حلب میں شامی فوج کی حیوانیت اور دنیا کی سرد مہری

au-asif-for-webیہ کیسی عجیب بات ہے کہ شام کے شہر حلب(Aleppo)میں شامی فوج کی حیوانیت کا ننگا ناچ ہورہاہے اور انسانیت قتل ہورہی ہے مگر دنیا میں وہ بے چینی نہیں دیکھی جارہی ہے جو کہ مطولب ہے۔ شامی فوج کے ذریعے حلب کے بیشتر حصہ پر دوبارہ کنٹرول کے بعد شامی فوج یہ درندگی کرہی ہے۔ دنیا کو اس درندگی کی خبر اس وقت ملی جب شامی فوج کے تقریباً 5برس سے اپوزیشن جنہیں باغی کہاجارہاہے، کے زیر قبضہ علاقے کے نزدیک پہنچنے پر حلب کے مشرقی حصہ میں پھنسے ہوئے شہریوں نے 13دسمبرکی شب ٹوئیٹر و دیگر سوشل میڈیا سائنٹس پر ’الوداعی پیغامات‘ پوسٹ کئے۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے ادارے کے ترجمان نے خبرد ی کہ ’’حکومتی فورسز مشرقی حلب میں داخل ہوچکی ہیں اور گھروں میں گھس کر شہریوں کو ماررہی ہیں جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ یونائیٹیڈ نیشنز کی ایجنسی برائے رفیو جیز نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ ’’ہم حلب سے ملنے والی رپورٹوں سے خوفزدہ ہیں اور محصور شامیوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘ دیگر افراد نے بھی ٹوئیٹر پر انسانی دنیا سے اپیلیں کیں۔ 13دسمبر کی اسی شب ایک رضاکار لینا شامی نے ٹوئیٹ کیا کہ ’’پوری دنیا کے لوگوں، آپ سوئیں نہیں۔ آپ کچھ کرسکتے ہیں، مظاہرہ کریں اور اس قتل عام کو رکوائیں۔‘‘ اپنے ویڈیو ٹیپ میں لینا شامی نے کہا کہ ’’ہر کوئی شخص جو مجھے سن سکتا ہو! محصور افراد کا حلب میں قتل عام ہورہاہے۔ یہ مرا آخری پیغام ہوسکتا ہے۔ آمر بشار الاسد کے خلاف بغاوت کرنے والے 50ہزار سے زائد لوگوں کے قتل عام کا خطرہ ہے۔ لوگ بمباری میں مارے جارہے ہیں۔ ہم جس علاقے میں محصور ہیں ،یہ وہ 4مربع میل سے چھوٹا ہے۔ یہاں گرنے والا ہر بم قتل عام ہے۔ حلب کو بچائیے، انسانیت کو بچائیے۔‘‘ حلب سے آنے والے باقی پیغاموں میں لوگوں کی امید ختم ہوتی ہوئی ہے۔ ایک ویڈیو میں ایک شخص کہہ رہاہے کہ ’’ہم بات چیت سے تھک گئے ہیں، تقریروں سے تھک گئے ہیں۔ کوئی ہماری سن نہیں رہا ہے، کوئی جواب نہیں دے رہا ہے۔ وہ دیکھئے بیرل بم گرہاہے۔‘‘ یہ ویڈیو بم گرنے کی آواز سے بند ہوجاتاہے۔ آئندہ صبح زندہ بیدار ہونے والے منشر ہراتا کی ٹوئیٹر پر ہیں کہ ’’میں اپنے خاص دوستوں کے ہمراہ قتل عام کا سامنا کرنے کے لیے اب بھی یہاں ہوں اور اس پر باقی دنیا خاموش ہے۔ کاش ہم اپنی موت کا براہ راست منظر آپ کو دکھا سکتے۔‘‘ اسی طرح ایک 7سالہ بچی بنا العابد کا اس کی ماں کی مدد سے دل کو جھنجھورنے والا پیغام ٹوئیٹر پر ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ’’میں مشرقی حلب سے دنیا سے لائیو بات کررہی ہوں۔ یہ میرے آخری لمحے ہیں یا تو میں زندہ بچوں یا مرجائوں۔‘‘ اسی بچی نے اس سے پہلے لکھا کہ ’’آخری پیغام۔ پچھلی شب سے لوگ ہلاک کئے جارہے ہیں۔ میں بہت حیران ہوں کہ میں زندہ ہوں اور ٹوئیٹ کرپارہی ہوں۔‘‘ اس کے چند گھنٹوں کے بعد اسی بچی نے پھرلکھا کہ ’’میرے ابا بری طرح مجروح ہوگئے ہیں۔ میں رو رہی ہوں۔‘‘ مشرقی حلب سے ملنے والے ٹویٹ پیغاموں سے یہ بات واضح ہے کہ وہاں اب تک کی سب سے زیادہ بمباری ہورہی ہے۔ وہاں کام کرنے والے شامی ریلیف گروپ وہائیٹ بلمٹس نے لکھا کہ ’’جہنم کا منظر ہے۔ تمام سڑکیں اور منہدم عمارتیں لاشوں سے بھری پڑی ہیں۔‘‘
سوال یہ ہے کہ مشرقی حلب میں شامی فوج کے ذریعے دوبارہ قبضہ کے بعد عام شہریوں کا جس طرح قتل عام ہورہاہے، اس پر عالمی رد عمل کیا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے ردعمل کا اظہار کیا گیا اور خصوصی اجلاس بھی ہوا۔ اس کے نتیجے میں روسی اور ترک ثالثی میں معاہدہ بھی ہوا جس میں ’باغیوں‘ اور دیگر شہریوں کے انخلا کا پلان تھا۔ دریں اثنا شامی حکومت نے کچھ نئے مطالبات رکھ دیئے جس کے سبب انخلا کا عمل تاخیر کا شکارہوا اور پھر شدید گولہ باری شروع ہوگئی۔ اس طرح انخلا کے ’معاہدہ‘ پر عمل درآمدمیں تاخیر سے مشرقی حلب میں محصور’باغی اور دیگر شہری‘ہنوز غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انخلا کا سلسلہ شروع ہو بھی جائے تو مسئلہ کا مکمل حل نہیںہوپائے گا کیونکہ سبھی لوگ حلب چھوڑ کرکے نہیں جاپائیں گےاور پھر ان بچے ہوئے لوگتوں کو سخت آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیز جن لوگوںکا انخلاہوگا انہیں شمال مغربی شہر ادلب میں لے جاکر چھوڑ دیاجائے گا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ شامی فوج کے اس بربر اقدام کوحکومت شام سراہ رہی ہے اور وہ اسے اپنی فتح قرار دے رہی ہے۔ اس کے نزدیک مشرقی حلب میں موجود صرف اپوزیشن کے لوگ جو کہ باغی کہلاتے ہیں ، نہیں بلکہ وہاں کی مکمل ایک لاکھ کی آبادی مجرم ہے۔ مزید حیرت کی بات تو یہ بھی کہ شام کی اس فتح کو روس اور ایران دونوں اپنی فتح مانتا ہے اور قتل عام پر ان میں سے کسی کو بھی بے چینی نہیں ہے اور کسی کا دل رو نہیں رہا ہے۔ کیونکہ یہ سب کے سب انتقام کے جذبے سے سرشار ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذرائع کو مانیں تو 13دسمبر کی شب شامی فوج کے ہاتھوں کم ازکم 82شہری جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں، ہلاک ہوئے ہیں۔ باقی شہریوں کا کیا حال ہوگا، یہ کسی کو بھی نہیں معلوم۔ سوال یہ ہے کہ اتنے دل دہلانے والے واقعات پر بھی یہ مہذب دنیا کیوں نہیں چونکتی ہے؟ یہ سب بھی یقیناً لمحہ فکریہ ہے ہم سب کے لیے۔ شام کا پورا مسئلہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ گزشتہ 5برسوں کی خانہ جنگی میں تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اورکئی لاکھ ملک سے ہجرت کرچکے ہیں۔ موجودہ مسئلہ تو ملک کے اندر مزاحمت کرنے والے لوگوںکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانی بنیاد پر پورے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنزل بان کی مون کی سبک دوشی کے بعد اب ان کے جانشین انٹونیوگوتیریز جو کہ پرتگال کے سابق وزیراعظم ہیں کے سریہ اہم ذ مہ داری جاتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے نئے صدر پیٹرتھامسن کے ساتھ مل کر سلامتی کونسل کو اعتماد میں لیتے ہوئے اس تعلق سے متحرک ہوں اور حلب سمیت پورے شام کے مسئلےسے نمٹیں۔ لائق ستائش ہیں ایفل ٹاور کے ذمہ دار ان جنھوںنے 14 دسمبر بروز بدھ شام کو اس کی روشنی حلب کےبدنصیب لوگوں کی ہمدردی میں بجھا دی تھی۔ باقی دنیاایفل ٹاور کے اس علامتی ماتم سے سبق لے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *