۔ جلیا نوالہ سانحہ کے بعد یہ جب اپنے بھائی مولانا شوکت علی کے ساتھ جیل سے چھوٹ کر امرتسر پہنچے تھے تب وہاں ان لوگوں کا جس طرح استقبال کیا گیا تھا ، اس سے پورا ملک واقف ہے۔
المختصر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مولانا محمد علی جوہر نے ملک و ملت کو ایک صدی قبل ایسی قیادت دی جس کی مثال تاریخ دینے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جب ملک و ملت میں ایک باصلاحیت قیادت کی کمی محسوس ہوتی ہے تو مولانا محمد علی جوہر یا علی برادران اور ان کی والدہ بی اماں یاد آتے ہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *