سوشل میڈیا پر حب اولوطنی کا ورد کرنے والے اصل غدار

damiمجھے کسی نے دو دن پہلے ایک کہانی سنائی۔ کہانی پرانی ہے۔ ایک راجہ تھا۔ ایک دن اس کے یہاں دو درزی آئے۔ انھوںنے کہا کہ ہم جنت سے دھاگہ لاکر پوشاک بناتے ہیں، جسے دیوتا پہنتے ہیں۔ راجہ نے کہا، ایک پوشاک میرے لیے بھی بناؤ، منہ مانگا انعام ملے گا۔ درزی نے کہا، ٹھیک ہے۔ مجھے 50 دن کا وقت دیجئے، لیکن اُس پوشاک کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بے وقوفوں کو نہیں دکھائی دے گی۔
راجہ اور بھی خوش ہوا کہ اس طرح تو ہم اپنی سلطنت کے بے وقوفوں کو بھی پہچان لیں گے۔ دونوں نے ایک بند کمرے میں پوشاک بنانی شروع کردی۔ دونوںدرزی دیر رات تک کھٹر پٹر کرتے رہتے تھے۔ ایک دن راجہ نے اپنے وزیر سے کہا ، وہاں جاکر دیکھو کہ کیسی پوشاک بن رہی ہے؟ وزیر کمرے کے اندر آگیا۔ جاتے ہی ان میں سے ایک نے کہا، دیکھو وزیر ، کتنا سندر ریشہ ہے!لیکن وزیر کو کچھ دکھائی نہیں دیا۔ اسے اچانک وہ بات یاد آگئی کہ بے وقوفوں کو یہ پوشاک نہیں دکھائی دے گی۔ وزیر نے بھی کہا، ہاں، بہت سندر ہے۔ اس نے آکر راجہ کو بتایا، بہت سندر بن رہی ہے آپ کی پوشاک۔ راجہ بہت خوش ہوا۔ ایک دن راجہ بھی دیکھنے گیا۔ اسے بھی کچھ دکھائی نہیں دیا، لیکن وہ چپ رہا۔ اس نے من میںسوچا کہ لگتا ہے ، وزیر مجھ سے زیادہ عقل مند ہے، تبھی پوشاک اسے دکھائی دی تھی۔ میںبے وقوف ہوں، یہ سوچ کر راجہ پس و پیش میںپڑگیا، لیکن چپ رہا کہ کہیںوہ بے وقوف نہ ثابت ہوجائے۔ پوشاک بن کر تیارہوگئی۔ دونوں درزیوں نے کہا کہ کل ہم رعایا کے سامنے یہ پوشاک پہنائیں گے، پھر راجہ کی سواری نکلے گی۔ دوسرے دن راجہ کو پوشاک پہنائی گئی، جو کسی کو دکھائی نہیں دے رہی تھی، لیکن بولا کوئی نہیں، کیونکہ انھیںڈر تھا کہ لوگ انھیں بے وقوف کہیں گے۔ راجہ ننگ دھڑنگ بڑی شان کے ساتھ نکل رہا تھا۔
اب یہ کہانی آج بالکل فٹ دکھائی دے رہی ہے۔ نوٹ بندی سے سب پریشان ہیں، لیکن کہہ دیں تو لوگ کہیںگے کہ تمہارے اندر حب الوطنی نہیں ہے، ملک کے لیے کوئی احساس نہیں ہے۔ سرحد پر سپاہی کھڑا ہوسکتا ہے،تم لائن میں نہیں کھڑے ہوسکتے۔ ڈرا دیا گیا ہے ملک کے نام پر۔ سبھی تعریفوں میںلگے ہیں، جیسے پوشاک کی تعریف کررہے تھے۔ 50دن زیادہ نہیں ، دیکھنا ملک کتنابدلتا ہے۔ مہنگائی کتنی کم ہوجائے گی بدعنوانی کتنی کم ہوجائے گی، کالادھن ختم ہوجائے گا اور اگر ملک یہ سب نہیںکرپایا تو کیش لیس تو ہو ہی جائے گا۔
ہمارے وزیر اعظم صاحب سوشل میڈیا کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ انھوںنے فوج کے جوانوں سے بھی کہا کہ سوشل میڈیا میں آپ کی بہت تعریف ہورہی ہے۔ وہ ملک کے لوگوں سے بھی کہتے ہیں کہ ڈجیٹل ہوجاؤ۔ ہمارے وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ ملک کے 50 فیصد لوگ یعنی سوا سو کروڑ کے آدھے لوگ انٹرنیٹ پر ہیں۔ اب وہ کیسے کہتے ہیں، یہ وہی جانیں۔ لیکن ہمیںجہاں تک اندازہ ہے، 6 کروڑ کے آس پاس لوگ سوشل میڈیا سے جڑے ہیں۔ اس میں 60 لاکھ لوگ وزیر اعظم صاحب کے اسٹرانگ سپورٹر ہیں، ان کا ایک گروپ ہے۔ ڈھائی ہزار لوگ ملک میںوزیر اعظم صاحب کے خیالات والی پارٹی کے پے- رول پر دن و رات بیٹھ کر سوشل میڈیا میں توپیں چلا رہے ہیں، گولے داغ رہے ہیں۔ اب اس سوشل میڈیا پر اگر ہماری سرکار فیصلے لے، وزیر اعظم صاحب فیصلے لیں، اچھی بات ہے، لیکن اس فیصلے کے لینے میں ایک بڑا خطرہ ہے۔ آپ بھی اسی بھرم جال، جھوٹ کے چکرویوہ میں پھنس جاتے ہیں، جس میں پھنس کر 6 کروڑ لوگ ایک الگ طرح کی ہوا بنا رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ملک کے کسانوں کی مجبوری نہیں دکھائی دیتی، ایسے لوگوں کو نوکری سے نکالے جانے والے مزدوروں کا درد سمجھ میں نہیںآتا ہے۔ ایسے لوگوں کو سبزی، خوانچے، رکشہ والے، چھوٹے دکاندار، گانووں میں پھیلی ہوئی پوری سپلائی چین، جو لوگوں کے پاس چھوٹی چھوٹی چیزیں مستعدی سے پہنچاتی ہیں، اس میں لگے ہوئے لوگوں کا درد نظر نہیںآتا۔ یہ درد سوشل میڈیا کے جھانسے والے چکرویوہ میںپھنس گیا ہے۔
اس کی مثال دیکھنا ہوتو آپ ایک لائن وزیر اعظم کی پالیسیوں کے خلاف لکھ کر دیکھ لیجئے۔ تب ہمیںپتہ چلے گا کہ ہم جمہوری ملک میںہیں یا بے وقوفوں کے تاناشاہی ولے ملک میںہیں۔ آپ کے بولنے اور سچ ظاہر کرنے کی آزادی کے اوپر جو حملہ ہوگا،وہ آپ کو سن کردے گا۔ ماں، بہن، بیٹیوں کی بے لگام گالیاں وہ لوگ دیتے ہیں، جو پچھلے دو ڈھائی سال سے کسی ایک چیز پر قائم نہیںہیں۔ اب انھیں صرف اور صرف کیش لیس سوسائٹی دکھائی دے رہی ہے۔ اب انھیں کالا دھن نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ اب انھیں غریبوں، کسانوںکا درد نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ اب انھیں وہ سارے وعدے نہیں دکھائی دے رہے ہیں، جنھیں پورا کرنے کا خواب ہمیںسرکار نے دکھایا تھا۔
یہ باتیںمیں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ ملک کی سچائی اور حقیقت ایک طرف ہے اور سوشل میڈیا کی دنیا میں چیخ و پکاراورطنز تمسخر ایک طرف ہے۔ میں ان سارے لوگوں سے التجاکرنا چاہتا ہوں کہ آپ سوشل میڈیا پر جتنا جھوٹ پھیلانا چاہیں ،پھیلائیے۔ جتنی گالی دینا چاہیں، دیجئے۔ آپ جتنا لوگوں کو گمراہ کرنا چاہیں ،کیجئے، لیکن ملک میںکئی طرح کی کاٹھ کی ہانڈیاں چڑھ رہی ہیں۔ کہاوت ہے کہ کاٹھ کی ہانڈی دوبارہ استعمال نہیں ہوتی، آگ پر نہیں چڑھائی جاتی، لیکن جن کے پاس کئی کاٹھ کی ہانڈیاں ہوں، ان کا کیا کریں گے آپ؟ اس لیے اب اس ملک میں ہرچیز کا رشتہ حب الوطنی سے جڑ گیا ہے اور ان دنوں تو دیش بھکتوں کی ایک نئی پود سامنے آگئی ہے۔ آپ اگر پاکستان کو گالی نہیں دیتے، تو آپ محب وطن نہیں ہیں۔ اگر آپ نوٹ بندی کی حمایت نہیں کرتے تو آپ محب وطن نہیں ہیں، لیکن اگر آپ غریبوں کی تکلیف، ان کی نوکریاں جانے، لوگوں کے روزگار ختم ہونے کی بات کرتے ہیں، تو آپملک کے غدار ہیں۔ ایک نئی بحث ، دیش بھکت کون ہے اور دیش دروہی کون ہے، یہ چل پڑی ہے۔ جس روایتی تشریح کو ہم جانتے ہیں کہ دیش بھکتی کیا ہے اور دیش دروہ کیا ہے، اسے اس سوشل میڈیا نے بھلادیا ہے۔ اب میںصرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا ملک ڈجیٹل نہیں ہو پایا ہے، یہ بہت اچھی بات ہے، کیونکہ جس ملک میں سرکار ایک موبائل فون کی سروس ٹھیک نہیں کرسکتی،وہ کیش لیس ایکونومی کی بات کررہی ہے۔ جو نوٹوں کوصحیح ڈھنگ سے چھاپ کر لوگوںتک پہنچا نہیں پارہی ہے، وہ ڈجیٹل بینکنگ کی بات کررہی ہے۔ خواب اچھا ہے، لیکن اس میں کہیں ایسا نہ ہو کہ بینکوں و متوسط طبقے کے کھاتوں سے کروڑوں روپے ہیک کر کے نکال لیے جائیں۔ اگر آپ کا پیسہ نکل جاتا ہے ،تو بینک آپ کی سنوائی نہیںکرتا۔ دوسری طرف بینک ان کی سنوائی کررہا ہے، جو لوگ اس ملک سے لاکھوں کروڑ لے کر فرار ہوگئے ہیں۔ ان کی اصل رقم اور سود معاف کرنے میںبینک ایک دوسرے سے ہوڑ کررہے ہیں۔ کیا بینکوںکے چیئرمین یا وزارت خزانہ کے افسروں کی املاک کی جانچ نہیں ہونی چاہیے؟ جب ہم بلیک منی کی بات کرتے ہیں تو ان کا پیسہ کیوں معاف کردیتے ہیں جو بالکل ڈفالٹر ہیں۔ یہ سارے سوال دماغ میںآتے ہیں، لیکن یہ سوال ان کے لیے بے مطلب ہیں، جو سوشل میڈیا پر دیش بھکتی کاگانا گارہے ہیں۔ دراصل یہ ملک کے سب سے بڑے غدار ہیں جو ملک کی سرکار کو بھی مغالطہ میں ڈال رہے ہیں اور نئی نئی افواہیں پھیلارہے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *