معاملہ نجیب کا ایک ماں کے آنسو کا کوئی مسیحا نہیں

damiایک ماں کے درد کو نہ پولیس محسوس کررہی ہے،نہ ہی انتظامیہ اور نہ ہی سرکار۔البتہ ملک کے عوام ان کے درد کے لئے بے چین ہیں۔ نجیب احمد کی ماں فاطمہ نفیس کئی ہفتوں سے پولیس انتظامیہ، ریاستی سرکار اور مرکزی سرکار سے رو رو کر فریاد کررہی ہیں کہ ’’ میرا بچہ مجھے واپس کردو ،میں چپ چاپ یہاں سے چلی جائوں گی، یہ نہیں پوچھوں گی کہ وہ اب تک کہا تھا‘‘ مگر اس کی ہر فریاد ائیگاں جارہی ہے۔نہ پولیس کا رویہ حوصلہ افزا ہے اور نہ ہی ریاستی اور مرکزی سرکار کوئی موثر اقدام کرپارہی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلم تنظیموں کا طریقہ کار بھی مایوس کن ہے ۔ مسلم تنظیمیں جو ہمہ وقت مسلمانوں کی مدد اور ہمدردی کی راگ الاپتی ہیں ۔کوئی بھی تنظیم آگے نہیں آئی ہے۔ نجیب کے بھائی محمد مجیب سے’’ چوتھی دنیا‘‘ کے نمائندے نے بات کی(انٹرویو کو باکس میں پیش کیا جارہا ہے)۔بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ ویسے تو تمام تنظیمیں ہمارا ساتھ دینے کی بات کرتی ہیں مگر کھل کر کوئی ہمارے بینر تلے نہیں آئی ہے،البتہ جماعت اسلامی ہند ہمارے ساتھ ہے ۔جب یہی سوال جماعت اسلامی کے انجینئر محمد سلیم سے کیا گیا توانہوں نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں پورے طور پر متحرک ہیں اور جماعت اسلامی کے نمائندوں مجھ سمیت سکریٹری مولانا محمد احمد اور انعام الرحمن نے جاکر نجیب کی ماں فاطمہ نفیس سے ملاقات بھی کی ہے اور اسے ہر طرح کا تعاون دینے کا وعدہ بھی کیا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ نجیب کی گمشدگی سے ایک روز قبل اے بی وی پی (اکھیل بھارتیہ ودیارتھی پریشد)سے منسلک طلباء کے ساتھ اس کا تنازع ہوا تھا۔ ان لڑکوں نے اجتماعی طورپر اس کی پٹائی کی تھی۔اس کے بعد سے ہی نجیب اپنے ہوسٹل سے غائب ہے ۔ اس سلسلے میں نجیب کے بھائی محمد مجیب نے پولیس سے کہا کہ ایف آئی آر میں پٹائی کرنے والے ان تین طلباء کو بھی نامزد کیا جائے جنہوں نے اس کی پٹائی کی اور جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی تو پولیس نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تم مجھے قانون بتائوگے،ہم اپنے طریقے سے ایف آئی آر درج کریں گے۔مطلب یہ ہے کہ پولیس نے ان لڑکوں جو کہ اے بی وی پی سے تعلق رکھتے تھے کو نامزد نہیں کیا اور نجیب کو گمشدگی معاملے میں درج کرلیا۔جب مجیب اپنے ساتھیوں کے ساتھ جے این یو وائس چانسلر سے ملنے گئے تو وہاں بھی ان کی طرف سے کوئی حوصلہ افزا بات نہیں کی گئی بلکہ رسمی طور پر انہوں نے یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ معاملے کو دیکھیں گے۔مجیب نے وی سی سے یونیورسٹی کی طرف سے ایک ایف آئی آر درج کرانے کی بات کہی تو اس پر بھی انہوں نے بات کو ٹال دیا۔گویا کہ پولیس اور انتظامیہ کی سر مہری کی وجہ سے یہ معاملہ اب بھی معمہ بناہو اہے اور نجیب کا سراغ اب تک نہیں مل سکا ہے۔حالانکہ درمیان میں ایک خبر آئی تھی کہ نجیب کو دربھنگہ (بہار )کے اطراف میں دیکھا گیا ہے مگر اس پر اب تک کوئی پختہ ثبوت فراہم نہیں ہوسکا ہے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اے بی وی پی سے منسلک ان طلباء سے جنہوں نے آخری وقت میں نجیب کو زود کوب کیا تھا ،سے تفتیش کی جاتی تو ممکن تھا کہ اب تک کوئی راز سامنے آجاتا اور اس کی تلاش میں پیش رفت ہوتی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جے این یو وائس چانسلر جانبداریت سے کام لے رہے ہیںاور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے طلباء کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ پولیس نے بھی اب تک ان طلباء سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی جبکہ پورا مجمع نجیب کو زود کوب کئے جانے کا گواہ ہے ،مگر ان تمام حقائق کو نظر انداز کرکے مشتبہ افراد سے پوچھ تاچھ کرنے کے بجائے معاملے کو طول دیا جارہا ہے۔ پولیس نے تو مزید حد اس وقت کردی جب نجیب کی ماں فاطمہ نفیس اپنے بیٹے کی بازیابی کے لئے نئی دہلی میں احتجاج کررہی تھیں تو انہیں انتہائی بے دردی سے گھسیٹا گیا اور گرفتار کرکے تین گھنٹے تک پولیس نے اپنی گاڑی میں بیٹھا کر دہلی کی مختلف سڑکوں پر گھمایا جس سے صاف اشارہ مل رہا ہے کہ پولیس کا رویہ ہمدردانہ نہیں ہے۔
حالانکہ نجیب کا معاملہ مذہبی اور طبقاتی نوعیت کا نہیں ہے۔ یہ ایک انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کا مسئلہ ہے۔ مگر اس کو سیاسی بنادیا گیا ہے۔کچھ سیاست داں اس ایشو کو سیاسی بنانے کے لئے پینترے بازی کررہے ہیں ۔کوئی اس مسئلے کو مذہبی رنگ دے کر مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتا ہے تو کوئی سیاسی رخ دے کر سیاسی روٹی سینک رہا ہے۔
اس سلسلے میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کہنا ہے کہ’ آج اگر نجیب کی جگہ امبانی کا بیٹا غائب ہوتا تو وزیر اعظم مودی خود سے امبانی کے گھر جاکر اس سے اظہار ہمدردی کرتے اور پورا سسٹم اس کی بازیابی کی تگ و دو میں لگ جاتا لیکن یہ معاملہ چونکہ ایک مسلم نوجوان سے جڑا ہوا ہے اس لئے بی جے پی کی سرکار اس کی بازیابی میں سنجیدگی نہیں دکھا رہی ہے۔ بی جے پی کی حکومت میں ملک کا ماحول ایسا بن چکا ہے آر ایس ایس ، اے بی وی پی ، یا بی جے پی کے خلاف آواز اٹھا نے کو ملک سے غداری کا نام دیا جاتا ہے۔ جو کوئی ان کے خلاف بولتا ہے اسے غائب کردیا جاتا ہے‘۔کجریوال نے اس ایشو کو لے کر صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے ملاقات بھی کی۔بہر کیف کجریوال کی باتیں تو حسین ہیں مگر غور کرنے والی بات یہ ہے کہ کجریوال جو معمولی باتوں پر دھرنا پردرشن اور مظاہرہ کرنے لگتے ہیں ،آخر اتنے بڑے معاملے پر پولیس اور مرکز کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کررہے ہیں۔
دوسری طرف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے لیڈر پرکاش کرات کا کہنا ہے کہ نجیب کا اغوا اور پھر اس کی بازیابی کے تئیں انتظامیہ کا رویہ دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورے ملک میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی لاگو ہے۔لیکن حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جے این یو کے طلباء اس وقت بھی نہیں جھکے تھے جب ایمرجنسی کے دوران پولیس کیمپس میں داخل ہوئی تھی تو اب وہ کیسے غلط کے سامنے ہتھیار ڈال سکتے ہیں۔البتہ ان تمام معاملوں کو نمٹانے میں آئین و قانون کے دائرے کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔
نجیب کی ماں اور بھائی نے اس معاملے کو حل کرنے اور ملزموں کو گرفتار کرنے کے مطالبے کو لے کر دہلی کے گورنر نجیب جنگ، کانگریس نائب صدر راہل گاندھی تک سے ملاقات کی مگر ہر جگہ صرف وعدے اور رسمی الفاظ ہی سننے کو ملے۔ انہوں نے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے بھی ملاقات کی ،وہاں بھی سی بی آئی سے جانچ کے امکانات پر غور کرنے کا وعدہ ہی ہوا۔ نجیب کی ماں سے سے ملنے کے لئے کانگریس کے اجے ماکن آئے، صدر جمہوریہ ہند کی بیٹی سرمسٹھا مکھرجی بھی آئیں،مگر ہفتوں گزرجانے کے بعد بھی نتیجہ صفر ہی رہا۔اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس مسئلے کو انسانی اقدار کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جارہا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نجیب کا اغوا بھی اسی نوعیت کا ہے جس طرح ماضی میں مختلف مسلم ہنر مندوں اور ہونہار طلباء کا انکائونٹر کیا گیا یا مختلف الزامات میں پھنسا کر جیلوں میں ڈالا گیا اور برسوں جیل میں رہنے کے بعد عدالت سے ان کی رہائی ہوئی۔ ان گرفتاریوں کامقصد صرف یہ ہوتا تھا کہ مسلم ہونہار طلبا کا حوصلہ پست کردیا جائے۔ اب اس طریقہ کار کو بدل دیا گیا ہے اور مسلم ہنرمند طلبا کو اغوا کرکے غائب کرنے کا رجحان سامنے آرہا ہے۔چونکہ نجیب احمد بھی ایک ہونہار طالب ہے ۔ اس کا تعلق یوپی کے ایک ضلع بدایوں سے ہے.وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے کل تین بھائی اور ایک بہن ہے۔نجیب سب سے بڑے ہیں۔انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ہمدرد اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا داخلہ امتحان پاس کیا ۔ جے این یو میں نام آنے کے بعد یہیں سے ‘‘ایم ایس سی بائیو ٹکنالوجی’’ کرنے کا فیصلہ کیا۔:وہ جے این یو کے ہاسٹل ’ماہی مانڈو‘میں رہتے تھے۔ایم ایس سی بائیو ٹکنالوجی کوئی معمولی کورس نہیں ہوتا ہے، وہاں تک پہنچنے کے لئے غیر معمولی محنت کرنی پڑتی ہے جو نجیب نے کی اور کامیابی کی منزل کے بالکل قریب تھے کہ انہیں غائب کردیا گیا۔مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ مسلم طلباء کو آگے بڑھنے سے خوفزدہ کیا جاسکے۔ بہرکیف اتنے دن گزرنے کے بعد بھی نجیب کا سراغ نہ لگنا ہمارے نظام پر سوالہ نشان کھڑا کررہا ہے۔آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟

نجیب کے بھائی محمد مجیب سے ’چوتھی دنیا ‘کا خصوصی انٹرویو
س: جن لڑکوں نے نجیب کو مارا ،ان کی تعداد کیا تھی اور اس کے خلاف پولیس کیا کررہی ہے؟
ج:نجیب پر کئی بار حملہ ہوا۔ پہلے تو اسے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے تین طلباء نے بری طرح مارا۔دوبارہ ایک پورا مجمع اس پر حملہ آور ہوا اور اس کو اتنا مارا کہ اس کے ناک اور سر سے خون ٹپکنے لگا۔ افسوس کی بات ہے کہ مارپیٹ کرنے والے لڑکوں کے ساتھ پولیس نے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی۔ان کا نام ایف آئی آر میں درج نہ ہونے کی وجہ سے پولیس ان کو گرفتار نہیں کررہی ہے ۔
س: پولیس سے آپ نے مشتبہ افراد کو نامزد کرنے کی بات کہی؟
ج: میں نے متعلقہ تھانہ کے ایس ایچ او سے کہا کہ جن لڑکوں نے نجیب کو مارنے کی دھمکی دی تھی ، ایف آئی آر میں ان کا نام درج ہو اور ان سے پوچھ تاچھ کی جائے لیکن پولیس نے میری بات نہیں مانی اور مسنگ کا کیس درج کیا۔
س: آپ لوگ ایف آئی آر میں کن لوگوں کا نام درج کرانا چاہتے تھے؟
ج: خاص طور پر تین لڑکے۔ایک وکرانت، دوسرا ابھی جیت اور تیسرا انکت۔ لیکن پولیس نے کسی کا نام ایف آئی آر میں درج نہیں کیا۔
س: کیا کسی سینئر پولیس آفیسر سے آپ کی میٹنگ ہوئی ؟
ج: آئی ٹی او پولیس ہیڈ کوارٹر میں ہمیں بلایا گیا۔ ہمیں پوری امید تھی کہ وہاں سے ہمیں کوئی امید افزا پیغام ملے گا۔وہاں جانے کے بعد ہماری ملاقات اس کیس کو دیکھ رہے منی چندرا سے ہوئی ۔ ان سے ہم نے زود کوب کرنے والے طلباء سے پوچھ تاچھ کرنے کی بات کی ، مگر انہوں نے یہ کہہ کر ہمیں لوٹا دیا کہ ہم معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔ جو ممکن ہوسکے گا وہ کریں گے۔
س: سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں میں کون لوگ آپ کے ساتھ ہیں؟
ج: ایک تو ہمارے علاقے کے ایم پی دھرمیندر، جو کہ سماج وادی پارٹی کے ہیں، نے بھرپور تعاون دینے کا وعدہ کیا ہے۔دیگر پارٹیاں بھی اس ایشو کو اٹھانا چاہتی ہیں مگر ہمیں اس کا ابھی تک کوئی عملی فائدہ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ویسے بھی ہم اس مسئلے کو سیاسی بنانا نہیں چاہتے ہیں ،ہم تو بس یہ چاہتے ہیں کہ جو لوگ اس کے گنہگار ہیں، ان سے بازپرس ہو اور ہمارا بھائی واپس آجائے۔
س: میڈیا سے آپ کو کس حد تک تعاون ملا ہے؟
ج: الگ الگ میڈیا کے کردار الگ الگ ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو حقیقت کو چھپا کر پیش کرتے ہیں۔ جیسے ٹائمس نائو، آئی بی این اور آج تک وغیرہ جیسے چینلوں پر اس معاملے کو ڈرامہ تک کا نام دیا جارہا ہے جبکہ این ڈی ٹی وی جیسے چینل پورے معاملے کو حقیقت پسندانہ نظریہ سے عوام کے سامنے پیش کررہے ہیں۔
س: نجیب پہلے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے؟
ج: وہ ایک سیدے سادے اور اپنے آپ میں منہمک رہنے والے ا نسان ہیں ۔ خود پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ البتہ وہ ہر وقت پڑھنے لکھنے میں مصروف رہتے تھے۔ لیکن اب پولیس کے ذریعہ اسے نفسیاتی مریض تک کے طور پر مشتہر کیا جارہا ہے جو کہ افسوسناک بات ہے۔
س: راجناتھ سنگھ سے ملاقات ہوئی ، وہاں کیا بات ہوئی؟
ج: راجناتھ سنگھ سے مل کر ایک تو ہم لوگوں نے ان سے یہ کہا کہ میڈیا میں جو نجیب کو نفسیاتی مریض کہا جارہا ہے یا اس معاملے میں جو غلط بیانی کی جارہی ہے یا فرضی بات کہی جارہی ہے ،اس پر روک لگائی جائے اور ملزموں کو جلد سے جلد پکڑاجائے۔ انہوں نے ہماری تمام باتوں کو سنجیدگی سے سنا اور کہا کہ ہم معاملے کو ترجیحی بنیاد پر دیکھیں گے اور سی بی آئی جانچ کے امکانات پر بھی غور کریں گے۔
س:سیاسی لیڈروں کا کیا رویہ رہا ہے؟
ج: دیکھئے ہم اس سلسلے میں راہل گاندھی ، اروند کجریوال سے مل چکے ہیں۔ راہل گاندھی نے زیادہ مصروف ہونے کی وجہ سے ہماری بات سن تو لی لیکن وہ کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دے سکے ،البتہ اوکھلا علاقے میں کانگریس کے لیڈر اجے ماکن میری ماں سے ملنے آئے تھے،انہوں نے تسلی تو دی لیکن کوئی خاص وعدہ نہیں کیا۔ حالانکہ اروند کجریوال اس معاملے کو لے کر صدر جمہوریہ کے پاس بھی گئے،صدر جمہوریہ نے ان سے کہا کہ وہ رپورٹ منگوائیں گے اور پھر اس پر غور کریں گے۔ اس معاملے کے بعد صدر جمہوریہ کی بیٹی سرمسٹھا مکھرجی نے بھی میری ماں سے مل کر معاملے کو حل کرانے میں اپنے تعاون کا وعدہ کیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *