مودی سرکار وقف بورڈ کو نہیں دے رہی ہے پیسہ

مودی سرکار اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے مفاد کی باتیں خوب کرتی ہے،لیکن دیکھیں تو مودی سرکار کا یہ دعویٰ کھوکھلا ثابت ہورہا ہے۔ مودی سرکار نے اپنے ڈیرھ سال کے دور کار میں مسلمانوں کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے۔ نریندر مودی کے پاس مسلمانوں میں بنی ان کی خراب اور غیر اطمینان بخش شبیہ کو سدھارنے کا بڑا موقع وزیر اعظم کی شکل میں ملا تھا،لیکن مسلمانوں کے تئیں ان کے کاموں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اپنی شبیہ نہیں سدھارنا چاہتے ہیں۔

Read more

شینجو ابے کا ہندوستانی دورہ کامیابیاں اور خدشات

اور ہندوستان کے درمیان ثقافتی ا ور تجارتی رشتو ں کی ایک پرانی روایت رہی ہے۔جاپان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے شعبے میں ہمیشہ سے ہندوستان کا ایک اہم ساتھی رہا ہے۔ لیکن، ہندوستان کے ذریعہ نیوکلیئر ٹیسٹ کے بعد دونوں ملکوں کے تجارتی رشتوںمیںکھٹاس پیدا ہوگئی تھی، نتیجتاً دونوں ملکوںکے درمیان تجارت کے اعدادوشمار کوئی حوصلہ افزا تصویرپیش نہیںکرتے تھے۔ گزشتہ کچھ سالوں میںدونوں ملکوں کے رشتوں میں ہر نقطہ نظر سے بہتری آئی ہے اور اس میںلگاتار مضبوطی آرہی ہے۔جاپان کے وزیر اعظم شینجو ابے کا تین روزہ حالیہ دورہ دونوںملکوں کے بیچ کے رشتوں کو مظبوطی دینے کی اگلی کڑی تھا۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کا مشترکہ مفاد یہ ہے کہ جرمنی اور برازیل کے ساتھ ساتھ ہندوستان اورجاپان بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے جی 4- میں توسیع کے حق میں ہیں۔

Read more

پیرس آب و ہوا سمجھوتہ نہ کسی کی جیت، نہ کسی کی ہار

فرانس کی راجدھانی پیرس میں 30 نومبر سے 12 ستمبر 2015 کے بیچ منعقعدہ آب و ہوا کانفرنس (سی او پی 21-) کامیاب ثابت ہوئی۔ پیرس آب وہوا کانفرنس میں شامل ہونے والے 196 وفد (195 ملک اور یوروپی یونین) دنیا کو گلوبل وارمنگ کے خطرے سے بچانے کے لےے نئے ماحولیاتی سمجھوتہ کو آخری شکل دینے میں کامیاب ہوئے اور آب وہوا میں تبدیلی سے متعلق یونائٹیڈ نیشنس فریم ورک سمجھوتہ پر دستخط کےے۔ دنیا بھر کے گرین ہاو¿س گیس کا ا خراج کرنے والے کم سے کم 55 ملکوں (جو کل 55 فیصد گرین ہاو¿س گیس خارج کرتے ہیں) کی منظوری ملتے ہی یہ سمجھوتہ لاگو ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ سبھی ممبر ملکوںکو 22 اپریل 2016 سے 21 اپریل 2017 کے بیچ اس نئے سمجھوتہ پر دستخط کرنے ہوں گے۔اس کے ساتھ ہی اپنے اپنے ملک کے قانونی یا قانونی عمل کے تحت سمجھوتہ کے پروویژن کو لاگو کرناہوگا۔ اس سمجھوتہ میں کلائمیٹ جسٹس کی بات کی گئی ہے اور اس میںماحولیات کی حفاظت کی ذمہ داری بڑے طاقتور اور امیر ملکوںپر ڈالی گئی ہے۔ اس سمجھوتہ کو تاریخی ٹرننگ پوائنٹ مانا جارہا ہے۔سمجھوتہ کے مطابق عالمی درجہ¿ حرارت کی حد 2 ڈگری سیلسئس سے کافی کم رکھنے اور اس مسئلہ سے نمٹنے میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لےے سال 2020 سے سو ارب ڈالر سالانہ کی تجویز ہے۔

Read more