پاکستان کے لیے میزائل بنائیں گے امبانی

damiپاکستان کے لیے اینٹی ایئر کرافٹ میزائل سسٹم کی تخلیق اب ہندوستان میںہوگی۔ اسے ریلائنس ڈیفنس بنائے گی، جس کے مالک انل امبانی ہیں۔ مودی سرکار ملک کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی ساری حد یں پھلانگ گئی ہے۔ قومی سلامتی کے نام پر ہتھیار کے دلالوں کے ساتھ مودی سرکار کی ساز باز اور میک اِن انڈیا کے نام پر ہتھیار کے دلالوں اور صنعتی گھرانوں کو مالامال کرنے کے کھیل کا ہم پردہ فاش کررہے ہیں۔ ا س کا شرمناک پہلو یہ ہے کہ ہتھیار کے سودے میں چل رہے گھپلے کو سرکار حب الوطنی کے نام پر انجام دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان اور دہشت گردی کا خوف دکھاکر ملک میں انتہائی قوم پرستی کا ماحول تیار کررہی ہے، اس کے ساتھ ہی ایسی کمپنیوں سے ہتھیار خرید رہی ہے جو نہ صرف سیاہ لسٹ میںشامل ہیں، بلکہ وہ کمپنی جو ہتھیار ہندوستان کو دے رہی ہے، وہی ہتھیار پاکستان کو بھی سپلائی کرچکی ہے۔ ایک طرف ہم پاکستان کے ساتھ سرجیکل اسٹرائک کررہے ہیں اور دوسری طرف ایسی بلیک لسٹیڈ کمپنیوں کو قائم کرنے پر تلے ہوئے ہیںجو پاکستان کو ہتھیار بیچ رہی ہیں۔ ہم پاکستان کو ہتھیار دینے والی کمپنیوں کو بڑھاوا دے کر کون سی حب الوطنی کی مثال پیش کررہے ہیں۔ حیرانی تو اس بات کی ہے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی جن ہتھیار مافیاؤں کے خلاف آواز اٹھاتی رہی، سرکار بننے کے بعد ان ہی ہتھیار مافیاؤں کو قائم کرنے کے لیے وہ سارے قاعدے قانون اور مریاداؤں کو توڑ رہی ہے۔ ہم مودی سرکار کے ذریعہ ہتھیار کی خریداری میں ہونے والے ایسے گھوٹالے کا پردہ فاش کررہے ہیں، جسے جان کر ملک کا سر شرم سے جھک جائے گا۔
7نومبر کو ڈیفنس ایکوزیشن کونسل کی میٹنگ شام چھ بجے ہوئی۔ اس میٹنگ میںیہ فیصلہ لیا گیا کہ ایک خاص بلیک لسٹیڈ کمپنی سے سامان خریدا جاسکتا ہے، اگر پالیسی بدل دی جائے تو۔ دراصل اس میٹنگ میں ڈیفنس کی خرید کی پالیسی بدلنے کی بات ہوئی اور یہ فیصلہ لے لیا گیا۔ اسی لیے یہ ضروری میٹنگ بلائی گئی تھی، جس کی صدارت وزیر دفاع منوہر پاریکر نے کی۔ ا س بلیک لسٹیڈ کمپنی سے سامان خریدنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ہمارے ملک کو ایک کریٹکل سچوئیشن میںکریٹکل ریکوائرمنٹ ہے، اس لیے سامان خریدنے کی ضرورت ہے۔ اس کمپنی کا نام ہے رائن میٹل انٹرنیشنل ہولڈنگ۔ یہ کمپنی ہندوستان میںبلیک لسٹیڈ ہے اور اس پر بین لگا ہوا ہے۔ بین اس لیے لگا ہوا ہے ،کیونکہ اس کمپنی کا سامان گھٹیا ہے اور جب کانگریس کی سرکار تھی اس وقت یہ کمپنی رشوت دینے کے معاملے میںپھنسی ہوئی تھی۔ ایک بڑے دفاعی سودے میںاس نے بہت سے لوگوں کو رشوت دینے کی کوشش کی تھی اور خاص طور سے آرڈیننس بورڈ کے منیجر کو اس نے رشوت دینے کی کوشش کی تھی، جس میںیہ کمپنی پکڑی گئی تھی اور تبھی اس کو فوری طور پر بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔ اس وقت ا س کمپنی کو بین کرنے کے لیے دباؤ بنانے والے لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کے تھے۔ اب مزے کی بات یہ ہے کہ وہی لوگ، جنھوںنے اس وقت بین کرنے کے لیے دباؤ بنایا تھا ،آج اس کا بین ہٹارہے ہیں۔ اس کی کوئی دلیل سمجھ میںنہیںآتی۔
ایک دلیل ضرور سمجھ میںآتی ہے کہ اس کمپنی نے اس سال کی شروعات میںایک ایم او یو سائن کیا۔ وہ ایم او یو ریلائنس ڈیفنس کے ساتھ سائن کیا، جس کمپنی کے مالک مشہور صنعت کار شری انل امبانی ہیں۔ انل امبانی نے گن اور ایمونیشن دونوںکے لیے ایم اویو سائن کیا ہے جس کے تحت جوائنٹ وینچر ہوگا اور یہ انڈیا میںفیسلٹی سیٹ اَپ کریںگے۔ سوال یہ ہے کہ ہندوستان کواگر مثال کیطور پر 400 گنس کی ضرورت ہے، وہ ہندوستان خرید لے گا، پھر اس کے بعد یہ گنس کہاںجائیںگی؟ کس کو بیچی جائیں گی؟ کیا پاکستان کو بیچی جائیں گی، بنگلہ دیش کو بیچی جائیںگی یا پھر نیپال کو بیچی جائیںگی؟ لیکن یہ اپنے پڑوسیوں کو تو بیچی نہیںجاسکتیں کیونکہ یہ دفاع سے جڑی ہوئی چیز ہے۔ اگر ہم پڑوسیوں کو بیچتے ہیں تو ہم اپنے ملک کو کمزور کرتے ہیں۔ اس کے جواب میںانھوںنے کہا کہ سیٹ اَپ ہم انڈیا میں کریںگے لیکن یہ گن، اینٹی ایئر کرافٹ گن ہم سنگاپور کو بیچیںگے۔ لیکن سنگاپور کے پاس تو اتنی بڑی آرمی ہے نہیںکہ وہ ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کا استعمال کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ گنس سنگاپور کے راستے پاکستان بھیجی جائیں گی۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب ہے کہ وہ گن، اینٹی ایئر کرافٹ، میزائل گنس بنیںگی انڈیا میں، لیکن سنگاپور کے ذریعہ پاکستان کو بیچی جائیںگی۔ اس سے بڑی حب الوطنی کیا ہوسکتی ہے یا اس سے بڑی غداری کیا ہوسکتی ہے؟ آج کیتناظر میںاگر غداری اور حب الوطنی کی بات دیکھی جائے تو اس سے بڑی غداری ہو ہی نہیں سکتی۔
اس کے لیے انھوںنے پوری پالیسی کو بدل دیا۔ انھوںنے یہ کہا کہ ہمیں اس سامان کی بہت ضرورت ہے، اس لیے ہمیںاس کمپنی سے یہ سامان خریدنا ہے جبکہ ابھی ابھی روس کے ساتھ ہمارا ایک دفاعی سمجھوتہ ہوا ہے، جس کے تحت ایس 400-نام کا میزائل سسٹم ہندوستان خریدنے جارہا ہے۔ اگر اس میزائل سسٹم کو ہم خرید رہے ہیں تو ہماری کریٹکل ریکوائرمنٹ تو پوری ہوگئی، جس کے سمجھوتے پر روس کے ساتھ دستخط ہوچکے ہیں۔ جب ہم روس سے یہ سسٹم لے رہے ہیں تو ہم رائن میٹل سے کیوں لے رہے ہیں۔جبکہ روسی ٹیکنا لوجی، رائن میٹل کی ٹیکنالوجی سے کئی گنا زیادہ بہتر ہے۔ اب ایک اور بڑی خطرناک چیز، رائن میٹلپہلے سے ہی اس ایکوپمنٹ کو پاکستان کو سپلائی کررہا ہے۔ پاکستان آرمی کو یہی کمپنی سُرج میں ٹریننگ بھی دے رہی ہے۔ اب یہ حیرت کی بات ہے کہ ہم وہ چیز کیوںخرید رہے ہیں اور کس کے کہنے پر خرید رہے ہیں، جو چیز پہلے سے ہی پاکستان کے پاس اسی کمپنی کے ذریعہ پہنچائی جاچکی ہے۔ تب ہم پاکستان سے بہتر تو ہیں ہی نہیں۔ توکیا اس سے یہ مطلب نہیںنکالا جاسکتاہے کہ کسی نہ کسی کو بہت پیسہ مل رہا ہے، جس سے وہ یہ بھی دھیان نہیںرکھ رہا ہے کہ اس سے ہمارا ملک بک جائے گا یا کسی کو ملک بیچنے کے لیے بہت پیسہ مل رہا ہے۔ یہ ملک اطمینان سے بیچا جارہا ہے اور ملک بیچنے والے تھوڑے دنوں بعد ہلہ مچائیں گے کہ ہم سے زیادہ محب وطن کوئی نہیں ہے۔
اسی کمپنی کی ایک اور کمپنی ہے ساؤتھ افریقہ میں، جس کا نام ہے رائن میٹل بیفے۔ یہ کمپنی صرف ایمونیشن بناتی ہے اور یہ کمپنی بھی پاکستان کو ایمونیشن سپلائی کررہی ہے۔ایک اندازہ ہے کہ پاکستان کے ذریعہ یہ ایمونیشن ہمارے ملک کے کچھ انتہا پسند عناصر کو جاتا ہے جن میں نکسلائٹ بھی شامل ہیں اور اس کا راستہ نیپال سے ہوکر ہے۔ سوال صرف یہ دماغ میںہے کہ ایسی کمپنی کو کیوںپرمیشن دی جارہی ہے ، اس کے لیے کیوں پالیسی بدلی گئی ہے، جو پاکستان کو وہی ہتھیار سپلائی کررہی ہے جس کو ہم ہندوستان میںبنانے وا لے ہیں یا جو گولیاں پاکستان کو بیچتی ہے ، وہ گولیاں ہمیںدے رہی ہے کیوں؟ کیا صرف کمیشن یا رشوت کے لیے؟
اس رائن میٹل کا جو ہندوستانی ہیڈ ہے، وہ ایک ریٹائرڈ فوجی ہے جس کا نام کرنل انل نندا ہے، جس نے انل امبانی کے ساتھ ایم او یو سائن کیے ہیں۔ یہ کرنل انل نندا کئی جگہ پر یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ وزیر دفاع منوہر پاریکر تو ان کی جیب میں ہیں اور باس کی یعنی انل امبانی کی ان سے ہر دوسرے دن بات ہوتی ہے۔ سات تاریخ کی صبح یہ خبر کچھ چنندہ علاقوں میںپھیل گئی کہ آ ج شام کو ڈی ای سی یعنی ڈیفنس ایکویزیشن کونسل کی میٹنگ ہوگی اور اس میںپالیسی چینج ہو جائے گی اور پالیسی چینج ہوگئی۔ یہ ساری جانکاری ہمیںرائن میٹل کے ذرائع سے ملی۔ کیونکہ وہ یہ چاہتی ہے کہ یہ بات سب کو پتہ چلے کہ وہ کتنی طاقتور ہے۔ اب وزیر دفاع منوہر پاریکر کے ساتھ رائن میٹل کی کیا سیٹنگ ہے یا انل امبانی کی کیا سیٹنگ ہے ،یہ کسی کو نہیں پتہ۔ لیکن اتنا طے ہے کہ اس میںبہت موٹا پیسہ کہیںنہ کہیں، کسی نہ کسی بہت بڑے آدمی کو ملا ہے اور اگر ایسا نہیںہوتا تو یہ پالیسی بدلنے کا کھیل نہیںہوتا۔جس ذرائع نے ہمیں خبر دی،اس کا رائن میٹل سے تعلق ہے او روہ دفاعی سودوںمیںشامل رہتا ہے۔ لیکن وہ بھی ہل گیا کہ یہ ملک بیچنے کی ننگی کوشش ہورہی ہے۔ اس شخص کا یہ کہنا ہے کہ یہ تو ملک بدلنے کی ننگی سازش ہے۔ یہ ڈیل کانگریس کے زمانے میں ہونے والی تھی لیکن کانگریس نے اس کو منع کردیا تھا۔ اس کا مطلب انٹنی، منوہر پاریکر سے زیادہ صاف اور کلین آدمی ہیں۔ کانگریس نے اس کمپنی کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔ اب دو اہم چیزیںہیں کہ ہم وہی خرید رہے ہیں جو پاکستان جارہا ہے اور ہم وہیں بنارہے ہیں جو پاکستان میں سنگاپور کے تھرو بکنے والا ہے۔ یہ ساری چیزیں دماغ سے اور ساری دلیلوںسے پرے ہیں کہ جنھیں ہم عظیم محب وطن سمجھتے ہیں،وہ یہ عظیم حب الوطنی کا یاغداری کا کام کیسے کرسکتے ہیں؟

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *