سرکار ہی قانون توڑے گی تو قانون کی حفاظت کون کرے گا؟

damiیہ شکایت نہیں ہے ، یہ غصہ بھی نہیں ہے اور اس کے آگے کہیں، تو اب کوئی تکلیف بھی نہیںہے، کیونکہ درد ایسا لگتا ہے کہ حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ صرف کچھ خدشات ہیں، وہ خدشات وزیر اعظم صاحب سے کہہ نہیںسکتے کیونکہ وزیر اعظم صاحب کو لوگوں کا خط ملنا پسند نہیںآتا۔ وہ کہتے بھی ہیںکہ کچھ لوگ مجھے خط لکھنے کی ہمت کر رہے ہیں۔ ان کے صلاح کار اس ملک کو زیادہ جانتے ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ممبر آف پارلیمنٹ یا کارکن یا اب تو میناکشی لیکھی کا نام لے سکتے ہیں،اگر ان سے ہی وزیر اعظم اپنے اٹھائے گئے قدموں کے بارے میںردعمل جان لیتے کہ عوام کیا سوچ رہے ہیں، تو بھی ہمیں تھوڑا سکون ملتا۔ لیکن شاید ان کی بھی بات چیت وزیر اعظم صاحب کے ساتھ نہیںہے، اس لیے چلیے آپس میںکچھ باتیںکرتے ہیں۔
500روپے اور 2000روپے کے نئے نوٹ ریزرو بینک کے ذریعہ چھپائی کے بعد بازار میں آگئے ہیں۔ ان نوٹوں کا ڈیزائن دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ ایسے نوٹ ہیں جن کی نقل نہیں ہوسکتی، جنھیں کہیں چھاپا نہیں جاسکتا، یا ان کے ڈیزائن حیرت انگیز ہیں۔ لیکن نوٹ دیکھ کر زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کا ڈیزائن بالکل بازار میں مفت دیے جارہے چورن والے نوٹوں کی طرح ہے۔یہ نوٹوں کی توہین کرنے کے لیے نہیں کہہ رہا ہوں، میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ جن لوگوں نے بھی ڈیزائن کو پاس کیا،وہ کتنے بڑیعقل مند ہیں۔ اس نوٹ پر حکومت کے اشتہار ہیں، جو غیر قانونی ہیں۔ کیونکہ قانوناً کسی بھی کرنسی کے اوپر کسی طرح کا اشتہار نہیں ہوسکتا، یہاں تک کہ نوٹ کے اوپر اپنا نام لکھنا بھی غیر قانونی ہے۔ لیکن حکومت نے اپنے اشتہار دیے، وہ حکومت جانے، کیونکہ جب حکومت ہی قانون توڑے گی تو قانون کی حفاظت کون کرے گا۔ اسے تو ہمارے ملک کو چلا رہا ایشور ہی جانے۔ لیکن اس میں ہندی غلط ہے، مراٹھی غلط ہے، اردو غلط ہے۔ دو ہزار روپے کی عبارت تینوں زبانوں میںغلط چھپی ہے۔ اس لیے ہم نے کہا کہ جنھوںنے اس ڈیزائن کو فائنلی پاس کیا،وہ عظیم دانش مند اور بڑے سمجھدار لوگ ہیں۔ یہ نوٹ جب ہاتھ میںآیا تو اس کا رنگ اترنے لگا۔ ہم نے اپنے دفتر میں 2000 روپے کا نوٹ بینک سے منگایا، روئی ہلکی گیلی کی اور نوٹ کے اوپر ہم نے دو بار گھمایا، نوٹ کی سیاہی چھوٹنے لگی۔ خزانہ سکریٹری ٹیلی ویژن پر آکر کہتے ہیں کہ جن نوٹوں کی سیاہی چھوٹتی ہے، وہ نوٹ صحیح ہے اور جن نوٹوںکی سیاہی نہیں چھوٹتی ہے، وہ غلط ہیں۔ اور مزے کی بات ، اس کے چوبیس گھنٹے بعد وزارت خزانہ یہ بیان دیتا ہے کہ جن نوٹوں کی سیاہی چھوٹ رہی ہے وہ غلط نوٹ ہیں یا نقلی نوٹ ہیں اور جن کی سیاہی نہیں چھوٹتی ہے، وہ اصلی نوٹ ہیں۔ ہم کسے صحیح مانیں۔ جو نوٹ ہمارے پاس آیا وہ تو بینک نے دیا۔ اور زیادہ تر لوگوں کے پاس وہی نوٹ آرہے ہیں جو بینک دے رہے ہیں۔ ان کی سیاہی چھوٹ رہی ہے۔ کیا ہم یہ مانیں کہ یہ سارے نوٹ نقلی ہیں یا یہ سارے نوٹ اصلی ہیں۔ اگر یہ نوٹ اصلی ہیں، تو یہ کیسا ڈیزائن ہے کہ جو تین مہینے سے نوٹ چھپ رہے تھے، وہ خشک بھی نہیں ہوپائے اور جب وہ صارفین کے ہاتھ میںیا عوام کے ہاتھ میںپہنچے تو اپنی سیاہی چھوڑ رہے ہیں۔ ہندوستان میںزیادہ تر لوگ گرمی سے پریشان ہوتے ہیں، انھیںپسینہ نکلتا ہے، ان کی بنیان یہاںتک کہ قمیص بھی گیلی ہو جاتی ہے۔ اس میںرکھے ہوئے یہ سارے نوٹ اگر گیلے ہوکر سیاہی چھوڑ دیں اور ایک دوسرے کے اوپر سیاہی اوور لیپ کرجائے، تو کیا یہ نوٹ بازار میںچلیںگے۔ اب نہ یہ شکایت ہے نہ تکلیف ہے،یہ صرف آپس میںبات چیت کرنے کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ ہمیںتو کچوٹ ہورہی ہے۔ اور وہ کچوٹ اس لیے ہورہی ہے کہ اس ملک کے زیادہ تر لوگوںکو یہتشویش ہے۔ اب سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا یہ نوٹ دوبارہ بدلے جائیں گے۔ اگر دوبارہ بدلے جائیںگے تو پھر وہی افراتفری ہوگی۔ تو کیا حکومت چلانے والے مکھیا ،جنھوںنے بہت رازداری کے ساتھ یہ سارا کام کیا۔ کیا انھیںان سوالوں کے اوپر سوچنے کا ابھی وقت مل پائے گا۔ شاید نہیںمل پائے گا، کیونکہ یہ حکومت جو کردیتی ہے، وہی آخری ہوتا ہے۔ اس سے وہ پیچھے نہیںہٹتی۔ بھلے ہی کتنا بھی بڑا نقصان ہوجائے، حکومت کی تعریف کرنی چاہیے۔
ہندوستان کے 60 فیصد لوگ کھیتی کے اوپر جی رہے ہیں اور 25 فیصد تو سیدھی کھیتی کے اوپر ہی منحصر ہیں۔ گاؤں سے بینک چھ سے آٹھ کلومیٹر دوری پر واقع ہیں۔ اس گاؤں کو چھوڑ دیں، جہاں پر بینک کی برانچ ہے اور کسان کی روایتی پریکٹس بینک میں پیسے رکھنے کی، روز جاکر جمع کرانے کی نہیںہے۔وہ مہینے دو مہینے میںایک بار جاتا ہے اور اپنا پیسہ جمع کرادیتا ہے یا جب قرض لینے جانا ہوتا ہے تو کسان کریڈٹ کارڈ سے پیسے لے لیتا ہے۔ کیا وہ کسان ،جس کی فصل کھیت میں پڑی ہوئی ہے اورفروخت نہیں ہو رہی ہے یا غلطی سے فروخت ہوجائے اور وہ پیسہ لے کر جائے اور اس کا رنگ چھوٹ جائے تو کسان کیا کرے؟ اس سے بھی بڑا مسئلہ کسان کی دھان کی فصل کے فروخت ہونے یا جو فصل ابھی بونی ہے، جس کے لیے کھاد اور بیچ چاہیے، اس کے لیے وہ پیسے کہاں سے لائے؟ فصل بونے کا ایک وقت ہوتا ہے اور اس وقت اگر کسان کے پاس کیش نہیں ہو، تو وہ چیزیںخرید نہیںسکتا۔ اور اگر خرید نہیںپائے گا تو کھیت میںبوئے گا کیا؟ حکومت چلانے والے نظام کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ اتنے سالوں سے کھیتی کی زیادہ تر خرید و فروخت، کھیتی کی فصل کی خرید و فروخت نقد ہوتی ہے۔تاجر یا آڑھتی کسان سے جب خریدتا ہے تو اسے نقد پیسہ دیتا ہے۔ یا فصل کٹنے سے پہلے بیع نامہ بھی وہ نقد ہی دیتا ہے۔ کسان اس پیسے کو اپنے گھر میںرکھتا ہے۔ پورا ایگری کلچر سیکٹر اس وقت پس و پیش میں ہے کیاکرے؟ اس کی چیخ سننے والا نہ اس کا رکن پارلیمنٹ ہے، نہ اس کا رکن اسمبلی ہے اور نہ ہی میڈیا کے لوگ۔ خردہ دکاندار کی ساری تجارت کیش کے اوپر نقد لین دین پر چلتی ہے، لیکن کیش نہیںہونے کی وجہ سے سپلائی لائن کمزور ہوگئی۔ لیکن ہم یہ مان بھی لیں کہ یہ سب ایک یا دو مہینے میں ٹھیک ہوجائے گاتو بھی جو مینوفیکچرنگ ڈفیکٹ ہے، اس ڈفیکٹ کا کیا کریںگے؟ اور اب پہلی بار کسان کے اوپر انکم ٹیکس لگنے کاخطرہ اشاروں میںآچکا ہے۔ اب تک کھیتی سے پیدا ہوئی آمدنی یا کسان کی کسی بھی طریقے سے ہوئی آمدنی ٹیکس فری تھی۔ مگر اب ان کے کھاتوںکے اوپر نظر رکھی جارہی ہے کہ اگر وہ اپنے کسی رشتہ دار کا پیسہ یا کسی کا پیسہ اپنے کھاتے میںڈالتے ہیں، تو انکم ٹیکس ان سے ٹیکس بھی وصول کرسکتا ہے اور جرمانہ بھی لگا سکتا ہے۔ حکومت کے نوٹوں کاحال یہ ہے کہ اب تک 4000یا 4500 کے پرانے نوٹ بدلے جارہے تھے۔ اب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ صرف دو ہزار رپے ہی بدلے جاسکیں گے، یہ حکومت کی بڑی سمجھداری کے نمونے ہیں۔ 100 کروڑ، 80 کروڑ، 60 کروڑ جن کا پیسہ وہائٹ ہے، وہ بھی اپنا پیسہ بینک سے نہیں نکال پائیں گے، نہ نکال پارہے ہیں، کیونکہ بینک کے پاس نوٹ ہی نہیںہیں۔ اور دوسری طرف روزمرہ کے کھانے پینے کے لیے جو لوگ کل تک 4500 روپے ہفتے میں بدل رہے تھے، اب وہ صرف 2000 روپے ہی بدل پائیں گے۔ سرکار مطمئن ہے کہ اس نے کالے دھن کے اوپر قابو پالیا ہے۔
حکومت مطمئن ہے کہ اس نے کالے دھن کے اوپر قابو پالیا ہے، ہمیں بھی خوشی ہو رہی ہے، کیونکہ ٹیلی ویژن چینلوں نے اور خاص طور سے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے یا حکومت کے کسی بھی قدم کی تعریف کرنے والی دو یا تین ہزار لوگوں کی فوج نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ اگر آپ نوٹ بدلی کو کالے دھن کے خلاف سب سے بڑا قدم بتاکرتعریف نہیںکرتے تو آپ کالے دھن کے حامی ہیں۔ یہ ٹھیک اسی طرح کی بات ہے جیسے ایک مہینے پہلے اگر آپ پاکستان کو گالی نہ دیں،تو آپ محب وطن نہیںہیں۔ اگر آپ جنگ کی مخالفت کریںتو آپ غدار وطن ہیں۔ لیکن نوٹ بندی کے اس ماحول میںجب آدمی اپنی زندگی کی ایک اہم لڑائی لڑ رہا ہے، اچانک پاکستان کے ساتھ کشیدگی ختم ہوگئی ہے۔ کشمیر کا تناؤ ختم ہوگیا ہے۔ وزیر دفاع کہتے ہیںکہ کشمیر میں پتھر نہیں چل رہے ہیں۔ یہ وزیر دفاع کے لیے خوشی کی بات ہے۔ لیکن کشمیر کا درد ختم ہوگیا، اس کے اوپر وزیر دفاع کچھ نہیں بول رہے ہیں۔ یہ بھی کہہ دینا چاہیے کہ کشمیر کے سارے مسائل حل ہوگئے ہیں۔ اب وہاں کے لوگوں کے دل میں ہندوستانی اقدامات کو، حکومت ہند کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدامات کو حمایت ہی حمایت ہے۔ لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ ملک جس جنگی جنون کی طرف بڑھ رہا تھا اور جس میں ٹیلی ویژن چینل سب سے بڑا تعاون دے رہے تھے۔ سوشل میڈیا میںتین ہزار لوگ جو کہیں سے تنخواہ پاتے ہیں اور جو سرکار کے ذریعہ اٹھائے گئے ہر قدم کو فالتوپن کی حد تک لے جاتے ہیں، ان لوگوں کے ذریعہ بڑھایا گیا جنگی جنون اچانک 8 تاریخ سے ختم ہوگیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان کی سرحد پر پوری طرح امن و امان ہے اور اب ہمارا کوئی سپاہی کہیںنہیں مررہا ہے۔
اتنا ہی نہیں، ہماری ترقی کے پچاس سے زائد وعدے حکومت نے کیے تھے، سوچھ بھارت سے لے کر نوٹ بندی تک ایسا لگ رہا ہے کہ وہ سب اپنی پوری رفتار سے چل رہے ہیں۔ اور ہمارے دروازے پر اچھے دن کی ٹرین امیدوں اور خوشیوں سے بھرے ہوئے بیگ جلدی اتارنے والی ہے۔ یہ ساری باتیںجن کا ہم ذکر کررہے ہیں، اس امید کے ساتھ کررہے ہیں کہ حکومت کے ذریعہ کرنسی بدلنے کا نہایت سمجھداری کے ساتھ فیصلہ لیا گیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میںکہیںہم مہنگائی یا کساد بازاری کی لپیٹ میںتو نہیںآجائیںگے۔ دونوں ایک ہی سکّے کے دو پہلو ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ میں بھی تھوڑی سی قلابازی دکھارہی ہے۔ اور اس دوران اچانک ایک بینک نے جس کا نام اسٹیٹ بینک ہے، سات ہزار کروڑ سے زیادہ کا قرض ان لوگوں کا معاف کردیا ہے جن کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ وہ ملک کے بڑے تاجر ہیں او رسارا پیسہ بینکوں کا جو بھی عوام کا پیسہ ہے ہڑپ چکے ہیں۔ اگر سارے بینکوں کا یہ فیگر آئے گا تو یہ پیسہ 60 ہزار کروڑ سے زیادہ کا نکلے گا۔
اور آخر میں ایک اور تشویشناک بات کہ کیا وہ لوگ جن کے اوپر کالے دھن چلانے کا الزام ہے، جن کے کھاتے غیر ملکی بینکوں میں ہیں، جن کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخاب جیتا۔ کیونکہ اس نے کہا تھا کہ جب یہ پیسہ آئے گا تو ہر ایک کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے جمع ہو جائیںگے۔ یا وہ لوگ ملک میں جو کالے دھن کے اقتدار کے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ ہیں کیا انھیں کوئی فرق اس نوٹ بندی کے فیصلے سے پڑا ہے۔ وہ تو کہیں فکرمند نہیںدکھائی دیے اور فلمی دنیا کے لوگ جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ جتنا چیک سے پیسہ لیتے ہیںاس سے زیادہ بلیک میںلیتے ہیں۔ وہ لوگ اس قدم کی تعریف کررہے ہیں۔ دراصل ہر وہ آدمی اس قدم کی تعریف کررہا ہے ، چاہے وہ صنعت کار ہوں یا فلم اسٹار یا کرکٹر ہوں، جن کے اوپر عام طور پر یہ شک ہے کہ بلیک منی کا کاروبار یہی کرتے ہیں اور یہی اس معیشت کے، کالی معیشت کے چلن کے ذمہ دار لوگ ہیں، وہ سب تعریف کررہے ہیں۔ اور جو لائن میں لگا ہوا ہے جو مشکل سے دو ہزار، پانچ ہزار، دس ہزار روپے اپنی مصیبت کے وقت کے لیے گھر میں رکھتا ہے، وہ نوٹ بدلنے کے لیے لائن میں کھڑا ہے۔ لیکن اس کا نوٹ نہیں بدلا جارہا ہے۔ اور اوپر سے اب اس کے اوپر یہ شک ہوگیا کہ اصلی کالادھن تو یہ ہے، جو لوگوںنے اپنے گھر میںبیماری، آنے جانے، لین دین، بچوںکیتشاویش کو دور کرنے کے لیے رکھا ہوا تھا، وہ کالے دھن کا فیس ہوگیا۔ اور تبھی تو شاید یہ کہا گیا کہ جو چور ہیں، وہ لائنوں میں کھڑے ہیں اور نوٹ بدلوارہے ہیں۔ یہ تشاویش ہیں۔ ان تشاویش کا نہ سوشل میڈیا پر بھڑیتی کرنے والے لوگوں کے اوپر اثر پڑے گا اور نہ ہی ٹیلی ویژن چینل پر آکر سوال اورتشویش کو موڑنے میںماہر ٹیلی ویژن کے صحافیوں کے اوپر ان تشاویش کا اثر پڑے گا، کیونکہ دراصل یہ سب کالے دھن کی دنیا کے لٹھ باز ہیں، لٹھیت ہیں۔ اس کا فرق تو اس ملک کے کسان پر پڑے گا، اس ملک کے مزدور پرپڑے گا، اس کا پیسہ بھی نہیںبدلا جارہا ہے اور مہنگائی کی مار بھی اسے ہی جھیلنی پڑے گی۔ہماری یہ تشاویش سچ نہ ہوں، بس یہ ایشور سے دعا ہے، اگر وہ کہیں ہے تو۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *