سرکار وہی ، دلال وہی صرف ہتھیار کا نام بدلا ہے

dami’چوتھی دنیا‘ نے ہتھیاروں کی خریداری میں ہتھیار مافیا کے تسلط کا ایک اورخلاصہ 17اگست 2015 کے شمارے میں کیا تھا۔ ہم نے یہ خلاصہ کیا تھا کہ اسرائیل سے اسپائک میزائل خریدنے میں ہتھیار کے دلال کس طرح سرگرم کردار ادا کررہے ہیں۔ ہم نے ان ہتھیار کے دلالوںکو بے نقاب کیا تھا، جو وزیر دفاع سے زیادہ طاقتور ہیں، جن کی ہاں کے بغیر حکومت ہند کوئی ہتھیار نہیںخرید سکتی۔ ہم نے ہتھیار کے ان دلالوں کے نام بتائے تھے، ان کے طریقہ کار کا خلاصہ کیا تھا۔ اس بار کی لیڈ اسٹوری میںچیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے ایس 400- کی خریداری میںہوئے گھپلے کا خلاصہ کیا ہے، جبکہ 17 اگست 2015 کا خلاصہ اسپائک میزائل کو لے کر تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ہی معاملوںکے مرکز میںرائن میٹل نام کی کمپنی ہی ہے۔ مطلب ، وزیر وہی، سرکار وہی، افسر وہی، دلال وہی اور ہیرا پھیری بھی وہی ہے۔ بدلا تو صرف ہتھیار کانام۔ رائن میٹل کا کارنامہ سمجھنے کے لیے ہم یہاں 17 اگست 2015 کی رپورٹ کا کچھ حصہ پیش کررہے ہیں۔

ہندوستان میں ہتھیار لابی بہت سرگرم اور منظم طریقے سے کام کرتی ہے۔ اس کے آگے سرکار کی بھی نہیں چلتی۔ وہ پیسے کے دم پر اپنے حساب سے سودا طے کرتی ہے۔ ایسا لگتا ہے گویا وزارت دفاع ہندوستانی فوج کے لیے سامان خریدنے کے لیے نہیں، بلکہ ہتھیار کے دلالوںکو فائدہ پہنچانے کے لیے کام کرتی ہے۔ ہندوستان میں ہتھیار لابی بہت بڑی نہیں ہے۔ پانچ سے دس لوگوں کا کاکس ہے، گینگ ہے۔ اس کے سب سے بڑے اور کنگ -پن کا نام سدھیر چودھری ہے، جو انگلینڈ میںرہ کر سب کچھ آپریٹ کرتا ہے۔ براک میزائل کی سپلائی میں ہوئے گھوٹالے میںاس کا نام آیا تھا، لیکن سی بی آئی نے کیس بند کردیا۔ سی بی آئی نے کہا کہ وہ اس کے خلاف کوئی ثبوت جمع نہیں کرسکی۔ میڈیا بھی چودھری کے بارے میںنہیںبتاتا کہ اس کے خاندانی رشتے کن کن پارٹیوں کے، کن کن لیڈروں کے ساتھ ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کچھ اور نام ہیں، جن کاخلاصہ الگ الگ ہتھیار سودوں میں ہوا ہے، جن میںسریش نندا، روی رشی اور ابھیشیک ورما شامل ہیں۔ مذکورہ سارے لوگ مل جل کر کام کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ فوج اور وزارت دفاع کے افسر، مختلف پارٹیوں کے لیڈر اور صحافی مل جل کر کام کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا گینگ ہے، جو ہر سودے پر منافع کماتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سرکا رکس پارٹی کی ہے اور وزیر کون ہے۔ مزے دار بات یہ ہے کہ دہلی کے اقتدار کے گلیاروںمیں اسے سارے لوگ بخوبی جانتے ہیں۔
اب اسپائک میزائل کی بات کرتے ہیں۔ جرمنی کی ایک ہتھیار کمپنی ہے، رائن میٹل۔ اسے بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس کمپنی کی ملک کی ہتھیار لابی کے ساتھ ساز باز ہے۔یہ انھیںپیسہ دیتی ہے۔ ہندوستان کے کئی ریٹائرڈ فوجی افسر رائن میٹل کمپنی کے کنسلٹینٹ ہیں، اس کے ایڈوائزری پینل میںہیں۔ یہ کمپنی ہندوستان میںخوب پیسہ خرچ کرتی ہے۔ سرکار نے جب اینٹی ٹینک میزائل خریدنے کا فیصلہ کیا،تو یہ کمپنی سیدھے طور پر اس سودے میں حصہ نہیںلے سکتی تھی۔ مزے دار بات یہ ہے کہ جس یوروسپائک نام کی کمپنی کے ذریعہ اس میزائل کی مارکیٹنگ کی جاتی ہے، اس میں رائن میٹل کمپنی کی 40 فیصد حصہ داری ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تکنیکی طور پر اسے اسرائیل کی رافیل کمپنی بناتی ہے، لیکن اسے بیچنے میںرائن میٹل کی حصہ داری ہے۔ سیدھے الفاظ میںاگر سمجھا جائے، تو رائن میٹل خود اس کی سپلائی نہ کرکے اسرائیل کی رافیل کے ذریعہ سپلائی کرائے گی۔ رائن متل ایک ہتھیار کمپنی ہے جس کا پیسہ دنیا کی مختلف کمپنیوں میں لگا ہوا ہے۔ سرکار کو پتہ لگانا چاہئے کہ اسرائیل کی رافیل کمپنی کے ساتھ رائن مٹل کا کیا رشتہ ہے؟بتایا جاتاہے کہ رافیل کے 40فیصد شیئر رائن مٹل کے پاس ہیں۔ اگر ہمیں رائن مٹل سے ہی میزائیل خریدنی ہے،تو یہ سودہ پابندی ہٹا کر سیدھے سی سے کیا جاسکتاہے۔ اس سے پیسے کی بچت ہو سکتی ہے۔
جب بھی کوئی ہتھیار یا دیگر سامان خریدا جاتاہے، تو سرکار پہلے اپنی خواہش ظاہر کرتی ہے اور پھر الگ الگ کمپنیوں سے تجاویز آتے ہیں، جو تجویز صحیح ہوتی ہے، اسے منظور کر لیا جاتاہے۔یہ سودہ سرکار ’میک ان انڈیا‘ کے تحت کرنا چاہتی ہے۔ وزارت دفاع نے ا س بات پر دھیان نہیں دیا کہ رافیل کا رائن مٹل سے کیا رشتہ ہے؟اگر رافیل سے رائن مٹل کا کوئی رشتہ ہے اور اسی کمپنی سے میزائیل خریدنا طے ہے ،تو اس کے بلیک لسٹ ہونے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ وزارت دفاع نے اس حقیقت کی طرف دھیان کیوں نہیں دیا؟کس لابی کے دبائو میں یہ فیصلہ لیا گیا؟اس فیصلے میں کون کون لوگ شامل ہیں؟کیا اس سودے کے لئے دلالی کی شکل میں پیسے دیئے گئے؟ان سارے سوالوں کا جواب سرکار کے پاس ہونا چاہئے اور اسے ملک کے عوام کو اس کے بارے میں بتانا چاہئے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ مذکورہ سارے فیصلے مودی سرکار بننے کے بعد لئے گئے ہیں۔ اس لئے یہ بھی نہیں کہا جا سکتاکہ کانگریس سرکار نے یہ فیصلہ لیاتھا۔ یہ سودہ’ میک ان انڈیا‘ کے تحت ہونا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسے بنانے کا کام ہندوستان میں کیا جائے گا۔تو اب سوال یہ ہے کہ اسے کون بنائے گا؟کیا اسرائیل کی کمپنی ہندوستان میں میزائل بنانے کی یونٹ لگائے گی یا کسی اور پرائیویٹ کمپنی کو اس کی اجازت دی جائے گی؟
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہندوستان سرکار کی اپنی ایک کمپنی ہے، جہاں پہلے سے میزائیل بنائی جارہی ہے۔اس کا نام ہے ’بھارت ڈائنامکس لمیٹیڈ‘۔وہ گزشتہ کئی سالوں سے میزائیل بنانے کا کام کامیابی سے کر رہی ہے۔ اگر ہندوستان میں ہی اسپائک میزائیل بننی ہے تو اسے ہندوستان ڈائنامکس کے ذریعہ بنایا جاسکتاہے۔ اس کے پاس تجربہ کار لوگ ہیں،ٹیکنالوجی ہے، انفراسٹرکچر ہے۔ بھارت ڈائنامکس کے پاس میزائل بنانے کا پورا سیٹ اپ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ سرکاری ہے اور یہاں سے تیار میزائیل کے کسی دوسرے ملک یا تنظیم کو بیچنے کا خطرہ بھی نہیں ہے۔کیا بن رہاہے اور کتنی تعداد میں بنایا جارہا ہے، سب کچھ سرکار کے کنٹرول میں رہے گا۔یہ سستا بھی پڑے گا،لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ بھارت ڈائنامکس کی تجویز پر وزارت دفاع نے غور بھی نہیں کیا۔ اس کی جگہ وزارت دفاع نے بابا کلیانی نام کی ایک چھوٹی سی کمپنی کو ہری جھنڈی دے دی۔اسرائیل کی رافیل کمپنی اب بابا کلیانی کے ساتھ جوائنٹ وینچر میں ہندوستان میں اسپائک میزائیل بنائے گی۔ پھر وہی سوال کہ اس کمپنی پر وزارت دفاع کیوں مہر بان ہوئی؟اس کمپنی کا ہندوستان کی ہتھیار لابی سے کیا رشتہ ہے؟کیا مودی سرکار ہتھیار کے دلالوں کو ہتھیار بنانے میں مدد کررہی ہے؟یہ سوال اس لئے بھی اٹھانا ضروری ہے ،کیونکہ اس کمپنی کے پاس میزائیل بنانے کا نہ تو تجربہ ہے، نہ اس کے پاس لوگ ہیں،نہ اس کے پاس ٹیکنالوجی ہے اور نہ ہندوستان میں اس کا انفراسٹرکچر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بابا کلیانی کو سرکار انفراسٹرکچر تیار کرنے میں طرح طرح کی مدد کرے گی۔ ہندوستان میں کمپنی قائم کرنے میں جو خرچ آئے گا، وہ بھی میزائیل کی قیمت میں جڑے گا۔ کوئی بھی کمپنی اپنا نقصان کرکے’ میک ان انڈیا‘ میں کیوں انویسٹ کرے گی؟یہی وجہ ہے کہ اسپائیک میزائیل کی قیمت دوگنی ہو گئی ہے اور نئی نئی شرطیں سامنے آگئی ہیں۔اگر اس کی باتیں مان لی گئیں، تو شاید سرکار جواب دینے لائق نہیں بچے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *