فوج کے تینوں ونگ ساتویں پے کمیشن پر ناراض جان دیں گے تنخواہ نہیں لیں گے

damiہندوستانی فوج کے تینوں ونگوں نے مرکزی سرکار کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ بری فوج، فضائیہ اور بحریہ نے ساتویں پے کمیشن کی سفارشوں کا پلندہ واپس مرکزی سرکار کے منہ پر پھینک کر اختلاف کا اظہار کیا ہے۔ فوج کے تینوںونگوں نے مشترکہ فیصلہ کرکے تنخواہ لینے سے انکار کردیا ہے۔ فوج کو اب بھی چھٹے پے کمیشن کی ہی سیلری مل رہی ہے، جبکہ سارے مرکزی ملازمین اور افسران ساتویںپے کمیشن کی سفارش کے تحت بڑھی ہوئی سیلری کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ ساتویںپے کمیشن نے فوج کی تنخواہ بڑھانے کے بجائے اسے گھٹا دیا اور بھتے وغیرہ بھی کاٹ لیے۔ تنخواہ کی ساری بڑھوتری آئی اے ایس لابی نے اپنے حصے میں لے لی او ر فوجیوں کو ملنے والے بھتے بھی ہتھیا لیے۔ فوج کو کمتر بنا کر رکھنے اور اس کی حوصلہ شکنی کرنے کی سازش اقتدار کے مرکز سے جاری ہے اور مودی سرکار راشٹر واد کا نعرہ بلند کرنے میںلگی ہوئی ہے۔ فوجیوں کو دیکھ کر ا ن کی شان میںتالیاں بجانے کی اپیل کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی آئی اے ایس ، آئی پی ایس لابی کے ذریعہ ہندوستانی فوج کی کھلے عام توہین ہوتے نہیںدیکھ پارہے ہیں۔ مودی، لال فیتہ شاہی کے چنگل میںاس قدر پھنسے ہوئے ہیں کہ انھیںفوجیوںکی المناک صورت حال دکھائی نہیں دے رہی۔ نوکر شاہی نے مرکزی سرکار کو بری طرح جکڑ رکھا ہے۔

فوج کے تینوںونگوں کے سربراہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع منوہر پاریکر کو خط لکھ کر ساتوںپے کمیشن کی سفارشیںماننے سے انکار کر دیا اور تنخواہ لینے سے منع کر دیا۔ فوج کے تینوںونگوں کی یہ مشترکہ بغاوت تھی۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے فوج میںساتواں پے کمیشن نافذ کرنے کے لیے دباؤ بھی بنایا، لیکن فوج پر وہ دباؤ نہیںچلا۔ فوج کی ساری اکائیوںتک فوج کے سربراہوں کے فیصلے کی باقاعدہ رسمی اطلاع بھیج دی گئی اور ملک کی ساری فوج نے ساتویںپے کمیشن کو ٹھوکرمار دی۔ ہندوستانی فوج اب بھی چھٹے پے کمیشن کی تنخواہ ہی لے رہی ہے۔ فوج اپناکام مستعدی سے کررہی ہے، ملک کی حفاظت میںاپنی جان دے رہی ہے،اپنے سمان کی فرضی باتیں اور نعرے سن رہی ہے،لیکن اس بارے میںملک کے سامنے اپنی ناراضگی ظاہر نہیںکررہی ہے۔ دوسری سروس کے افسر اور ملازم ہوتے تو ابھی تک ملک بھرمیںدھرناپرد رشن اور آندولن کا سلسلہ چل نکلا ہوتا۔ لیکن فوج نے ڈسپلن کی حد نہیںپھلانگی۔ سرحد پر جوانوںکی شہادتیںجاری ہیں۔ملک کے اندر دہشت گردوں سے لڑتے جوانوںکی فضیحت جاری ہے۔ برفیلی چوٹیوںپر تعینات فوجیوں کی تکلیف دہ مصیبتیں جاری ہیں۔ سرجیکل اسٹرائک جیسی کارروائیوںپر سیاست جاری ہے۔ فوج کے کندھے پر راشٹر واد کو رکھ کر سیاست کا دھندہ جاری ہے۔ لیکن ایس فوج کی تنخواہ بند ہے، جس کے دم پر اقتدار کو مضبوط کرنے کا ہتھکنڈا چل رہا ہے ۔ ساتویں پے کمیشن کی سفارش پر مرکزی ملازم اور افسر موج لے رہے ہیں، لیکن فوجیوں کی سدھ کوئی نہیں لے رہا ہے۔
تینوںسلامتی سربراہوںنے وزیر اعظم اور وزیر دفاع کو جوائنٹ لیٹر لکھ کرساتویں پے کمیشن کی سفارش میںفوج کے تئیں برتی گئی منظم بے قاعدگیوںکو فوری طور پر دور کرنے کی مانگ کی ہے۔ فوج کے تینوں سربراہوںکا خط مرکزی سرکار کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اس خط سے ساتویںپے کمیشن کی سفارشوںمیںنوکر شاہی کی بدمعاشیاں صاف صاف اجاگر ہوئی ہیں۔ بری فوج، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہوںکا مشترکہ خط چیف آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ ایئر چیف مارشل اروپ اراہا کے ذریعہ وزیر اعظم اور وزیر دفاع تک پہنچا۔ خط میںکہا گیا ہے کہ ساتویں پے کمیشن کی سفارشیںفوج کی حوصلہ شکنی کے لیے کافی ہیں۔ فوج کے افسروںاور دیگر رینکوںپر کام کرنے والے فوجی ملازمین کی تنخواہ جان بوجھ کر نیچے کر دی گئی ۔ فوجی اہلکاروںکی بیسک سیلری کے تعین میںالگ معیار اپنایا گیا جبکہ مرکزی ملازمین کی بیسک سیلری کا تعین الگ معیار سے کیا گیا۔ فوج کے ساتھ تنگ رویہ اختیار کیا گیا، جبکہ مرکزی ملازمین کے لیے کمیشن اور سرکار نے دل کے دروازے کھول دیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ساتویںپے کمیشن کی سفارشیںنافذ ہونے کے بعد مرکزی ملازمین کی تنخواہ میںغیر معمولی اضافہ ہوگیا لیکن فوج کی تنخواہ غیر متوقع طور پر کافی کم ہوگئی۔ فوجی اہلکاروں کی بیسک سیلری کم ہوجانے سے انھیں ملنے والے دیگر بھتوںکی رقم بھی گھٹ کر کافی کم ہوگئی۔
چھٹے پے کمیشن کے وقت ہی مرکزی اہلکاروںکے گروپ ۔اے افسروںکے لیے’ نان فنکشنل اسکیل اپگریڈیشن ‘(این ایف یو) کا فارمولہ لاگو کرکے ان کی تنخواہ میں اضافی پرکشش فائدہ جوڑ دیا گیا تھا۔ لیکن این ایف یو فارمولہ فوج کے افسروںپر لاگو نہیںکیا گیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ فوج کے افسروں کو نہ گروپ اے میںرکھا گیا ہے اور نہ آئی اے ایس -آئی پی ایس کی طرح انھیں سینٹرل سروس میںرکھا گیا ہے۔ این ایف یو فارمولے کے سبب فوج اور سول افسروں کی تنخواہ کیخلیج اتنی بڑھ گئی ہے کہ فوج کے افسران احساس کمتری کا شکار ہورہے ہیں۔ فوج میںبھی این ایف یو فارمولہ لاگو کرنے کی مانگ پر سرکار کوئی سنوائی نہیںکر رہی ہے ۔
ساتویںپے کمیشن نے فوج کے جوان سے لے کر جونیئر کمیشنڈ افسر تک اور کمیشنڈ افسروںکو رینک کے مطابق ملنے والی مخصوص ’ملٹری سروس پے‘(ایم ایس پی) کو ناسمجھ طریقے سے ایک ساتھ ملا دیا اور اسے 52 سوروپے پر فکس کردیا، جبکہ جونیئر کمیشنڈ افسر کا ایم ایس پی رول کے مطابق 10 ہزار روپے ہونا چاہیے تھا۔ ایم ایس پی کے گھال میل کی کارروائی سے ’رینک اینڈ ہائیرارکی‘ (عہدہ اور سینئرٹی) کی مریادہ جاتی رہی، جو فوجی نظم و ضبط کی لازمی ضرورت ہے۔ ایم ایس پی کے ضم ہونے سے جتنی ’ملٹری سروس پے‘ شروعاتی کمیشنڈ افسر (لیفٹیننٹ) کو ملے گی اتنی ہی بریگیڈیر جیسے سینئر افسر کو بھی ملے گی۔
جنگ یا آپریشن کے دوران زخمی ہوئے فوجی یا افسروں کو ملنے والی سو فیصد پنشن (لاسٹ ڈران سیلری) فائدہ کو ساتویں پے کمیشن میں نیا فارمولہ لاگو کرکے کم کردیا گیا۔ جنگی معذوروںکو ملنے والی پنشن کی رقم کم ہوگئی ، جبکہ دیگر مرکزی اہلکاروں کی ڈیوٹی کے دوران زخمی ہوجانے پر ان کی تنخواہ کا فائدہ بڑھا دیا گیا۔ ساتویںپے کمیشن کی اس عجیب وغریب سفارش پر مرکزی سرکار کی کارروائی کم حیرت انگیز اور مضحکہ خیز نہیں ہے۔ اس کاعجوبہ پن دیکھئے کہ سول سروس میںتعینات سکریٹری (ایڈیشنل سکریٹری )سطح کے مرکزی ملازمین کو معذوری پنشن کے 70 ہزار روپے مل رہے ہیں جبکہ جنرل سطح کے فوجی افسر کو محض 27 ہزار روپے معذوری پنشن متعین کی گئی ہے۔ ملک کے کسی عام شہری کو بھی اتنی جانکاری رہتی ہے کہ فوج میںڈیوٹی کے دوران ہوئی معذوری کتنی مہلک اور سنگین ہوتی ہے۔ ’نان فنکشنل اسکیل اپگریڈیشن‘(این ایف یو) کے تعین میںبھی ایسی ہی شیطانی اجاگر ہوئی ہے ۔ چھٹے پے کمیشن کے وقت سے ہی فوجیوںکوملنے والی ’ملٹری سروس پے‘ میںجونیئر کمیشنڈ افسر اور جوانوںکو ایک ہی سطح پر لاکھڑا کیا گیا۔ دوسری طرف کمیشنڈ افسروں میںسب سے جونیئر افسر لیفٹیننٹ اور بریگیڈیر جیسے کمانڈ سطح کے سینئر افسر کو ایک ہی سطح پر لاکر رکھ دیا گیا ہے۔ فوج کے تینوں ونگوںکی یہ مشترکہ مانگ ہے کہ ملٹری فورسیز کے لیے بھی ’نان فنکشنل اسکیل اپگریڈیشن ‘ (این ایف یو) فوری اثر سے لاگو ہو اور سول و ملٹری سروسیز کے لیے ایک برابر پے میٹرکس کا قاعدہ بحال ہو۔
تازہ حالت یہ ہے کہ ہندوستان کی مکمل فوج ساتویںپے کمیشن کے ذریعہ مقرر تنخواہ نہیں لے رہی ہے۔ پوری فوج پرانی تنخواہ سے کام چلا رہی ہے۔ فوجی سربراہان کے خلاف لیٹر ملنے سے ہڑبڑائے ہوئے وزیر اعظم کے دبائو میں وزارت دفاع نے فوج کے لئے الگ سے تنخواہ کا تعین کئے جانے کا نوٹیفکیشن تو جاری کر دیا، لیکن فوج میں کوئی بھی سیلری سرٹیفکیٹ اب تک (خبر لکھے جانے تک ) نافذ نہیں ہوا ہے۔ مضبوط آئی اے ایس لابی کے اثر میں میڈیا اس خبر کو دبائے ہوئے ہے۔ مرکزی سرکار نوکر شاہی کی گرفت میں ہے۔ لیڈروں کو تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا اور آئی اے ایس لابی انہیں بیوقوف بنابنا کر اپنا فائدہ حاصل کرتی رہتی ہے۔
ساتویں پے کمیشن کے سلسلے میں وزیر اعظم اور وزیر دفاع کو فوج سربراہان کے ذریعہ لکھے گئے احتجاجی خط پروزیر دفاع منوہر پاریکر نے ایئر چیف مارشل اروپ راہا اور نیوی چیف ایڈمیرل سنیل لامبا پر سفارشیں لاگو کرنے کا دبائو بنایا۔ لیکن وزیر دفاع کا کوئی ہتھکنڈا کام نہیں آیا۔ اب وزارت دفاع کے مالی صلاح کار اور پرسنل ٹریننگ ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری کی سرپرستی میں 22 رکنی کمیٹی پے کمیشن کی بے ضابطگیوں کا مطالعہ کر رہی ہے۔ یہ مطالعہ کب پورا ہوگا اور بے ضابطگیوں کو دور کرکے فو ج میں ریوائزڈ اسکیل کب لاگو ہوگا۔ اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ ساتویں مرکزی پے کمیشن کے سرپرست جسٹس اے کے ماتھر کی رپور ٹ نے ہندوستانی فوج میں بے اطمینانی پیدا کردی ہے۔ اس پے کمیشن نے اتنا عدم توازن بڑھا دیا ہے کہ نہ صرف آئی اے ایس ، آئی ایف ایس اور آئی پی ایس بلکہ نیم فوجی فورسیز کے آفیسر بھی تنخواہ اور بھتوں کے معاملے میں فوج سے کافی آگے نکل گئے ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں تعینات انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس کے آفیسر ، نیم فوجی سروسز کے افسروں اور فوج کے افسروں کو ملنے والے اسپیشل ڈیوٹی بھتے میں بھی بھاری تفریق اور امتیازی سلوک برتا گیا ہے۔ شمال مشرق میں تعینات ہونے والے آئی اے ایس آفیسر کو اضافی بھتے کے طور پر 60 ہزار روپے ملیں گے لیکن سیاچن گلیشئر جیسی دور دراز جگہ پر تعینات فوجی آفیسر کو اضافی بھتے کے طور پر بمشکل 30 ہزار روپے حاصل ہوں گے۔ آپ نے دیکھا ہی ہے کہ معذوری الائونس کو بھی بدل کر کس طرح سنگل سلیپ سسٹم میں لا دیا گیا جس میں سبھی کو ایک برابر بھتہ ملے گا۔ سڑک پر گر کر زخمی ہونے والے سول سروس کے آفیسر جتنی معذوری پنشن پائیں گے، سرحد پر دشمن اور دہشت گردوں کی گولی سے زخمی ہوکر معذور ہونے والے فوجی آفیسر اور جوانوں کو بھی اتنی ہی رقم معذوری پنشن کے طور پر ملے گی۔ یہ مودی سرکار کا راشٹریہ واد ہے، فوج سے محبت ہے اور فوج کے تئیں احترام ہے۔
فوج کے تئیں نوکر شاہوں کا رویہ ہمیشہ سے ایسا ہی رہا ہے۔ چھٹے پے کمیشن کے وقت بھی فوج کی سطح کو نیچے کرنے کی کوششوں کے خلاف اس وقت کے نیوی سربراہ ایڈمیرل سریش مہتا نے یو پی اے1 کے دور حکومت میں وزیر اعظم اور وزیر دفاع کو خط لکھ کر سخت احتجاج کیا تھا ۔ اس پر 2008 میں پرنب مکھرجی کی قیادت میں کمیٹی کی تشکیل کی گئی تھی، لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ آزادی کے بعد سے ہی فوج کو کمزور بنا کر رکھنے کی نوکرشاہوں کی کوشش جاری ہے۔ جوائنٹ کمانڈ کو توڑ کر فوج کو تین مختلف ونگوں میں تقسیم کا فیصلہ اس کا پہلا باب ہے۔اس کے بعد آئی اے ایس لابی، لیڈروں کو بہکا کر اقتدار کے وسائل پر اپنا تسلط قائم کرنے میں لگی رہی۔ پانچواں اور چھٹا پے کمیشن آتے آتے آئی ایس لابی کی یہ بھوک ساری حدیں پار کر گئی۔ فوج کے افسروں کو نہ صرف نیچے کے درجے پر رکھے جانے کی سازش کی گئی ، بلکہ فوج کو کم تنخواہ دے کر ان کا حوصلہ گرا کر رکھنے کا عمل بھی لگاتار جاری رہا۔ فوج نوکرشاہی کی گندی منشا سمجھتی ہے۔ آئی اے ایس لابی کی شاطرانہ سازشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ فوج کے تینوں سربراہوں کو اہم سرکاری عہدیداروں کی روایتی لسٹ میں دھیرے دھیرے کافی نیچے کھسکا دیا گیا۔ فوج کے تینوں حصوں کے سربراہوں کو کابینی سکریٹری اور اٹارنی جنرل کے بعد کی ترتیب میں 13 ویں مقام پر جگہ دی گئی ہے ۔تنخواہ کے تعین کے عمل میں بھی فوج کو کبھی شامل نہیں کیا جاتا۔ تیسرے پے کمیشن کے وقت فوج کو اس عمل میں شامل کیا گیا تھا ،لیکن اس کے بعد فوج کو پوری طرح درکنار ہی کر دیا گیا۔ سال 2009 میں الگ ملٹری پے کمیشن کی تشکیل کی تجویز آئی تھی،لیکن لال فیتا شاہی نے اس کا گلا گھونٹ دیا۔ اب اس کا کوئی نام لیوا بھی نہیں رہا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *