ایک قاری کا وزیر اعظم کے نام کھلا خط

damiمیں اداریہ میں کبھی کبھی ان لوگوں کی آواز بھی شامل کرتاہوں، جو میرا اداریہ پڑھتے ہیں۔ میرے ایک قاری نے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم مودی کی طرف سے ایک نوٹ لکھا ہے۔ یہ نوٹ اس نے سوشل میڈیا پر وائرل کیا ہے۔ میں اس قاری کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے وہ نوٹ مجھے بھیجا۔ اب میں چاہتا ہوں کہ آپ میںسے جس نے بھی سوشل میڈیا پر یہ نوٹ نہیںدیکھا ہو، وہ اسے پڑھیں اور مجھے بتائیں کہ کیا اُس قاری کا دماغ صحیح ہے، جو وزیر اعظم مودی کی طرف سے سوشل میڈیاپر نوٹ لکھ رہا ہے اور جو حقائق بتارہا ہے، وہ صحیح بھی ہیں کیا؟ آپ اگر ان حقائق کی جانچ کرکے مجھے اس کا جواب دیں گے، تو میںاُن سارے جوابوںکو ’چوتھی دنیا‘ میںشائع کروں گا اور آپ کا شکریہ ادا کروں گا۔
اس قاری نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کچھ اس طرح بول رہے ہیں- دوستو، آج میری سرکار کو 700 دن پورے ہوگئے ۔ میں آپ کو اپنی حصولیابیاں بتانا چاہتا ہوں او رآپ دھیان سے دیکھئے، یہ ہیں میری حصولیابیاں-ریل کرایہ لکھنؤ سے کانپور 45 روپے تھا، آج بڑھوتری کے بعد 78 روپے ہے۔ پلیٹ فارم ٹکٹ 3 روپے تھا اور آج 10 روپے ہے۔ جب کچا تیل 119 ڈالر فی بیرل تھا، تو پیٹرول 67 وپے لیٹر تھا۔ آج کچا تیل 30 ڈالر فی بیرل ہے، تو بھی میں پیٹرول 68 روپے لیٹر دے رہاہوں۔ پہلے دال 70 روپے تھی او رآج 150 روپے ہے۔ سروس ٹیکس 12.36 فیصد تھا اور آج 14.5 فیصد ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی 10 فیصد تھی، آج 12.36 فیصدہے۔ سبھی صنعت کاروں کی بینک بیلنس شیٹ، آپ چاہیں تو چیک کرلیں۔
پہلے ڈالر کا ریٹ 58 روپے 50 پیسے تھا، آج 68 روپے 50پیسے ہے۔ پہلے 100 کروڑ روپے گیس کی سبسڈی تھی، جسے ختم کروانے کے لیے مجھے 250 کروڑ روپے کا اشتہار دینا پڑا۔ سوچھتا ابھیان کا اشتہار 250کروڑ روپے کا دیا، لیکن صفائی ملازمین کی تنخواہ کے لیے میرے پاس 35 کروڑ نہیں ہیں۔ کسان ٹی وی پر سالانہ 100 کروڑ روپے کا خرچہ دے رہا ہوں، کیونکہ اس چینل کے صلاح کار، آدھے ملازمین آر ایس ایس کی کسی نہ کسی تنظیم میں ہیں۔کسانوں کو میںسنگھ کی یوجنا کے حساب سے کھیتی کرنے کی ٹریننگ دلوا رہا ہوں۔ اب کیا کروں، کسانوں کی سبسڈی چھیننا میری مجبوری ہے او رمیں نے یہ کوشش شروع کردی ہے کہ کسانوںسے بھی جلد ہی انکم ٹیکس لینا شروع کیا جائے، کیونکہ کسان اپنے کھاتے میں ان لوگوں کے بھی پیسے لے رہا ہے جو کھیتی نہیںکرتے ہیں۔
یوگا دیوس کے لیے ، جو سال میں ایک بار منایا جاتا ہے، میرے پاس 500 کروڑ روپے ہیں، جو میں نے انھیں دیے ہیں۔ سوامی رام دیو کو ہریانہ کے اسکولوں میں یوگ سکھانے کے لیے سالانہ 700 کروڑ روپے دلوائے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اسکولوں کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں، اس لیے مجبوراً پرائمری ایجوکیشن کے بجٹ میں 20 فیصد کی کٹوتی کرنی پڑی ہے۔ میرے پاس کارپوریٹ کو ٹیکس چھوٹ دینے کے لیے 64 ہزار کروڑ تو ہیں، کیونکہ اگر انھیں چھوٹ نہیں دیں گے تو وہ پریشانی میں آجائیںگے، لیکن خود کشی کررہے کسانوں کا قرض چکانے کے لیے 15 ہزار کروڑ روپے نہیں ہیں۔ میرے کچھ وزیروں کا ماننا ہے کہ کسان خودکشی فیشن میں کررہے ہیں۔ اسکل انڈیا کے لیے 200 کروڑ کا اشتہارکا بجٹ ہے، مگر نوجوانوں کے وظیفے میں 500 کروڑ کی کٹوتی میں نے کردی ہے، کیونکہ وہ بھارت ماتا کی جے نہیں بول رہے تھے۔
سرکار خسارے میں ہے۔ ریلوے کی زمینیں بیچنے کا ٹینڈر میںنے پاس کردیا ہے، کیونکہ اڈانی کو 22 ہزار کروڑ روپے دینے ہیں۔ دوسری طرف ابھی ریلوے کا کرایہ کتنا بھی بڑھایاگیا ہو، اس کا سدھار نہیںہوا، کوئی بات نہیں، لیکن سب سے غیرمحفوظ ریل کو سیفٹی سیس کی شکل میں مجھے پیسے بڑھانے کی صلاح اپنے ریل وزیر کو دینی پڑی۔ یا کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے صلاح دی، وہ میںنے مان لی۔
وجے مالیا کو نو ہزار کروڑ لون دیا تھا، جسے لے کر وہ غیر ملک بھاگ گئے۔ کوئی بات نہیں، ملک کے ہر کسی کا، اگر فی شخص یہ پیسہ بانٹا جائے ، تو صرف 75 روپے ہی تو ہر ایک کے سر پر گیا یا اس کی جیب سے نکلا۔ اچھے دنوں کا خواب شرمندہ تعبیر ہورہا ہے، میری سرکار کا اور ملک کو خوشحال بنانے کا منصوبہ بنانے والے سرمایہ داروںکا۔ آپ کو اس سے زیادہ صحیح جانکاری ہو، تو برائے کرم مجھے بتائیں۔ میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ میر ی سرکار کے کاموں کو عوام تک ضرور پہنچائیں۔ اب میںآپ کو کچھ اور حقائق بتانا چاہتا ہوں۔ کانگریس کے دور میں غیر ملک میں دولت بھیجنے کی حد 75 ہزار ڈالر تھی۔ میری سرکار کے آتے ہی ایک ہفتے کے اندر اس حد کو بڑھاکر 125 ہزار ڈالر کردیا گیا۔ پھر اگلے سال یعنی 20 مئی 2015 کو اسے بڑھا کر 250 ہزار ڈالر کردیا گیا۔ اس میںکوئی دو رائے نہیں کہ اس چھوٹ کا حوالہ کاروباریوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور گزشتہ 11 مہینوں میں کئی ہزار کروڑ ڈالر غیر ممالک میں ٹرانسفر کر دیے۔ یہ سب میری سرکار کی جانکاری میںہوا۔ اب اس سوال کا جواب آر بی آئی کے پاس اس وقت نہیں ہے، آخر اتنی بڑی رقمیں غیر ممالک میںکیوں بھیجی گئیں؟ میں اس پر غور کررہا ہوں کہ آخر اتنی بڑی رقم غیر ممالک میںکیوں بھیجی گئی؟ ا س رقم کو غیر ملک میںبھیجنے کے باوجود میںنے نوٹ بندی کا قدم اٹھایا۔ میں نے سارے ملک میں بڑے نوٹ 1000 اور 500 روپے کی کرنسی بند کردی۔ اسے بند کرنے کے بعد ملک میں خواہ مخواہ یہ پرچارچل رہا ہے کہ میں ملک کی معیشت میںکمی پیدا کررہا ہوں۔ مجھے ایشین ڈیولپمنٹ بینک پر بھی غصہ ہے، جس نے یہ کہا ہے کہ ملک کی ترقی کی شرح میرے اندازے سے 7.1 ہونی چاہئے تھی، حالانکہ یہ پہلے 7.6 تھی، لیکن اب وہ سات فیصد ہی رہے گی۔ ایشین ڈیولپمنٹ بینک بھی افواہ پھیلانے میںافواہ بازوں کا ساتھ دے رہا ہے۔
لوگ لائنوں میں کھڑے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں، جو کالے دھن والے ہیں، بدعنوان ہیں۔ میںنے بیرون ملک کہا تھا کہ ملک کے سارے کالے دھن والے لائنوں میںلگے ہیں۔ اب یہ لوگ ان کا 2000,5000روپے کا نوٹ بدلوانے کے لیے کھڑے ہیں،جن کے پاس کالا دھن ہے۔ ان کے پاس پیسے کہاں ہیں، جو لائنوں میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ان میںرکشے والے، غریب، موچی او رسبزی بیچنے والے ہیں، ان میںبڑی تعداد میں مسلمان بھی ہیں۔ یہ سب کالے دھن والے تاجروں کا پیسہ 2000,5000 اور 24000 کی شکل میں سفید کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی لیے میں نے کہا کہ یہ کالے دھن والے لوگ لائنوں میں لگے ہیں۔
اس ملک میں چاہے امیتابھ بچن ، اڈانی، اجے دیوگن یا امبانی برادرس ہوں یا پھر جتنے بھی وہ لوگ جو ایک ہزار کروڑ سے زیادہ کا کاروبار کرتے ہیں یا ان کا ٹرن اوور ہوتا ہے، وہ لوگ کالے دھن کے پوشاک نہیں ہیں۔ غیر ممالک میں ان کی جتنی جائیداد یں ہیں، وہ کالا دھن نہیں ہے۔ وہ محنت سے کمایا ہوا پیسہ ہے۔ کالا دھن تو دراصل ہندوستان میںہی ہے،اسی لیے میںنے اس کالے دھن کو ختم کرنے کے لیے جتنے بھی طرح کے نوٹ بازار میںرائج تھے، ان سب کو بدلنے کا حکم دے دیا۔ ہمارے بینکوں نے جتنی رقم کرنسی میں تھی، 14 لاکھ 60 ہزار کروڑ کے آس پاس، میںنے ان سے کہا کہ اگر اٹھارہ لاکھ کروڑ بھی ہماے پاس آجائے ، چاہے و ہ اصلی ہو ںیا نقلی نوٹ ہوں، انھیںسفید کرکے بازار میں اُتنی کرنسی پھینکو، تاکہ پتہ رہے کہ کتنی کرنسی کا لین دین ہورہا ہے ۔ اسے میرے مخالفین کہتے ہیں کہ میں ملک پر بوجھ ڈال رہا ہوں۔ میں ملک پربوجھ نہیں ڈال رہا ہوں۔ میں ملک سے وہ کرنسی، جو کالے دھن کی شکل میںرائج ہے، جو نقلی نوٹ کی شکل میں رائج ہے یا جو دہشت گردوں کے استعمال میںآتی ہے، اسے ختم کرکے اُتنے ہی روپے کے نئے نوٹ میںنے بازار میںبھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے، تاکہ پتہ رہے کہ کہاںپر کتنا پیسہ چلن میں ہے۔
میں ایڈیٹر کے ناتے ان ساری چیزوں کو غلط مانتا ہوں کہ ان میں سچائی نہیں ہوگی۔ پھر بھی چونکہ آپ میرا اداریہ پڑھتے ہیں، میں آپ سے رائے مانگتا ہوں کہ ان میں کتنی چیزیںغلط ہیں، برائے کرم مجھے ضرور بتائیے۔ میں آپ کو دعوت دیتا ہوںکہ ’چوتھی دنیا‘ میں اس خط کی مخالفت میں جو بھی لکھیں گے ثبوت سمیت، اسے میں احترام کے ساتھ ضرور مقام دوں گا۔ سرکار چاہے تو وہ بھی ان سارے سوالوں کے جواب منفی کہہ کر تردید کے طور پر دے سکتی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *