کیا وادی کشمیر کو ملی ٹنسی کی طرف دھکیلا جارہا ہے؟ وادی میں ملی ٹنسی کا بڑھتا ہوا رجحان

ہارون ریشی

ایک ایسے وقت جب کشمیر میں ایک شدید عوامی ایجی ٹیشن جاری ہے اور وادی پر گزشتہ تقریباً چار ماہ سے عملاً حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے، نوجوانوں میں تشدد کے تئیں ر p-5جحان بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ مبصرین اس بات کو خارج از امکان قرا ر نہیں دے رہے ہیں کہ وادی میں آنے والے دنوں میں ملی ٹنسی کا گراف مزید بڑھ جائے گا۔ کیونکہ اس بات کے بھی آثار نظر آنے لگے ہیں کہ پر تشدد احتجاج کرنے والے نوجوانوں میں بعض اب بندوقیں اپنے ہاتھوں میں لینے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران سیکورٹی فورسز اور پولیس سے ہتھیا ر چھیننے کے متعدد واقعات رونما ہوئے ہیں۔پولیس اس بات کا اعتراف کررہی ہے کہ تین ماہ کے دوران نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں اور پولیس سے کم از کم 60رائفلیں چھینی ہیں۔
یہ سارے واقعات جنوبی کشمیرمیں رونما ہوئے۔ 8جولائی کو برہان وانی کی ہلاکت کے صرف تین دن بعد یعنی11جولائی کو پر تشدد احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی ایک بھیڑ نے جنوبی کشمیر کے دمحال ہانجی پورہ کے پولیس سٹیشن پر دھاوا بول دیا اور وہاں سے 39رائفلیں اڑا لے گئے۔ اسکے بعد فورسز اور پولیس سے ہتھیار چھیننے کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ دمحال ہانجی پورہ میں رونما ہوئے واقعہ کے چند دن بعد نوجوانوں کے ایک گروہ نے جنوبی کشمیر کے ہی ڈورو شاہ آباد میں دُوردرشن ٹائور پر تعینات انڈین ریزروفورسز کے جوانوں سے پانچ بندوقیں چھین لیں۔ اسکے علاوہ کئی سیاسی لیڈروں کی حفاظت پر مامور سیکورٹی اہلکاروں سے ہتھیار چھیننے کے کئی واقعات بھی رونما ہوئے۔
صاف ظاہر ہے کہ جو نوجوان فورسز سے بندوقیں چھین رہے ہیں، وہ ملی ٹنسی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ پولیس کے مطابق حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر ذاکر رشید بٹ نے حال ہی میں اپنے ایک ویڈیو پیغام میں نوجوانوں کو ملی ٹنسی میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے انہیں فورسز سے بندوقیں چھیننے کی صلاح دی۔ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے اس ضمن میں ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’ بدوقیں چھین کر ملی ٹنٹ ایک طرف اپنی اسلحہ کی قلت دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور دوسری جانب وہ اس طرح سے فورسز کو پست ہمت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ پولیس اس پر کام کررہی ہے۔ اسلحہ چھیننے والے عنقریب ہماری گرفت میں ہونگے۔‘‘
تاہم کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا ماننا ہے کہ ملی ٹنسی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو قابو کرنا فورسز کے لئے کوئی آسان کام ثابت نہیں ہوگا۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کارساحل مقبول کہتے ہیں،’’جموں کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں سیکورٹی فورسز اور فوج تعینات ہے لیکن اس کے باوجود یہاں گزشتہ 26سال سے ملی ٹنسی جاری ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اگر ملی ٹنسی کو مکمل طور پر ختم کرنا فوج اور فورسز کے بس میں ہوتا تو یہ کام گزشتہ 26سال میں ہوچکا ہوتا۔‘‘ ساحل نے’’ چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک مفصل بات چیت میں کہاکہ گزشتہ تین ماہ کے حالات و واقعات اور جبر تشدد کے نتیجے میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ملی ٹنسی کی جانب راغب ہوسکتی ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کو روکنے کے لئے لازمی ہے کہ اس مسئلے کو سیاسی طور پر حل کرنے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام اور نوجوان نسل کو لگے کہ کشمیر کا مسئلہ پر امن ذرائع سے حل کیا جارہا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں ملی ٹنسی بڑھنے کے امکان پر ملک بھر کے سنجیدہ فکر طبقات اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ حال ہی میں سی پی رامشوری آئر فائونڈیشن کی گولڈن جوبلی تقریبات میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر نے بھی کشمیر ملی ٹنسی کا تذکرہ کرتے ہوئے اس سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا،’’جب تک ملی ٹنسی کا خطرہ ٹل نہیں جاتا، ملک کی ترقی متاثر رہے گی۔‘‘پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے پر تشدد حالات کے دوران جنوبی کشمیر میں متعدد نوجوان اپنے گھروں سے غائب ہیں، جن کے بارے میں تاثر ہے کہ انہوں نے ملی ٹنسی جوائن کرلی ہو۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد اس کی نماز جنازہ میں لاکھوں لوگوں کی شرکت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ وادی میں ملی ٹنسی کو کافی حد تک عوامی سپورٹ حاصل ہے۔ایس صورتحال میں اگر یہاں ملی ٹنسی نئے سرے سے سر ابھارے گی تو سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے اس سے نمٹنا ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران وادی میں پیدا شدہ حالات نے عام کشمیریوں کو بددل کردیا ہے۔ فورسز کی زیادتیوں کے نتیجے میں عوام نہ صرف ریاستی حکومت بلکہ مین سٹریم جماعتوں سے بھی دور ہوگئے ہیں۔ ایسے حالات میں ملی ٹنسی کے لئے یہاں ایک گرائونڈ تیار ہوچکا ہے۔ صحافی ریاض ملک کہتے ہیں،’’تین ماہ کے دوران فورسز اور پولیس نے لگ بھگ ایک سو افراد کو ہلاک کردیا۔ 13ہزار زخمی ہیں۔ سینکڑوں نوجوانوں کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی۔ فورسز نے سینکڑوں گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔ ایسے حالات میں عوامی غم و غصہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔پولیس ذرائع کہہ رہے ہیں کہ صرف جنوبی کشمیر میں دو سو سے تین سو تک لڑکے ملی ٹنسی میں شامل ہوچکے ہیں۔ میرے خیال سے یہاں سیکورٹی ایجنسیوں اور حکومت نے ہی ملی ٹنسی کے لئے راہ ہموار کردی ہے۔ ‘‘
ریاض کا کہنا ہے کہ وادی میں ملی ٹنسی کے فروغ کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ مرکزی سرکار کچھ ایسے اقدامات کرئے جس سے لگے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو پر امن ذرائع سے حل کرنے میں سنجیدہ ہے۔‘‘اس ساری صورتحال کے باوجود مرکزی سرکار نے تاحال ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا، جس سے لگے کہ وہ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے میں کوئی دلچسپی رکھتی ہے۔ اس صورتحال میں وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ وادی کشمیر میں مستقبل قریب میں حالات ٹھیک ہوجانے کا کوئی امکان نہیں بلکہ عین ممکن ہے کہ یہاں ملی ٹینسی کی شکل میںتشدد کی ایک نئی لہر بپا ہوجائے گی۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *