کشمیر کے 6 حصے کو ملا کر بات چیت ہو

کشمیر کا ایک سب سے بڑا پینچ کشمیر کے بارے میں، کشمیر کے علاوہ ہندوستان کے لوگوں کو جانکاریاں بہت کم ہیں۔جو کشمیر جاتے ہیں، وہ شکارے میں بیٹھنے، کشمیر کے حسن کو دیکھنے، وہاں گھومنے، سیر و تفریح کے لئے جاتے ہیں۔ کشمیر میں کیاہو رہا ہے، کشمیر کے لوگ کیسے جی رہے ہیں، کشمیر کے لیڈروں کی سچائی کیا ہے،یہ سب وہ نہیں جاننا چاہتے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ دوسری طرف، پورے ہندوستان میں کشمیر کو لے کر ایک عام رائے بنی ہوئی ہے کہ کشمیرمیں آرٹیکل 370 ختم ہونی چاہئے اورآرٹیکل 370 ختم ہوتے ہی کشمیر ہمارا لازمی حصہ بن جائے گا۔ آرٹیکل 370 کو وہ کشمیر کے آندولن کی وجہ مانتے ہیں۔ یہ اتنی بڑی غلط فہمی ہے کہ اسے نہ میڈیا دور کرتا ہے، نہ سرکار دور کرتی ہے، بلکہ یہ غلط فہمی اور بڑھاتی ہے کہ کشمیر کے لوگ آرٹیکل 370 اس لئے بنائے رکھنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ پاکستان میں مل سکیں اور وہاں جتنے آندولن ہو رہے ہیں، وہ سب پاکستان میں شامل ہونے کے لئے ہورہے ہیں۔
ان ساری چیزوں کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سرکاری ایجنسیاں، سرکار کا تشہیری محکمہ اور میڈیا، سب نے ایک غیر مناسب گٹھ جوڑ کررکھا ہے اور ہم کشمیر کی سچائی ہندوستان کے لوگوں کو بتانا نہیں چاہتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہورہا ہے کہ جہاں کشمیر آج تک جمہوری طریقہ کار کا چہرہ نہیں دیکھ پایا، وہیں پورے ہندوستان میں جمہوری طریقہ کار ختم ہو رہے ہیں اور وہ طریقے، جو تاناشاہی طریقے ہیں، جو جبر کے طریقے ہیں، انہیں ہی جمہوری طریقہ ماننے کا مشن تیز ہو گیا ہے۔
ایک سب سے بڑا خلاصہ میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ دنوں کشمیر کے کئی دوروں کے دوران میری جتنے کشمیری لیڈروں سے بات چیت ہوئی،خاص طور پر سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، پروفیسر غنی بٹ، ان سب نے ہر بار یہ صاف کہا کہ ان کے آندولن کا مطلب پاکستان میں جانا قطعی نہیں ہے۔وہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان کی سرکار نے جو سمجھوتہ مہاراجہ ہری سنگھ سے کیا تھا اور اپنی طرف سے جو وعدے اقوام متحدہ میں کئے تھے، ان وعدوں کو ہندوستان پورا کرے۔ ان کا صاف کہنا ہے، جو تاریخی طور سے سچ ہے کہ ہندوستان کا حصہ کشمیر کبھی نہیں رہا۔کشمیر کا مطلب کشمیر کے سارے حصے، تین حصے جو آج ہندوستان کے ساتھ ہیں،اور تین جو آج پاکستان کے ساتھ ہیں۔ جب ہندوستان اور پاکستان ایک تھا یعنی 1947 سے پہلے، انگریزوں کے زمانے میں ،تب بھی کشمیر آزاد ریاست تھا۔ وہاں پر انگریزوں نے کبھی قبضہ نہیں کیا تھا، جو ایک ہندوستان کی شکل میں دیکھا جاتا، جو انگریزوں کے تحت تھا، جن سے ہمیں آزادی ملی تھی۔ وہاں پر مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی۔ جب 1947 میں آزادی ملی اور اس کے بعد جو تقسیم ہوئی، قتل عام ہوا، آپا دھاپی ہوئی،اس آپا دھاپی میں بھی کشمیر میں فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا، نہ وہاں کوئی ہندو مارا گیا، نہ مسلمان۔ اس وقت ایک سمجھوتہ ، چونکہ قبائلی کشمیر میں لوٹ پاٹ کرنے کے لئے آرہے تھے، تو ایک سمجھوتہ بمبئی میں مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ ہندوستان کا ہوا کہ ہم کشمیر میں فوج بھیجیں گے ، قبائلیوں سے کشمیریوں کی حفاظت کریں گے۔جب حالت نارمل ہو جائے گی، تو ہندوستان کی فوجیں ایک مقدار میں وہاں رہیں گی یا کچھ مقدار میں رہیں گی، لیکن پاکستان کشمیر سے اپنی فوجیں 100 فیصد ہٹا لے گا اور اس کے بعد وہاں رائے شماری ہوگی۔ کشمیر کے لوگ یہ طے کریں گے کہ انہیں ہندوستان کے ساتھ رہنا ہے یا پاکستان کے ساتھ رہنا ہے۔ اس وقت آزادی کا تیسرا آپشن ، اس اقوام متحدہ میں دی ہوئی تجویز میں نہیں ہے، جس پر ہندوستان، پاکستان اور اقوام متحدہ تینوں کے دستخط ہیں۔ تب تک آرٹیکل 370 بنی رہے گی، جب تک خود ارادیت کا عمل کشمیر میں شروع نہیں ہوتا ہے۔ اب اس تاریخی صورت کو،بغیر بتائے آرٹیکل 370 ختم کرنے کی مانگ کتنی خطرناک ہے۔ جو لوگ سرکار میں ہیں، وہ تو جانتے ہیں، لیکن جو لوگ پرچار کررہے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ جس دن آرٹیکل 370 ختم ہوئی، اسی دن کشمیر اپنے آپ ایک آزاد ملک بن جائے گا۔ اس کے بعد اگر ہم نے کچھ کرنے کی کوشش کی، تو عالمی طاقتیں خاص طور پر سیکورٹی کونسل یا اقوام متحدہ کشمیر میں مداخلت کرنے کا حق پا جائیں گے اور یہاں پر بیرونی طاقتیں اپنی موجودگی دکھاتی رہیں گی۔
کشمیری لیڈروں نے صاف کہا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونے کے حق میں کوئی پرچار نہیں کررہے ہیں۔وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہندوستان اپنے اس وعدے کو پورا کرے، کیونکہ یہ ایک سمجھوتہ تھا۔ اگر کشمیر کے لوگ ، پورے کشمیر کے لوگ،ہندوستان میں شامل ہوتے ہیں،تو وہ ایک ریفرنڈم ہوگا ،ایک پلیب سائٹ ہوگا۔ ان میں سے کئی ایک نے کہاکہ کون پاکستان کے ساتھ جانا چاہے گا؟پاکستان خود اپنے کو سنبھال نہیں پا رہا ہے، اس کے باوجود اگر لوگ پاکستان کے ساتھ جانا چاہیںگے تو پاکستان چلے جائیں،لیکن اب ایک نئی تیسری صورت حال بن گئی ہے کہ کشمیر کے لوگ نہ پاکستان میں جانا چاہتے ہیں، نہ ہندوستان میں ملنا چاہتے ہیں، وہ آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری آزادی کی گارنٹی پاکستان بھی دے اور ہندوستان بھی دے۔ اس مانگ پر بات چیت کرنے میں کیا مشکل ہے؟اگر پاکستان اپنی فوجیں پاک مقبوضہ کشمیر سے، بلوچستان سے، گلگت سے، مظفر آباد سے ہٹانے کی بات کرتا ہے، تو یہ ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ نہیں ہٹائے گا،لیکن ہم تو اپنی فوجیں کم کر سکتے ہیں۔ ہماری ساری فوجیں سرحد پر ہونی چاہئے۔ ہماری فوجیں شہر میں نہیں ہونی چاہئے۔ اگر یہ ہو جاتا ہے اور پاکستان اس چیز کو نہیں مانتا ہے، تو یہ تمام عمل اپنے آپ ختم ہو جاتا ہے اور جو آج کی صورت حال ہے، وہ بنی رہتی ہے۔ اس سوال پر اٹل جی کے زمانے میں مشرف سے بہت بات چیت ہوئی تھی اور پاکستان اس کے لئے تیار تھا کہ ہم کوئی راستہ نکالیں اور ابھی تک لائن آف کنٹرول کو ہم عالمی سرحد مان لیں۔ لیکن واجپئی جی کے ہی کچھ ساتھیوں کو لگا کہ ایسا نہیں کرنا چاہئے، اس لئے لیڈر میں اور نمائندے میں فرق ہوتا ہے۔ واجپئی جی محب وطن تھے، وہ ہندوستان کا فائدہ سمجھتے تھے اور کیسے مسائل کو حل کیا جائے، یہ انہیں آتا تھا۔ وزیر اعظم مودی نے بھی بنگلہ دیش سے سرحد کا سمجھوتہ حل کیا اور اس کے بارے میں ملک کو کچھ نہیں بتایا کہ یہ سرحد کا سمجھوتہ کن شرطوں کے تحت ہوا۔ بس بعد میں یہ پتہ چلا کہ کچھ حصہ ِادھر، کچھ حصہ اُدھر۔ میں پھر وزیر اعظم مودی سے گزارش کرتاہوں کہ آپ اٹل بہاری واجپئی کے وقت کی تمام فائلوں کو ، ان کے زمانے کے لوگوں، ان کی مذاکرات میںشامل سیاسی ماہرین ، ان سے بات چیت کیجئے اور پتہ کیجئے کہ واجپئی جی نے کیاقدم اٹھائے تھے؟انہی کی بنیاد پر آپ آج کشمیر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کیجئے کیونکہ ایک بار کشمیریوں کے جذبات کو ایڈریس کرنا ضروری ہے۔ انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم اس عالمی سمجھوتے کا احترام کررہے ہیں اور جو سمجھوتہ ہمارے پہلے کی سرکار نے کئے ہیں، ہم اسے بہت اہم مانتے ہیں۔ کیونکہ اگر ہم یہ نہیں کریں گے تو کل یہ مانگ چاروں طرف اٹھے گی کہ ہندوستان عالمی سمجھوتے کا احترام نہیں کر رہا ہے، تو پھر ہم دھیرے دھیرے شام اور افغانستان کی حالت پرچلے جائیں گے۔ ہمارے سر کے اوپر کشمیر ہے اور ہمیں چاہئے کہ ہم کشمیر کے لوگوں کو اپنا بنائیں ۔ ان کی اس چھوٹی سی مانگ کو ہم قبول کریں کیونکہ اسی مانگ کو لے کر وہاں گزشتہ 115 دنوں سے آندولن چل رہا ہے۔
ہمارے یہاں ایک بازار بند کرانے کے لئے، ایک دن کا بند کرانے کے لئے سیاسی پارٹیاں اپنے کارکنوں کا جلوس نکالتی ہیں،توڑ پھوڑ کرواتی ہیں، زبردستی دکانوں کو بند کرواتی ہیں۔ ان سیاستدانوں کو یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کشمیر میں بغیر ایک آدمی کے سڑک پر نکلے، بغیر پتھر چلائے دکانیں اپنے آپ بند ہیں، کارو بار اپنے آپ ٹھپ ہیں، آمدو رفت اپنے آپ ٹھپ ہیں، اس کے اوپر عوام کا کوئی دبائو نہیں ہے یا وہاں کی سیاسی پارٹیوں کا یا وہاں کے نام نہاد علاحدگی پسندوں کا کوئی دبائو نہیں ہے۔ وہاں پر سرکار کی فوجیں ہیں، سرکار کی سی آر پی ایف ہے، سرکار کی پولیس ہے، جو گھومتی رہتی ہے، جو بھی دکان کھولنے کی مخالفت کرے گا، اسے وہ گرفتار کر لیںگے۔ اس کے اوپر لاٹھی چارج کریں گے، لیکن کوئی دکاندار دکان نہیں کھول رہا ہے۔ اس طاقت کو، ہندوستان سرکار کو پہچاننا چاہئے اور کشمیر کے لوگوں کو یہ وعدہ کرنا چاہئے کہ ہم ان سبھی سے بات چیت کریں گے، جس کے ساتھ پورے کشمیر کے چھ حصے میں ایک طرح کی کائونسل بنے، ایک طرح کا انتظامیہ ہو۔اس کے لئے جو بھی اسٹیک ہولڈرس کہلاتے ہیں، ان کے ساتھ بات چیت شروع ہوگی، یہ وعدہ کرنے میں کیا جاتا ہے؟صرف اتنا وعدہ کرنے سے کشمیر میں مستحکم صورت حال ہو سکتی ہے اور اس کے بعد اس وعدے پر عمل کرنے سے ہم مسئلے کے حل کی طرف بھی بڑھ سکتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *