سید علی شاہ گیلانی بیٹوں کو جوان ہوتے نہیں دیکھ پائے

01سید علی شاہ گیلانی صرف حریت کے لیڈر ہیں۔ گیلانی صاحب تاعمر کشمیر کے عوام کے حقوق کے لیے لڑتے رہے۔ کئی بار جیل گئے، نظر بند بھی ہوئے، پولیس کی لاٹھیاں بھی کھائیں، یہ ان کی زندگی کا ایک پہلو ہے جسے ساری دنیا جانتی ہے۔ لیکن ان کی زندگی کا ایک انسانی پہلو بھی ہے، جس کے بارے میں دنیا انجان ہے۔ وہ ایک نرم دل انسان ہیں۔ ان کے سینے میں بھی ایک دھڑکتا ہوا دل ہے۔ وہ ایک باپ بھی ہیں۔ گھر کے آنگن میں بچوں کے ساتھ نہ کھیلنے کی کسک بھی ہے۔ لیکن سیاست اور جدوجہد میں علی شاہ گیلانی کی زندگی ایسی الجھی کہ اپنے خاندان کو اتنا وقت نہیں دے سکے ، جس کا انھیںملال ہے۔ ’چوتھی دنیا‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے پہلی بار گیلانی صاحب کے اندر کے اُس انسان کو تلاش کیا، جو اپنی زندگی میںاپنے بچوںکے بچپن کو نہ دیکھ پانے، بچوںکو بڑا ہوتے ہوئے نہ دیکھ پانے، بچوں کی شرارتوں کو نہ دیکھ پانے کی کسک لیے، لیکن اس کسک کو اپنے دل میںخاموشی کے ساتھ بند کیے اپنے مقصد کے لیے لڑنے کی تیاری کرتارہا۔

پچھلی بار جب میں کشمیر گیا تھاتو گیلانی صاحب سے ملنے کی کوشش کی تھی۔لیکن پولیس نے ملنے نہیں دیاتھا۔ حالانکہ پولیس کے آئی جی کو ہم بتا کر آئے تھے کہ ہم گیلانی صاحب سے ملنے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھاکہ ضرور ملئے،کوئی دقت نہیں ہوگی۔لیکن شاید انہوں نے ہی وہاں فورس بھیج دی،بہت زیادہ فورس بھیج دی جس نے گیلانی صاحب کے گھر کو اوراس راستے کو روک دیا۔ میں اس بار نہیں مل پایا ، ملنے کا وقت تین بجے مقرر تھا۔
اس بار پھر میں نے کوشش کی اور میں گیلانی صاحب کے گھر پھر پہنچا۔ وقت وہی تین بجے کا تھا۔ مجھے صرف 15منٹ کا وقت گیلانی صاحب نے دیا تھا۔ میں نے سوچا 15 منٹ میں ہی میں جتنی بات کرسکتا ہوں ،اتنی ہی بات کروں گا اور چونکہ پولیس نے مجھے کہا تھا کہ میں موبائل نہ لے جائوں لہٰذا میں موبائل گاڑی میں چھوڑ کر گیلانی صاحب کے پاس گیا۔ ایک لمبا سا احاطہ ہے جس میں ایک گلیارہ ہے، گلیارے کے بعد گیلانی صاحب کے کمرے تک ایک سیمنٹ کا راستہ ہے۔ بائیں طرف چھوٹا سا لان ہے۔ اس کے بعد وہ بیٹھک شرع ہوتی ہے جہاں گیلانی صاحب سے لوگ جاکر ملتے ہیں۔ میں اس بیٹھک میں پہنچا اور میں نے سامنے خالی کمرہ پایا۔ اس کمرے کے اندر میں اور میرے ساتھ گئے ہارون ریشی بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر میں گیلانی صاحب کے چھوٹے بیٹے نسیم اور ان کے کچھ معاونین بھی آکر صوفے پر بیٹھ گئے۔ گیلانی صاحب اندر سے آئے اور اس کرسی پر بیٹھ گئے جس پر اکثر وہ بیٹھتے ہیں، میں نے ابتدائی دعاء و سلام کے بعد انہیں اپنا تعارف دیا اور پچھلی بار نہ ملنے کی وجہ بتائی تو انہوں نے کہا کہ ہاں آپ پچھلی بار آئے تھے ، میں ملنا بھی چاہتاتھا لیکن سرکارنے آپ کو نہیں آنے دیا تو اب کیا کیا جاسکتاہے۔گیلانی صاحب سے میری تقریباً 20منٹ بات چیت ہوئی، جس کا تعلق تاریخ، کشمیر کے لوگوں کی تکلیف (جیسا وہ سمجھتے ہیں) ابھی کے کشمیر کے حالات اور موجودہ کشمیر کے حالات ،ان ساری چیزوں پر وہ لگ بھگ 20منٹ تک سمجھاتے رہے۔ جب وہ سمجھا رہے تھے تو ہم ان کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔مجھے لگا کہ اس شخص نے پوری زندگی صرف اور صرف سیاست کی ہے، کیا سیاست کے علاوہ ان کے من میں کبھی کچھ اور نہیں آیا، وہ بول رہے تھے اور میرے ہاتھ نوٹس لے رہے تھے لیکن میرا دماغ کہہ رہا تھا کہ میں ان سے یہ ضرور پوچھوں کہ کیا ان کے من میں کوئی کسک باقی رہ گئی ہے۔ پہلا سوال میں نے یہ پوچھا کہ اس وقت آپ کی عمر کیا ہے؟تو انہوں نے کہا87سال اورتب مجھے لگا کہ اس شخص سے ان چیزوں کے بارے میں ضرور پوچھنا چاہئے جو شاید لوگ نہیں پوچھتے ہوں گے۔اچانک میں نے گیلانی صاحب سے پوچھا کہ سر آپ کے من میں کہیں کچھ ایسی کسک تو نہیں رہ گئی ہے کہ میں یہ کرتا تو زیادہ اچھا رہتا ،وہ کرتا تو زیادہ اچھا رہتا یادوسرے لفظوں میں سیاست کے علاوہ بھی آپ کے من میں کچھ چل رہا تھا جیسے کئی لوگوں کے من میں یہ بات ہوتی ہے کہ میں سینما ایکٹر ہوتا اور ایکٹنگ کرتا تو بہت اچھا ہوتا،کسی کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ میں بہت اچھا میوزیشئن بنتا؟میں نے ان سے پوچھا کہ ایسی کون سی چیز ان کے من میںرہ گئی ہے،کیونکہ 87سال کا مطلب ایک پوری دنیا ہوتی ہے ،تو اس میں کون سی ایسی چیز پالٹیکس کے علاوہ رہ گئی جو پالیٹکس کی وجہ سے نہیں ہوپائی؟کیا آپ نے اپنے بچوں کو پورا وقت دیا؟میں یہ سوال پوچھ رہا تھا اور گیلانی صاحب ان سوالوں سے بے چین تو نہیں ہوئے لیکن ان میں تھوڑا انسانی تاثر ابھرنے لگا اور شاید میرا آخری جملہ کہ’ کیاآپ نے اپنے بچوں کو پورا وقت دیا‘ وہ کچھ بے چین سے ہوگئے۔انہوں نے پہلے میری طرف دیکھا، پھر اپنے بیٹے نسیم کی طرف دیکھا جو وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور بولے ، ہاں۔۔۔یہ چیزیں میرے من میں رہی تو ہیںاور پھر انہوں نے کہا کہ یہ میرا دوسرا لڑکا ہے۔ اس سے بڑا نعیم ہے۔وہ ڈاکٹر ہے اور یہ بھی ڈاکٹر ہیں لیکن فلاسفی میںہیں۔یہ گیارہ مہینے کے تھے جب ان کی ماں کی وفات ہوگئی،ماں کی وفات کے بعد ہمارے یہاں ایک خاتون جو ٹیچر کے طور پر رہ رہی تھیں، اِنہوں نے اپنا سارا بچپن باندی پورہ میں ان کے ساتھ گزارا،بلکہ بچپن ہی نہیں، یونیورسٹی تک باندی پورہ میں ہی رہے۔ جب گیلانی صاحب یہ کہہ رہے تھے تو مجھے انکے چہرے اور آنکھوں کی رنگت میں کچھ کسک دکھائی دی اور میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ انہوں نے بچپن نہیں گزارا ،اس کا مطلب آپ کے من میں ایک کسک ہے کہ آپ نے اپنے بچوں کا بچپن نہیں دیکھا،یہ کیسے بڑے ہوئے، کیسے چوٹ کھائے،کیسے کھیلے، کیسے لڑے جھگڑے اور کیسے چیزیں مانگیں؟
گیلانی صاحب نے ایک سیکنڈ کا وقفہ کیا اورمیری طرف دیکھ کر بولے، ہاں۔۔۔۔۔۔میں جاتا تھا باندی پورہ، انہیں دیکھتا تھا، ملاقات کرتا تھا،لیکن یہ اس پورے عرصے میں یہ وہیں رہے، انہوں نے اپنا بچپن ان خاتون کے ساتھ ہی گزارا۔میں نے پوچھا کہ کیا ایسا اس لئے کہ گھر میں کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا،آپ بہت مصروف تھے بہت سی چیزوں میں،شاید سیاست میں ؟گیلانی صاحب نے کہا:نہیں نہیں۔۔۔۔ان خاتون نے ان کو بہت پیار سے رکھا۔انہوں نے ہی مجھ سے کہا تھا کہ جب یہ ایم اے کرلیں تب آپ ان کو اپنے گھر لے جائیں اور تب تک میں ان کی دیکھ بھال کروں گی۔ میں نے اچانک گیلانی صاحب سے پوچھا کہ جب درمیان میں گیپ رہتا تھا لوگوںسے ملنے کے بعد، تو یہ بچے آپ کو کتنا یاد آتے تھے۔گیلانی صاحب نے بغیر رکے جواب دیا،یاد تو آتی تھی، ہر وقت یاد آتی تھی۔اب میں نے ان سے پوچھا کہ یاد تو آتی ہی ہوگی ،آپ کے بچے ہیںلیکن ایک یاد یہ ہوتی ہے کہ یاد آئی اور آپ چل دیئے وہاں پر بچوں سے ملنے کے لئے ۔ایک یاد یہ ہوتی ہے کہ پتہ کرلیا کہ وہ خیریت سے ہیں یا نہیں۔ آپ کی یاد کس طرح کی تھی؟ اب گیلانی صاحب گہری نظروں سے مجھے دیکھ کر بولے۔۔۔۔۔نہیں نہیں نہیں۔جب یاد آتی تھی تو چلے جاتے تھے لیکن مصروفیت تو رہتی تھی، اس لئے بار بار نہیں جایا جاسکتاتھا،لیکن جب گہری یاد آتی تھی تو میں چلا جاتا تھا۔ پھر میں نے پوچھا کہ پالیٹکس میں آنے کے بعد ایسا ہوا ہوگا جب بچے بڑے ہوگئے ہوںگے،تب آپ پالٹیکس کی وجہ سے انہیں وقت نہیں دے پائے ہوںگے؟گیلانی صاحب نے سرہلاتے ہوئے کہا ،ہاں بالکل، اکثر مصروفیت رہتی تھی۔
اب مجھے لگا کہ سوال تھوڑا بدلنا چاہئے ، تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو اس کا ملال نہیں تھوڑا بھی کہ ان دونوں بچوں کو جتنا وقت دینا چاہئے تھا، آپ نہیں دے پائے۔ آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ جیسے آپ سکھاتے ویسے یہ سیکھتے۔ جیسے آپ ڈھالتے ، ویسے یہ ڈھلتے ،یہ ویسے نہیں پائے۔اگر میرا ڈائریکشن ہوتا تو شاید وہ اور اچھا بنتے؟تو گیلانی صاحب نے کہا میں آپ کو کیا بتائوں ،یہ خود ہی پڑھتے رہے اور خود ہی دیکھتے رہے کہ ہمارے ابا کیا کررہے ہیں، اس میں اس سچویشن کااثر ہے۔انہوں نے یہ سمجھا اوراب یہ کہتے ہوئے کہ ابو نے ایک اسٹینڈ لیا ہے جموں و کشمیر کے بارے میں یا سیاست کے بارے میں، اس پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس کا ان کو احساس ہے اور ان کی خواہش بھی ہے، ان کا مشورہ بھی ہے اور یہ کہتے بھی ہیں کہ جب ساری عمرآپ ایک اسٹینڈ پر رہے ہیں تواب آخری عمرمیں بھی آپ کو اسی پر استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ان دونوں بچوں کا ہمیشہ یہی مشورہ ہوتا ہے۔ میں نے گیلانی صاحب سے سیاست کو لے کر سوال پوچھا کہ جب آپ اتنے دن پالٹیکس میں رہے ہیں تو آپ کے کئی ڈیسائیپلس (شاگرد) رہے ہوں گے جنہوں نے آپ کے ساتھ کام کیا ہوگا۔ کئی ساتھی ہوں گے جنہوں نے کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا ہوگا، ان میں سے کس کے اوپر آپ کو ناز ہے اور کس پر غصہ ہے کہکس نے صحیح کام نہیں کیا؟ گیلانی صاحب نے جواب دیاکہ جتنے بھی ساتھ رہے، انہوں نے اچھا کام کیا ہے۔اب مجھے لگا کہ میں گیلانی صاحب سے پوچھوں اور میں نے پوچھا بھی کہ یہ تو پالیٹکل اسٹیٹمنٹ ہوگیا۔ ایسا ہوتا ہے نہ کہ آدمی بہت اچھا ہے ،اس نے بہت اچھا کام کیا،کاش یہ والا اچھا کرتا تو اس میں ایک محبت ہوتی اور بہت سارے لوگ ہیں جنہوں نے کیا ۔اگر یہ کرلیتا ،تو یہ چیز نہیں بگڑتی۔ایسے لوگ زیادہ نہیں ہوتے،پانچ ،چھ ،سات ساتھی جن کو آپ نے سکھایا ہوگا، جن کو اپنا ہنر دیا ہوگا،لڑنے کا جذبہ دیا ہوگا،خواب دیکھنے کی طاقت دی ہوگی، اس لحاظ سے کچھ لوگوں کے بارے میں بتائیے،تھوڑا نالائز کیجئے ؟گیلانی صاحب نے اس کا بہت چھوٹا سا جواب دیا ،نہیں،اس کی ضرورت نہیں ہے۔ بالکل اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے ضد کی کہ آپ اس کو اوائڈ کیوں کررہے ہیں؟اس پر گیلانی صاحب نے کہا کہ اوائڈ اس لئے کیونکہ ہمارا جو دین ہے ، دین کہتے ہیں نظام کو اور سسٹم کو،وہ ہم کو اجازت نہیں دیتا کہ کسی کی کمزوریوں کو ابھارا جائے ۔میں نے مسکرا کر پوچھا کہ ان کمزوریوں پر غصہ تو آتا ہی ہوگا آپ کو؟۔گیلانی صاحب نے میری طرف دیکھا اور شاید تھوڑے سمجھانے کے انداز میں دیکھا کہ نہیں غصہ کیوں آتا؟ہمیں بتایا گیا ہے (قرآن کی ایک آیت )سناتے ہیں اور پھر اس کا ترجمہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں ایک دوسرے کے ساتھ محبت رکھنی چاہئے اور دوسروں کی جو کمیاں،کوتاہیاں دیکھو تو ان کو درگزر کرنا چاہئے ،ان سے کوئی انتقامی جذبہ نہیں رکھنا چاہئے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دیکھو میں نے تمہارے پاس ایک پیغمبر بھیجا ہے،یہ پیغمبر بہت نرم دل ہیں۔اگر یہ سخت دل ہوتے تو آپ ان کے ارد گرد شہد کی مکھیوں کی طرح نہ رہتے ،لیکن یہ نرم دل ہیں اس لئے آپ ان کے ارد گرد رہتے ہیں اور پھر ان کو میں نے بھی کہا ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں سے درگزر کا معاملہ کیجئے بلکہ ان کے لئے مغفرت کی دعا کیجئے اور مشورہ کرنے کے بعد آپ کسی بات کو طے کرلیںکہ یہ بات صحیح ہے اور اس پر ہمیں عمل کرنا چاہئے تو پھراس پر عمل کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں ،ظاہری سہاروں پر بھروسہ نہ رکھیں ،اللہ پر بھروسہ کرو تو وہ تمہاری مدد کرے گا ‘‘۔ ہماری یہ کوشش رہتی ہے کہ ایسے حالات کے لئے ہمیں جو تعلیم دی گئی ہے،اس پر ہم عمل کریں ۔مجھے لگا کہ میرے سوالوں کو گیلانی صاحب ٹال رہے ہیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ اپنی طاقت اور کمزوریوں کے بارے میں بتائیے؟
گیلانی صاحب نے اس کا جواب بھی بہت چھوٹا دیا اور کہنے لگے کہ انسان میں کمزوریاں ہوتی ہیں، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہم نے انسان کو بہت کمزور پیدا کیا ہے، انسان کمزور ہوتا ہے۔میں نے اپنی سمجھ سے گیلانی صاحب کو تھوڑا کریدنے کی کوشش کی کہ آپ کے اندر اپنی ایک طاقت ہے اور مجھے لگتا ہے کہ آپ میںجو لڑنے کا جو مادہ ہے وہی شاید آپ کی طاقت ہے۔اندر سے آپ کو کہیں سے طاقت ملتی ہے کیونکہ آدمی سوچتا ضرور ہے کہ چلو بہت لڑ لیا، تھوڑا آرام کریں،تھوڑا دنیا میں گھومیں،بچوں کے ساتھ رہیں۔ لیکن وہ آپ نہیں کرتے ہیں،آپ لگاتار سوچتے رہتے ہیں اور لڑتے ہیں، کیا آپ کو غصہ زیادہ آتا ہے؟ کمزوری میں ایک غصہ بھی ہے؟پھر گیلانی صاحب نے مجھے گھما دیا، اختصار میں بولے کہ مجھے بہت کم غصہ آتا ہے۔ ہماری ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ درگزر کیا جائے۔ میں نے انہیں اور کریدا کہ اچھا بتائیے آپ کوغصہ آتا ہے تو کیا کرتے ہیں۔مطلب اللہ کو یاد کرتے ہیں، پانی پیتے ہیں یا کچھ اور کرنے لگتے ہیں؟گیلانی صاحب نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کوہی یاد کرتے ہیں کہ ہم پر رحم کر۔
میں نے پھر بات بدلی۔موسم کونسا اچھا لگتا ہے؟گیلانی صاحب بولے ،یہاں کشمیر میں ہمیشہ موسم اچھا رہتاہے۔ میرا اگلا سوال تھا کہ آپ کا پسندیدہ موسم کونسا ہے؟جارہ ، گرمی یا برسات؟گیلانی صاحب کا پھر وہی چھوٹا سا جواب کہ سردیوں میں تھوڑی تکلیف ہوتی ہے۔ چیسٹ خراب ہوجاتا ہے۔اس پر میں نے پوچھا کہ یہ تو ابھی ہوتا ہے،پہلے تو نہیں ہوتا ہوگا؟ انہوں نے جواب دیا، نہیں پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا،لیکن کچھ عرصہ سے ہے۔( 1997 سے) مجھے پیس میکر لگا ہوا ہے۔ میں نے گیلانی صاحب سے پوچھا کہ آپ کو چاند،چاندنی اور چاندنی رات کتنا پسند ہے؟گیلانی صاحب کا جواب تھا کہ اللہ نے جو حسن دیا ہے انسانوں کو یااس سرزمین کو، وہ ہمیشہ ہی پسند آتاہے۔ وہ نعمت ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس کا فائدہ بھی اٹھانا چاہئے ۔اب میں نے شاید گیلانی صاحب کے من کی بات پوچھی۔
کیاآپ کو شاعری بہت پسند ہے۔آپ نے کئی شعر ابھی کہے اس بات چیت کے دوران اپنی بات کہنے کے لئے اور دوسرا اقبال کیوں آپ کو کیوں اتنے پسند ہیں؟کیونکہ دونوں بار آپ نے اقبال صاحب کے شعر کا استعمال کیا ہے۔گیلانی صاحب نے کہا کہ یہاں میں نے لکھا بھی ہے(کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )دوکتابیں لکھی ہیں اور تیسری لکھ رہا ہوں۔اقبال اس لئے پسند ہیں کیونکہ اقبال نے اسلام کی ورح کو سمجھا ہے۔میں بغیر کسی رو رعایت کے اور بغیر کسی مبالغہ کے آپ سے کہوں گا کہ جس طرح سے اقبال نے اسلام کی روح کو سمجھا ہے، بڑے بڑے عالم بھی سچے اسلام کی اس روح کو نہیں سمجھا ہے، اسی لئے اقبال ہمیں پسند ہیں۔ جسم کو سمجھانا بڑا آسان ہے۔لیکن کسی چیز کی روح کو سمجھنا اور پھر اسے اپنے کلام میں اس کی عکاسی کرنا ،پیش کرنا بہت بڑا کارنامہ ہے، بہت بڑا ہنر ہے۔ظاہر سی بات ہے ان کے اس جواب پر مجھے پوچھنا تھا اور میں نے پوچھا بھی کہ ایسے اور کتنے شاعر اور رائٹر ہیں جنہوں نے آپ پر اثر ڈالا؟اب گیلانی صاحب نے مسکراتے ہوئے ،سمجھاتے ہوئے کہا کہ ایک تو اقبال ہیں اور دوسرے مولانا سید مودودی ؒ ہیں۔انہوں نے بھی قرآن اور دین کی روح کو سمجھاہے اوربڑے آسان طریقے سے سمجھایا ہے۔انہوں نے سمجھایا ہے کہ اسلام کیا ہے اور اسلام کی خوبیاں کیا ہیں اور اسلام کے مقابلے میں جتنے بھی ازم ؍نظام ہیں ان میں کیا کیا کمیاں ہیں،کیا کیا کمزوریاں ہیں۔کمیونزم، سوشلزم،کیپٹلزم،سیکولرازم میں،یہ جو ازم ہیں ان میں کیا کیا کمزوریاں ہیںاور ان کے مقابلے میں اسلام میں کیاکیا خوبیاںہیں۔ انہوں نے یہ بڑی تفصیل کے ساتھ سمجھایا ہے۔ اس لئے ان کے ساتھ اور اقبال کے ساتھ بہت محبت ہے۔ اس کے علاوہ مولانا محمد سعید مسعودی میرے ایک سرپرست اور مربی رہے ہیں۔ وہ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ اللہ ان کی مغفرت کرے۔حالانکہ ان کے ساتھ میرے کچھ سیاسی اختلافات تھے۔مگر چار سال انہوں نے مجھے تربیت دی ہے۔ ان چار سالوں میں ان کی سادگی ،کردار اور کیریکٹر نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اب میں نے سوال پوچھا کہ حالانکہ وہ تھوڑے مختلف تھے آپ سے ؟
گیلانی صاحب نے جواب دیا،ہاں،وہ شیخ عبد اللہ کے اثر میں تھے،بس یہی ان کی ایک کمزوری تھی،باقی ان کی خوبیاں بہت زیادہ ہیں۔ چار سال میں ان کے ساتھ رہا۔یہ بڑا عرصہ ہوتا ہے۔ اس درمیان میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے کسی کی پیٹھ پیچھے غیبت کی ہو، حالانکہ ان کے بہت دشمن تھے۔ان کو معلوم تھا کہ لوگ ان کو’ صف گزرو‘بھی کہتے ہیں،لیکن کبھی بھی انہوں نے کسی کے بارے میں کوئی غیبت نہیں کی کہ فلاں ایسا ہے یا فلاں ایسا ہے۔چار سال میں میںنے کبھی نہیں دیکھا اور سادگی تو ان میں بہت زیادہ تھی۔
میں گیلانی صاحب کو دیکھ رہا تھا اور مجھے لگا کہ ان سے پوچھوں کہ سری نگر کے علاوہ انہیں کون سی جگہ پسند ہے۔یہ پوچھتے ہوئے مجھے لگ رہا تھا کہ وہ سوئزر لینڈ، جرمنی یا لندن کا نام لیں گے،اس لئے میں نے اپنے سوال کو مزید صاف کیا کہ دنیا میں کہیں بھی جہاں آپ گھومے ہیں، ان میں سری نگر توآپ کو سب سے زیادہ پسند ہے ہی،کیونکہ یہ خطہ ایک جنت ہے۔یہ بات الگ ہے کہ یہ اب جنت نہیں رہا۔یہاں کے علاوہ اور کون سی جگہ ہے جہاں آپ رہنا پسند کرتے ہیں؟گیلانی صاحب پوری بات چیت میں پہلی بار ہنسے اورہنستے ہوئے بولے،کیرل میں۔اب مجھے حیرانی ہوئی ،میں نے پوچھا کیرل میں کیسے ؟گیلانی صاحب نے کہا کہ میں وہاں دو بار گیا ہوں۔ بہت اچھے لوگ ہیں وہاں، وہاں کا موسم بھی اچھا ہے ،وہاں سادگی بھی بہت ہے۔ بہت زیادہ سادگی ہے کیرل میں ۔ جب بھی کیرل کے لوگ یہاں آتے ہیں ،ہمیں بہت خوشی ہوتی ہے۔ یہ لوگ کمیونل نہیں ہیں۔ اب تو بی جے پی والے وہاں جارہے ہیں اور وہاں بھی کمیونلزم کا بیج بویا جارہا ہے۔لیکن وہاں کے لوگ بڑے اچھے ہیں۔ میں نے اچانک پوچھ لیا کہ محبوبہ مفتی سے حالیہ دنوں آپ کی ملاقات ہوئی ہے ؟تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں،جب میری بیٹی گزری تھی تو اس وقت تعزیت کے لئے آئی تھیں۔ اب میں نے پوچھا کہ اس کے علاوہ محبوبہ مفتی کو سمجھنے کا موقع نہیں ملا کہ کیسی لڑکی ہیں،کیسا دماغ ہے ان کا ؟اس کا جواب تھوڑا لمبا دیا گیلانی صاحب نے۔انہوں نے کہا کہ اندازہ تھا اور میں نے لکھا بھی ہے کتابوں میں کہ خاتون جو ہوتی ہیں ان کا دل نرم ہوتا ہے۔ ان کا دل کسی کے غم کو دیکھ کر بہت جلد پسیج جاتا ہے۔لیکن محبوبہ کے بارے میں یہ چیز غلط ثابت ہوئی ہے۔ یہاں کی زمین پر جتنا خون بہا ہے اور بلا کسی وجہ کے برہان شہید ہوا۔ اس کے جنازے میں دو لاکھ لوگوں نے شرکت کی اور 40بار اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ اسلام آباد میں،سائوتھ میں، شوپیا میں، کارگل میں،کہلگائوںمیں۔ پلوامہ اور اننت ناگ سے بھی لوگ وہاں جانے لگے۔ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔جیسا کہ میں نے کہا ۔لیکن فوج نے ،پولیس نے انہیں وہاںجانے نہیں دیا۔ اگر وہ وہاں جاتے تو کیا فرق پڑتا؟ دو لاکھ لوگ تو وہاں پہلے سے موجود تھے ،کوئی فرق نہیں پڑتا۔لیکن جاتے وقت ان پر گولیاںچلائی گئیں۔محبوبہ کو دیکھنا چاہئے تھا کہ وہ لوگ جنازے میں شرکت کے لئے جانا چاہتے تھے تو ان پر گولیاں چلانے کا کیا جواز تھا؟ان کو قتل کرنے کا کیا جواز تھا؟ پیلیٹ گنوں سے ان کی بینائی ختم کرنے کا کیا جواز تھا؟میں چاہتا تھا ،میری یہ خواہش تھی کہ ان کو اسی وقت استعفیٰ دینا چاہئے تھا۔یہ بلا وجہ کے قتل وغارت گری دیکھنا اس کے لئے جواز نہیں بنتا تھا ان کے پاس کہ وہ اقتدار کی کرسی پر براجمان رہیں۔نہیں، انہیں استعفیٰ دینا ہی چاہئے تھا۔ وہ خاتون نہیں رہیںبلکہ سمجھ لیجئے بے حس ہوگئی ہیں وہ ، کوئی دل نہیں ہے ان کے پاس ۔تومیں نے پوچھا کہ کیا وہ بغیر دل کی وزیر اعلیٰ ہیں؟گیلانی صاحب کا صاف جواب تھا، ہاں، بغیر دل کی، بالکل بغیر دل کی۔اب میں نے ان سے سیاسی سوال پوچھا کہ آج کی سرکار کے لئے آپ کی کیا نصیحت ہے۔ آج سیاست کو، زندگی کو، نفرت کو، محبت کو دیکھنے کے بعد اگر آپ کوکوئی چار یا پانچ چیزیں آج کی سرکار سے کہنی ہو تو کیا کہیں گے؟ سرکار کو کیا کرنا چاہئے؟گیلانی صاحب نے بہت صاف گوئی سے کہا کہ یہاں جو سرکار ہے،یہاںکی جو ہند نواز پارٹیاں ہیں۔ ان کے بارے میں ہمارا یہ آئیڈیا ہے اور ہماری یہ ضرورت بھی ہے اور چاہت بھی ہے کہ انہیں اس خون خرابے کو دیکھ کر مستعفی ہوجانا چاہئے اور خاص طور پر اس حکومت کو مستعفی ہونا چاہئے۔ اس کے بغیر ان کا کوئی علاج نہیں ہے اور ان کے پاس کوئی ایسا جواز نہیں ہے اس کرسی پر بیٹھنے کا۔ یعنی پولیس ان کے پاس ہے،ان کے کنٹرول میں ہے۔ سی آر پی ایف ان کے کنٹرول میں ہے۔ہر وزیر اعلیٰ یونیفائڈ کمانڈ کا چیئرمین ہوتا ہے تو ان میں یہ طاقت کیوں نہیں رہی کہ ان کو روکیں کہ تمہارے ہاتھوں سے قتل ہورہا ہے، تمہارے ہاتھوں سے خون بہہ رہاہے، ظلم ہورہا ہے ،تم ایسا کیوں کررہے ہو۔میں تو آپ کے ساتھ نہیں رہوں گا۔چاہے فاروق عبدا للہ ہوں، عمر عبداللہ ہوں، طارق احمد مسعود یا کوئی اور ہوں ، ان سب کو کرّا صاحب نے جیسا نمونہ دکھایا ہے ،انہیں اس پر عمل کرنا چاہئے۔ اس معاملے میں کرّا صاحب نے جو کردار دکھایا ہے ، وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جوانوں کو قتل کیا جارہاہے،میں اس کو برداشت نہیں کرسکتا ہوں۔انہوں نے پارلیمنٹ کی ممبر شپ سے استعفیٰ دے دیا، پارٹی سے بھی استعفیٰ دے دیا۔انہوں نے ایک اچھا کیریکٹر دکھا یا سارے لیڈرس کو۔ لیکن نیشنل کانفرنس یا کانگریس کے یہ لوگ جو اقتدار کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، ان کو انسانیت کے ساتھ کوئی محبت نہیں ہے،اپنی قوم پر جو ظلم ہورہا ہے اس کا ان کو کوئی احساس نہیں ہے۔
میں نے ان سے کہا کہ عید کے دن میں اور میرے دو ساتھی کرّا صاحب کے ساتھ تھے۔ انہوں نے ہمیں شام کو بلایا تھا۔ہم لوگ ڈیڑھ گھنٹے تک وہاں تھے ۔ اشارہ تو انہوں نے اس وقت ہی دے دیا تھا کہ میں بہت زیادہ پی ڈی پی کے ساتھ نہیں چلوں گا۔ میں کچھ سوچ رہا ہوں۔ اس وقت لگا تو تھا کہ شاید وہ ساتھ نہیں رہیں گے، مگر وہ استعفیٰ دیں گے ،اس کا اندازہ نہیں تھا۔گیلانی صاحب نے کہا کہ ہاں انہوں نے بہت اچھا کیا۔لیکن اب ان کا ٹیسٹ یہ ہے کہ آئندہ انہیں اب کبھی انتخاب میں حصہ نہیں لینا چاہئے، یہ ان کے لئے ٹیسٹ ہے۔ کیونکہ ایک چیز تو اب انہوں نے سمجھی اور جس پر استعفیٰ دیا کہ اتنا جو ظلم جاری رہتا ہے، وہ آئندہ بھی جاری رہے گا ،شاید اس وقت تک جب تک ہم غلام ہیں اور ہندوستانی فوجی کے تسلط میں ہیں، یہ ظلم جاری رہے گا۔ اس لئے انہیں آئندہ کبھی انتخاب میں حصہ نہیں لینا چاہئے ۔میں نے بات چیت یہیں پر ختم کرنا مناسب سمجھا ،کیونکہ میں ان سے سیاست پر بات کرچکا تھا۔
میں نے گھری دیکھی ، کل ملا کر ڈیرھ گھنٹے بیت چکے تھے۔ اس کے بعد گیلانی صاحب اٹھے اور انہوں نے میرے سر کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا۔ شاید اس ڈیڑھ گھنٹے کے دوران بات چیت سے جو احساس پیدا ہوا،اس نے انہیں اپنا سیاسی پہلو الگ رکھنے کے لئے راغب کیا اور جب میں بات چیت کرکے اٹھ رہا تھا تو انہوں نے پھر چائے پینے کا حکم دیا اور وہاں بیٹھے ہوئے ان کے ساتھی اور خود ان کے بیٹے نسیم کا بھی یہ کہنا تھا کہ اتنے سالوں میں کسی نے بھی گیلانی صاحب سے سیاست سے ہٹ کر اس طرح کے سوالات نہیں پوچھے یا شاید پوچھنے کی ہمت نہیں کی۔آپ نے پوچھا اور جس طرح سے گیلانی صاحب نے جواب دیا، اس کے اوپر بھی ہمیں بڑی حیرانی ہے۔لیکن میں گیلانی صاحب کے اندر کے اس انسان کو تلاش پایا جو اپنی زندگی میں اپنے بچوں کے بچپن کو نہ دیکھ پانے، بچوں کو بڑا ہوتے نہ دیکھ پانے، بچوں کی شرارتوں کو نہ دیکھ پانے کی کسک لئے، لیکن اس کسک کو اپنے دل میں لئے خاموشی کے ساتھ بند کئے، اپنے مقصد کے لئے لڑنے کی تیاری کرتا رہا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *