بابائے قوم کا نہرو کو مکتوب

damiدیہی ہندوستان کے بارے میں گاندھی جی کا خواب
اس ہفتہ 14نومبر کو اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی 127 ویںسال گرہ منائی جارہی ہے۔ اس موقع پر ’چوتھی دنیا‘ بابائے قوم گاندھی جی کے ذریعہ پنڈت نہرو کو 71 برس قبل 5اکتوبر 1945 کو ’ہندسوراج‘میں ایک مکتوب میں جو نصیحت کی گئی تھی اسے من وعن پیش کیا جارہا ہے تاکہ قارئین یہ جان سکیںکہ گاندھی جی کے ذہن میں آزادی کے بعد کس طرح کی گورننس کا خاکہ موجود تھا۔ یہ دستاویز ہندوستان کو یہ سوچنے کا موقع بھی فراہم کرے گی کہ اس نے آزای کے بعد جس گورننس کو پیش کیا ہے، وہ بابائے قوم کے خواب سے کتنا میل کھاتی ہے۔نیز گاندھی جی کا دیہی بھارت کا خواب کیسے پورا ہوگا، ان تمام باتوںکے پیش نظر اس بار اس کالم میں اسی دستاویز کو پیش کیا جارہا ہے۔

عزیزم جواہرلعل،
تم کو لکھنے کو تو کئی دنوں سے ارادہ کیا تھا، لیکن آج ہی اس پر عمل کرسکتا ہوں۔ انگریزی میںلکھوں یا ہندوستانی میں،یہ بھی میرے سامنے سوال رہا تھا۔ آخر میں میں نے ہندوستانی میںہی لکھنا پسند کیا۔
پہلی بات تو ہمارے بیچ میںجو بڑابھید بھاؤ ہوا ہے، اس کی ہے۔ اگر وہ بھید سچ مچ ہے تو لوگوںکو بھی جاننا چاہیے۔ کیونکہ ان کو اندھیرے میںرکھنے سے ہمارا’ سوراج کا کام‘ رکتا ہے۔ میںنے کہاہے کہ ’ہند سوراج‘ میں جو میں نے لکھا ہے، اس ریاست کے طریقہ کار پر میںبالکل قائم ہوں۔ یہ صرف کہنے کی بات نہیںہے،لیکن جو چیز میںنے سن 1909 میںلکھی ہے، اسی چیز کے سچ کا احساس میں نے آج تک پایا ہے۔ آخر میں ایک ہی اسے ماننے والا رہ جاؤں، اس کا مجھ کو ذرا سا بھی افسوس نہیں ہوگا۔ کیونکہ میںجیسے سچ پاتا ہوں ا س کا میںگواہ بن سکتا ہوں۔ ’ہندسوراج‘ میرے سامنے نہیں ہے۔ اچھا ہے کہ میں اسی تصویر کو آج اپنی زبان میںکھینچوں۔ پیچھے وہ تصویر 1909جیسی ہی ہے یا نہیں، اس کی مجھیضرورت نہیں رہے گی، نہ تمہیں رہنی چاہیے۔ آخر میںتو میں نے پہلے کیا کہا تھا، اسے ثابت کرنا نہیں ہے، آج میں کیا کہتا ہوں وہی جاننا ضروری ہے۔ میں یہ مانتا ہوں کہ اگر ہندوستان کو کل دیہاتوںمیں ہی رہنا ہوگا، جھوپڑیوں میں، محلوں میں نہیں۔ کئی ارب آدمی شہروں اور محلوں میں سکھ سے اور شانتی سے کبھی نہیں رہ سکتے، نہ ایک دوسرے کا خون کرکے،معنی تشدد سے، نہ جھوٹ سے، یعنی جھوٹ سے۔ سوائے اس جوڑی کے (یعنی سچ اور عدم تشدد)بنی نوع انسان کی تباہی ہی ہے، اس میںمجھے ذرا سا بھی شک نہیں ہے۔ اس سچ اور عدم تشدد کے درشن صرف دیہاتوں کی سادگی میںہی کرسکتے ہیں۔ وہ سادگی چرخہ میںاور چرخہ میںجو چیز بھری ہے اسی پر منحصر ہے۔ مجھے کوئی ڈر نہیںہے کہ دنیا الٹی طرف ہی جارہی دکھائی دیتی ہے۔ یوں تو پتنگا جب اپنی تباہی کی طرف جاتا ہے تب سب سے زیادہ چکر کھاتا ہے اور چکر کھاتے کھاتے جل جاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہندوستان اس پتنگے کے چکر میںسے نہ بچ سکے۔ میرا فرض ہے کہ آخری دم تک اس میں سے اسے اور اس کی معرفت دنیا کو بچانے کی کوشش کروں۔ میرے کہنے کا نچوڑ یہ ہے کہ انسان کی زندگی کے لیے جتنی ضرورت کی چیز ہے، اس پر نجی قابورہنا ہی چاہیے۔ اگر نہ رہے تو انسان بچ ہی نہیںسکتاہے۔ آخر تو دنیا انسانوںکی ہی بنی ہے۔ بوندنہیں ہے تو سمندر نہیںہے ۔ یہ تومیںنے موٹی بات ہی کہی،کوئی نئی بات نہیں کی۔
لیکن ’ہندسوراج‘ میںبھی میںنے یہ بات نہیںکی ہے۔ جدید شاستر کی قدر کرتے ہوئے پرانی بات میںجدید شاستر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں تو پرانی بات اس نئے لباس میںمجھے بہت میٹھی لگتی ہے۔اگر ایسا سمجھوگے کہ میںآج کے دیہاتوںکی بات کرتا ہوںتو میری بات نہیںسمجھوگے۔ میرے دیہات آج میرے تصور میںہی ہیں۔آخر میںتو ہر ایک انسان اپنی تصور کی دنیا میں رہتا ہے۔ اس تصورکے دیہات میں دیہاتی جڑ نہیں ہوگی، خالص شعور ہوگا۔ وہ گندگی میں ، اندھیرے کمرے میںجانور کی زندگی بسر نہیںکرے گا۔ مرد اور عورت دونوں آزای سے رہیںگے اور ساری دنیاکے ساتھ مقابلہ کرنے کو تیار رہیںگے۔وہاںنہ ہیضہ ہوگا،نہ پلیگ ہوگا،نہ چیچک ہوگی۔کوئی کاہلی میںرہ نہیںسکتا ہے، نہ کوئی عیش و آرام میں رہے گا۔ سب کو جسمانی محنت کرنی ہوگی۔ اتنی چیز ہوتے ہوئے میں ایسی بہت سی چیزوں کا خیال کرسکتا ہوں جو بڑے پیمانے پر بنیںگی۔ شاید ریل بھی ہوگی، ڈاک گھر، تارگھر بھی ہوں گے۔ کیا ہوگا، کیانہیں، اس کا مجھے پتہ نہیں ۔ نہ مجھ کو اس کی فکر ہے۔ اصلی بات کو میں قائم کرسکوں تو باقی آنے کی اور رہنے کی خوبی رہے گی اور اصلی بات کو چھوڑ دوں تو سب چھوڑ دیتا ہوں۔
اس روز جب ہم آخر کے دن ورکنگ کمیٹی میں بیٹھے تھے تو ایسا کچھ فیصلہ ہوا تھا کہ اسی چیز کو صاف کرنے کے لیے ورکنگ کمیٹی 2-3 دن کے لیے بیٹھے گی۔ بیٹھے گی تو مجھے اچھا لگے گا، لیکن نہ بیٹھے تب بھی میںچاہتا ہوں کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ اس کے دو سبب ہیں۔ ہمارا تعلق صرف راج کے سبب کا نہیں ہے، اس سے کئی درجہ گہرا ہے۔ اس گہرائی کا میرے پاس کوئی ناپ نہیںہے۔ وہ تعلق ٹوٹ نہیںسکتا۔ اس لیے میںچاہوں گا کہ ہم دونوں میںسے ایک بھی اپنے کو نکمہ نہیں سمجھتے ہیں۔ ہم دونوںہندوستان کی آزادی کے لیے ہی زندہ رہتے ہیں اور اسی آزادی کے لیے ہم کو مرنا بھی اچھا لگے گا۔ ہمیں کسی کی تعریف درکار نہیں ہے۔ تعریف ہو یا گالیاں،ایک ہی چیز ہے۔ خدمت میں اس کی کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ اگر میں 125 سال تک خدمت کرتے کرتے زندہ رہنے کی خواہش کرتا ہوں تب بھی میں آخر میں بوڑھا ہوں اور تم مقابلے میںجوان ہو۔ اسی وجہ سے میںنے کہا ہے کہ میرے وارث تم ہو۔ کم سے کم اس وارث کو میںسمجھ لوں او رمیںکیا ہوں، وہ بھی وارث سمجھ لے تو اچھا ہی ہے او رمجھے چین رہے گا۔
اور ایک بات۔ میںنے تم کو کستوربا ٹرسٹ کے بارے میں اور ہندوستان کے بارے میں لکھا تھا۔ تم نے سوچ کر لکھنے کو کہاتھا ۔ میںپاتا ہوںکہ ہندوستانی سبھا میں تو تمہارا نام ہے ہی۔ ناناوتی نے مجھ کو یاد دلایا کہ تمہارے پاس اور مولانا صاحب کے پاس وہ پہنچ گیا تھا اور تم نے اپنے دستخط دے دیے ہیں۔وہ تو سن1942 میں تھا۔ وہ زمانہ گزر گیا۔ آج ہندوستانی کہاںہے ، اسے جانتے ہو۔ اسی دستخط پر قائم ہوتو میں اس بارے میںتم سے کام لینا چاہتا ہوں۔ دوڑ دھوپ کی ضرورت نہیں رہے گی، لیکن تھوڑا کام کرنے کی ضرورت رہے گی۔
کستوربا اسمارک کا کام پیچیدہ ہے۔ اوپر جو میں نے لکھا ہے وہ اگر تم کو چبھے گا یا چبھتا ہے تو کستوربا اسمارک میںبھی آکر تم کو چین نہیں رہ سکے گا، یہ میںسمجھتا ہوں۔
آخیرکی بات شرت بابو کے ساتھ جو کچھ چنگاریاں پھوٹی ہیں ، اس سے مجھے درد ہوا ہے۔ اس کی جڑ میں نہیںسمجھ سکا۔ تم کو جو کہا ہے اتنا ہی ہے باقی کچھ نہیںرہا ہے تو مجھے کچھ پوچھنا نہیں ہے۔ لیکن کچھ سمجھنے جیسا ہے تو مجھ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس سب کے بارے میں اگر ہمیں ملنا ہی چاہیے تو ہمارے ملنے کا وقت نکالنا چاہیے۔ تم بہت کام کررہے ہو، صحت اچھی رہتی ہوگی۔ اندو ٹھیک ہوگی۔
باپو کے آشیرواد

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *