امرتسر کانفرنس میں پاکستان کے لئے پیغام

damiامرتسر میں 4دسمبر کو اختتام پذیر ہونے والی ’ہارٹ آف ایشیا کانفرنس‘ کے اختتام پر ایسا لگ رہا تھا گویا پاکستان پنے تئیں انتہائی بے بس اور مجبور محسوس کررہا ہو کیونکہ افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان پر پے درپے حملے کئے اور بالکل ویسا ہی رویہ اختیا رکیا جیسا کہ بھارت اپنے اس ’تلخ‘ پڑوسی (پاکستان )کے ساتھ رکھا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ کانفرنس میں موجود میڈیا کو بھی اس بات کا اندازہ تھا ،اس لئے پاکستان کو امرتسر میں جس ’تنہائی اور بے بسی‘ کا احساس ہوا، وہ بھارت میں اگلے دن کے سبھی بڑے اخبارات کی شہہ سرخیوں اور ٹیلی ویژن چینلوں پر پرائم ٹائم مباحثوں کا مواد بنا۔ امرتسر میں جو کچھ ہوا، وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان پائی جانے والی رسہ کشی اور تنائو کا نتیجہ تھا، جبکہ اس کے برعکس جو مہمان نوازی افغان صدر کو نصیب ہوئی، وہ بھارت اور افغانستان کے موجودہ رشتوں کی آئینہ دار تھی۔ اب جبکہ اشرف غنی بھی پاکستان اور اس کی دہشت گردی مخالف پالیسی کے تلخ ناقدین بن کر سامنے آچکے ہیں، اس سے بھارت کی پاکستان کے تئیں روایتی پالیسی کو بھی جوازیت ملتی ہے ، جو اکثر اسی دہشت گردی کے ارد گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ اگرچہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کا نام نہیں لیا لیکن انہوں نے یہ بات واضح الفاظ میں کہی کہ دہشت گردی کی پناہ گاہوں کا سختی سے خاتمہ کرنا ضروری ہے۔ ان کے اپنے الفاظ میں ’’ نہ صرف دہشت گردانہ قوتوں کے خلاف بلکہ ان طاقتوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ،جو دہشت گردی کی پشت پناہی کرتی ہیں، انہیں پنپنے کے لئے وسائل فراہم کرتی ہیں اور تربیت دے کر تیار کرتی ہیں ‘‘ ۔انہوں نے یہ بات دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے ضرور کہی لیکن انہوں نے اسے واضح طور پر افغانستان کے امن کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے کہا ۔اتنا ہی نہیں ، اشرف غنی نے نہ صرف پاکستان پر بغیر کسی لگی لپٹی کے الزامات کی بوچھاڑ کی بلکہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز کی جانب سے افغانستان کو کی گئی پانچ سو ملین امریکہ ڈالر کی پاکستانی پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا۔ انہوں نے کہا ’’ مسٹر عزیز! بہتر ہوگا کہ اس رقم کو ’انتہا پسندی ‘ کو روکنے کے کام میں خرچ کیا جائے کیونکہ قیام امن کے بغیر یہ رقومات ہمارے عوام کے کسی کام کی نہیں ‘‘اس طرح سے پوری کانفرنس کے دوران ایک طرف جہاں بھارت اور افغانستان کے خوشگوار اور دوستانہ تعلقات ابھر کر سامنے آئے ،وہیں بھارت کی وہ دیرینہ خواہش بھی بر آئی، جو وہ اس کے سب سے زیادہ سخت پڑوسی (پاکستان )کو اس کے مد مقابل کھڑا کرکے پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کے حوالے سے پوری کرنا چاہتا تھا۔ اس سب کے باوجود کانفرنس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ کافی محتاط نوعیت کا تھا اور اس میں سبھی کے وقار کا خیال رکھا گیا تھا۔ تاہم نئی دلی نے سرتاج عزیز کے تئیں سردمہری کا اظہار کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ پاکستان کے ساتھ اس کی ملاقات کسی بھی طور پر ترجیحات میں شامل نہیں تھی۔ حالانکہ سرتاج عزیز نے نریندر مودی کے ساتھ مصافحہ کیا، بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال کے ساتھ ایک غیر رسمی ملاقات کی لیکن خارجہ امور کے ترجمان وکاس سوروپ نے انتہائی شاطرانہ انداز میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ اجے دووال اور سرتاج عزیز کے درمیان کوئی بھی رسمی ملاقات یا گفت و شنید نہیں ہوئی اور جس انداز میں سرتاج عزیز کو میڈیا سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی، اس کا واضح اشارہ تھا کہ اب پاکستان کے ساتھ افہام و تفہیم کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے اور بظاہر یہ پاکستان کو ایک واضح پیغام تھا کہ وہ اب ایک دوست ملک نہیں رہا جبکہ دوسرے الفاظ میں یہ اس سلوک کا بدلہ بھی تھا، جو بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے ساتھ اسی سال اگست میں پاکستان میں روا رکھا گیا تھا، جب وہاں کے وزیر داخلہ نے سارک ممالک کے وزرائے داخلہ کے اعزاز میں دیئے گئے عشایہ کا بائیکاٹ کیا۔ اس دوران اسلام آباد نے جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید اور اور حزب المجاہدین کے سرغنہ سید صلاح الدین کو بھی کھلے عام بھارتی وزیر داخلہ کے خلاف احتجاج کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس طرح سے پاکستان کو ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ’ہارٹ آف ایشیا کانفرنس ‘کے دوران الگ تھلگ کردیا گیا اور اس دوران افغانستان اور بھارت کے تازہ یارانے کو پوری قوت کے ساتھ اجاگر کرنے کی کامیاب کوشش بھی کی گئی۔ اس کے باوجود بھی اگر دیکھا جائے تو اسلام آباد کا کوئی خاص نقصان بھی نہیں ہوا کیونکہ اس موقعہ پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، اس میں سبھی ممالک کے مسائل کو یکساں ابھارا گیا گو کہ اس کا مرکز افغانستان ہی رہا۔ اعلامیہ میں 9تنظیموں کا تذکرہ کیا گیا،جن میں دو خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور یہ دونوں جموں و کشمیر میں متحرک ہیں، ان کی پشت پناہی کے لئے بھارت ہمیشہ سے پاکستان کوذمہ دار قرار دیتا رہا ہے۔ اعلامیہ میں پہلی بار کچھ تنظیموں کو ان کے نام کے ساتھ مخاطب کیا گیا، ان میں آئی ایس آئی ایل ، داعش اور ان کی حامی جماعتیں ، حقانی نیٹ ورک ، القاعدہ، اسلامک مومنٹ آف ازبکستان ، ایسٹ ترکستان اسلامک مومنٹ ، لشکر طیبہ، جیش محمد، تحریک طالبان پاکستان، جماعۃ الاحرار اور جند اللہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اگر چہ اعلامیہ میں لشکر اور جیش جیسی تنظیموں کو جگہ دے کر بھارت کی شکایتوں کا زالہ کیا گیا لیکن دوسری جانب ان گروپوں کوبھی اس میں شامل کیا گیا جو پاکستان کو نشانہ بنارہے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ مشترکہ اعلامیہ کی زبان کافی محتاط ہے بلکہ ایسا روس کی وجہ سے ممکن ہوسکا، جو بروقت پاکستان کے دفاع میں اتر آیا اور اس طرح سے معاملات دو ممالک کے باہمی نہ رہتے ہوئے کئی ممالک کے مشترکہ ہوگئے اور ان کو ایک نئی جہت ملی۔ روس کے سرکردہ سفارت کارزریم کابلوف نے افغان صدر اشرف غنی کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’ میں یہ بات مانتا ہوں کہ مسٹر اشرف غنی کو یہ سب کہنے کا حق حاصل ہے لیکن ’ہارٹ آف ایشیا کانفرنس ‘ ممبر ممالک کے درمیان اسکور بڑھانے کا صحیح پلیٹ فارم نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہارٹ آف ایشیا ایک ڈائیلاگ پلیٹ فارم ہے ،جہاں پر کسی مسئلہ کاحل تلاش کیا جاسکتا ہے، کسی دیرینہ علاقائی مسئلہ کے حوالے سے ضمیمہ جات کی یہاں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے،ہم چاہتے ہیں کہ اس وقت دو طرفہ الزام تراشی کو ایک طرف رکھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے کیونکہ ان شکایات کے بعد بھی زندگی چلتی رہے گی اور آپ دونوں ممالک صدیوں تک ایک دوسرے کے پڑوسی رہیں گے جو کہ روسی وفاق کے حق میں بھی بہتر ہے‘‘انہوں نے یہ بات ایک انٹرویو کے دوران کہی اور شاید اسی بات نے اس ماحول کو تبدیل کردیا ، جو کانفرنس پر حاوی ہورہا تھا۔ یہ نہ صرف ایک نئی حقیقت ہے کہ آج کی تاریخ میں روس اور پاکستان ایک دوسرے کے کافی قریب آرہے ہیں بلکہ یہ بھی سچ ہے کہ اس تناظر میں اول الذکر اُس ’ جاہ طلب ‘ گلیارے میں بھی شامل ہونا چاہتا ہے جو پاکستان سے ہوکر گزرتا ہے، ساتھ ہی یہ اس بات کا بھی واضح اشارہ ہے کہ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد اس خطے میں بھی کچھ بڑی تبدیلیا وقوع پذیر ہونے والی ہیں۔ یہاں روس، چین اور پاکستان پر ایک نیا دوستانہ بلاک ابھر کر سامنے آتا دکھائی دے رہا ہے اور امریکہ کی مجبوری ہے کہ وہ خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو قابو میں رکھنے کے لئے ’بین بحرِ اوقیانوس شراکت داری ‘ پر مبنی حکمت عملی ترتیب دے اور اس کے لئے امریکی صدر باراک اوبامہ نے باضابطہ طور پر ایک خاکہ پہلے سے ہی مرتب کررکھا ہے۔ اس منصوبے کو خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو قابو میں رکھنے کے لئے علاقائی ممبران کے ساتھ فوجی، سیاسی اور اقتصادی اشتراک پر مبنی پالیسی ترتیب دینے کی غرض سے تیار کیا گیا تھا لیکن امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مذکورہ سمجھوتہ ، جس پر تقریباً ایک درجن ممالک نے دستخط کئے ہیں، ان کے ملک کے لئے ’ایک بھیانک نقصان ‘ ثابت ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجائے اس کے ان کا انتظامیہ ایسے دو طرفہ اور شفاف کاروباری معاہدوں پر توجہ مرکوز کرے گا، جن کے ذریعے امریکی ساحلوں تک کام اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس حوالے سے جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کو راضی کرنے سے قاصر رہے،جنہوں نے نومبر کے دوسرے ہفتے میں واشنگٹن کا دورہ کیا ۔ بارہ ممالک پر مشتمل اس نئے کاروباری منصوبے کا مقصد ان ممالک کے درمیان سامان کی با آسانی آمدو رفت کو ممکن بناتا تھا تاکہ خطے میں چین کی بالادستی کا مقابلہ کیا جاسکے۔ یہاں یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ مذکورہ منصوبہ پر عمل نہ کرنے کا مطلب چینی جارحیت کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ اس طرح سے نئے رشتوں کی مجموعی صورت حال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ابھی تک خطے میں بھارت کی بالادستی قائم ہے اور پاکستان نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ مقامی اور علاقائی سطح پر بھی الگ تھلگ ہوتا جارہا ہے، اس تناظر میں یہ بھارت کے لئے نادر موقعہ ہے کہ وہ تمام باہمی معاملات بشمول مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پہل کرے۔ حالات کی نبض پر انگلی رکھنے والے اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اگلی ایک دہائی میں پاکستان ، چین اور روس کی بڑھتی ہوئی دوستی کے تناظر میں بھارت اس پوزیشن میں نہیں ہوگا کہ وہ معاملات کے حل کے حوالے سے اپنی رٹ منوا سکے، جیساکہ وہ اب منوا سکتا ہے۔افغانستان اگرچہ بھارت کا دوست بنا رہے گا لیکن کیا پاکستان علاقے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی مداخلت کو برداشت کرنے کی اجازت دے گا؟شاید نہیں!

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *