جمناسٹک برجیش کی موت کھیل اداروں پر سوالیہ نشان

damiکہتے ہیں ،انسان تو صرف کوشش کرسکتا ہے زندگی اور موت صرف بھگوان کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ لیکن آگرہ کے باصلاحیت جمناسٹک کھلاڑی برجیش یادو کو بچانے کے لیے انسان نے کوشش بھی نہیں کی۔ جو کوشش ہوئی، وہ ناکافی رہی۔ سرکار اور کھیل فیڈریشنوں کی کوشش ہوئی ہوتی تو برجیش کو بچایا جاسکتا تھا۔ اس حادثہ کے بعد بھی کھیل انتظامیہ کو کوئی فکر نہیں ہے کہ ایسے بندوبست کیے جائیں جس سے کوئی کھلاڑی پریکٹس کے دوران موت کا شکار نہ ہوجائے۔ جمناسٹک جیسے خطرناک کھیل میں اپنے کریئر کو اڑان دینے میں لگے برجیش یادو زندگی کی جنگ کو نہیں جیت سکے لیکن ان کی موت نے ایک بار ملک کے کھیل اداروں پر سوالیہ نشان ضرور لگا دیا ہے۔
قومی سطح کا کھلاڑی اپنے علاج کے لیے بھی پیسوں کی تنگی کی مار جھیلتا ہے۔ برجیش یادو کی موت پریکٹس کے دوران گردن کی ہڈی ٹوٹنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ ضروری بنیادی سہولتوں کے فقدان کے سبب برجیش کی جان چلی گئی۔ جمناسٹک کے کھیل کے لیے اگر پریکٹس کی سہولت نہ ہوتو کھلاڑیوں کو اپنی جان تک گنوانی پڑتی ہے۔ برجیش یادو کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ آگرہ کے کھیل افسر ابھی اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے کنّی کاٹ رہے ہیں۔
نیشنل چمپئن برجیش یادو کی گردن میں آگرہ میں واقع ایکلویہ اسپورٹس اکادمی میں گزشتہ 10 اکتوبر کو پریکٹس کے دوران سنگین چوٹ لگی تھی۔ اس کے بعد وہ 19 دنوں تک زندگی اور موت کی لڑائی لڑتا رہا، لیکن بچایا نہیں جاسکا۔ یہ اس ملک کا المیہ ہے کہ ایک نیشنل چمپئن کو علاج کے لیے بھی جدو جہد کرنی پڑی اور آخر کار ہار مان لینا پڑی۔ حالانکہ اسے اپنے ساتھی کھلاڑیوں اور اترپردیش سرکار سے کچھ مدد ملی، لیکن وہ ناکافی ثابت ہوئی اور مرکزی سرکار اور کھیل فیڈریشنوں نے اس معاملے میں کوئی انسانیت نہیں دکھائی۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک بے حد خراب سہولیات کے سہارے میڈل جیتنے کی امید کی جائے گی؟
جمناسٹک جیسے کھیل میں سمر سالٹ کی پریکٹس کے لیے اگر سہولت نہ ہو تو یہ جان لیوا ہوجاتی ہے۔ برجیش یادوکے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اس سے پہلے ایک اور جمناسٹک کھلاڑی کو صرف سہولتوں کے فقدان میں جان گنوانی پڑی تھی۔ ماہرین کی مانیں تو جمناسٹک جیسے کھیل میں سہولیات کی کمی دیکھی جاسکتی ہے۔ پریکٹس کے دوران پھٹے ہوئے سڑیل گدے کا استعمال ہونا اس بات کاثبوت ہے کہ ابھی اس کھیل کو ملک میں اُتنی ترجیح نہیں دی جارہی ہے، جتنی دوسرے کھیلوں کو دی جاتی ہے۔ برجیش یادو کی موت کے سلسلے میں اس بات کی بھی جانچ ہونی چاہیے کہ سمر سالٹ کی پریکٹس کے لیے اسٹیڈیم سبھی معیاروں پر کھرا اترتا ہے کہ نہیں، اگر نہیں تو پھر برجیش کو پریکٹس کے لیے اجازت کس نے دی تھی؟
دیپا کرماکر کی حصولیابیوں سے متاثر برجیش یادو کی آنکھوں میں اولمپک کا خواب تیر رہا تھا۔ اپنے اس خواب کو پورا کرنے کے لیے برجیش لگاتار پسینہ بہارہے تھے۔ بے حد غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے برجیش اولمپک جیسے مقابلے کو دھیان میں رکھ کر جمناسٹک کی دنیا میں اپنا الگ مقام بنانے کے ارادے سے آگرہ آئے تھے، لیکن آگرہ ان کا آخری مقام ثابت ہوا۔ والد چندبھا ن یادو پیشہ سے ڈرائیور ہیں۔ اپنے بیٹے کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار باپ نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ انھیں یہ دن بھی دیکھنے پڑیں گے۔برجیش نے محض دس سال کی عمر میں ہی جمناسٹک میں اپنا جلوہ دکھانا شروع کردیا تھا۔ ریجنل اسپورٹس اسٹیڈیم میں گُر سیکھنے والے اس کھلاڑی نے ریاستی سطح پر اپنی صلاحیت کا لوہا منوانا شروع کردیا تھا۔ اسی کو دھیان میں رکھ کر اس نے آگرہ میں پریکٹس کرنے کی ٹھانی۔ خاندان کی غریبی کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے پاس علاج کے لیے پیسہ نہیں تھے۔ چوٹ لگنے کے بعد آپریشن کے لیے برجیش کے والد کے پاس صرف 40 ہزار روپے تھے ، لیکن اس کے ساتھی کھلاڑیوں کی مدد سے آپریشن ہوا۔ دیپا کرماکر سے لے کر کئی کھلاڑیوں نے علاج کے لیے مددکی، لیکن مرکزی سرکار کی کھیل وزارت اور کھیل فیڈریشن نے مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی۔ یہاں تک کہ مشہور اداکار اکشے کمار نے بھی برجیش کے لیے اپیل کی تھی لیکن برجیش یادو کی مدد کے لیے سرکاری دولت پر موج کرنے والی کھیل فیڈریشنوں نے کوئی خبر نہیں لی۔ آخرکار برجیش کی موت ہوگئی۔ ایسا نہیں ہے کہ برجیش ایسا پہلا کھلاڑی ہے، جسے ایسی سنگین چوٹ لگی۔ اس سے پہلے بھی فرید آبادکے ایک جمناسٹک کھلاڑی کو اسی طرح کی چوٹ لگی تھی اور علاج کے دوران اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔ اس کے باوجود کھیل فیڈریشنوں پر کوئی اثر نہیںپڑا۔ سال 2014 میں گڑگاؤں کے ہونہار جمناسٹک کھلاڑی سچن اور بھوانی کے تنج کو اسی طرح کی چوٹ کا سامنا کرنا پڑا تھالیکن دونوں کھلاڑیوں کو آپریشن کے بعد بچالیا گیا تھا۔
جمناسٹک کے کھیل میں فلور ایکسرسائز بے حد خطرناک مانی جاتی ہے۔ اس میں گردن کی ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ رہتا ہے۔ کھلاڑیوں کی تھوڑی سی چوک یا فلور کی بدانتظامی کھلاڑی کے کریئر کو تباہ کرسکتی ہے، یہاں تک کہ اس کی جان تک لے سکتی ہے۔ پریکٹس کے لیے سہولیات کا خاص دھیان رکھا جانا چاہیے۔ کھیلوں کو چلانے والے اداروں کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھیں کہ جمناسٹک کھیلوں میں کھلاڑیوں کو کس طرح کی سہولیات دی جارہی ہیں اور کیا کیا ضرورتیں ہیں۔ دراصل کھیل فیڈریشنوں پر مافیا عناصر حاوی ہیں اور ان کا کھلاڑیوں کی بھلائی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، وہ صرف اپنی بھلائی میں رہتے ہیں۔ ہندوستان میںجتنی بھی کھیل فیڈریشن ہیں وہ گرانٹ میںملنے والی رقم ہڑپنے میں لگی رہتی ہیں۔ اس پیسہ کا قلیل حصہ بھی کھلاڑیوں پر خرچ نہیں کیا جاتا۔ اولمپک جیسے مقابلے میںمیڈل جیتنے کا دم رکھنے والے کھلاڑیوں کو سہولت کی بات تو چھوڑیے، انھیں صحیح کھانا تک نہیںمل پاتا۔ سہولتوں کی کمی کی وجہ سے ہی کھیلوں میں اکثر کھلاڑی اپنی صلاحیت کے ساتھ انصاف نہیںکرپاتے۔ اگر سرکار کی نیند نہیںکھلی تو کھلاڑیوں کے ساتھ اس طرح کے جان لیوا حادثے ہوتے رہیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *