یہ گھوٹالے کا لڑاکو طیارہ ہے

damiکیالڑاکو طیارہ رافیل کی خریداری میں کوئی بڑا گھوٹالہ ہوا ہے؟کیا امبانی کو فائدہ پہنچانے کے لئے رافیل ڈیل کیاگیا ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہے جسے ملک کا میڈیا جانتا تو ہے،لیکن کھل کر سوال نہیں پوچھ رہا ہے۔ کیا یہ ڈیل امبانی کو فائدہ پہنچانے کے لئے کیا گیا ہے؟طیاروں کو کتنے میں خریدا گیا ؟کیا ٹیکنالوجی ٹرانسفر ہوگی؟یو پی اے کے دوران جن نکتوں پر معاہدہ ہوا، اسے مودی سرکار نے کیوں خارج کیا اور گھوٹالے کا سودہ کیا؟جس کمپنی سے ہم یہ طیارہ خرید رہے ہیں، اس کمپنی کی مالی حالت کیا تھی؟کیا ہمارے پاس اس سے بہتر طیارہ خریدنے کا متبادل تھا؟سوال یہ بھی ہے کہ ڈیل فائنل ہونے کے بعد امبانی کی ریلائنس کمپنی نے جوائنٹ وینچر کیوں بنایا ؟یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کیا سیکورٹی کے نام پر یا پاکستان کا ڈر دکھا کر مودی سرکار ماڈرن ہتھیاروں کی خریداری میں جلد بازی اور ہیرا پھیری تو نہیں کر رہی ہے؟ایسے کئی سوال ہیں، جن کے جواب جاننے ضروری ہیں۔
سرکار بدلنے کے ساتھ ساتھ ملک میں گھوٹالہ کرنے کا طریقہ بھی بدل جاتا ہے۔ پہلے زمانے میں وزیر رشوت لیتے تھے، تب اسے گھوٹالہ کہا جاتا تھا، بعد میں گھوٹالے کا طریقہ بدلا اور دستاویز میں لفظوں کی ہیرا پھیری کرکے گھوٹالہ کیا جانے لگا،پھر پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ مل کر لوٹنے کی روایت چلی۔مطلب یہ ہے کہ گھوٹالے کی شکل اب پہلے سے بہتر اور صاف ستھری دکھائی دینے لگی ہے۔ اب گھوٹالے کی جو شکل ہے، اس کا مطلب پرائیویٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانا ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رافیل ڈیل اب شک کے گھریے میں ہے، وہ اس لئے کیونکہ مودی سرکار اس سمجھوتے کو لے کر اٹھ رہے سوالوں کا جواب نہیں دے رہی ہے۔ یو پی اے سرکار کے دوران رافیل لڑاکو طیارہ کا سودہ اس لئے پورا نہیں ہو سکا کیونکہ سرکار کو لگا کہ اس کی قیمت زیادہ ہے۔ قیمت پر تول مول ہو ہی رہا تھا کہ سرکار بدل گئی ۔اب جب ڈیل ہوئی تو یہ ماننا چاہئے کہ پہلے کی قیمت سے کم میں ہوئی ہوگی۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ مودی سرکار اسی طیارے کو چار سال بعد طے شدہ قیمت سے دوگنی سے زیادہ قیمت دے کر خرید رہی ہے۔ معاملہ صرف قیمت کا ہی نہیں ہے، اس میں انیل امبانی کی ریلائنس کمپنی کو بھی حصہ دار بنا دیا گیا ہے۔ اس سے ریلائنس کمپنی کو ہزاروں کروڑ کا منافع ہونے کی امید ہے۔ جانکار بتاتے ہیں کہ رافیل ڈیل کا سارا فیصلہ وزیر اعظم دفتر میں ہوا۔ اس فیصلے کو اتنا خفیہ رکھا گیا تھا کہ وزیر دفاع تک کو اس کی بھنک نہیں تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ اتنے خفیہ طریقے سے گھاٹے کا سودہ کر کے کسی پرائیویٹ کمپنی کو فائدہ پہنچانا، اگر گھوٹالہ نہیں ہے تو کیا ہے؟رافیل گھوٹالے میں گڑبڑی ہوئی ہے،یہ بات پوشیدہ نہیں ہے۔ رافیل ڈیل میں ہوئے گھپلے بازی کو لے کر سب سے پہلے بی جے پی کے لیڈر سبرامنین سوامی نے آواز اٹھائی تھی۔ وہ بہت پہلے سے یہ کہتے آرہے تھے کہ رافیل سودے میں گھپلے بازی ہو رہی ہے ۔ انہوں نے اس معاملے کو عدالت میں گھسیٹنے کی بھی دھمکی دی تھی۔ حال میں ’سوراج ابھیان ‘کے یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن نے بھی رافیل سمجھوتے پر سوال اٹھائے تھے۔ ان کا یہ الزام تھا کہ جس غیر ملکی کمپنی کو بلیک لسٹ میں ڈالنا چاہئے تھا،اسی کے ساتھ مرکزی سرکار نے رافیل طیارے کا سمجھوتہ کیا۔ ’سوراج ابھیان‘ نے اپنے الزامات کے حق میں دستاویز بھی جاری کئے اور یہ الزام لگایا کہ پورے معاملے کی جانکاری وزیر اعظم ، وزیر دفاع، قومی دفاعی صلاح کار اور سی بی آئی کو ہے، لیکن مرکزی سرکار کوئی قدم نہیں اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے سرکار سے طیارہ سمجھوتے سے جڑی جانکاریاں عوامی کرنے کی مانگ کی، تاکہ ابتدا ئی بات چیت میں طے ہوئی قیمت سے دوگنے سے زیادہ پر ہوئے سمجھوتے کی وجہ کا پتہ چل سکے۔
لڑاکو طیارہ رافیل کی خریداری ایک خاص نقطہ نظر سے کی گئی،جب ہندو پاک کے بیچ رشتے خراب ہو گئے۔ سرحد پر لگاتار گولی باری اور پٹھان کوٹ اور اڑی جیسے حملوں نے ملک میں انتہائی قوم پرستی کا ماحول بنا دیا تھا۔اسی ہندو پاک کی کشیدگی کے بیچ فرانس کے ساتھ رافیل فائٹر طیارہ کو لے کر پچھلے چار سال سے چلی آرہی ڈیل سرکار نے دوگنی سے بھی زیادہ قیمت دے کر فائنل کردی۔ ڈیل کے فائنل ہوتے ہی میڈیا اور خاص طور پر ٹی وی چینلوں نے یہ نشر کرنا شروع کردیا کہ یہ لڑاکو طیارہ پاکستان کے ایف 16 کا اسٹک جواب ہے۔ پاکستان کو نیست و نابود کرنے کے لئے رافیل سے بہتر کوئی ہتھیار نہیں ہے۔ میڈیا نے لوگوں کے دماغ میں یہ بیٹھا دیا کہ رافیل کا سودہ ہندوستان کے لئے ہر معنی میں منافع کا سودہ ہے۔ کسی نے اس بات کا ذکر تک نہیں کیا کہ یہ سودہ کتنے میں ہوا، پہلے کتنے میں ہو رہا تھا؟ساتھ ہی یہ تو کسی نے بتایا تک نہیں کہ اس ڈیل کے پیچھے امبانی کی ریلائنس گروپ کو بیٹھے بیٹھائے ہزاروں کروڑوں کا فائدہ ہوگا۔
رافیل ڈیل شک کے گھیرے میں اس لئے ہے کیونکہ چار سال پہلے جب فرانس کے ساتھ فائٹر طیارہ کی خرید اری کے لئے سمجھوتہ ہوا تھا تب اس کے تحت 126 طیاروں کو 10.2 بلین ڈالر میں خریدنے کی تجویز تھی۔ اس حساب سے ہر طیارہ کی قیمت تقریباً 81 ملین ڈالر تھی۔ چار سال پرانی ڈیل میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی بھی بات شامل تھی۔ مودی سرکار نے رافیل کے لئے جو سمجھوتہ کیا، اس میں صرف 36 طیاروں کو 8.74 بلین ڈالر میں خریدا جانا ہے۔مطلب یہ ہے کہ ایک طیارہ کی قیمت 243 ملین ڈالر ، وہ بھی بغیر ٹکنالوجی ٹرانسفر کے۔ اب سوال تو پوچھنا لازمی ہے کہ چار سال میں ایسے کیا بات ہو گئی کہ رفیل کی قیمت دوگنی سے زیادہ ہو گئی ۔
طیارے کی خریداری کی سرگرمی یو پی اے سرکار نے 2010 میں شرع کی تھی۔ 2012سے لے کر 2015 تک اسے لے کر بات چیت چلتی رہی۔ جب 126طیاروں کی بات چل رہی تھی، تب یہ سودہ ہوا تھا کہ 18 طیارہ ہندوستان خریدے گا اور 108 طیارہ ہندوستان سرکار کی کمپنی ہندوستان ایئروناٹیکس اسمبل کرے گی ۔اور تو اور ہندوستان کو طیارہ بنانے کے لئے ٹیکنالوجی بھی ملنے والی تھی۔ اپریل 2015 میںمودی سرکار نے پیرس میں اعلان کیا کہ ہم 126 طیاروں کے سودے کو رد کررہے ہیں اور اس کے بدلے 36 طیارہ سیدھے فرانس سے خرید رہے ہیں اور ایک بھی رافیل طیارہ بنائیں گے نہیں۔ خبر یہ بھی آئی کہ رافیل بنانے والی کمپنی دستے کو ہندوستانی سرکار 15 فیصد ایڈوانس رقم دے گی، تب ان طیاروں پر کام شروع ہوگا۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دسّو کمپنی بند ہونے کے دہانے پر تھی۔اس طیارے کو خریدنے والے خریدار نہیں مل رہے تھے کیونکہ اتنی قیمت پر دنیا میں اس سے بہتر لڑاکو طیارہ فراہم ہیں۔ جانکاروں کا ماننا ہے کہ ہندوستان نے اس سودے کے ذریعہ دسو کمپنی کو ختم ہونے سے بچایا ہے۔ اس ڈیل کے ہوتے ہی اس کمپنی کے شیئر آسمان میں اڑنے لگے تھے۔
ایک طرف دہشت گردانہ حملے کے نقطہ نظر سے سرکار نے افرا تفری میں ڈیل کو ہری جھنڈی دی، لیکن حیرانی تو تب ہوتی ہے کہ جب اس کے فوری بعد انیل امبانی کی قیادت والے ریلائنس گروپ اور رافیل طیارہ بنانے والی کمپنی دسو ایوی ایشن جوائنٹ وینچر لگانے کا اعلان کرتا ہے۔ اب یہ کوئی کہے کہ رافیل سودے کے پہلے کسی کو اس بات کی جانکاری نہیں تھی تو یہ بات کسی کو ہضم نہیں ہوگی۔ دونوں کمپنیوں کے بیچ ہوئے جوائنٹ وینچر سے یہ صاف لگتا ہے کہ سرکار،دسّو اور ریلائنس نے مل جل کر ایک ایسا مسودہ تیار کیا، جس سے بند ہونے والی کمپنی دسّو بچ بھی جائے اور ریلائنس کو فائدہ بھی ہو جائے۔یہ اس لئے کہ جوائنٹ وینچر کا مقصد ہی یہ تھا کہ پورے سودے کی پچاس فیصد رقم کو ’آفسیٹ‘ کانٹریکٹ کو پورا کرنے میں ریلائنس اہم کردار ادا کرے گا۔ اس بات سے شک اور بھی پختہ ہوتا ہے کیونکہ ہندوستان اور فرانس نے 23ستمبر کو 36رافیل لڑاکو جیٹ کے لئے سمجھوتے پر دستخط کرنے کے بعد جوائنٹ وینچر دسو ریلائنس ایئرو اسپیس تشکیل کئے جانے کا اعلان کیا ہے۔
لڑاکو طیارہ کا یہ سودہ 7.87 ارب یورو (تقریباً 59,000کروڑ روپے) کا ہے۔ آفسیٹ کنٹریکٹ کے تحت متعلقہ کمپنی کو سودے کی رقم کا ایک مقررہ فیصد لگانا پڑتا ہے۔ سمجھوتے میں 50 فیصد آفسیٹ ذمہ داری ہے جو ملک میں اب تک کا سب سے بڑا آفسیٹ کنٹریکٹ ہے۔ آفسیٹ سمجھوتے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اس کا 74فیصد ہندوستان سے امپورٹ کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 22,000 کروڑ روپے کا سیدھا کارو بار ہوگا۔ اس میں ٹکنالوجی پارٹنرشپ کی بھی بات ہے، جس پر ڈیفنس ریسرچ اور ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن ( ڈی آر ڈی او ) کے ساتھ چرچا ہو رہی ہے۔ رافیل سودے میں دیگر کمپنیاں بھی ہیں جن میں فرانس کی ایم بی ڈی اے اور تھیلس شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سیفران بھی آفسیٹ کنٹریکٹ کا حصہ ہے۔ دونوں کمپنیوں کے مشترکہ بیان کے مطاق’ان آفسیٹ کنٹریکٹوں کے نافذ کرنے میں جوائنٹ وینچر دسّو ریلائنس ایئرواسپیس مین کمپنی ہوگی۔ اس جوائنٹ وینچر کے لئے مہاراشٹر کے ناگپور میں 100 ایکڑ زمین کا ایک پلاٹ بھی دے دیا گیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ نئی کمپنی رافیل فائٹرس جیٹ کے لئے پوری سپلائی چین تیار کرے گی۔
سوال یہ ہے کہ سرکار انیل امبانی کی ریلائنس پر اتنی مہربان کیوں ہے؟انیل امبانی کا دفاعی شعبے میں کیا مہارت ہے۔اتنے بڑے ڈیل کے پہلے ریلائنس نے توپ اور ٹینک تو چھوڑ دیں، کیا کبھی کوئی ریوالور یا پستول بھی بنائی ہے۔دفاعی شعبے میں ریلائنس کا تجربہ صفر ہے،پھر بھی مودی سرکار نے ہندوستان کی سیکورٹی میں استعمال ہونے والے سب سے اہم لڑاکو طیارہ کو فضائیہ تک پہنچانے اور مینٹین کرنے کی ذمہ داری ریلائنس کو کیوں دے دی؟حیرانی کی بات یہ ہے کہ ریلائنس گروپ نے دفاعی سیکٹر سے جڑی کمپنی کی تشکیل جنوری 2015 میں کی تھی۔ کیا مرکزی سرکار کو یہ سوچنا نہیں چاہئے تھا کہ یہ معاملہ قومی سیکورٹی سے جڑا ہے۔ سرحد پر تنائو ہے۔ چین اور پاکستان سے خطرہ ہے اور ہم اپنی ملک کی سیکورٹی کے لئے ایسی کمپنیوں سے سمجھوتہ کررہے ہیںجس میں ایک تو بندہونے کے دہانے پر ہے اور دوسری جس نے آج تک ایک چھری بھی نہیں بنائی ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب وزیر اعظم دفتر میں لئے گئے فیصلے کے ذریعہ ہوا اور وزیر اعظم اپنی اس ذمہ داری سے بچ نہیں سکتے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *