کشمیریوں کے خوابوں کا ہندوستان ابھی مرا نہیں ہے

dami00جہاں تک کشمیرمسئلے کا تعلق ہے، تو دو باتیں ہمیںذہن میں رکھنی ہوںگی۔ کشمیری عوام اپنی پہچان کو لے کر بہت ہی حساس رہے ہیں ۔اگر اس سوال کو الگ بھی کر دیا جائے کہ 1947 سے پہلے ڈوگرا حکومت کے خلاف ایک کشمیری تحریک تھی، تو بھی تاریخ کے واقعات بتاتے ہیں کہ اس سے پہلے مغلوں کے خلاف لڑائی تھی، پٹھانوں کے خلاف لڑائی تھی اور سکھوں کی حکومت کے خلاف لڑائی تھی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کشمیری عوام پہلے سے ہی اپنی کثیر ثقافتی شناخت کے بارے میں کافی حساس رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو تقسیم ہوئی (ہماری نظر میں جب تقسیم کا ٹراما ہوا) وہ ابھی بھی ہماری نفسیات کا ، پورے بر صغیر کی نفیسات کا ایک حصہ بنا ہوا ہے۔ابھی بھی دونوں نیشن اسٹیٹس نے اس واقعے پر قابو نہیں پایا ہے۔کشمیر اسی واقعہ کا ایک حصہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تقسیم کے بعد جب کشمیر کے عوام کے سامنے یہ سوال آیا کہ ُادھر (پاکستان ) جانا ہے یا اِدھر (ہندوستان میں ) رہنا ہے تو یہاں کی اس وقت کی مقبول قیادت نے یہ فیصلہ کیا کہ مذہب قومیت کی بنیاد نہیں بن سکتا۔اس لئے کشمیر چھوڑو تحریک اور ہندوستان چھوڑو تحریک کے درمیان اقدار (ویلوز) کا اور سمت (ڈائریکشن) کا ایک ڈھانچہ تھا جس کے اندر رہ کرایک رشتہ بن سکتا تھا۔ لہٰذا ایک اضافی رشتہ بنا ، جسے ہم الحاق کا معاہدہ ( انسٹرومنٹ آف ایکسیشن) کے نام سے جانتے ہیں۔ آج لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ صرف قانونی سوال نہیں ہے کہ الحاق کے معاہدے جو کہ قانونی فریم کا ایک حصہ ہے، کی قانونی حیثیت کیا ہے۔لیکن اس کے علاوہ اس رشتے کے لئے ایک اخلاقی بندھن ہے اور ایک اخلاقی سپورٹ ہے۔ بیشک کچھ شرطوں کے ساتھ، یہ شرطیں کیا تھیں؟ شرطیں تھیں کہ دہلی کے ساتھ، ہندوستان کے ساتھ ایک رشتہ بنے اور اس رشتے سے ہماری پہچان محفوظ رہے، کثیر ثقافتی شناخت محفوط رہے۔ اس لئے ہندوستان آئین میں آرٹیکل 370 وجود میں آیا۔ ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی اور کشمیر کی آئین ساز اسمبلی دونوں اس رشتے کی بنیاد آرٹیکل 370 پر رکھنے پر راضی ہوئیں۔
آرٹیکل 370 کا مطلب ہے کہ جموں و کشمیر کی ایک خود مختار حیثیت رہے ۔یہاں مشترکہ خود مختاری ہو ( جس کو آج لوگ بھول جاتے ہیں)، یعنی کئی معاملات میں پوری پوری خود مختاری رہے، اٹانومی بنی رہے ،جموں و کشمیر کے عوام کے لئے ریزیڈیول پاور س بنی رہے اور ساتھ ہی ساتھ کئی معاملات خاص طور پر تین معاملوں میں ہندوستان کی سرکار کا اختیار بنا رہے۔یہ رشتہ بنا اور اس رشتے کو دھیان میں رکھتے ہوئے بعد میں جو یکطرفہ بدلائو آئے، اس کا نتیجہ یہ بھی تھا کہ جو قیادت ایک پل کی حیثیت سے سامنے آئی، اس پل کو یہاں کے مقبول لیڈر شیخ عبد اللہ کو من مانے ڈھنگ سے گرفتار کرکے، ان کی سرکار کو برخاست کرکے اور ایک کٹھ پتلی سرکار کو اقتدار میں بٹھا کر لگ بھگ ختم کر دیا گیا۔ میرے حساب سے اس رشتے پر یہ سب سے بڑی چوٹ تھی۔ ہندوستان اور کشمیر کے درمیان جو اخلاقی بندھن تھا اس کو یہ ایک زبردست دھکا تھا، جو آج تک بھی سنبھل نہ سکا، جو بڑھتا ہی گیا۔ اس کے بعد جو بھی ہوا، وہ اسی بنیاد پر ہوا۔ اس میں دو باتیں رہیں۔پہلی، حکومت ہند کی طرف سے ایکمیکزم لسٹ پوزیشن رہی اور دوسری، جو سیکولر ڈھانچہ تھا، اس میں بھی میجوریٹاریانزم کی ایک شکل موجود رہی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے لئے یہ برداشت سے باہر تھا کہ ایک مسلم اکثریتی ریاست کو ایک خود مختار ریاست کی حیثیت ملے ، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
آج بھی کشمیر میںجو یہ ابال رہا، اس کا سبب بھی یہی ہے کہ بہت سارے وعدے کئے گئے تھے اور ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ آرٹیکل 370 کو بھی کمزور کیا گیا، یعنی کشمیر کو جو ایک خود مختاری کا درجہ ملا ہوا تھا،نہ صرف یہ کہ اسے کمزور کیا گیا، بلکہ اپنے ایک بہت ہی بھروسہ مند انسٹرومنٹ جگموہن کے ذریعہ آرٹیکل 249 لاگو کیا گیا۔ لہٰذا باقی کی ریاستوں کو جو اختیارات ہیں، قانون سازی کے اختیارات ہیں ان کے مقابلے میں جموں و کشمیرکے اختیارات کو کم کیاگیا۔ اب راجیہ سبھا ایک ریزولیوشن کے ذریعہ کوئی بھی ترمیم لا سکتی ہے اور اب کانسٹی ٹیوشن میں امینڈمنٹ کی ضرورت نہیں ہے،بلکہ راجیہ سبھا اور لوک سبھا اکٹھے مل کرکوئی ریزولیوشن یہ کر سکتے ہیں(آرٹیکل 249)۔یعنی کشمیریوں میں جو ایک رشتے کی بنیاد بنی تھی، اس کو بری طرح سے کمزور کیا گیا اور جس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں میں شروع سے ہی بے چینی رہی، غیر یقینی صورت حال رہی۔ غیر یقینی صورت حال کا علاج کرائسس مینجمنٹ کے فارمولے سے کیا گیا۔ یہ فارمولہ تھا کبھی ایک کو لائو، کبھی دوسرے کو لائو، کبھی کسی کو گرفتار کرو، کبھی کسی کو چھوڑ دو۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کشمیر کی تاریخ میں ایک لمبے وقت تک عوام کے لئے جمہوریت نہیں آنے دی گئی ہے۔اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب شیخ صاحب اور اندرا جی کے درمیان 1974-75 میں سمجھوتہ ہوا، تو 1953 کے بعد 1977 میں پہلا ایسا انتخاب ہوا جسے مقبول انتخاب کہا جاتا ہے۔ اس وقت دہلی میں جنتا پارٹی کی سرکار تھی اور یہ جو بہت سارے علاحدگی پسند پلیٹ فارم ہیں، وہ ایک بار انتخاب میں آئے۔ انہوں نے جنتا پارٹی کے ارد گرد انتخاب لڑا۔ مرحوم عبدالغنی لون صاحب جنتا پارٹی کی پہلی صف کے لیڈر تھے، مرحوم میر واعظ حامی تھے ان کے، یہاں تک کہ جماعت اسلامی بھی ان کے ساتھ تھی،لیکن ان کے پاس منڈیٹ نہیں تھا، ان کے پاس عوامی حمایت نہیں تھی۔ شیخ صاحب نے انتخاب جیتا اور اس کے بعد جب ان کی وفات ہو گئی تو ان کے بیٹے فاروق عبد اللہ صاحب آئے۔ بڑا مینڈیٹ تھا ۔دھاندلی سے پاک انتخاب ہوئے تھے۔ لیکن پھر وزیر اعظم اندرا جی، جگموہن صاحب گورنر تھے۔بی کے نہرو صاحب (گورنر) خود کہتے ہیں کہ انہیں حکم ملا تھا کہ فارق عبداللہ کی سرکار کو برخاست کیا جائے،لیکن انہوں نے حکم کو مانا نہیں۔پھر انسٹرومنٹ آف گورنر استعمال کیا جگموہن صاحب کو اور دلبدل کی صورت حال پیدا کرکے ایک منتخب سرکار کو دن کے اجالے میں ہی برخاست کر دیا گیا۔ خیال رہے کہ اس وقت فی الحال یہاں کرفیو کا جو سلسلہ رہا، اس وقت بھی سب سے لمبا کرفیو رہا تھا۔ اس وقت بھی لوگوں نے احتجاج کیا تھا۔ سری نگر میں غلام محمد شاہ کے دور حکومت کو کرفیو راج مانا جاتا تھا۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو وعدہ خلافی کی تاریخ ہے، یہ جو جمہوریت سے محروم رکھنے کی تاریخ ہے۔ اس کی لمبی لمبی داستانیں ہیں۔ بھلے ہی دہلی میں کسی کی بھی سرکار رہی ہو، بار بار کوشش یہی رہی کہکشمیر کے جو بھی آئینی اختیار ہیں ،اسے کم کیا جائے اور شہریوں کو آئین کے تحت جو بھی اختیار ملتے ہیں، ان کے ساتھ بھی کھلواڑ کیا جائے ۔یہ ایک لمبی داستان ہے۔ اس میں شہری آزادی کا سوال ہے، اندھا دھند گرفتاری کا سوال ہے،لاٹھیوں کا سوال ہے، فوج کا سوال ہے اور باقی چیزوں کا سوال ہے۔
پھر 1990 کی دہائی میں آپ نے دیکھ لیا کہ اس مسئلے نے ایک نیا خط و خال اختیار کرلیا، پورے طور سے انتہا پسندی کی شکل اختیار کرلی ۔بیشک پاکستان اس کا حصہ تھا۔ اس بات کا مجھے یقین ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایمانداری کے ساتھ کام نہیں کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ایک سچائی ہے کہ تقسیم کے بعد سے اب تک پاکستان اور ہندوستان نے کئی جنگیں لڑیں اور کئی سمجھوتے کئے۔ یہ بھی ایک سچائی ہے کہ اگر آپ ایل او سی کو دیکھیں گے تو شاید ملک کی تقسیم کے بعد سے اب تک بارڈر نہیں ہے۔ایک حصہ ہے جہاں اب بھی مستقل بارڈر نہیں ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟اس کا مطلب ہے کہ اس میں کچھ جھگڑا ہے۔کوئی جھگڑا ہے تبھی یہ پہلے ایل او اے سی تھا، اب ایل او سی ہے۔ مستقل بارڈر نہیں بنا۔ تو یہ سب چیزیں جو ہیں۔ پاکستان کا فیکٹر میں نے اس لئے دوہرایا کیونکہ ان کی طرف سے بھی اپنی کوششیں جاری رہیں، کبھی ایک شکل میں کبھی دوسری شکل میں۔
1947 میں تقسیم کے وقت جب جموں میں فرقہ وارانہ فساد ہوئے جس میں کافی لوگ مارے گئے، جب پنجاب کے بارڈر پر بھی خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں، اس وقت بھی کشمیر ایک ایسی جگہ تھا جہاں ایک بھی فرقہ وارانہ واردات نہیں ہوئی۔ تو کشمیر کی وہ پہچان بدل گئی۔یہ پہچان کسی اور چیز کی وجہ سے نہیں بلکہ لگاتار آنے والی سرکاروں کی پالیسیوں کی وجہ سے بدلی۔ ایک بڑا ویکیوم بن گیا۔ اس ویکیوم کا فائدہ مذہبی انتہا پسندی نے اٹھایا ، جموں میں بھی اور کشمیر میں بھی۔ آج حالات یہ ہیں کہ جموں اور کشمیر کے درمیان پولرائزیشن ہے۔ جو رہی صحیح کسر تھی بی جے پی کی اقتدار میں حصہ داری نے پوری کر دی۔ اب کشمیری عوام ایک بار پھر زیادہ خطرہ محسوس کرنے لگے ہیں۔ جیسے ان کے پاس نام کا ہی جو بچا کھچا آرٹیکل 370 تھا، وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ ان کے کارکن کبھی ایک عدالت میں کبھی ایک ڈھنگ سے کبھی دوسرے ڈھنگ سے اسٹیٹ سبجکٹس کے قانونوں کو چیلنج دے رہے ہیں اور کبھی 370 کو بحث کا ایشو بنایا جارہا ہے۔ درحقیقت آج کشمیر ی عوام زیادہ خطرہ محسوس کررہے ہیں۔
ابھی 2014 میں جو انتخابات ہوئے، ان میں پی ڈی پی، جو نیشنل کانفرنس کے ایک متبادل کے طور پر دیکھی جارہی تھی، کو ایک بڑا مینڈیٹ ملا۔ پی ڈی پی کے ایجنڈے میں اور باتوں کے علاوہ یہ سوال بھی تھا کہ بی جے پی کا خطرہ ہے، بی جے پی کا سیلاب آنے والا ہے، اس کو روکنے کے لئے طاقت چاہئے، طاقتور پلیٹ فارم چاہئے جو پی ڈی پی کے پاس ہے۔لیکن لوگوں کو تب بہت زیادہ مایوسی ہوئی جب اسی پارٹی نے بی جے پی کے ساتھ مل کر سرکار بنانے کے لئے سمجھوتہ کیا۔ لوگوں نے اس کو سرینڈر مانا ۔جب پورے ملک میں بیف کا سوال اٹھا، اتر پردیش میں جس طرح سے اخلاق کو پیٹ پیٹ کر قتل کیا گیا اور یہاں اودھم پور میں بھی ایک کشمیری کو مارا گیا، اس کے ساتھ ساتھ کشمیر میں آرمی کالونی بنانے کی بات چلی،کبھی کشمیری پنڈتوں کو کمپوزٹ طریقے سے نو آباد کرنے کے بجائے الگ کالونی بنانے کی بات ہوئی۔ان سبھی چیزوں نے ایک خوف کا ماحول پیدا کیا، ایک عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔ سب یہ اکٹھا ہوتا گیا اور ہماری نظر میں یہ اکٹھا ہوا غصہ ہے، جس کا اظہار آج کے بڑے احتجاج میں اور یہاں جاری افراتفری میں ہوا ہے اور جو کہ ہر لحاظ سے بے مثال ہے۔ اسے ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ یہ (جیسا کہ پورے ملک میں چرچا ہے) پاکستان کی وجہ سے ہے، دہشت گردی کی وجہ سے ہے۔یہ بالکل صحیح ہے کہ پاکستان کی اپنی دخل اندازی ہے۔ دہشت گردی کا حصہ بھی موجود ہے،لیکن اس احتجاج کو پاکستان اور دہشت گردی کی ہی ایک سازش قرار دے دینا بالکل غلط ہوگا۔ صحیح یہی ہے کہ زیادتیوں اور غلطیوں کا آج تک جو سلسلہ جاری رکھا گیا، یہ اسی کے احساس کا نتیجہ ہے۔ درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
مجھے افسوس یہ ہے کہ لوگ بھی مرے، کافی گھر بھی اجڑ گئے، بزنس تباہ ہے۔ آج اتنا وقت ہوا اور سب کچھ مفلوج ہے،لیکن ہندوستانی سرکار ابھی بھی ڈائیلاگ کی بات کرنے سے ہچکچاتی ہے۔ ہم اپوزیشن کے لیڈر 22اگست کو ہندوستان کے وزیر اعظم سے ملے تھے۔ ہم نے وہاں اپیل کی کہ یہ سیاسی مسئلہ ہے،یہ درد سیاسی ہے اور اپنے لوگوں کو منوانے کے لئے ایک ہی راستہ ہے،وہ راستہ ہے سیاسی راستہ، سیاسی ڈائیلاگ۔ ہم نے یہ بھی کہا کہ اس درد سے اگر آنکھیں بند کی جائیں گی تو نہ صرف جموں و کشمیر کا نقصان ہوگا بلکہ پورے بر صغیر کا نقصان ہوگا اور ملک کا بھی نقصان ہوگا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس حقیقت کو مانا جائے اور ڈائیلاگ کی پیش قدمی کی جائے۔ بعد میں پی ایم او سے ایک لیٹر ملا ،اس میں لکھا گیا تھا کہ اس مسئلے کا آخری حل ڈھونڈنے کے لئے ڈائیلاگ کا عمل ہی صحیح راستہ ہے۔لیکن 22اگست سے آج تک انتظار کررہے ہیں ہم کہ کہیں سے بھی کوئی ایک قدم اٹھایا جائے۔لیکن ڈائیلاگ کی سمت میں ایسا ہو نہیں رہا۔
ایک مانگ کی تھی ہم نے کہ ہمارے لوگ جو ہیں، ہمارے نوجوان جو ہیں، کئی لوگ تو مارے گئے، لیکن کئی لوگ ہیں جن کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے ،وہ اندھے ہو گئے ہیں۔ ہمیں اندھا ہونے سے بچائیے اور ہمیں یہ پیلیٹ گن سے نجات دلائیے۔ ہماری باتیں چرچا میں لائی گئیں پارلیمنٹ میں اور پارلیمنٹ کے باہر بھی، لیکن پیلیٹ گن کا استعمال ( یہ مضمون لکھے جانے تک ) اب بھی جاری ہے۔
آج بھی ایک ہی راستہ ہے سرکاروں کے پاس کہ دہلی سے سری نگر تک گرفتاریاں کرتے رہو اور گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرتے رہو۔ ہماری نظر میں طاقت کے بے تحاشہ استعمال ، اندھا دھند گرفتاریاں ،پیلیٹ گن کے استعمال سے مسائل کل بھی حل نہیں ہوئے تھے اور آج بھی نہیںہوئے ہیں۔ اس سے مرض بڑھتا ہی جائے گا۔ مانا آگ بجھ جائے گی آج، لوگ تھک جائیں گے۔لیکن چنگاری بدستور رہے گی۔ کل کیا ہوگا؟کل آج سے خراب ہی ہوگا۔ یہ ہمارا ڈر ہے ،ہمارا اندیشہ ہے ۔آج بھی ہماری اپیل ہے ڈیموکریٹک سیکشن سے،ہمیں یہ امید ہے کہ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں کافی لوگ ہیں جن میں آج بھی لوگوں کے حقوق کے بارے میں تڑپ ہے،لوگوں کے بارے میں فکر ہے۔ ابھی وہ ہندوستان جس کے بارے میں کشمیریوں نے کبھی خواب دیکھا تھا وہ مرا نہیں۔ وہ اب بھی موجود ہے۔ہمیں امید ہے کہ ڈیموکریٹک سیکشن چاہے وہ پارلیمنٹ میں ہو ںیا پارلیمنٹ سے باہر ،وہ آواز اٹھائیں گے تاکہ کشمیریوں کو انصاف ملے اور انصاف نہ ملے تو یہ راستہ ہم سب کے لئے کل اور زیادہ خطرناک بن سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *