امریکہ کی سب سے بڑی تشویش کا نام ہے ڈونالڈ ٹرمپ

dami00امریکہ کی جمہوریت بھی عجیب و غریب ہے۔ گزشتہ مرتبہ جب براک حسین اوبامہ نے انتخاب جیتا تھا تب کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ نیو یارک میں ہوئے حملے کے بعد امریکہ کا اگلا صدر وہ ہوگا، جس کے نام میں حسین ہو اور وہ سیاہ فام ہو۔اس بار بھی امریکہ نے اپنے فیصلے سے پوری دنیاکو حیران کردیا ہے۔ یہ کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک ایسا آدمی صدر چن لیا جائے گاجو ٹیکس کی چوری کرتا ہو، عورتوں کے ساتھ بے حیائی کرتا ہو اور عورتوں کے لئے نازیبا زبان استعمال کرتا ہو۔ ایسا آدمی جو اقلیتوں اور تارکین وطن کو بھلا برا کہتا ہو، انہیں ملک سے باہر کرنے کی بات کرتا ہو۔لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکہ کے عوام نے انہیں اپنا نیا صدر چن لیاہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کی جیت سے پوری دنیا میں تشوش کی لہر ہے۔ خا ص طور پر مسلم ملکوں میں خوف کا ماحول ہے۔ جمہوری اقدار کے چوکیدار کے گھر میں ہی اگر ان اقدار کا گلا گھوٹنے والا شخص مکھیا بن جائے تو حیرانی کی بات تو ہے ہی۔ ساتھ ہی یہ ایک سنگین معاملہ بن جاتا ہے جب یہ چوکیدار دنیا کے سب سے طاقتور ملک کا صدر ہو۔ ڈونالڈ ٹرمپ کس طرح کے صدر ہوں گے؟کیا وہ مسلمانوں کو امریکہ سے باہر کریں گے؟کیا وہ میکسیکو کے بارڈر پر دیوار کھڑی کریں گے؟کیامغربی ایشیا میں وہ جنگ کریں گے؟ایسے کئی سوالات ہیں، جن کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ اس کی وجہ خود ڈونالڈ ٹرمپ ہیں۔ کیونکہ وہ کس وقت ، کیا فیصلہ لیں گے،یہ سمجھنا مشکل ہے۔
22نومبر کو منتخب ہوئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کے بڑے ٹی وی چینلوں کے اینکرس، صحافیوں اور افسروں سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات نیو یارک میں ٹرمپ ٹاور میں ہوئی۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ صدارتی انتخاب کے دوران میڈیا نے ڈونالڈ ٹرمپ کو کبھی بھی کامیاب نہیں مانا تھا۔ کچھ اخبار اور صحافیوں نے تو انتخابی نتیجوں سے پہلے ہی ہیلری کلٹن کو کامیاب اعلان کر دیا تھا۔ میڈیا کے ساتھ ٹرمپ کے رشتے اچھے نہیں ہیں، یہ بات جگ ظاہر ہے۔
انتخابی تشہیر کے دوران ٹرمپ میڈیا کے خلاف لگاتار بیان دیتے رہے۔ حالیہ ملاقات اس معنی میں اہم تھی کہ انتخاب جیتنے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ کے مزاج میں کچھ بدلائو ہوا ہو اور شاید ترشی ختم کرکے وہ میڈیا کے ساتھ اچھے رشتے بنانے کی پہل کر رہے ہوں۔ لیکن اس میٹنگ کے دوران کچھ اور ہی ہو گیا۔ امریکی میڈیا کے سارے اعلیٰ درجے کے لوگ ایک کمرے میں انتظار کررہے تھے۔ ڈونالڈ ٹرمپ جیسے ہی اندر گھسے اور پہلا جملہ بولا تو اس کمرے میں موجود لوگوں کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ انہوں نے آتے ہی کہا کہ میں ایک ایسے کمرے میں ہوں ، جہاں صرف جھوٹ بولنے والے موجود ہیں۔ ڈونالڈٹرمپ نے میڈیا کو بے ایمان اور غیر منصف بتا یا ۔حالانکہ یہ ایک غیر سرکاری میٹنگ تھی جس کی شرط یہی تھی کہ میٹنگ کی باتیں میڈیا میں نہیں آئیں گی۔ لیکن ڈونالڈ ٹرمپ کے برتائو سے اس میٹنگ میں شامل لوگ حیران تھے اور دھیرے دھیرے ساری باتیں باہر آگئیں۔ اس میٹنگ کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے ہر بڑے میڈیا ادارے کی کلاس لگائی۔ انہیں دھتکارا ۔وہ لگاتار میڈیا کے لئے بے ایمان اور نامناسب لفظوں کا استعمال کرتے رہے۔ انہوں نے اس میٹنگ کے دوران غرور میں چور، ایک جھگڑالو کی طرح سب کو نظر انداز کیا اور جب بھی کسی نے کچھ کہا، اسے سرے سے مسترد کردیا۔ مہم کے دوران تو انہوں نے حد ہی کردی،جب انہوں نے میڈیا کو انسانیت کے سب سے نچلے درجے کا بتا دیا۔حالانکہ انہوں نے کسی چینل کا نام نہیں لیا، لیکن بغیر نام لئے انہوں نے سی این این اور اے بی سی چینلوں کو جم کر لتاڑا۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے اس برتائو سے لوگ حیران نہیں ہیں، کیونکہ انتخابی تشہیر کے دوران انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک ایسے بیان دیئے ہیں جو کسی صدر کے امیدوار کے لئے زیب نہیں دیتا ہے۔ چاہے وہ بیان مسلمانوں کے خلاف ہو یا پھر تارکین کو امریکہ سے باہر کر دینے کی بات ہو یا پھر اقتصادی نظام اور دہشت گردی جیسے حساس ایشوز ہوں، ہر موقع پر ڈونالڈٹرمپ نے یہ اشارے دیئے کہ ان کی ذہنیت مستحکم نہیں ہے۔ پھر خواتین کو لے کر جب نازیبا بیانوں اور آڈیو کلپ کے ذریعہ جو خلاصہ ہوا،اس سے اور بھی سوال کھڑے ہو گئے۔ کئی عورتوں نے ان پر جنسی استحصال کے بھی الزام لگائے۔ انہی سب وجوہات سے میڈیا اور تجزیہ کاروں نے ماہرین نفسیات کا سہارا لیا اور ٹرمپ کی ذہنی حالت کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔
امریکہ کے اخباروں، رسالے اور چینلوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ لوگ اس بات کو جاننے کے خواہش مند تھے کہ ایک ایسا آدمی جو دوسرے مذہب اور شناخت کے لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہو،جو عورتوں کی توہین کرتا ہو، جو ٹیکس دینے میں گھپلے بازی کرتا ہو، جو جمہوری اقدار کی ہر موقع پر خلاف ورزی کرتا ہو،وہ اگر صدر بنے گا تو کیسا صدر ہوگا؟ماہرین نفسیات نے ٹرمپ کی زبان، باڈی لنگویج، چہرے کے ہائو بھائو اور عام رویے سے ان کی پرسنالٹی کا مطالعہ کیا۔امریکہ میں چھپے زیادہ تر رپورٹ میں یہ مانا گیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ میں ایک نارسسٹ کی تمام علامتیں پائی جاتی ہیں۔اس بات کو لے کر امریکہ کے ماہرین نفسیات تقریبا ً متفق ہیں۔
نارسسٹزم ایک نفسیاتی مایوسی ہے۔ کچھ لوگ اسے ذاتی خرابی بھی مانتے ہیں۔ بغیر کسی بڑی کامیابی اور بہترین کارکردگی کے یہ آدمی یہ مانتا ہے کہ پوری دنیا اسے دوسروں سے عظیم اور خاص مانتی ہے۔ ایسا آدمی خود ستائی کے احساس میں گرفتار رہتا ہے۔وہ خود کو دنیا کا سب سے اہم آدمی مانتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے کئے ہوئے کام کو عظیم شاہکار مانتا ہے۔ ایسا آدمی ہمیشہ کامیابی، طاقت، شان و شوکت ، حسین خواب و خیال میں ڈوبا رہتا ہے۔ایسا آدمی اپنی برائی یا مخالفت کو برداشت نہیں کرسکتا ہے۔ جو اسے عظیم نہیں مانتے ہیں، انہیں وہ بھلا برا کہتا ہے۔ایسے آدمی کو لگتا ہے کہ اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں، جو ان کی طرح خاص ہیں۔ عام لوگوں کے ساتھ ان کا برتائو اچھا نہیں ہوتا ہے۔ایسے آدمی کو سائیکوفینسی سے توانائی ملتی ہے۔ اسے اپنے آس پاس ایسے آدمی کی ضرورت ہوتی ہے، جو لگاتار اس کی تعریف کرے۔ ایسے آدمی خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں اور ہر چیز پر اپنا حق جماتے ہیں۔ ایسا آدمی دوسروں سے ہمیشہ یہ امید رکھتا ہے کہ وہ بغیر کوئی سوال پوچھے اس کے حکم کی تعمیل کریں۔ ایسا آدمی اپنا کام نکالنے کے لئے دوسروں کا استعمال آسانی سے کرتا ہے۔ یہ لوگوں کا استعمال کرتا ہے اور کام نکل جانے کے بعد انہیں چھوڑ دیتا ہے۔ ایسا آدمی دوسروں کو کامیاب ہوتے نہیں دیکھ سکتا ہے۔ ایسے لوگ دوسروں سے حسد کرتے ہیں،لیکن ہمیشہ سوچتے ہیں کہ لوگ ان سے حسد کرتے ہیں۔ ایک نارسسٹ آدمی کو اپنے نظریئے اور رویے پر بہت غرور ہوتا ہے، اس لئے یہ مغرور ہوتے ہیں اور بات بات پر غصہ ہو جاتے ہیں۔ اوپر دیئے گئے نارسسٹ کی علامتوں کو دھیان میں رکھ کر ڈونالڈ ٹرمپ کے رویے اور بیانوں کو دیکھا جائے تو اس میںکوئی شک نہیں رہ جاتاہے کہ ماہرین نفسیات کا تجزیہ صحیح ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ ایک نارسسٹ کیوں بن گئے؟ان کی فطرت میں ایسا کیا ہے، جس کی وجہ سے ان کا رویہ ایسا ہو گیا؟ایلنائے کے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں ماہر نفسیات کے پروفیسر ڈین پی میکڈمس نے ڈونالڈ ٹرمپ کی نفسیاتی صورت حال کا مطالعہ کیاہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ کے مزاج کی دو بنیادی علامت یعنی آسمان کو چھوتی خوشامد پسندی اور کم سے کم قوت برداشت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ایک طرف اپنے تسلط کو قائم کرنے کے لئے جذبات میں بہہ کر یا انتہائی جذباتی ہوکر بیان بازی کرنے میں انتہا پر ہیں اور دوسری طرف ان میں ہمدردی، جوابدہی، رحم اور انسانی دوستی کا جذبہ بہت کم ہے۔پروفیسر ڈین پی میکڈمس کا ماننا ہے کہ ایسی فطرت کے بہت ہی کم لوگ سماجی زندگی میں آتے ہیں کیونکہ ایسی فطرت والا انسان ’ ان پریڈکٹیبل‘ ہوتا ہے یعنی جس کے بارے میں پیش گوئی نہیں کی جاسکتی ہے۔ ایسا آدمی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ ہو جاتاہے اور دھمکیاں دیتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ 37 ویں صدر ریچرڈنکسن کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ وہائٹ ہائوس میں رہنے والے ایسے صدر ہوں گے جو انتہائی نفسیاتی جنون میں مبتلا ہے۔جس طرح نکسن کے دور میں واٹر گیٹ کا معاملہ آیا اور امریکہ آئینی بحران میں پھنس گیا، اسی طرح کا خدشہ اب ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ کے نفسیاتی جائزے سے ماہرین نفسیات کو یہ لگتا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کو دنیا کا عظیم ترین ملک بنانے کے بجائے بھاری مصیبت میں ڈالنے والے ہیں۔
ماہر نفسیات بھلے ہی ڈونالڈ ٹرمپ کو نارسسٹ آدمی ثابت کر دیں،لیکن اس سے جمہوری طریقے سے منتخب کئے گئے کسی لیڈر کی ساکھ اور اہمیت کم نہیں ہوتی ہے۔ امریکہ کے عوام نے انہیں منتخب کیا ہے تو اس کے بھی وجوہات تھے۔ امریکہ میں لوگ اعتدال پسند اور بائیں محاذ سیاست اور ڈیموکریٹک پارٹی کو ایلیٹ طبقہ اور موجودہ حالت کو آگے بڑھانے والی پارٹی ماننے لگے تھے۔ اعتدال پسند اورترقی پسند نظریہ عام لوگوں کے سوال تو اٹھا سکتا ہے،لیکن گزشتہ تین چار دہائیوں سے یہ لوگوں کے مسائل کا حل نکال پانے میں ناکام رہا ہے۔ لوگ لیڈوروں کی تقریر سے تنگ آچکے ہیں۔پوری دنیا میں اب ایکٹیو لیڈروں کو حمایت مل رہی ہے۔ ایسا لیڈر جو کام کرتا نظر آتا ہو۔
اس انتخاب نے میڈیا اور تجزیہ کاروں کو کئی سبق دیئے۔ ٹی وی چینلوں کے سبھی سروے غلط ثابت ہو گئے۔ سارے اندازے پڑے کے پڑے رہ گئے۔ وہاں تو ہندوستان کی طرح ہر ریاست میں الگ الگ پارٹیاں اور تنظیم جیسی بات نہیں ہے،پھر بھی وہ غلط ثابت ہو گئے۔ اگر آمنے سامنے کی لڑائی میں اتنی بڑی چوک ہو سکتی ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ انڈیا ہو یا امریکہ، یہ انتخابی سروے بے معنی اور ناقابل اعتماد ہیں۔ ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتاہے۔
امریکہ کا صدر کون ہوگا، یہ چننے کا اختیار تو امریکہ کے لوگوں کا ہے۔ لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ امریکہ کا صدر دنیا کا سب سے طاقتور شخص ماناجاتاہے، اس لئے اس کی پالیسیوں کا اثر پوری دنیا پر ہوتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی جیت سے مسلم ملکوں میں بے چینی ہے۔ ساتھ ہی انتخاب کے دوران جس قسم کی اقتصادی پالیسی کی دُہائی دے کر انہوں نے انتخاب جیتا ہے، اس سے کئی ملکوں کی فکر بڑھ گئی ہے۔ گزشتہ سال دسمبرسے ہی ڈونالڈ ٹرمپ تنازعات میں گھرے رہے اور میڈیا کے نشانے پر رہے۔ انہوں نے اس وقت اسلام کے بارے میں متنازع بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر وہ جیت جاتے ہیں تو وہ امریکہ میںمسلمانوں کی انٹری پر پابندی لگائیںگے۔ اس بیان سے دنیا کے 1.5ملین مسلمان دلبرداشتہ ہوئے تھے اور اس بیان کی مخالفت امریکہ کے اندر بھی ہوئی تھی۔ امریکہ ایک اعتدال پسند جمہوری ملک ہے۔ اس کی بنیاد ہی کثیر جہتی تہذیب و مذہب پر ہے۔ ایسے میں ڈونالڈ ٹرمپ جیسے آدمی کا انتخاب جیت جانا ، دنیاکے لئے حیران کن ہے، وہیں امریکہ کے اندر بھی کئی لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ لوگوں نے غلط فیصلہ لے لیا۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کے سی ایٹل میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جیت سے ناخوش لوگوں نے ریلی نکالی۔ اسی دوران وہاں فائرنگ ہوئی۔ فائرنگ میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔ اس طرح کے احتجاج امریکہ کے کئی شہروں میں ہوئے۔
فی الحال ابتدا ہے، ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنے دور اقتدار میں ایسے احتجاج کا کافی سامنا کرناپڑے گا۔ کیونکہ امریکہ کے کئی لوگوں کو اب یہ لگنے لگا ہے کہ انہوں نے نیا صدر نہیں، بلکہ ایک نئی مصیبت کو وہائٹ ہائوس میں بھیجا ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *