زیادہ نوٹ چاہیے تو شادی کر لیں

_92485523_7d2f554d-abdb-40d6-bfeb-28acbd0b82dfمرکزی سرکارکا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے گھروں میں شادیاں ہیں، وہ اپنے کھاتوں سے ڈھائی لاکھ روپے تک نکال سکتے ہیں اورجن کے گھروں میں شادیاں نہیں ہیں، ان کے پاس بظاہر لائنوں میں کھڑے ہونے کےلیے کافی وقت ہے، اس لیے وہ روزانہ اے ٹی ایم سے ڈھائی ہزار روپے نکال سکتے ہیں۔ ان کا کام بھی چلتا رہے گا اور وقت بھی گزر جائے گا۔جن کے گھروں میں شادیاں ہو چکی ہیں لیکن اب بھی پرانے نوٹ باقی ہیں، ان کے لیے بری خبر ہے کیونکہ اب روزانہ صرف دو ہزار روپے ہی نئےنوٹوں میں بدلوائے جاسکیں گے۔ باقی رقم کھاتوں میں جمع کرانی ہوگی۔
اے ٹی ایم مشینوں سے پیسے نکالنے میں بس ذرا سی یہ دشواری ہے کہ ان میں پیسے ہیں ہی نہیں، اور سائنس کا یہ بنیادی اصول ہے کہ جو چیز ہے ہی نہیں اسے آپ نکال بھی نہیں سکتے۔رہی بات پرانی کرنسی اپنے کھاتے میں جمع کرانے کی تو اس کے لیے بینک میں داخل ہونا پڑے گا، یہ کوشش میں نے آج کی تھی لیکن ناکام لوٹنا پڑا۔
بینکوں کے آگے بس قطاریں لگی ہوئی ہیں، یہ کسی کو نہیں معلوم کے کس قطار میں کھڑا ہونا ہے اور کیوں، نمبر آئے گا یا نہیں، بینک کے پاس کرنسی آئی ہے یا نہیں، آج سر اٹھاکر گھر لوٹ سکیں گے یا نہیں، قطار جہاں ختم ہوتی ہے وہاں بینک ہے بھی یا نہیں!
اور یہ سب اپنے پیسے کے لیے۔ بی جے پی کے لیے یہ ایک خطرناک کھیل ہے۔لوگوں کا عام الزام یہ ہے کہ زیادہ تر کالادھن یا تو سیاستدانوں کے پاس ہوتا ہے، یا سرکاری ملازمین اور کاروبار کرنے والے لوگوں کے پاس۔
کاروبار کرنے والے لوگ ہمیشہ سے بی جے پی کا ساتھ دیتے آئے ہیں، اور ہزار اور پانچ سو کے نوٹ ختم کرنے کے فیصلے سے انہیں بھاری نقصان ہو سکتا ہے۔ غریب لوگوں کے صبر کا پیمانہ ابھی لبریز نہیں ہوا ہے، وہ بظاہر حکومت کے فیصلے سے اب بھی اگر خوش نہیں تو ناراض بھی نہیں ہیں لیکن اگر حالات جلدی بہتر نہ ہوئے تو یہ منظرنامہ بدل سکتا ہے۔
یہ بات پارلیمان میں بھی ایک تقریر میں کہی گئی کہ بزنس کلاس نے بھی ساتھ چھوڑ دیا اور غریبوں نے بھی تو بی جے پی کا کیا ہوگا؟ اسی لیے حکومت نےاب کسانوں کے لیے بھی کچھ رعایتوں کا اعلان کیا ہے۔لیکن ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ پیسہ نکالا کیسے جائے گا؟ نوٹ تیزی سے چھاپے جا رہے ہیں لیکن ڈیمانڈ سپلائی سے کہیں زیادہ ہے۔ اپوزیشن کی جماعتیں اب متحد ہونا شروع ہوگئی ہیں اور حکومت کے لیے یہ اچھی خبر نہیں ہے۔
بہرحال، شادی کےلیے ڈھائی لاکھ روپے نکالنے کی اجازت دئے جانے سے ان لوگوں میں بھی ایک نئی امنگ جاگی ہوگی جن کی بس چھوٹ گئی تھی۔ انہیں بس ایک کارڈ چھپوانا ہے، ایک لڑکی ڈھونڈنی ہے اور ان کی زندگی کے مسائل چٹکی بجاتے ہی حل ہو جائیں گ اور اب تک بہت سے لوگ یہ سمجھتے رہے کہ شادی سے مشکلات بڑھتی ہیں۔
لمبی قطاروں میں دوستیاں بھی بن رہی ہیں۔ ایسے کتنے ہی لوگ ہوں گے جو اپنے بچوں کو تبائیں گے کہ “بیٹا تمہاری ممی سے ہماری پہلی ملاقات بندھن بینک کےسامنے کیش کی لائن میں ہوئی تھی۔ وہ زمانہ تھا جب سامان خریدنے کے لیے لوگ کیش لیکر جاتے تھے، تب کاغذ کے نوٹ چلتے تھے، پھر ہمارے وزیر اعظم نے سب بدل دیا، ان قطاروں میں نہ جانے کتنے نئے رشتے بنے اور کتنے ٹوٹے ہوں گے….لیکن ہر رشتہ اتنی آسانی سے نہیں بنتا۔ واٹس ایپ پر ایک میسج گردش کر رہا ہے کہ لائن میں نوجوان لڑکا اور لڑکی کھڑے ہیں:
لڑکی لڑکے سے: میرا کوئی بوائے فرینڈ نہیں ہے۔
لڑکا: بہن، کچھ بھی کہہ لو، لائن میں آگے نہیں جانے دوں گا!
اور ہاں میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ ہم جیسے لوگ، جن کی شادیاں پہلے ہوگئی تھیں، “ارئرز ” (بقایہ جات) کی شکل میں یہ رقم نکال سکتے ہیں یا نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *