امریکہ میں ہندوستانی طلباء تعداد میں 25 فیصد کا ریکارڈ اضافہ

dami00آزادی کے بعد ہندوستان نے تعلیم کے میدان میں تیزی سے ترقی کی ہے۔2011 کے ایک سروے میں قومی سطح پر ملک کا تعلیمی اوسط 74 فیصد بتایا گیا ہے۔حالانکہ یہ اوسط بھی کم ہے اس لئے حکومت نے ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک طلباء کے لئے وسائل اور سہولیات کی دستیابی کو آسان بنایا ۔14سال تک کے بچوں کے لئے مفت تعلیم کا بندوبست کیا گیا۔ جابجا اسکول کھولنے کی تجویز پر عمل شروع ہوا اور آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم، این آئی ٹی، ایمس، آئی ایس آئی، جے یو، بی آئی ٹس ایس اور آئی ایس بی میں داخلہ کے علاوہ بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کئے گئے ۔اس کا نتیجہ ہے کہ آج امریکہ جیسے ملک میں طلباء کی بڑی تعداد مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور اس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔
امریکی اعداد و شمار کے مطابق 2015 اور 2016 میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد میں 25 فیصد کا ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔2016 کے ‘اوپن ڈور ڈیٹا’ کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت میں سالانہ ساڑھے پانچ ارب ڈالر سے بھی زیادہ کی شراکت انڈین طلبا کی جانب سے ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق اس برس امریکہ میں ایک لاکھ 65 ہزار انڈین طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس گزشتہ برس یہ تعداد ایک لاکھ 32 ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔یہ رپورٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن نے امریکی محکمہ خارجہ کے تعلیمی و ثقافتی شعبے کے تعاون سے تیار کی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر گریجوئیٹ اور آپشنل پریکٹکل ٹریننگ کورسز میں مسلسل دوسرے برس بھی ہندوستانی طلبا کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا۔البتہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق پہلے کے مقابلے میں گزشتہ چار برسوں میں اس میں تقریباً 50 فیصد کی گراوٹ آچکی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں طلباء کی دلچسپی کے کم ہونے کی ایک وجہ تو برطانیہ کی جانب سے سخت ویزا کے اصول ہیں جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کا استحکام بھی اس کی ایک وجہ ہے۔
اس وقت امریکہ میں دوسرے ممالک کے زیر تعلیم طلبا میں سے پانچ لاکھ سے بھی زیادہ کا تعلق چین، ہندوستان اور سعودی عرب سے ہے۔اس فہرست میں چین اب بھی اول نمبر پر ہے اور ہندوستان کے مقابلے میں چین کے طلبا کی تعداد تقریباً دگنی ہے۔ لیکن رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں ہندوستان کی ترقی کی شرح چین سے کہیں زیادہ ہے۔انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن میں شعبہ ریسرچ کے نائب صدر راجیکا بھنڈاری کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کے استحکام کی وجہ سے ان ہندوستانی طالب علموں نیجنہوں نے اپنے منصوبے پہلے سے بنا رکھے تھے ،وہ امریکہ آ سکے۔ان کے مطابق ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ برطانیہ نے ویزا کے حصول کے قوانین سخت کر دیے ہیں اس کی وجہ سے بھی جو طلبا وہاں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند تھے ،وہ بھی امریکہ ہی آگئے ہوں۔اسی برس برطانوی پارلیمنٹ کے ایک گروپ نے کہا تھا کہ امیگریشن کے تعلق سے جو حکمت عملی اپنائی گئی ہے، اس سے عالمی سطح کے طلبا سے جو گراں قدر فائدہ پہنچ سکتا تھا ،اس کا نقصان ہورہا ہے۔
اب ذرا ہم دیگر ممالک میں شرح خواندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ خواندگی کی شرح مختلف ممالک میں الگ الگ ہے۔ مالی میں پندرہ سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کا صرف26.2 پڑھ لکھ سکتے ہیں۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 99 فیصد تک ہے۔دنیا کے وہ 20 ممالک جہاں خواندگی کی شرح بہت کم ہے، افریقہ میں ہیں۔ البتہ بنگلہ دیش اور پاکستان میں شرح خواندگی کا معاملہ کچھ الگ ہے۔ ان دونوں ملکوں کی شرحِِ خواندگی بالترتیب 53.5فیصد اور 54.2 فیصد ہیں۔
ان میں سے بہت سے ممالک میں لڑکیوں کو لڑکوں کی نسبت کم تعلیم دی جاتی ہے۔ چیریٹی پلان انٹرنیشنل کے مطابق موزمبیق اور نائیجر میں صرف تین فیصد لڑکیوں کو اسکول بھیجا جاتا ہے۔ شرح خواندگی میں کمی کے اسباب مختلف ہیں۔ کبھی وسائل میں کمی، منصوبہ جات میں کمزوری اور سب سے اہم بات یہ کہ اساتذہ میں کمی شرح خواندگی میں کمی کی بنیادی وجہ کہی جاتی ہے۔ وسطی افریقی ممالک میں 100 طلبا کے لیے ایک استاد ہے ۔ظاہر ہے ایک استاد کے لئے ایک سو طلباء کی نگرانی انتہائی مشکل کام ہے ۔ اسی لئے افریقہ تعلیمی میدان میں سب سے پیچھے ہے۔
تعلیم کو بہتر بنانے کے لئے کئی ممالک اس پر مناسب فنڈ مہیا کراتے ہیں ۔مثال کے طور پر برطانیہ اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا 23.4 فیصد پرائمری تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ کیوبا میں یہی خرچ تقریباً 44.7 فیصد ہے۔ کیوبا میں شرحِ خواندگی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے لیکن نوجوانوں کو تعلیم دینے کی ایک بڑی مہم کا مطلب ہے کہ وہاں نوجوانوں میں شرحِ خواندگی اب سو فیصد کے قریب ہے۔
چین میں دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی نظام ہے جہاں دنیا کے25فیصد طلباء کو تعلیم دی جاتی ہے۔ چین میں کالج کے طلباء کی تعداد جو1998 میں 6.2 ملین تھی، 2008 میں بڑھ کر 24 ملین سے کچھ کم ہے۔ امریکہ میں یہی تعداد 14 ملین ہے۔ گزشتہ برس چینی جامعات سے فارغ التحصیل 6.1 ملین نئے گریجوایٹس ملازمتوں میں آئے۔بہر کیف تعلیم کے میدان میں بہت سے ترقی یافتہ ممالک ہدف کو پانے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جو اس کو پانے کے لئے کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کا تعلیمی نظام بھی بہتر ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہ یہ بھی ترقی یافتہ ملکوں کی طرح کچھ برسوں میں اپنے ہدف کو پاسکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *