کشمیر کے 6 حصے کو ملا کر بات چیت ہو

کشمیر کا ایک سب سے بڑا پینچ کشمیر کے بارے میں، کشمیر کے علاوہ ہندوستان کے لوگوں کو جانکاریاں بہت کم ہیں۔جو کشمیر جاتے ہیں، وہ شکارے میں بیٹھنے، کشمیر کے حسن کو دیکھنے، وہاں گھومنے، سیر و تفریح کے لئے جاتے ہیں۔ کشمیر میں کیاہو رہا ہے، کشمیر کے لوگ کیسے جی رہے ہیں، کشمیر کے لیڈروں کی سچائی کیا ہے،یہ سب وہ نہیں جاننا چاہتے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ دوسری طرف، پورے ہندوستان میں کشمیر کو لے کر ایک عام رائے بنی ہوئی ہے کہ کشمیرمیں آرٹیکل 370 ختم ہونی چاہئے اورآرٹیکل 370 ختم ہوتے ہی کشمیر ہمارا لازمی حصہ بن جائے گا۔ آرٹیکل 370 کو وہ کشمیر کے آندولن کی وجہ مانتے ہیں۔

Read more

کیا وادی کشمیر کو ملی ٹنسی کی طرف دھکیلا جارہا ہے؟ وادی میں ملی ٹنسی کا بڑھتا ہوا رجحان

ایک ایسے وقت جب کشمیر میں ایک شدید عوامی ایجی ٹیشن جاری ہے اور وادی پر گزشتہ تقریباً چار ماہ سے عملاً حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے، نوجوانوں میں تشدد کے تئیں ر p-5جحان بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ مبصرین اس بات کو خارج از امکان قرا ر نہیں دے رہے ہیں کہ وادی میں آنے والے دنوں میں ملی ٹنسی کا گراف مزید بڑھ جائے گا۔ کیونکہ اس بات کے بھی آثار نظر آنے لگے ہیں کہ پر تشدد احتجاج کرنے

Read more

ہم 1947 کے جموں و کشمیر کی بات کررہے ہیں۔گیلانی

سوال : جیسے ہی یہاں سے جموں کی طرف بڑھتے ہیں یا ہوائی جہاز اڑتا ہے، پھر سمجھ لیجئے کنفیوژن ہی کنفیوژن ہے، تو ابھی ہم لوگ بات کررہے تھے۔آپ نے یہاں ہر بات صاف صاف کہی ہے۔ ابھی آپ ہی بتا رہے تھے۔لیکن سوالوں کے اوپر اگر آپ ایک بار اجازت دیں، تو ایک بار بات چیت کریں، پلیبیسائٹ، پاکستان ،فوج وغیرہ پر۔

Read more

جنگ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں حل نہیں: پروفیسر عبد الغنی بٹ

سوال: پروفیسر صاحب،کشمیر جہاں آج کھڑا ہوا ہے، ایسا لگتا ہے کہ دو دیواریں کھڑی ہیں، جن میں کوئی سوراخ نظر نہیں آرہا ہے۔اس میں سوراخ کرنے کا کیا طریقہ ہے اور آج کے حالات سے نکلنے کا کیا راستہ ہے؟

Read more

کشمیر درد سے چیخ رہا ہے

میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کشمیرمیں کیاہو رہا ہوگا؟میں اپنے دو صحافی دوستوں اشوک وانکھیڑے اور ابھے دوبے کے ساتھ جب 11سے 13 ستمبر کو سری نگر میں تھا تو سری نگر کی وہ تصویر سامنے آئی، جس کا دہلی میں بیٹھ کر احساس ہی نہیں ہوسکتا ، تب لگا کہ جو لکھنو، پٹنہ ، کولکاتا، حیدرآباد، بنگلورو یا چنئی میں ہیں، وہ تو کشمیر کے آج کے حالات کا تصور ہی نہیں کرسکتے کہ کیوں دکانیں بند ہیں، کیوں لڑکے پتھر چلا رہے ہیں، کیوں لڑکے سڑک پر پتھر رکھ کر سڑک کو بند کر رہے ہیں اور کیوں اپنے آپ پتھر صاف کر کے سڑکیں کھول دیتے ہیں؟ کیوں دکاندار ٹھیک شام کے چھ بجے دکانیں کھول دیتے ہیں، سرکاری بینکوں نے کیوں اپنا وقت شام چھ بجے سے کر دیا ہے۔یہ سارے سوالات آندھی کی طرح دماغ میں اس لئے اڑنے لگے کہ ہمیں تو سری نگر جا کر ان سوالوں کا جواب مل گیا لیکن کیا ملک کے لوگ کبھی اس سچائی کو سمجھ پائیں گے؟پھر ایک اور سوال ابھرا کہ پورے ملک میں کہیں بھی ایک دن کا بازار بند کرانے کا نعرہ جب کوئی سیاسی پارٹی دیتی ہے، تو لوگ دکانیں نہیں بند کرتے ہیں، ان دکانوں کو بند کرانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کے نوجوان کارکنان لاٹھی لے کر سڑک پر نکلتے ہیں، تب وہ ایک دن کے لئے دکانیں بند کرا پاتے ہیں۔ لیکن کشمیر 105دنوں سے بند تھا۔ صرف ایک کاغذ کا پرچہ کیلنڈر کی شکل میں نکلتا ہے اور لوگ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔

Read more