کیرل میں تشدد کا سیاسی کھیل تشویشناک

damiہندوستان میں سیاسی رنجشوں کو لے کر قتل ہونا ویسے تو کوئی نئی بات نہیں ہے۔ عموماً سبھی ریاستوں میں ایسی وارداتین ہوتی رہتی ہیں، لیکن ملک کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ریاست کیرل کے کنّور ضلع کاسیاسی قتل میں خطرناک شکل اختیارکرلینا حیرت انگیز ہے۔ انہی وجوہات سے اس ضلع کو ’موت کی راجدھانی‘ بھی کہا جانے لگا ہے۔ لیکن کنور میں اس خونی سیاست کے لئے کسی ایک پارٹی کو ہی قصوروار ٹھہرانا مناسب نہیں ہے۔ دراصل کنور میں اس غلط روایت میں سبھی پارٹیاں کم و بیش ملوث ہیں۔ یقینا آج کی تاریخ میں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی سبھی اپوزیشن پارٹیوں کے نشانے پر ہے، کیونکہ کنور میں ہونے والے سیاسی قتل میں سی پی ایم کارکنوں کے شامل ہونے سے انکار نہیں کیاجاسکتا ہے۔
کنور میں تمام سیاسی پارٹیوں کے اپنے کارکنوں کے قتل سے متعلق لمبی فہرست ہے،جو سیدھے طور پر سی پی ایم کو قصوروار مانتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو، یہاں ہونے والے زیادہ تر قتل سی پی ایم اور آر ایس ایس ، بی جے پی کارکنوں کے ہوئے ہیں۔ سی پی ایم اور انڈین یونائٹیڈ مسلم لیگ بھی ایک دوسرے کے تئیں حملہ آور ہیں۔ کئی جگہوں پر کانگریس اور سی پی ایم کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں ہوتی ہیں۔حالانکہ کیرل میں آر ایس ایس ،بی جے پی اور مسلم لیگ کے درمیان اتنی زیادہ سیاسی رنجش نہیں ہے۔ کیونکہ ان تنظیموں کو ایک دوسرے سے ووٹ بینک میں سیندھ لگنے کا خطرہ نہیں ہے۔ اس کے برعکس سی پی ایم اور آر ایس ایس ،بی جے پی کے درمیان سیاسی رنجش اس لئے ہے، کیونکہ کیرل میں بطور پارٹی بی جے پی لگاتار مضبوط ہو رہی ہے۔ بی جے پی کے اس ابھار کے پیچھے اس کی مدر آرگنائزیشن راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے زمینی کام کا بھی عمل دخل ہے۔ کیرل کی موجودہ سیاست میں بی جے پی کو ان لوگوں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے،جو کبھی سی پی ایم کے کیڈر ہوا کرتے تھے۔ اصل میں یہاں کی پوری لڑائی ووٹ بینک پر قبضہ جمانے کو لے کر ہے۔ آج بی جے پی کو کیرل میں ان لوگوں کا ووٹ اور سپورٹ مل رہا ہے، جو کبھی سی پی ایم کے حصے میں جاتا تھا۔ کنور سمیت پورے کیرل میں انڈین یونائٹیڈ مسلم لیگ اور بی جے پی ،آر ایس ایس کے درمیان تلخی نہیں ہے۔کیونکہ ان دونوں پارٹیوں کو یہ بخوبی پتہ ہے کہ ان کے ووٹ بینک کو ایک دوسرے سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ جہاں تک کانگریس کی بات ہے، تو کیرل میں کانگریس کو زیادہ تر ہندوئوں اور عسیائیوں کا ووٹ ملتا ہے۔یہ بات دیگر ہے کہ مسلم لیگ کے ساتھ مل کر انتخاب لڑنے کے عوض میں اسے مسلمانوں کا بھی ووٹ ملتا رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کنور میں ہونے والے زیادہ تر قتل سی پی ایم اور آر ایس ایس ،بی جے پی کے کارکنوں کے بیچ ہوتے ہیں۔ لیکن کئی دہائی پہلے کانگریس کے دور میں بھی وہی ہوا کرتا تھا جو آج سی پی ایم کر رہی ہے۔ کیرل سماج وادی پبلک کونسل کے صدر ونود پائڈا بتاتے ہیںکہ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں کنور سمیت پورے مالا بار علاقے میں سوشلسٹ پارٹی کا اچھا خاصہ اثر تھا۔ یہاں کانگریسی کارکن سوشلسٹ پارٹی کے کارکنوں پر ایسے ٹوٹتے تھے، گویا کہ پارلیمانی سیاست میں ان کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ کنور میں جاری سیاسی قتل عام کے لئے ویسے تو سبھی پارٹی ذمہ دار ہیں،لیکن برسوں پہلے اس خونی سیاست کی ابتدا کانگریس نے کی تھی۔
کیرل ریاست میں بی جے پی کے سینئر لیڈر کے رنجیت نے خاص بات چیت میں بتایا کہ، سی پی ایم کی سرکار بننے کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنوں پر حملے کافی بڑھ گئے ہیں۔ موجودہ وزیر اعلیٰ پینا رائی خود آر ایس ایس کارکن ودیکل رام کرشن کے قتل میں ملزم ہیں۔ 28اپریل 1969 میں ہوا قتل کیرل میں بی جے پی، آر ایس ایس کارکن کا پہلا قتل تھا۔ رنجیت کے مطابق کیرل میں اب تک 172 بی جے پی ، آر ایس ایس کارکنوں کا قتل ہو چکا ہے۔ صرف کنور ضلع میں پارٹی سے جڑے 80لوگوں کو سی پی ایم نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ بی جے پی کے مقامی لیڈر پی آر راجن کے مطابق ، سی پی ایم نہیں چاہتی ہے کہ کیرل میں اس کے خلاف کوئی دوسری پارٹی ابھرے۔ اس کی یہ سوچ جمہوری نہیں ہے، ویسے بھی بائیں محاذ سے جمہوریت کی بات کرنابے معنی ہے۔ راجن بتاتے ہیں، کیرل پولیس کو سیاسی تحفظ حاصل ہے، کیونکہ یہاں کانگریس اور سی پی ایم کی پولیس مینس ایسوسی ایشن ہے۔ اگر کیرل میں ایل ڈی ایف کی سرکار بنتی ہے، تو پولیس سی پی ایم کے اشارے پر کام کرتی ہے اور یو ڈی ایف کی سرکار بننے پر پولیس کانگریس کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن جاتی ہے۔ اگر کیرل میں پولیس کو آزادانہ طور سے کام کرنے دیا جائے تو شاید سیاسی قتل بند ہو سکتا ہے۔
کنور میں جاری سیاسی قتل عام کو انڈین یونائٹیڈ مسلم لیگ ( آئی یو ایم ایل ) بے حد بد قسمتی کی بات بتاتے ہوئے اس کے لئے سی پی ایم کو قصوروار مانتی ہے۔ پارٹی جنرل سکریٹری ایڈووکیٹ عبد الکریم نے اس نمائندے کو بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں ان کے کئی کارکنوں کا قتل سی پی ایم کے کارکنوں نے کی ہے۔ان کے مطابق، کیرل میں سی پی ایم کی سرکار بننے کے بعد کنور میں الگ الگ پارٹیوں کے چھ لوگوں کا قتل ہوا جبکہ ساڑھے تین سو لوگوں پر جان لیوا حملے ہوئے ہیں۔ ابھی حال میں انڈین یونائٹیڈ مسلم لیگ کے تین نوجوان کارکنوں انور، شکور اور کے وی ایم منیر کا قتل سی پی ایم کے لوگوں نے کر دیا۔ 70کی دہائی میں کالی کٹ میں بھیانک فرقہ وارانہ فساد ہوا، جس میں سینکڑوں بے گناہ لوگوں کی جانیں گئیں۔ اس فساد کی جڑ میں کوئی اور نہیں ، بلکہ سی پی ایم تھی۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی خود کو غیر جانبدار قرار دیتی ہے،لیکن کالی کٹ فساد کا جب بھی ذکر آتا ہے، تب ان کے لیڈر خاموش ہو جاتے ہیں۔ دراصل ،کیرل میں مسلم لیگ کے کارکنوں پر سی پی ایم حامی اس لئے حملہ کرتے ہیں،کیونکہ ریاست میں مسلمانوں کا یکمشت ووٹ مسلم لیگ کو جاتاہے۔ سی پی ایم اس میں سیندھ لگانا چاہتی ہے،لیکن اس کی تمام کوشش اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔ حالیہ منعقد ہوئے اسمبل انتخابات میں انڈین یونائٹیڈ مسلم لیگ کل 24سیٹوں پر انتخاب لڑی تھی، جس میں پارٹی نے 18 سیٹوں پر جیت حاصل کی۔ اگر پارٹی اکیلے انتخاب لڑتی یا زیادہ سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑی کرتی، تو ان کے ایم ایل اے کی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی تھی، ایسا پارٹی کے کئی بڑے لیڈروں کا ماننا ہے۔
کنور ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر کے سریندرن بھی سیاسی قتل کے لئے سی پی ایم کو ذمہ دار مانتے ہیں۔ ان کے مطابق بائیں محاذ کا نظریہ ہی تشدد پر مبنی ہے۔کہنے کو بائیں محاذ پارٹیاں انتخابات لڑتی ہیں، لیکن جمہوریت پر ان کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ اپنے سیاسی مخالفین کو بائیں محاذ دشمن سمجھتے ہیں۔غور طلب ہے کہ 1973 سے لے کر 2016 تک کل 43کانگریس کارکنوں کا قتل ہوا ۔ جبکہ ڈھائی سو لوگوں پر قاتلانہ حملے ہوئے، جس میں کئی لوگ معذور بھی ہوگئے ہیں۔ کنور میں جاری سیاسی قتل اور سی پی ایم پر اٹھ رہے سوال پر یہ نمائندہ مقامی سی پی ایم دفتر پہنچا، لیکن وہاں موجود لیڈروں نے اس ایشو پر بات کرنے سے منع کر دیا۔ دفتر سے باہر نکلتے وقت ایک کارکن نے سی پی ایم کے ترجمان دیشابھیمانی کے دفتر جانے کی صلاح دی۔ بطور لائبرین وہاں کام کررہے آنجیدرن کے مطابق ’بی جے پی اور آر ایس ایس کا یہ الزام غلط ہے کہ ان کے کارکنوں کے قتل میں سی پی ایم سے جڑے لوگ شامل ہیں۔ان کے مطابق 1994 سے لے کر 2016 کے درمیان 53 سی پی ایم کارکنوں کا قتل آر ایس ایس اور بی جے پی حامیوں نے کر دیا۔ کنور میں کسی بھی سیاسی پارٹی سے جڑے لوگوں کا قتل ہونے پر اپوزیشن پارٹیاں بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے سی پی ایم پر الزام لگا دیتے ہیں۔
کنور میں جاری سیاسی قتل کے بارے میں سیاسی پارٹیوں کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس ایسے واقعات کو روکنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ بی جے پی اور کانگریس کا یہاں تک کہناہے کہ پولیس سرکار کے دبائو میں کام کرتی ہے، اس لئے قصورواروں کے اوپر مناسب کارروائی نہیں ہوتی ۔ حالانکہ کنور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کوری سنجے کمار گرو دین ان الزمات کو خارج کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’مقامی پولیس بغیر کسی جانبداریت کے سیاسی قتل میں شامل لوگوں پر قانونی طور سے کارروائی کرتی ہے۔ ان کے مطابق کنور میں ہونے والے سبھی قتل سیاسی نہیں ہیں۔ لیکن سیاسی فائدے کے لئے ان کو سیاسی رنگ دے دیا جاتاہے۔ کنور پولیس سپرنٹنڈنٹ نے حالانکہ قتل کے تعلق سے ایک اعدادو شمار پیش کئے، لیکن سیاسی پارٹیوں کو اس پر بھروسہ نہیں ہے۔ بی جے پی اور کانگریس لیڈروں کا الزام ہے کہ مقامی پولیس سی پی ایم سرکار کے بائو میں سیاسی قتل سے جڑے اعدادو شمار کو کم کرکے بتا رہی ہے۔ کنور پویس سپرنٹنڈنٹ دفتر سے ملی جانکاری کے مطابق، 1991 سے 2016 کے درمیان کنور میں کل 104 سیاسی قتل ہوئے۔ مرنے والوں میں سب سے زیادہ 42افراد سی پی ایم سے جڑے ہوئے کارکن تھے، جبکہ بی جے پی سے جڑے کارکنوں کی تعداد 41، کانگریس کے 15 اور انڈین یونائٹیڈ مسلم لیگ سے جڑے چار اور دیگر پارٹیوں سے متعلق دو لوگ شامل ہیں۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ کے مطابق یکم مئی 2016 سے 16 ستمبر کے درمیان ضلع میں سیاسی تشدد کی کل 301 وارداتیں ہوئیں۔ پولیس میں رپورٹ درج ہونے کے بعد سب سے زیادہ 485 سی پی سے جڑے لیڈروں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا،جبکہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے جڑے 190، کانگریس کے 42 اور دیگر پارٹیوں سے متعلق 113 لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔
ہائی لائٹ:
ہر آنگن میں ماتم
کنور ضلع کا تلشری اور پینور تعلقہ سیاسی قتل کا مرکز بن چکا ہے۔ گزشتہ کچھ دہائیوں میں یہاں مختلف سیاسی پارٹیوں سے متعلق سینکڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیاہے۔کیرل میں سی پی ایم کی سرکار بننے کے بعد یہاں سیاسی رنجشوں میں غیر متوقعہ اضافہ ہوا ہے۔ گائوں انور میں گزشتہ 11جولائی 2016 بھارتیہ مزدور سنگھ ( بی ایم ایس ) سے جڑے آٹو ڈرائیور رام چندرن کو رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے سی پی ایم کے نصف درجن ہتھیار بند لوگوں نے گھر میں گھس کر قتل کردیا۔ ایک معمولی خاندان سے تعلق رکھنے والے رام چندرن کی بیوہ اور دو چھوٹے بچے ہیں۔ اس حادثے کے بعد آر ایس ایس نے رام چندرن کے متاثر خاندان کو بیس لاکھ روپے کا مالی تعاون دیا،لیکن گھر میں اکلوتا کمانے والے ممبر کی غیر موجودگی اس خاندان کو برابر ستاتی رہے گی۔ انور گائوں سے تقریباً15 کلو میٹر دور رامندلی گائوں میں اسی دن سی پی ایم کارکن سی وی دھن راج کا قتل آر ایس ایس سے جڑے کارکنوں نے کر دیا۔ دھن راج کے دو بیٹے ہیں، جن کی عمر بالترتیب دس اور ڈھائی سال ہے۔ سی پی ایم کی طرف سے دھن راج کے پوسٹر تو پورے کنور ضلع میں چسپاں کر دیئے گئے، لیکن اس متاثر خاندان کو پارٹی کی طرف سے کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے۔ دھن راج کی بیوی سجنی کے مطابق ،سی پی ایم سے جڑے لیڈر گھر آکر تسلی تو دے رہے ہیں، لیکن کسی نے بھی مالی مدد کا وسہ نہیں دیا ہے۔
کنّور یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے خصوصی انٹرویو:
کنو ر میں جاری سیاسی قتل عام شرمناک
ریاست کے تعلیم یافتہ ہونے اور ترقی کا ذکر ہونے پر کیرل کا نام آنا لازمی ہے،لیکن اس کے برعکس یہاں کی سیاست میں سیاسی پارٹیوں کے درمیان آپسی رنجش اور اس کے نتیجے میں ہونے والے قتل و غارت کے واقعات سے دانشور اور پڑھا لکھا طبقہ بھی بے حد پریشان ہے۔ مالا بار علاقے میں جاری سیاسی تشدد کے لامتناہی سلسلے ابھیشیک رنجن سنگھ کے سوالوں کا جواب دے رہے ہیں کنور یونیورسٹی کے وائس چانسلر ایم کے عبد القادر
کیرل ملک کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ریاست ہے۔،باوجود اس کے کنور اور کوجھی کوڈ(کالی کٹ) علاقوں میں سیاسی قتل گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔ آخر اس تشدد کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
شمالی کیرل کے جاری سیاسی فسادات کی موجودگی صورت حال سے پہلے میں آپ کو مالا بار علاقے کی تاریخ کے بارے میں تھوڑا بتانا چاہوں گا ۔کئی سو سال پہلے کوجھی کوڈ یعنی کالی کٹ میں نائر حکمرنوں کی سلطنت ہوا کرتی تھی۔یہاںکے راجا سامورتھی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ اقتدار حاصل کرنے کے لئے اس شاہی گھرانے کی لڑائی چیرا نام کی ایک لڑاکو ذات سے ہوتی تھی۔ ان لوگوں کے درمیان جنگ کے اپنے کچھ خاص ضابطے اور طریقے تھے۔یہ لوگ سال میں ایک بار لڑائی لڑتے تھے۔ اس جنگ کو ’مامنگم‘ کہا جاتا تھا، جو آج بھی کنور سمیت پورے مالا بار علاقے میں ایک جشن کی شکل میں منایا جاتا ہے۔ ’مامنگم‘ لڑائی میں ہمیشہ ساموتھری شاہی گھرانے کی جیت ہوتی تھی،لیکن شکست کے باوجود بھی چیرا طبقہ کے لوگوں نے کبھی ہار نہیں مانی۔ تاریخ داں کے مطابق ہندوستان کی آزادی کے بعد تک یعنی زمینداری کے خاتمے کے پہلے مالا بار علاقے میں آپسی تسلط کے لئے ان دونوں قوموں کے بیچ جنگ ہوتی رہی ہیں۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں رکھتا کہ کنور سمیت پورے مالا بار علاقے کے لوگوں میں تشدد کا مزاج ہے،لیکن کچھ حد تک اس میں سچائی ضرور ہے کہ یہ علاقہ سینکڑوں سالوں سے بد امنی اور لڑائیوں کی زد میں رہا ہے۔
کانگریس، مسلم لیگ، بی جے پی اور آر ایس ایس کنور میں جاری سیاسی تشدد کے لئے مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے لوگوں کو ذمہ دار مانتی ہے، اس الزام میں کتنی سچائی ہے؟
یہ بات صحیح ہے کہ کنور میں ہونے والے زیادہ تر سیاسی قتل میں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر اور کارکن شامل رہے ہیں، لیکن اس معاملے میں آر ایس ایس، بی جے پی اور کانگریس کے کارکن بھی کم قصوروار نہیں ہیں۔جن علاقوں میں سی پ ایم کا تسلط ہے، وہاں ان کے کارکن پُرتشدد واقعات کو انجام دیتے ہیں۔ اسی طرح جن علاقوں میں بی جے پی اور آر ایس ایس کا دخل ہے، وہاں ان کے حامی سی پی ایم سے جڑے لوگوں پر حملہ کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ آج سے نہیں ،بلکہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ پہلے بنیادی طور سے کانگریس بنام سی پی ایم کے بیچ جھڑپیں ہوتی تھی، لیکن اب یہ لڑائی آر ایس ایس اور سی پی ایم کے درمیان مرتکز ہو گئی ہے۔
کنور کو موت کا مرکز بھی کہا جانے لگا ہے، آخر اس منفی شبیہ سے ابھرنے کا کوئی راستہ ہے یا نہیں ؟
کنور میں جاری سیاسی قتل عام کے واقعات سے پورا کیرل شرمسار ہے۔ ملک میں اسے لے کر اس ریاست کی ایک غلط شبیہ سامنے آرہی ہے۔ میرے خیال سے جمہوریت میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔ اس کا علم ہر اس پارٹیوں کو ہونا چاہئے، جو کیرل کی سیاست میں سرگرم ہیں۔ سبھی سیاسی پارٹیوں کے اپنے نظریات ہوتے ہیں۔، ہر آدمی چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے جڑا ہو، اس کے لئے اپنی پارٹی کے نظریات اہم ہوتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ ہم ان نظریات یا اس پارٹی کے لیڈروں سے نفرت کریں، جن سے ہماری نظریاتی ہم آہنگی نہیں ہے۔افسوس کی بات ہے کہ آج کیرل میں یہی ہو رہا ہے۔ یہاں سی پی ایم سے جڑے لوگ آر ایس ایس اور بی جے پی سے نفرت کرتے ہیں، جبکہ مسلم لیگ کے لیڈر سی پی ایم اور بی جے پی لیڈروں سے نفرت کرتے ہیں۔ کنور میں ہونے والے سیاسی قتل کو روکا جاسکتا ہے،لیکن اس کے لئے سبھی سیاسی پارٹیوں کو آپسی تفریق بھلا کر قوت ارادی کا ثبوت دینا ہوگا، کیونکہ اگر آنے والے دنوں میں یہ سلسلہ نہیںرکا تو اس کی قیمت تمام سیاسی پارٹیوں کو چکانی پڑے گی۔ وہ اس لئے کہ آج ہر پارٹی کے عام کارکنوں کا قتل ہو رہا ہے،لیکن کل انہی پارٹیوں کے بڑے لیڈروں کو بے رحمی سے سرعام قتل کیا جاسکت ہے۔
ان تمام سیاسی قتل عام کو لے کر مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی اور آر ایس ایس کو ذمہ دار کیوں ٹھہرایا جارہا ہے؟
میرا یہ ماننا ہے کہ کنور میں جاری سیاسی تشدد کے لئے سب سے زیادہ سی پی ایم جوابدہ ہے۔ آخر مذہب پر مبنی یہاں دو بنیادی تنظیمیں ہیں، ایک آر ایس ایس اور دوسری مسلم لیگ۔ ان دونوں کے درمیان تو سب سے زیادہ پرتشدد جھڑپیں ہونی چاہئے تھی، لیکن صورت حال اس کے برعکس ہے۔ کنور سمیت کیرل کے دیگر علاقوں میں مسلم لیگ کے کارکن سی پی ایم سے جڑے لوگوں سے پریشان ہیں، کانگریس اور بی جے پی کے کارکنوں پر بھی سی پی ایم کے لوگ حملہ کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گزشتہ سالوں میں آر ایس ایس اور بی جے پی کیرل میں مضبوط ہوئی ہے۔ حالیہ انتخابات پر اگر غور کریں تو بی جے پی کو انتخابی فائدہ بیشک نہیں ہوا،لیکن اس کے ووٹ فیصد میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔کیرل میں بی جے پی کی یہی موجودگی سی پی ایم کو راس نہیں آرہی ہے۔ نتیجتاً ان دونوں تنظیموں کے بیچ پُر تشدد جھڑ پوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھنے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملککے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Share Article

ابھیشیک رنجن سنگھ

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونکیشن (آئی آئی ایم سی) نئی دہلی سے صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے ابھیشیک رنجن سنگھ نے اپنے صحافی کریئر کا آغاز سکال میڈیا گروپ سے کیا۔ اس کے بعد تقریباً سال بھر تک ایک کاروباری جریدہ میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دیں۔ سال 2009 میں دہلی سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ میں کام کرنے کے بعد یو این آئی ٹی وی سروس میں اسسٹنٹ پروڈیوسر کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس کے علاوہ ابھیشیک رنجن سنگھ آل انڈیا ریڈیو میں بھی مذاکرات کار کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی اہم اخبارات میں آپ کے مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کو ہندی میں نظمیں لکھنے کے علاوہ غزلوں کے بے حد شوق ہے۔ فی الحال ہفت روزہ چوتھی دنیا میں بطور نامہ نگار اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *