کوئٹہ حملہ پاکستان کے لئے ایک بار پھر لمحہ فکریہ

damiکوئٹہ کے حالیہ حملے میں 61 اہلکار ہلاک اور 120 زخمی ہوئے۔ دہشت گرد نے پولیس ٹریننگ اکیڈمی کے ہاسٹل میں داخل ہو کر اہلکاروں کو یرغمال بنا یا اور پھر اندھا دھند گولیاں چلانی شروع کردی۔ اطلاع ملتے ہی پاکستان فوج کی اسپیشل ٹیم ، ایف سی اور اے ٹی ایف اہلکار پہنچے اور علاقے کا محاصرہ کر کے کارروائی شروع کردی جس کے بعد علاقہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور دھماکوں کی گرج سے گونج اٹھا۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے ۔یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک بھر خصوصاً بلوچستان میں چین ،پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کی وجہ سے سیکورٹی کے مزید سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔اس دھماکہ کے بعد چین نے ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ حق دوستی نبھاتے ہوئے حادثے کے تفتیشی عمل میں مکمل تعاون دینے کی پیشکش کی ہے۔
کوئٹہ متعدد بار دہشت گردانہ حملوں کا شکار ہوچکا ہے۔ماضی میں یہاںکئی حملے ہوئے ہیں اور ان تمام حملوں کو انجام دینے والی تنظیموں کی جڑیں پاکستان سے ہی ملتی ہیں ۔حالیہ حادثے کو انجام دینے والی تنظیم میں جہاں داعش کا نام آرہا ہے، وہیں آئی جی ایف سی میجر جنرل شیرا فگن نے اس شبہ کا اظہار کیا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی سے ہے۔
اگر ہم کوئٹہ میں گزشتہ کچھ برسوں میں ہونے والے دہشت گردی کے بڑے واقعات کا جائزہ لیں تو ان میں ایک جیسی ہی منصوبہ بندی نظر آتی ہے ۔ 8 اگست2016کوئٹہ سول اسپتال میں ہونے والا دھماکہ 8 اگست2013 کو پولیس لائن کوئٹہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے ساتھ اس لیے مماثلت رکھتا ہے کہ اس دھماکے میں پہلے ایئر پورٹ روڈ پر ایس ایچ او کو ٹارگیٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ سہ پہر کو جب ایس ایچ کی پولیس لائن میں نماز جنازہ ادا کی جارہی تھی تو خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو اڑا دیا۔ اس واقعے میں ڈی آئی جی، سنیئر پولیس افسران سمیت44 پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے اور60 پولیس اہل کار زخمی ہوئے تھے۔ 8 اگست 2016 کی صبح کوئٹہ میں ایک بڑی دہشت گردی اسی منصوبہ کے تحت ہوئی کہ پہلے چھوٹا واقعہ اور پھر اس واقعے کی وجہ سے جمع ہونے والے زیادہ افراد کو نشانہ بنایا جائے۔ کوئٹہ کے علاقے منوجان روڈ پر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلاول انور کاسی نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے تھے، ان کی لاش سول اسپتال لائی گئی تھی۔ لاش ہسپتال پہنچی تو اس وقت وکلا بھی جمع ہونا شروع ہو گئے۔ وکلا کی بڑی تعداد اسپتال میں موجود تھی اور جب بلال انور کاسی کے درجنوں ساتھی وکلا لاش کی طرف بڑھے تو دھماکہ ہو گیا اور ہر طرف لاشیں ہی لاشیں نظر آئیں۔
کوئٹہ کے سول اسپتال پر ہوئے خونریز خود کش بم حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں پرائیویٹ ٹی وی ’ آج‘ نیوز او’ر ڈان نیوز‘ کے کیمرہ مین بھی شامل تھے ۔ جاں بحق ہونے والوں میں اسپتال میں زیر علاج مریضوں کے باہر بیٹھے رشتہ دار بھی شامل تھے۔ خود کش بم حملے میں 74افراد جاں بحق اور120سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تعداد وکلا برادری کی تھی جس میں بلوچستان بار کے سابق صدرباز محمد کاکڑ بھی شامل ہیں۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں دھماکوں کے لیے باقاعدہ پلاننگ کی گئی اور8 اگست کی تاریخ بھی اسی پلاننگ کے تحت رکھی گئی۔ دو دن بعد 11 اگست 2016 کو فیڈرل شریعت کورٹ کے جج ظہور شاہ وانی کے قافلے کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس میں 14 افراد زخمی ہو گئے، جس میں چار پولیس اہلکار بھی شامل تھے ۔ اس واقعہ سے ایک رات پہلے ہی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی ہدایت پر کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کومبنگ آپریشن بھی شروع کیا گیا تھا۔ اب اسی شہر میں ایک پولیس ٹریننگ اکیڈمی پر حملہ کرکے 61 افراد کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔غرضیکہ پاکستان میں دہشت گردوں کے کشت و خون میں کھیلنے کاسلسلہ جاری ہے۔
پاکستان کو دہشت گردوں کو جنم دینے والا ملک کہا جاتا ہے۔اس نے اپنے پڑوسی ملک کو برباد کرنے کی نیت سے دہشت گرد تنظیموں کی افزائش کی۔ آج اس کا خمیازہ اسے خود بھگتنا پر رہا ہے ۔کبھی طالبان کے نام پر پاکستان نے جہادیوں کو تیار کیا تھا۔افغان میں روس کا انخلا اور پھر ملا عمر کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان طالبانیوں نے مختلف تنظیموں کے نام پر پاکستان میں بودو باش اختیار کرلی ۔ ان تنظیموں کا طریقہ یہ ہے کہ جن کی بات پسند نہیں آتی ہے ان کو مار دیتی ہے اور جن کی سوچ مختلف لگی، ان کو اغوا کروا دیتی ہے ۔یہ سلسلہ پاکستان کے لئے ایک عام روایت سی بن چکی ہے۔اس کے علاوہ آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان سے بچ نکلنے والے عناصر بدستور قومی سلامتی کے درپے ہیں اور موقع ملتے ہی خون کی ہولی شروع کر دیتے ہیں۔
کوئٹہ کا حالیہ واقعہ پاکستان کے لئے کوئی نیا نہیں ہے۔ صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ شہر میں پہلا حملہ سردار نثار کی گاڑی پہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ان کا گارڈ اور ڈرائیور ختم ہوئے۔ یہ پہلا قتل تھا مگر اب یہ تعداد ہزاروں میں ہے۔ مارنے والے اتنے اطمینان سے مارنے آتے ہیں گویا انہیں مکمل یقین ہے کہ ان کے اس فعل کے پیچھے مذہب سے لے کر ریاست تک تمام سرکردہ لوگ موجود ہیں۔پاکستان کیلئے ایسا سانحہ کوئی نئی بات نہیں رہی اور سانحے کا معمول بن جانا ہی دراصل سب سے بڑا المیہ ہے ۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ تھوڑئے دن بعد کوئٹہ میں کیا ہوا کسی کو یاد نہیں رہتا سوائے ان کے جن کے گھروں سے جنازئے اٹھے ہیں۔بہر کیف کوئٹہ حادثہ پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔اس کے لئے سوچنے کا موقع ہے کہ وہ اپنی زمین سے دہشت گردوں کا قلع قمع کرے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *