انکم ٹیکس ترمیمی بل 2016 کتنی پوری ہوگی منشا سرکار کی ؟

damiسرکار جس قانون کے ذریعہ کالے دھن کو پکڑنا چاہتی ہے اس جال میں تو کوئی چوہا بھی نہیں پھنسنے والا ہے۔ ویسے نوٹ بندی کے بعد انکم ٹیکس ترمیمی بل لاکر سرکار نے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ کالا دھن کو معیشت سے باہر کرنے کے لئے سخت قدم اٹھانے کو تیار ہے۔ سرکار کی اس پہل کو عوام کی حمایت بھی ہے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سرکار کی منشا اور اس کے فیصلے میں کوئی ربط ہے؟کیا نئے قانون کو جس مقصد سے لایا گیا،وہ پورا ہوگا؟کہیں ایسا تو نہیں کہ بے ترتیبی اورکمزور قانون کی وجہ سے سرکار اپنی مہم میں ناکام ہو جائے؟اس قانون کا اثر بڑے پیمانے پر ہونے والا ہے۔اس لئے اس کے ہر پہلو کو سمجھنا ضروری ہے۔
لوک سبھا میں ہنگامہ کے درمیان وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے انکم ٹیکس ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش کردیا ۔ لوک سبھا اسپیکر نے اسے مینی بل کی شکل میں قبول کیا۔ مطلب یہ ہے کہ سرکار اسے راجیہ سبھا لے جانے کے موڈ میں نہیں تھی۔اگلے دن پھر لوک سبھا میں ہنگامہ چلتا رہا لیکن اسی ہنگامے کے درمیان اس بل کو پاس کر دیاگیا۔ انکم ٹیکس قانون میں ہوئے بدلائو پر نہ تو پارلیمنٹ میں چرچا ہوئی اور نہ ہی اپوزیشن نے تجزیہ کیا۔حیرانی تو یہ بھی ہے کہ میڈیا نے اس قانون میں ہوئے بدلائو کا مطالعہ کئے بغیر سرکار کی دلیلوں میں ہاں میں ہاں ملا کر اسے کالے دھن پر شکنجہ کسنے والا قانون بتا دیا۔ انکم ٹیکس ترمیمی بل کی تجاویز اور ارادے کا نتیجہ کیا ہوگا یہ سمجھنا ضروری ہے۔
سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ اس نئے قانون میں کیا نئی بات ہے۔ سب سے پہلی بات، اس قانون میں کچھ نیا نہیں ہے۔ یہ ایک ولنٹری ڈسکلوزر انکم اسکیم یعنی انکم کا ولنٹری ڈسکلوزر اسکیم ہے جسے کئی سرکار وںنے اپنے اپنے حساب سے لاگو کیا اور ہر بار اپنے ہدف کو پانے میں ناکام رہی ہیں۔ اس بل کے مطابق، نوٹ بندی کے بعد کالے دھن کا اعلان کرنے والوں کی آمدنی کا 49.9فیصد حصہ ٹیکس، جرمانہ اور پی ایم جی کے وائی یعنی وزیر اعظم غریب فلاحی اسکیم، سیس میں ہی چلا جائے گا۔ اس 49.9فیصد حصہ میں غیر اعلانیہ آمدنی پر 30فیصد ٹیکس، 10فیصد جرمانہ اور ٹیکس کا 33 فیصد پی ایم جی کے وائی سیس میں جائے گا۔ اس کے علاوہ 25 فیصد رقم کو چار سال کے لئے بینک میں ہی زیرو فیصد سود پر لاک کر دیا جائے گا۔ یعنی کنزیومر صرف 25 فیصد رقم ہی بینک سے نکال پائے گا، باقی 25فیصد رقم کے لئے چار سال انتظار کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ غیر اعلانیہ انکم کا خلاصہ نہیں کرنے والے آدمی کو پکڑے جانے پر اپنی غیر اعلانیہ انکم کا 75فیصد حصہ ٹیکس اور 10 فیصد جرمانہ کے طور پر ادا کر نا پڑ جائے گا۔ مطلب جو انکم ٹیکس کی چھاپہ ماری میں پکڑا گیا تو اسے غیر اعلانیہ انکم کی 85 فیصد رقم گنوانا پڑ جائے گا۔ پہلی نظر میں یہ قانون تو سخت ضرور نظر آتا ہے لیکن اس کے استعمال اور انکم ٹیکس کے دوسرے قوانین کے ساتھ جوڑ کر دیکھنے سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا کامیاب ہونا مشکل ہے۔
وزیر خزانہ ارون جیٹلی سے ایک بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔یہ جو نیاقانون لایا گیا ہے، اس کا ناکام ہونا طے ہے۔ وہ اس لئے کیونکہ اس میں کئی سارے مسائل ہیں۔ یہ قانونی طور پر منطقی نہیں ہے اور نہ ہی اس میں انکم چھپانے والے لوگوں کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں 10فیصد جرمانہ کی تجویز ہے۔ اگر اس جرمانے کو اضافی ٹیکس کی شکل میں لیا جاتا تو کوئی مشکل نہیں تھا لیکن انکم ٹیکس قانون میں جیسے ہی جرمانہ یا پنالٹی لفظ کا استعمال ہوتا ہے تو کوئی بھی کمپنی یا آدمی اس قانون کے تحت اپنی آمدنی کو عوامی کرنے سے گریز کرے گا۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی بھی آدمی اور کمپنی خود کو کرمنل ثابت کرانے کے لئے خود ہی اپنی آمدنی عوامی کرے گا؟ وہ ایسا اس لئے نہیں کرے گا کیونکہ جب کسی آدمی پر جرمانہ لگتا ہے تو اسے کئی اور بھی نتیجے جھیلنے پڑ تے ہیں۔ جیسے ہی کسی آدمی پر جرمانہ لگتا ہے تو وہ قانون کی نظر میں ایک مجرم بن جاتا ہے۔ جرمانہ لگتے ہی وہ کئی چیزوں کے لئے نااہل قرار دے دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ پھر کبھی کسی کمپنی کے آزاد ڈائریکٹر نہیں بن پائیںگے۔ سرکار کے بہت سارے انعام اور عہدوں کے لئے آپ نااہل بن جائیںگے۔ انہیں پھر مستقبل میں بینک لون بھی نہیں مل پائے گا۔
اب اگر کسی کے پاس کالادھن ہے تو وہ کیوں اسے عوامی کرے گا۔اگر سرکار کو پیسہ ہی بینک میں لانا تھا اور سرکاری خزانہ کو بھرنا تھا تو پورا کا پوراپیسہ ٹیکس کی شکل میں ہی جمع کرنے کی تجویز ہونی چاہئے تھی ۔ اس چوک کا نتیجہ یہی ہوگا کہ اس اسکیم کے تحت شاید ہی کوئی آدمی یا کمپنی اپنی مرضی سے اپنے انکم کو عوامی کرے۔ مطلب یہ ہے کہ کالے دھن کو پکڑنے کا کام انکم ٹیکس محکمہ کو ہی کرنا ہوگا۔
سچائی یہ ہے کہ انکم ٹیکس محکمہ کے پاس کوئی ایسا میکنزم ہی نہیں ہے جس کے ذریعہ سرکار کروڑوں لوگوں کے ذریعہ جمع کئے گئے پیسے کو کھنگال سکے ، سارے بینک اکائونٹ کا تجزیہ کرسکے اور کالے دھن کو جمع کرنے والوں کو پکڑ سکے۔ فی الحال عام طور پر ایک انکم ٹیکس ایسوسینگ آفیسر یعنی ٹیکس اسیسنگ اتھارٹی کے پاس100 کے آس پاس کیسز ہوتے ہیں۔ حالت تو یہ ہے کہ ان100 کیسز کی بھی صحیح ڈھنگ سے جانچ نہیں ہو پاتی ہے، نہ ہی کورٹ سے ملزموں کو سزا دلوا پانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔ زیادہ تر معاملے میں ملزم کورٹ سے بری ہو جاتے ہیں۔ اب جب کروڑوں بینک اکائونٹ میں پیسے جمع ہوئے ہیں تو سبھی معاملوں کی جانچ تو ناممکن ہے۔
انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ 15 سے 20 فیصد معاملوں کو بھی صحیح ڈھنگ سے جانچ کر لے تو یہ حیران کن ہوگا۔مطلب یہ ہے کہ چنیدہ معالوں کو ہی انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ اٹھائے گا۔ انکم ٹیکس آفیسر ہی طے کریں گے کہ کس معاملے کو اٹھانا اور کسے چھوڑ دینا ہے ۔ ایسے میں جو صورت حال بنے گی ، اس سے بد عنوانی کا ایک نیا باب شروع ہوجائے گا۔ ہر اسیسنگ آفیسر جمع خوری کا ایک مرکز بن جائیگا۔
جن معاملوں میں کارروائی نہیں ہوگی تو الزام لگے گا کہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے پیسے لے کر ملزموں کو چھوڑ دیا ۔ کئی ایسے معاملے بھی سامنے آئیں گے جس میں آفیسر رشوت لے کر معاملے کو چھوڑ دیں گے۔ اگر کسی آفیسر نے رشوت نہیں لی اور ایمانداری کے ساتھ کارروائی کی تو الزام یہ لگے گا کہ پیسہ نہیں ملا تو کارروائی شروع ہو گئی۔ یعنی انکم ٹیکس محکمہ کے افسروں کو دونوں طرف سے فضیحت کا سامنا کرنا ہوگا۔ لیکن مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا ہے۔جن ملزموں کے خلاف کارروائی بھی ہوگی وہ کوٹ سے چھوٹ جائیں گے۔
دراصل اس قانون کے تحت جو کارروائی ہوگی ،اس میں ایک بڑی کمزوری ہے۔انکم ٹیکس محکمہ میں ہر معاملے کی جانچ انکم ٹیکس محکمہ کے اسیسنگ آفیسر یعنی ٹیکس اسیسنگ اتھارٹی کرتے ہیں۔ جب کوئی آدمی ٹیکس کی چوری کرتا ہے یا کالے دھن کے ساتھ پکڑا جاتاہے تو اسیسنگ اتھارٹی ہی ان پر انکم ٹیکس قانون کی الگ الگ دفعات لگاتے ہیں۔ اب نئے قانون میں جو جرمانہ کی تجویز ہے، اس میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس میں جس دفعہ کے تحت کارروائی ہوگی، وہ انکم ٹیکس قانون کے سیکشن 68,69,69A,69Bاور 69C ہے۔ عام طور پر انکم ٹیکس محکمہ کو ہر معاملے کی پہلے سے اطلاع ہوتی ہے جس پر محکمہ ایکشن لیتا ہے۔ ابھی کی صورت حال میں پیشگی اطلاع کے طور پر انکم ٹیکس محکمہ کے پاس صرف بینک کھاتوں کے ڈیٹیل ہیں، اسی اطلاع پر کارروائی ہوگی۔
ایک تو اتنے کھاتوں کو کھنگالنا مشکل ہے اور اگر کچھ لوگوں کے خلاف کارروائی ہوئی بھی تو وہ چھوٹ جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انکم ٹیکس قانون کے جو سیکشن 68,69,69-A,69-Bاور 69- C ہیں ۔یہ سارے کے سارے ڈسکریشنری نیچر کے ہیں۔ مطلب یہ کہ ان کا استعمال اپنے آپ نہیں ہوتا ہے۔ ان دفعات کا استعمال انکم ٹیکس کے آفیسر اپنی سمجھ سے کرتے ہیں۔ جب اسیسنگ آفیسر کو جانچ کے دوران یہ لگتا ہے کہ ملزم نے کچھ گڑبڑی کی ہے اور کچھ چھپا رہا ہے تب وہ ان دفعات کو اپنی سمجھ سے لگاتا ہے۔ جب آفیسر کی سمجھ پر ہی ان کا استعمال ہوتا ہے تو یہ آفیسر پر منحصر ہے کہ کس معاملے میں ان سیکشن کو لگائے یا نہ لگائے۔ اسی وجہ سے افسروں کے پاس ذخیرہ اندوزی اور بد عنوانی کا خطرہ بنا رہتاہے۔
یہ ان سیکشن کی خاصیت ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ کمزوری اس لئے کیونکہ جب کوئی معاملہ کورٹ میں جاتاہے تب سمجھ کے استعمال پر معاملہ پھنس جاتا ہے اور زیادہ تر ملزم چھوٹ جاتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ وزارت خزانہ نے جرمانہ کو قانون کا حصہ بنا دیاہے۔ جبکہ اسسمنٹ (جانچ ) اور پنالٹی یعنی جرمانہ لگانا یہ دونوں الگ الگ کام ہیں۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں دونوں کی سرگرمی الگ ہے۔ جانچ ایک سول معاملہ ہے جبکہ پنالٹی لگانا کرمنل معاملہ ہے۔ ویسے بھی انکم ٹیکس قانون میں جرمانہ تو صرف ڈرانے کے لئے رکھا گیا تھا کیونکہ ریونیو جمع کرنے کا یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے۔ نئے قانون کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ سرکار نے جرمانہ کو ٹیکس کے ساتھ قانون میں جوڑ دیاہے ۔ یہ کہا جاسکتاہے کہ جرمانہ کو خود کار طریقے سے لاگو کرنے کی تجویز کی وجہ سے نئے قانون کا ناکام ہونا تقریبا ً طے ہے۔
عدلیہ سرگرمی کا ایک اہم رول ہے جسے ریس جیو ڈیکاٹا کہا جاتا ہے۔اس رول کے مطابق اگر ایک کامپٹینٹ کورٹ نے ایک معاملے میں فیصلہ دے دیاہے تو وہ فیصلہ مثال بن جائے گا۔ اسی طرح کا اگر دوسرا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو کامپٹینٹ کورٹ کے ذریعہ دیئے گئے فیصلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مطلب ایک طرح کے معاملے میں اگر کورٹ نے کوئی فیصلہ لے لیا ہے تو اسی طرح کے دوسرے معاملے میں کورٹ الگ فیصلہ نہیں دے سکتا ہے۔
ایسا ہی ایک کیس مایاوتی کا تھا۔ مایاوتی کے معاملے میں بینک اکائونٹ میں جتنا بھی پیسہ جمع تھا، اس میں ان کو کلین چٹ مل گئی۔ انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹرائبونل نے انہیں چھوڑ دیا۔ ٹرائبونل نے صاف صاف کہا کہ بینک اکائونٹ میں جتنے بھی پیسے ہیں ،وہ غلط نہیں ہیں۔ اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی ہے۔ اس پر سیکشن 68 لاگو نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ اپنے آپ میں حیران کرنے والا فیصلہ ہے کیونکہ اس فیصلے کا مطلب یہی ہوا کہ جس کو جتنا کمانا ہے کمائو اور سارے پیسے بینک میں ڈال دو۔ اس پر کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی ہے۔ اس قانون کے تحت ہر معاملے میں کورٹ مایاوتی کے معاملے کے مطابق فیصلہ لے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے بینک میں پیسہ جمع کرا دیا، انہیں کوئی سزا نہیں ملے گی۔
کورٹ کی حالت یہ ہے کہ جب بھی سیکشن 68سامنے آتا ہے تو جج صاحب اس معاملے کو ہی رفع دفع کر دیتے ہیں۔ کیونکہ یہ معاملہ آفیسر کی سمجھ کا مان لیا جاتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نئے قانون میں کاروباریوں اور دکانداروں کا بال نہ بانکا ہونے والا ہے ۔ انکم ٹیکس قانون کے اندر پچاسی ایسی تجاویز ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنی ساری دولت کو بچا لے جاسکتے ہیں۔ انکم ٹیکس کے تو ایسے قانون ہیں کہ اگر کوئی دکاندار یہ کہہ دے کہ کوئی آدمی دس لاکھ روپے دکان میں چھوڑ کر چلا گیاتو وہ بھی سزا کے کسی بھی پروویژن سے باہر ہو گیا۔ انکم ٹیکس قانون کا ایک سیکشن ہے 28(4) جس میں ’’ اینی اَدَر بینیفٹ‘‘ کی بات کہی گئی ہے۔ جب تک یہ قانون ہے تب تک کاروباریوں اور دکانداروںکو کو ئی فکر نہیں ہوگی۔ ان کے پاس جتنا بھی کالا یا سفید پیسہ ہے ،اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہو سکتاہے۔
نوٹ بندی کا فیصلہ ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ ایک مشکل فیصلہ ہے اور لوگوں کو پریشانی ہوگی۔ ایسے میںاس قانون میں ایسے بدلائو لانے چاہئے تھے جس میں افسروں کی سمجھ کے استعمال کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ کالے دھن اور حال ہی میں پرانے نوٹ جمع کرنے کے دوران ہوئی گھپلے بازی کو پکڑنے اور انہیں سزا دینے کے لئے کوئی نارمل لیکن سخت قانون لانا چاہئے تھا جس میں بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ اگر سرکار ایسا قانون لاتی جس میں ہر بینک اکائونٹ کے پچھلے ایک دو سال میں جتنا پیسہ جمع ہوا اور جو پیسہ نوٹ بندی کے بعد جمع ہوا ،اس کا اوسط نکالتے اور جو بھی رقم زیادہ ہوتی، اس پر سیدھے سیدھے 40یا 50فیصد ٹیکس چکانے کی تجویز ہوتی تو نہ افسروں کو اپنی سمجھ کا استعمال کرنا ہوتا نہ ہی ملزم کورٹ سے بری ہوتے اور نہ ہی کوئی بچ پاتا ۔
نوٹ بندی ہو یا اس کے بعد کی صورت حال ،کالے دھن کو گرفت میں لینے کا مسئلہ ہو، سرکار کے پاس کوئی اسٹریٹجی ہے یا کوئی ویژن ہے۔ وہی ٹیکس ریزیم ، وہی انکم ٹیکس ایکٹ، وہی قانونی سسٹم ، وہی ڈپارٹمنٹ ،وہی آفیسر،وہی سارے ٹیکس دینے والے لوگ، پھربھی اگرسرکار یہ سوچتی ہے کہ جن لوگوں نے کالا دھن چھپا رکھا ہے وہ خود بخود اپنے پیسے کو عوامی کرنے کے لئے لائن میں کھڑے ہو جائیں گے تو یہ بیوقوفی ہے۔ جو 30فیصد ٹیکس سے بچنے کے لئے ہیرا پھیری کرتے ہیں،جنہوں 45فیصد ٹیکس دے کر کالے دھن کو سفید کرنے کا موقع گنوا دیا۔اب تک جتنی بھی وولنٹری ڈسکلوزر اسکیم آئی وہ ٹیکس دہندہ کی نفسیات کو سمجھ نہیں پائی ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تمام اسکیمیں ناکام ہو گئیں۔ اسی بنیاد پر یہ کہا جاسکتاہے کہ 50فیصد ٹیکس اور 25 فیصد چار سال تک ضبط کرنے والا قانون کامیاب ہونا ناممکن ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *