روہنگیائی مہاجرین کے لیے ہندوستان کا جذبہ ہمدردی

au-asif-for-webان دنوں ہندوستان میںتبّت، بنگلہ دیش، سری لنکا، پاکستان، افغانستان اور میانمار کے کل دو لاکھ مہاجرین موجود ہیں۔ ان میںیہ 13 ہزار سے زائد بدنصیب روہنگیائی مہاجرین کا مسکن بھی ہے جن میں سے تقریباً 700 قومی راجدھانی دہلی میںاوکھلا علاقہ کے کالندی کنج، جے جے کالونی اور شاہین باغ کے علاوہ ریاست ہریانہ میںضلع میوات کے نانگلی کیمپ میںچٹائی اور پلاسٹک کی چھتوں کے سائے میںٹینٹوں میںرہ رہے ہیں۔ یہاںان کی حالت زار ناقابل دید ہے۔ نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے، نہ بیت الخلاء کی سہولت ہے اور نہ ہی بچوںکی تعلیم کا کوئی نظم ہے۔ ہندوستان میںروہنگیائی مسلمانوںکی ہجرت کا سلسلہ ایک عرصہ سے جاری ہے۔ جب جب میانمار کی رخائن ریاست میںان پر عتاب نازل ہوا ہے تب تب انھوںنے وہاںسے ہجرت کرکے بنگلہ دیش اور ہندوستان کا رخ کیا ہے۔ ہندوستان میںموجود کل روہنگیائی مسلمان مہاجرین یونائیٹڈ نیشنز ہائی کمشنر فار رفیوجیز (یو این ایچ سی آر) سے رجسٹرڈ ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میںان کا داخلہ بنگلہ دیش پر دباؤ بننے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ ایسا پہلے بھی ہوا ہے اور اب بھی کم وبیش ہورہا ہے۔ راقم الحروف کو 1986 میں رخائن کے ہارون رشید کے اولین روہنگیائی مسلم مہاجر خاندان سے بہار کے کٹیہار جیل میںملنے اور ہارون رشید سے خصوصی انٹرویو لینے کا موقع ملا ہے۔ انگریزی ہفتہ وار ’ریڈئینس‘ میں شائع اس انٹرویو کا اثر تھاکہ ان کے خاندان کو واپس وطن بھیجنے کے بجائے کٹیہار ہی میں عدالتی فیصلے کے تحت زمین فراہم کرکے رہنے اور رکشہ دلواکر ذریعہ معاش دلوانے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا تھا اور تب اولین روہنگیائی مسلم مہاجر خاندان اپنے وطن واپس جاکر موت کے منہ میں جانے سے بچ گیا تھا۔اب ہارون رشید کا تو انتقال ہوچکا ہے مگر ان کا بیٹا کٹیہار میں ہنوز رکشہ چلاکر اپنا گھر چلا رہاہے۔
ہندوستان کا ہمیشہ سے یہ مزاج اور روایت رہی ہے کہ یہاںآئے مہاجرین کا مہمان کی طرح خیر مقدم کرے۔ ایسا اس نے آزادی کے بعد ہردور میںکیا ہے۔ ایسا اس نے اس حقیقت کے باوجود کیا ہے کہ یہ 1951 کے یونائیٹڈ نیشنز رفیوجی کنونشن اور 1967 کے پروٹوکول کا دستخط کنندہ نہیں ہے جس کے تحت کسی بھی ملک کی یہ قانونی ذمہ داری ہوجاتی ہے کہ وہ کہیں سے بھی آئے مہاجرین کو تحفظ فراہم کرے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس کی کوئی قومی پناہ پالیسی نہیں ہے۔ بہرحال ان سب باتوں سے ہٹ کر انسانی اور جمہوری تقاضوں کے تحت یہ مصیبت میں گھرے مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھتا ہے۔ کوئی بھی مہاجر جسے پناہ لینے کی منظوری مل چکی ہے، اسے قبول کرکے شناختی کارڈ اور ٹریول ڈاکیومنٹ دیتا ہے۔ اس کے بعد یہ رہائشی پرمٹ کے لیے اپلائی کرنے کا اہل ہوجاتا ہے اور پھر ملک بھر میں کہیںبھی رہنے کی جگہ کا انتخاب کرسکتا ہے۔ یہ مہاجر ان ڈاکیومنٹ کے سہارے پرائیویٹ سیکٹر میںملازمت بھی کرسکتا ہے اور بچوںکی تعلیم اور علاج معالجہ کی سہولیات بھی پاتا ہے۔ یہ ان سب سہولیات کو عدلیہ کے متعدد فیصلوںاور ہدایات کی روشنی میں انجام دیتا ہے۔ اس ملک میںتمام مہاجرین کے آنے اور جانے کے معاملے فارینرز ایکٹ 1946 اور رجسٹریشن آف فارینرز ایکٹ 1939 سے گورن ہوتے ہیں۔ ان ضابطوں کے باوجود اس بات کی ضرورت تو ہے ہی کہ ہندوستان میںباضابطہ ایسا کوئی سسٹم ہو جس کے تحت مہاجرین کا نظم زیادہ شفافیت اور ذمہ داری سے کیا جائے۔
جہاں تک میانمار کے روہنگیائی مسلم مہاجرین کا معاملہ ہے ، یہ سب کے سب رخائن کے باشندے ہیں۔ ریاست رفائن میں روہنگیائی مسلمانوں کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ ہے۔ گزشتہ دنوں موجودہ بحران اس وقت شروع ہوا جب ان پر فوجی کریک ڈاؤن کیا گیا۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے دہشت گردی مخالف آپریشن 9 اکتوبر 2016 کو تین سرحدی سیکورٹی پوسٹوں پر ان کے ذریعہ حملوں کے بعد کیا۔ اس کے نتیجے میں اب تک میانمار میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 130 روہنگیائی مسلمان ہلاک اور 30 ہزار بے گھر ہوچکے ہیں۔ دراصل یہ وہی بے گھر افراد ہیںجو کہ پڑوسی ممالک بشمول بنگلہ دیش او رہندوستان ہجرت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ گرچہ فوج اس بات سے انکار کرتی ہے کہ عام عوام ان کا نشانہ ہوتے ہیں مگر ہیومین رائٹس واچ کے ذریعہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصویریںاس کی تردید کرتی ہیں۔ ان تصاویر میںہزاروں ایسی عمارات ہیں جنھیںمسمار کردیا گیا ہے۔ ایسی تصاویر بھی ہیں جن سے یہ بات منکشف ہوتی ہے کہ جان بچانے کی کوشش میںسرحد پار کرتے ہوئے لوگوںکو بھی مار گرایا گیا۔ دوسری طرف اس بار پڑوسی ملک بنگلہ دیش انھیںقبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آنگ سان سو کئی کی برسراقتدار نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی بالکل خاموش ہے۔ خود آنگ سان سوکئی نے نہ رخائن میں فوجی آپریشن کے بارے میںکچھ کہا ہے اور نہ ہی روہنگیا کے کاز پر کچھ بولی ہیں۔ جب اپریل میںان کی پارٹی دہائیوںکی فوجی حکومت کے بعد برسراقتدار ہوئی تھی تب بہت سے لوگوںکو امید ہوچلی تھی کہ اب میانمار میںامن اور جمہوریت کا نیا دور شروع ہوگا لیکن اندرونی سلامتی اور انسانی ایشوز سے نمٹنے میںان کی حکومت کچھ نہیںکرسکی۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ فوج کے پاس سلامتی، دفاع اور سرحدی معاملوںکی وزارتیں ہیں۔ علاوہ ازیںاقتصادی قوت بھی ہے۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ فوج اپنے طور پر عتاب ڈھارہی ہو مگر اس کے باوجود حکومت بری الذمہ قرار نہیںدی جاسکتی ہے۔ وہاںجو کچھ ہورہا ہے ، اس کے لیے سوکئی ہی ذمہ دار قرار دی جائیںگی۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ میانمار اپنے روہنگیائی باشندوںپر عتاب ڈھارہا ہے جبکہ دنیا ان تمام ظلم وستم کی اندیکھی کررہی ہے۔ویسے یہ الگ بات ہے کہ اقوام متحدہ نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میانمار اپنی سرزمین سے اقلیتی روہنگیائی مسلمانوںکی نسل کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ یو این ایچ سی آر کے جان مک کسک کا کہنا ہے کہ رخائن ریاست میںمسلح افواج روہنگیائیوںکا قتل کرتی رہتی ہے جس سے بڑی تعداد میںیہ ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
بہر حال ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر روہنگیائیوں کے مسئلے کو دیکھا جائے ورنہ میانمار سے نکالے جارہے یہ لوگ آخر جائیں گے کہاں؟ کیا انھیں اسی طرح لقمہ اجل بننے دیا جائے گا؟ یہ وہ سوالات ہیںجن کا اس انسانی دنیا کو جواب دینا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *