آپ تاریخ کو مٹا نہیں سکتے

dami8نومبر کو اعلان شدہ نوٹ بندی سے مسئلہ ابھی تک بنا ہوا ہے۔کئی سارے فیصلے لئے جاچکے ہیں کہ آپ کتنا پیسہ نکال سکتے ہیں، کتنا جمع کرسکتے ہیں، کب تک پرانا نوٹ کہاں پر قبول کیا جاسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اب انکم ٹیکس قانون میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے مطابق ایک مقررہ فیصد تک ٹیکس دے کر پیسے کو جمع اور سفید کرایا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اور والنٹری انکم اعلانیہ اسکیم۔ظاہر ہے انہوں نے یہ محسوس کیا کہ نوٹ بندی سے جس فائدے کی امید تھی، وہ اتنا کامیاب نہیں ہوئی۔ اس لئے اسے جزوی طور سے والنٹری انکم اعلانیہ اسکیم میں تبدیل کر دیا گیا۔30دسمبر کے بعد ہی ہم جان پائیں گے کہ کتنی پرانی کرنسی واپس بینکوں میں جمع ہوئی۔ ان کو امید تھی کہ 14لاکھ میں سے 3سے 4 لاکھ کروڑ روپے واپس نہیں آئیں گے اور اس طرح اتنا کالا دھن سسٹم سے باہر ہو جائے گا۔ اس سے ریزرو بینک کے بیلنس شیٹ کو اتنا فائدہ ہوگا اور سرکا رکی ذمہ داری ختم ہو جائے گی۔
یہ ایک بحث کا موضوع ہے کہ کیا یہ اکائونٹنگ کا صحیح طریقہ ہے۔ لیکن دلچسپ حقیقت یہ دیکھنے کی ہوگی کہ 14 لاکھ کروڑ میں سے کتنے لاکھ کروڑ روپے واپس بینک میں نہیں آتے ہیں؟جس طرح سے چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں، اب لوگ بات کرنے لگے ہیں کہ اب پورے کے پورے 14لاکھ کروڑ روپے واپس آگئے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ نوٹ بندی کا فیصلہ موثر ثابت نہیں ہوا۔یہ غیر ضروری قدم رہا۔ پہلے تو آپ کو کافی نوٹ کی چھپائی کرلینی چاہئے تھی۔ کالا یا سفید دھن کی بات بھول جائیے۔ پہلے نوٹ بدلے جانے چاہئے تھے۔ کالا دھن کی بات الگ ہے۔لیکن اگر آپ کے پاس نوٹ ایکسچنج کرنے کے لئے نوٹ نہیں ہے، تو یہ ایک افسوسناک اور خطرناک صورت حال ہے۔ افسوسناک اس لئے کہ یہ انتظامیہ کی کمی کو ظاہر کرتا ہے اور خطرناک اس لئے کہ عام آدمی کا بھروسہ اب بینک اور کرنسی سے اٹھنے لگا ہے۔آپ چاہتے ہیں کہ لوگ کیش لیس بنیں اور بینک میں ان کا بھروسہ زیادہ بڑھے۔لیکن اس قدم سے تو الٹا اثر پڑے گا۔
اگر میں بینک جاتا ہوں اور بینک میں پیسہ نہیں ہے تو پھر میں آگے سے بینک میں پیسہ کیوں رکھوں گا؟ اس پیسے کو میں اپنے پاس رکھوں گا۔ اس لئے ہندوستان جیسے ملک میں بغیر اس کے اثر کے بارے میں سوچے، اس طرح کی اسکیم کا اعلان کرنا کوئی دانشمندی کی بات نہیں ہے۔لیکن اسکیم کا اعلان ہو چکا ہے، ہمیں اس سے گزرنا ہی ہوگا۔ عام آدمی کو کم سے کم 31مارچ تک اس کے بوجھ کو ڈھونا ہی ہوگا۔ ہر دن نوٹوں کی چھپائی ابھی چل ہی رہی ہے۔ میں یہ امید کرتا ہوں کہ مارچ تک یہ مسئلہ ماضی کا حصہ بن جائے گا۔
اب بنیادی ایشو یعنی کالا دھن کی بات کرتے ہیں۔ اس ملک میں ایک بہت بڑی آبادی انکم ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے۔ مثال کے طور پر زرعی شعبہ میں 1-2-3 لاکھ کے فکسڈ ڈپازٹ پر سوال نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ یہ انکم ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتا ہے۔جو لوگ ٹیکس کے دائرے میں آتے ہیں ، وہ اپنے پیسے ان کے ذریعہ جمع کروائیں گے۔ آپ ایک پولیس اسٹیٹ نہیں بنا سکتے۔ سرکار کے ذریعہ یہ کہنا اب مضحکہ خیز لگنے لگا ہے ۔سرکار کہہ رہی ہے کہ ہم کارروائی کریں گے۔ آپ کیسے کارروائی کریں گے؟ہمیں اس کا میکنزم بتائیے۔ایک کسان جاتا ہے اور دو لاکھ روپے ڈپازٹ کرتا ہے، آپ کہہ رہے ہیں کہ تم جمع کرسکتے ہو لیکن مہینے میں دس ہزار سے زیادہ نہیں نکال سکتے ۔ آپ کیا کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟آپ ایک ایسا اسٹیٹ بنانے کی کوشش کررہے ہیں جہاں میں اپنے ہی پیسے کا استعمال نہیں کرسکتا۔ یہ ایک افسوسناک صورت حال ہوگی۔ یقینی طور پر آپ کالا دھن کو روکنے اور زیادہ ٹیکس وصول کرنے کے لئے دانشمندانہ اور بہتر راستہ اپنا سکتے ہیں۔لیکن اس طرح کے لچر اور جبری انداز سے کام کرنا صحیح نہیں ہے۔ ایک نیا لفظ آیا ہے’ سرجیکل اسٹرائک‘ ،چاہے پاکستان کی بات ہو یا کالادھن۔یہ ہر جگہ سرجیکل اسٹرائک ہی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ناسمجھی ہے۔ ہندوستان میں اسے بچکانہ حرکت کہتے ہیں۔ ہندوستان جیسے ملک میں یہ سب کام بہتر طریقے سے ہونا چاہئے۔
کیش لیس سوسائٹی کی طرف جانے کا مجموعی طورپر مقصد اب ریوائز ہوکر لیس کیش سوسائٹی ہو گیا ہے،جو قابل تعریف ہے ۔دنیا کی کوئی بھی سوسائٹی کیش لیس نہیں ہے۔ مغربی ملکوں میں جہاں لوگ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں، زیادہ بینکنگ سہولت ہے، لوگ وہاں کیش استعمال کرنا نہیں چاہتے ہیں کیونکہ چیک استعمال کرنا محفوظ طریقہ ہے۔ہندوستان کا زرعی شعبہ پوری طرح سے کیش پر چلتا ہے اور یہ کالا نہیں ،سفید ہے۔ زراعت پر کوئی ٹیکس نہیں لگتا۔ کسان اپنی پیداوار نقد میں بیچتے و خریدتے ہیں اور وہ بھی قانونی طور سے۔شہری اور دیہی سیکٹر کے لئے الگ الگ قانون ہونا چاہئے ۔ کارپوریٹ سیکٹر لگ بھگ کیش لیس ہے۔نوٹ بندی سے کون متاثر ہوئے ہیں، یہ مجھے نہیں معلوم ۔لیکن نوٹ بندی سے کون متاثر نہیں ہوئے ہیں ، یہ مجھے پتہ ہے۔یہ کارپوریٹ سیکٹر ہے۔یہ چیک اور کریڈٹ کارڈ سے پیسہ لے اور دے رہے ہیں۔ صرف غریب ہی اس مسئلے کو جھیل رہا ہے۔ اگر آپ لیس کیش سوسائٹی کی طرف جانا چاہتے ہیںتو پہلے آپ کو ایسے بندوبست کرنے چاہئے جہاں لوگوںکو کیش کی ضرورت ہی نہ پڑے۔لیکن آپ پہلے نوٹ بندی کرتے ہیںاور پھر کہتے ہیںکہ بینک اکائونٹ کھولو۔ آپ پانی کا انتظام کئے بغیر آگ لگا دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیںکہ آگ بجھائو۔
اسی طرح آدھار کارڈ، سب سے پہلے تو یہ کہ سپریم کورٹ نے یہ کہہ دیا ہے کہ آدھار کارڈ لازمی نہیں ہے۔یہ ایک متبادل کارڈ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سرکار کو جو سب سے پہلا سدھار کرنا چاہئے وہ یہ کہ جو لوگ بھی ٹیکس دہندہ ہیں اور جن کے پاس پین کارڈ ہے(یہ کل آبادی کا زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد ہوگا)، ان کے پاس آدھار کارڈ ہو ہی نہیں سکتا۔ آدھار کارڈ سرکاری فائدے پانے کے لئے ہونا چاہئے ۔ٹیکس دہندہ بھی سرکاری فائدے لینا چاہتے ہیں؟ٹیکس دہندہ کو بھی سبسڈی کا فائدہ دینا چاہئے، کس طرح کے سماج میں ہم رہ رہے ہیں؟آدھار کارڈ صرف ان لوگوں کو دیا جانا چاہئے جو ٹیکس دہندہ نہیں ہیں۔ جیسے ہی آپ ٹیکس دینے والے بنتے ہیں، اپنا آدھار کارڈ واپس کیجئے۔یہاں ہم انکم ٹیکس دہندہ کو زبردستی ہائی ٹیکسیشن سیکٹر میں دھکیل رہے ہیں۔ میں بہت ہی ہائی انکم والے دائرے میں ہوں۔ اگر آپ مجھے آدھار کارڈ آفر کریں گے تو میں اس دائرے میں نہیںہوں گا۔لیکن مجھے آدھار کارڈ رکھنا ہی ہوگا کیونکہ آپ نے ایسے کئی قانون بنا دیئے ہیں جہاں آدھار کارڈ لازمی ہو گیا ہے۔ اگر آپ کے پاس پین کارڈ ہے تو آدھار کارڈ کی ضرورت ہی نہیں ہے اور یہاں تک کہ راشن کارڈ کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
راشن کارڈ ایک ریاستی موضوع ہے۔لیکن بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں کو یہ کہنا چاہئے کہ سبسڈی والا اناج صرف انہیں ہی ملے گا جو انکم ٹیکس دہندہ نہیں ہیں۔صرف غریبی ریکھا سے نیچے والے لوگوں کے پاس ہی راشن کارڈ ہونا چاہئے ۔ممبئی جیسے شہر میں راشن کارڈرہائشی ثبوت کے لئے ہے۔سینکڑوں سال پرانے اس طرح کے قانونوں کو ختم کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اس لئے اگر آپ ریفارم کی بات کرتے ہیں تو ایسے ریفارم کریں جس کی ضرورت ہے۔ یہ کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے،ہر کوئی جانتا ہے کہ راشن کارڈ سسٹم میں دکاندار اناج کو کالا بازر میں بیچتا ہے اور غریب کو اناج نہیں ملتا ہے۔لیکن آپ ایسی چیزوں کو ریفارم کرنا چاہتے ہیں جو ریفارم نہیں ہوسکتی۔ ہندوستان ایک جگاڑ والا ملک ہے۔ آج سے چھ مہینے بعد سب کچھ اپنے پرانے دھرّے پر لوٹ آئے گا۔آپ سب کچھ ایک ساتھ نہیں کرسکتے۔ آپ ہندوستان میں سرمایا کاری چاہتے ہیں، آپ ہندوستان میں بزنس کرنے میں آسانی چاہتے ہیں، آپ چاہتے ہیںکہ لوگ یہاں آئیں اور پھر آپ اس طرح کے کام کرتے ہیں جس سے ایک ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ جسے لوگ پسند نہیں کرتے ، جس سے لوگوں کو دشواری ہوتی ہے۔
گزشتہ 70سالوں میں ہم نے ہندوستان کو ٹھیک طریقے سے چلایا ہے۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کہتے ہیں کہ گزشتہ 70سالوں میں کچھ نہیں ہوا۔ صرف جاہل ہی ایسا کہہ سکتے ہیں۔ ہندوستان 1947 میں کہاں تھااور اب کہا ں ہے، اسے کوئی بھی آسانی سے محسوس کر سکتا ہے۔یہ سب کانگریس نے کیا ہے یا کسی اور نے کیا ہے، یہ اہم نہیں ہے۔ یہ ملک سب کا ہے۔ ہم نے اچھا کام کیا ہے۔ بھاکھڑا نانگل باندھ، اسٹیل پلانٹ، ایٹمی ری ایکٹر،میزائیل، منگلیان، آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، یہ سب کس نے بنایا ؟بیشک لوگ اسے قبول نہیں کریںگے کیونکہ اس کا سہرا جواہر لال نہرو کو جائے گا اور یہ نام وہ سننا نہیں چاہتے ۔ آپ تاریخ کو مٹا نہیں سکتے ۔
2014 میں آپ وزیر اعظم بنے، آپ نے ایک ایسا فیصلہ لیا جس پر ماہرین اقتصادیات کی رائے آپ سے الگ ہے۔ بھلے ہی مودی بھکت بول رہے ہوں کہ ایک بہت ہی عظیم کام ہوا ہے۔ لیکن عظیم کام کا اندازہ نتائج سے کیا جاتا ہے۔ عظیم کام کا اندازہ بھاشن سے نہیں ہوتا۔اگر سچ مچ 4سے 5 لاکھ کروڑ روپے بینک میں واپس نہیں آتے ہیں تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہاں، کالا دھن سسٹم سے ختم ہوا۔ یہ کام 30دسمبر تک ہونا ہے۔لوگ اب یہ بول رہے ہیںکہ تب تک سارا پیسہ بینک میں آجائے گا۔ پرانے نوٹ کے بدلے جو آپ نئے نوٹ دے رہے ہیں، اس کے بارے میں لوگ بول رہے ہیں کہ اس کا رنگ اتر رہا ہے۔ آج ایک بہت ہی عجیب صورت حال ہے۔
ایک بار پھر سے یہ افواہ ہے کہ سبھی لاکرس کو دیکھا جائے گا،سرکار سونا تلاش کررہی ہے۔وزارت خزانہ کو یقین دہانی کرنی پڑی کہ سونا کو لے کر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ ہندوستان کے لوگ کیا کریں؟سونا ہندوستان کے گھروں میں دور قدیم سے رکھا جاتا رہا ہے۔غریب بھی تھوڑا بہت سونا رکھتے ہیں۔کیونکہ ہندوستان میں لوگ سونا پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ مصیبت کے وقت کام آتا ہے۔ جنوبی ہندوستان میں جائیے۔ وہاں تقریباً ہر برہمن خاتون کے جسم پر سونا ہوتا ہے۔ انہیں اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرنا چاہئے۔
اگر بیلنس آف پیمنٹ کا مسئلہ ہے تو سرکار کچھ سونا گروی رکھ سکتی ہے، حالانکہ یہ بھی لوگوںکے ذریعہ پسند نہیں کیا جائے گا۔لیکن ہندوستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لئے یہ کیاجاسکتا ہے۔ یہاں اگر آپ، لوگوںکے سونا کے پیچھے جائیں گے تو طے مانئے کہ آپ کی سرکار بچ نہیں پائے گی۔امید کیجئے کہ چیزیں صحیح ہو جائیں۔تب تک یہ تماشہ دیکھتے رہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *