کشمیر درد سے چیخ رہا ہے

سنتوش بھارتیہ
pp-1میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کشمیرمیں کیاہو رہا ہوگا؟میں اپنے دو صحافی دوستوں اشوک وانکھیڑے اور ابھے دوبے کے ساتھ جب 11سے 13 ستمبر کو سری نگر میں تھا تو سری نگر کی وہ تصویر سامنے آئی، جس کا دہلی میں بیٹھ کر احساس ہی نہیں ہوسکتا ، تب لگا کہ جو لکھنو، پٹنہ ، کولکاتا، حیدرآباد، بنگلورو یا چنئی میں ہیں، وہ تو کشمیر کے آج کے حالات کا تصور ہی نہیں کرسکتے کہ کیوں دکانیں بند ہیں، کیوں لڑکے پتھر چلا رہے ہیں، کیوں لڑکے سڑک پر پتھر رکھ کر سڑک کو بند کر رہے ہیں اور کیوں اپنے آپ پتھر صاف کر کے سڑکیں کھول دیتے ہیں؟ کیوں دکاندار ٹھیک شام کے چھ بجے دکانیں کھول دیتے ہیں، سرکاری بینکوں نے کیوں اپنا وقت شام چھ بجے سے کر دیا ہے۔یہ سارے سوالات آندھی کی طرح دماغ میں اس لئے اڑنے لگے کہ ہمیں تو سری نگر جا کر ان سوالوں کا جواب مل گیا لیکن کیا ملک کے لوگ کبھی اس سچائی کو سمجھ پائیں گے؟پھر ایک اور سوال ابھرا کہ پورے ملک میں کہیں بھی ایک دن کا بازار بند کرانے کا نعرہ جب کوئی سیاسی پارٹی دیتی ہے، تو لوگ دکانیں نہیں بند کرتے ہیں، ان دکانوں کو بند کرانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کے نوجوان کارکنان لاٹھی لے کر سڑک پر نکلتے ہیں، تب وہ ایک دن کے لئے دکانیں بند کرا پاتے ہیں۔ لیکن کشمیر 105دنوں سے بند تھا۔ صرف ایک کاغذ کا پرچہ کیلنڈر کی شکل میں نکلتا ہے اور لوگ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔
سری نگر میں میں نے جو دیکھا
ان تمام سوالوں نے مجھے بے چین کیا تو میں نے اگلے دن پھر سے سری نگر جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ 27 اکتوبر سے سرکار چار یا پانچ مہینے کے لئے جموں چلی جاتی ہے اور سری نگر سرکاری افسروں ، سرکاری اہلکاروں،وزیر اعلیٰ اور وزیروں سے خالی ہو جاتاہے۔ تمام لوگ جموں میں ہوتے ہیں۔ یہاں رہ جاتے ہیں وہ جو وہاں نہیں جا سکتے ہیں، جن کا یہاں کارو بار ہے، جنہیں سری نگر میں پڑھنا ہے، جنہیں سری نگر میں رہنا ہے اور سرکار سے کوئی خاص کام نہیں ہے۔ مجھے لگا کہ اس صورت حال کو دیکھنا چاہئے۔
میں جب سری نگر پہنچا ، مجھے لینے سری نگر کے ہمارے سینئر نامہ نگار ہارون ریشی آئے ہوئے تھے۔ ہارون ریشی نے راستے میں بتایا کہ دکانیں ویسے ہی بند ہیں، پتھر چلنے کم ہو گئے ہیں، لیکن سڑکوں پر گاڑیاں نہیں چل رہی ہیں۔ توقع ہے کہ پرائیویٹ گاڑیاں بھی کم چلیں،لیکن وہ گاڑیاں جن میں مسافر چلتے ہیں، وہ تقریباً نہیں کے برابر چل رہی تھیں۔ پولیس کا پہرہ کہیں کہیں تھا۔لیکن پولیس کا پہرہ اس لئے نہیں تھا کہ دکانیں بند ہوں، کرفیو اس لئے نہیں لگا تھا کہ دکانیں بند ہوں، بلکہ پولیس کا پہرہ اور کرفیو اس لئے تھا کہ اگر لوگ چاہیں تو اپنی دکانیں کھول لیں،سرکار ان لوگوں کو روکے گی، جنہیں عام زبان میں دکانیں بند کرانے والا کہا جاتا ہے۔لیکن لوگ اپنی دکانیں نہیں کھول رہے تھے۔اس کا مطلب، سری نگر کے لوگوں کی ہمت اور صبر میں کمی نہیں آئی تھی۔ہندوستانی سرکار کا یہ اندازہ کہ ہڑتال کرتے کرتے لوگ تھک جائیں گے اور پھر وہ اپنی دکانیں کھول دیں گے، غلط ثابت ہوا۔ ہندوستانی سرکار کا یہ اندازہ ، جسے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ وہ 7 دن میں صورت حال کو نارمل کر دیں گے اور انہوں نے سیکورٹی دستوں کو یہ حکم دیا تھا کہ سات دنوں میں انہیں کشمیر کی صورت حال نارمل ملنی چاہئے اور اس وقت لوگوں کو یہ لگا تھا کہ سرکار کیا کرے گی، کیا سرکار گولیاں چلائے گی، لوگوں کو مزید جیل میں بھرے گی، لوگوں کی جان کو اور خطرہ بڑھ جائے گا۔راجناتھ سنگھ کا 11 ستمبر کو کیا گیایہ اعلان، 12تاریخ کے اخباروں میں سری نگر میں چھپا تھا۔ اب اکتوبر ختم ہو رہا ہے۔ راجناتھ سنگھ کا ایک ہفتہ ، ایک مہینے سے زیادہ وقت لے چکا ہے۔ لیکن وہ ایک ہفتہ نہیں آیا، جس میں صورت حال سرکار کی اور حفاظتی دستوں کی توقعات سے نارمل ہوئی ہو۔ اس درمیان سرکار نے بات بھی نہیں کی، کسی وفد کو نہیں بھیجا۔ وزیر اعلیٰ نے بھی کسی سے بات نہیں کی۔ وزیر اعلیٰ بات کر کے کرتیں بھی کیا؟ لوگوں کی توقعات تو دہلی کی سرکار سے تھی اور دہلی کی سرکار نے اپنے آنکھ اور کان دونوں بند کر لئے تھے۔
پروفیسر بٹ نے میر واعظ سے ملنے کی صلاح دی
میں نے سوچا کہ مجھے شہر میں پروفیسر عبد الغنی بٹ سے آغاز کرنی چاہئے جو جیل سے باہر حریت کانفرنس کے سب سے بڑے لیڈر ہیں۔ میں سیدھے پروفیسر بٹ کے پاس گیا اور ان سے میں نے پوچھا کہ اب کیا حالات ہیں اور اب کیا ہونا چاہئے؟ غنی بٹ پروفیسر رہے ہیں، چیزوں کو مدلل طریقے سے سمجھتے ہیں، ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک لمبا تجزیہ مجھے دیا۔ لیکن ساتھ ہی میرے سر پر ہاتھ رکھ کر اس بات کی شاباسی دی کہ آپ نے جو کام کیا ہے، کشمیر کی تکلیف کو جس طرح آپ کشمیر سے باہر لے گئے ہیں،وہ قابل تعریف ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں ایک صحافی ہوں،میرا کام بریک تھرو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ صحافی کے ساتھ انسان بھی ہیں اور ہمارا جو درد ہے، آنسو ہے، اگر ان کی جانکاری، ان کی مصیبتیں ،ملک کے باقی حصے کے لوگوں کو ہو جائے گی تو میرا ماننا ہے کہ ضرور اس درد کو کم ہونے میں اس سے مدد ملے گی۔ میں نے پروفیسر بٹ سے پوچھا کہ طلباء کا ایک سال خراب ہونے والا ہے، بورڈ کاا یگزام وہ نہیں دے پائیں گے، تو انہوں نے کہا کہ ہاں، بورڈ کا ایگزام وہ نہیں دے پائیں گے۔ لیکن یہاں تو زندگی کے ایگزام میں ہی فیل ہونے کا یا پاس ہونے کا سوال پیدا ہو گیا ہے۔لیکن اگر مان لیجئے کہ بورڈ کے اسکول کے ایگزام کا سوال اٹھایا بھی جائے تو کون ایگزام دے گا؟ بچے تو جیل میں ہیں۔ انہوں نے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر تین بار چائے پلانے اور بسکٹ کھلانے کے بعد یہ تجویز دی کہ مجھے ہر حالت میں میر واعظ مولوی عمر فاروق سے ملنا چاہئے، جو جیل میں بند ہیں۔ میں نے کہا کہ میں کیسے مل سکتا ہوں ان سے؟ تو انہوں نے کہا کہ کوشش کیجئے۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ جس طرح کے صحافی ہیں، اگر ٹھان لیں گے تو آپ ضرور میر واعظ مولوی عمر فاروق سے مل پائیں گے۔
پروفیسر بٹ کی باتوں نے من کو اور متفکر کردیا ،اور میں وہاں سے ہوٹل پہنچا، سامان رکھا۔ پہلے میں نے سوچا تھا کہ میں سرکار سے گزارش کروں گا کہ مجھے نسبتاً کم خرچے والے سرکٹ ہائوس میں رہنے کے لئے کسی طرح جگہ دلوائے۔لیکن پھر میں نے سوچا کہ جیسے ہی میں سرکار سے گزارش کروں گا اور اگر سرکٹ ہائوس میں مجھے جگہ مل گئی تو میرے اوپر یہ شک پیدا ہو جائے گا کہ میں کہیں سرکار کی ملی بھگت سے تو سری نگر میں نہیں گھوم رہا ہوں ، اس ایک تشویش نے میرے پائوں ایک ہوٹل کی طرف موڑ دیئے۔
میر واعظ سے ملنا ایک کرشمہ تھا
ہوٹل میں میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں کیسے میر واعظ مولوی عمر فاروق سے مل سکتا ہوں ،کیوںکہ پروفیسر بٹ نے مجھے میر واعظ مولوی عمر فاروق سے ملنے کی صلاح دی تھی۔ میں نے اپنے صحافی دوستوں، آفیسر دوستوں ،سب سے بات کی۔ لیکن کوئی بھی میری مدد کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ لیکن تبھی ایک کرشمہ ہوا۔ ایک شخص نے کہا کہ آپ اگر موبائل فون نہ لے جائیں، اپنی پہچان کا ڈھنڈورا نہ پیٹیں تو میں کوشش کرتا ہوں کہ کسی طریقے سے آپ کی ملاقات میر واعظ مولوی عمر فاروق سے ہو جائے۔ میں نے اس سے کہا کہ نیکی اور پوچھ پوچھ۔ اس ایشور کے بندے نے پتہ نہیں کہاں، کیسے ، کیا چلایا کہ مجھے میر واعظ مولوی عمر فاروق سے ملنے کی منظوری ملنے کا اندازہ ہو گیا۔ پھر مجھے فون آیا کہ میں فوراً جہاں میر واعظ مولوی عمر فاروق جیل میں بند ہیں ، وہاں آئوں۔ اس شخص نے کہا کہ میں آپ کو وہاں ملوں گا اور کوشش کروں گا کہ میر واعظ مولوی عمر فاروق سے آپ کی ملاقات ہو جائے۔ میں ٹیکسی میں بیٹھا، ٹیکسی سے ڈل جھیل کے کنارے ہوتا ہوا، اوپر پہاڑوں کی طرف گیا۔ سری نگر کا سب سے مشہور ٹورسٹ اسپاٹ چشمہ شاہی ہے۔ چشمہ شاہی کی تعریف یہ ہے کہ وہاں لگاتار پانی آتا رہتاہے۔ کہاں سے آتا ہے، کسی کو نہیں پتہ۔ اس چشمہ شاہی سیاحتی مقام کے پاس ایک چھوٹا سا ہٹ بنا ہوا ہے جس میں میر واعظ مولوی عمر فاروق قید ہیں۔ میرا ڈرائیور غنی ڈل جھیل کے کنارے ہوتے ہوئے چشمہ شاہی کی طرف اوپر چڑھا۔ وہاں سے پولیس کے سپاہی ،کچھ جیل کے سپاہی دکھائی دیئے، سنسان ،کوئی نہیں۔ ایک جگہ مجھے ایک شخص نے روک دیا کہ آپ اس سے آگے نہیں جاسکتے۔ پھر مجھے اپنے اس ذرائع سے بات کرنی پڑی، پتہ نہیں اس نے کس طرح سے مینیج کیا کہ مجھے کُٹیا ( ہٹ) تک جانے کی اجازت مل گئی۔ کٹیا میں مجھ سے درخواست لی گئی۔ اس درخواست کے اوپر آفیشیل پرمیشن لکھی گئی اور میں میر واعظ سے ملنے چلا گیا۔ بہت پہلے میں میر واعظ سے ملا ہوں گا، لیکن انہیں اس بات کا علم تھا کہ جو تین صحافی یہاں آئے تھے، اس اندھیرے میں انہوں نے جس طرح ایک موم بتی جلانے کی کوشش کی تھی، اس موم بتی کی روشنی نے پورے سری نگر کے لوگوں کے من میں ایک امید کی چمک پیدا کر دی تھی۔
میر واعظ نے مجھے گلے لگایا اور مجھے اندر کٹیا میں لے گئے۔ ہم آپس میں ملک، دنیا ، کشمیر کے حالات کی بات چیت کرنے لگے اور تب میر واعظ نے مجھے بتایا کہ تین مہینے میں آپ پہلے شخص ہیں، جو پتہ نہیں کیسے میرے پاس تک آگئے، جبکہ ہفتہ میں ایک بار میرے گھر کے لوگ مجھ سے ملنے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے کسی باہری آدمی کا چہرہ نہیں دیکھا ہے۔ میں نے پوچھا تو یہاں ملنے کون آتا ہے؟تو انہوں نے کہا یہاں بھالو آتے ہیں،جنگل میں جگہ ہے۔میں نے پوچھا،چوہے؟ انہوں نے چھت کی طرف اشارہ کیا کہ اس چھت کے اندر، لکڑی کی چھت ہے ، کے اندر جب چوہے دن میں دوڑتے ہیں تو پتہ نہیں چلتا ،لیکن رات میں جب سنسان ، جب ہوا کی آواز بھی تیز لگتی ہے، تب یہ چوہے دوڑتے ہیں، تو بالکل بھوتیا آواز کی شکل میں وہ ماحول تبدیل ہو جاتاہے ۔ میں دیکھ رہا تھا کہ میر واعظ عمر فاروق ،جو کشمیر کے سب سے زیادہ عزت والے مذہبی پیشوا ہیں، میر واعظ عمر فاروق، جو حریت کانفرنس کے چیئرمین ہیں، میر واعظ عمر فاروق جو کافی پڑھے لکھے ہیں، کافی جینٹل ہیں،چیزوں کو سمجھتے ہیں اور ہندوستانی سرکا ر کی طرف سے اٹل بہاری جی کے زمانے میں وہ مظفر آباد اور اسلام آباد بھی گئے تھے تاکہ اٹل بہاری واجپئی جی کے ذریعہ مجوزہ تجاویز کے تئیں ان لوگوں کو تیار کر سکیں۔ آج وہ میر واعظ اکیلے ایک کٹیا میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ میں سوچنے لگا کہ انہیں یہاں لا کر سرکار کو کیا ملا؟سرکار انہیں ان کے گھر میں نہیں رکھ سکتی تھی؟ کم سے کم آرام سے سوتے ، یہ جو جیل کے ملازم ان کے ساتھ ہیں، انہیں زبردستی وہاں جیل ہو گئی۔دور بیٹھے ہوئے ہیں، وہ بھی اپنے یہاں رہتے۔
سینٹرل جیل میں یاسین ملک سے میری ملاقات
میر واعظ سے تقریبا ایک، ڈیڑھ گھنٹے بات کرنے کے بعد میں وہاں سے نکلا اور نکلنے کے بعد میں پھر ہوٹل کی طرف چلنے لگا کہ راستے میں مجھے لگا کہ کیا میں کوشش کرسکتا ہوں کہ یاسین ملک سے بھی مل لوں۔ یاسین ملک سینٹرل جیل میں بند تھے۔ میں نے اپنے اوپر مہربانی کرنے والے کچھ آدمیوں کو فون کیا اور کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں سینٹول جیل میں یاسین ملک سے ملاقات کر لوں۔ بہت سارے لوگ ملنے جاتے ہوںگے جیل میں، میں بھی ایک جا سکتا ہوں پرمیشن لے کر ، وہ ہنسے اور بولے کہ اچھا ٹھیک ہے آپ سینٹرل جیل کی طرف اپنی گاڑی موڑیئے۔ میں دیکھتا ہوں، کیا کر سکتا ہوں۔ لیکن یہ یقینی نہیں ہے کہ آپ کی ملاقات ہو ہی جائے۔
چشمہ شاہی سے تقریباً20-25 منٹ چلنے کے بعد ہم سری نگر سینٹرل جیل پہنچے اور وہاں پر کسی طرح ہاتھ جوڑتے ، گزارش کرتے جیلر صاحب سے ملتے، پولیس کے چیف سے ملتے، اپنے کو ایک عام آدمی بتاتے ہوئے ملاقات کرنے کی گزارش کی۔ پتہ نہیں اس دن کیسے ایشور مہربان تھا کہ یاسین ملک سے ملنے کی اجازت بھی مجھے مل گئی۔ میں اندر گیا۔ میرا سارا سامان باہر رکھوا لیا گیا۔ یہاں تک کہ پرس جس میں پیسے اور کریڈٹ کارڈ تھے، بھی باہر رکھوا لیا گیا۔ بغیر سوچے میں نے اسے باہر چھوڑ دیا کہ غائب ہو جائے گا۔یہ کارڈ غائب ہو سکتا ہے، پیسے غائب ہو سکتے ہیں، کچھ بھی نہیں سوچا۔میں سیدھا اندر گیا،اندر جیلر کے کمرے میں، وہ کس کا کمرہ تھا،مجھے نہیں پتہ ، لیکن کسی آفیسر کا کمرہ تھا، میں بیٹھا ہوا تھا۔ آفیسر بھی بیٹھے ہوئے تھے، مجھے گھور رہے تھے۔ مسکراتے ہوئے گھور رہے تھے، تبھی میں نے دیکھا کہ کمبل اوڑھے یاسین ملک دھیرے دھیرے کمرے کے اندر آئے۔ انہیں مجھے پہچاننے میں کچھ وقت لگا، لیکن جب پہچان لیا تو ہم پاس بیٹھے۔ میں نے ان سے بات چیت شروع کی۔ یاسین ملک بہت سمجھدار شخص ہیں۔ یاسین ملک اس ٹیم کے لیڈر ہیں، جس ٹیم نے کشمیر کے سوال کو دنیا کے سامنے پہنچانے کے لئے ہاتھ میں ہتھیار اٹھا لئے تھے۔ جب کلدیپ نیر اور جسٹس سچر 90 کے ابتدائی دور میں سری نگر گئے تھے تو انہوں نے سمجھایا تھا کہ آپ لوگ اگر ہتھیار رکھ دیں گے تو آپ کے ساتھ ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بہت کچھ کر سکیں گے۔ یاسین ملک نے ان لوگوں کی بات مان لی تھی۔ میں اس شخص کو دیکھتا رہا، بیمار ہونے کے باوجود چہرے پر ایک سختی، جو اسی دن سے جیل میں بند ہے، جس دن برہان وانی والی واردات ہوئی۔ برہان وانی کے قتل ، شہادت یا ان کے انکائونٹر میں مارے جانے کے دو گھنٹے کے بعد یاسین ملک کو قید کر لیا گیا۔
میں نے یاسین ملک سے پوچھا کہ اس کا بریک تھرو کیا ہے؟انہوں نے کہا کہ کیا بریک تھرو ہوگا؟جو سچویشن ہے، دنیا کے سامنے ہے، پاکستان کے بھی سامنے ہے، ہندوستان کے بھی سامنے ہے۔ جب سرکار کا وزیر اعظم یہ کہے کہ ہم ملک کو اسرائل بنانا چاہتے ہیں، جس طریقے سے اسرائیل اسٹرائک کرتا ہے ، ہم ویسے ہی اسٹرائک کررہے ہیںاور کشمیر کا مسئلہ اس اسٹرائک اور اسرائیل کے جملوں کے بیچ غائب ہو جاتاہے تو میں کیا بات کروں؟ میں کیا سوچوں؟بہت تلخ تھے یاسین ملک صاحب، بہت ہی تلخ ۔شاید اس نوجوان کے من میں ہتھیار رکھتے ہوئے کلدیپ نیر اور جسٹس سچر کے وعدوں کے ٹوٹنے کا ملال رہا ہوگا۔ہر کسی واقعہ کے وقت سب سے پہلے انہیں پکڑ کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، اس کا ملال رہا ہوگا۔ ان کی بات کو کشمیر کے باہر نہ سنے جانے کا دکھ رہا ہوگا۔ انہیں اپنے ساتھ ہوئی ہر ناانصافی کے لمحے یاد آتے ہوںگے۔ مجھے لگا کہ یہ تلخی اور یہ سختی ایک فطری نتیجہ ہے۔ میں اسے غیر فطری نتیجہ بھی کہہ سکتا ہوں۔
یاسین ملک سے ملتے ہوئے جب میں باہر آنے لگا، تو جو پولیس آفیسر جیل کا ملازم مجھے باہر چھوڑنے آیا، میں نے اس سے پوچھا کہ جیل میں سب سے پرانا قیدی کون ہے؟اس نے کہا کہ اس میں حریت کے ہی ایک لیڈر بند ہیں، جو 23سال سے جیل میں ہیں۔ میں نے کہا کہ 23سال سے جیل میں بند ہیں؟ کہنے لگا کہ ہاں، وہ ایک معاملے میںچھوٹ کر باہر نکلتے ہیں، تب تک پولیس دوسرا معاملہ لگا دیتی ہے۔ جب تک وہ دوسرے سے نکلتے ہیں، تو تیسرا لگا دیتی ہے۔ آج 23سال سے وہ جیل میں بند ہیں ، تب مجھے لگا کہ پولیس کا طریقہ پورے ملک میں ایک جیسا ہے،وہ کشمیر میں الگ ہے، ایسا نہیں ہے ۔ کسی نے مجھے بتایا کہ پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ سرکار جیل سے نکلتے ہی کوئی دوسرا الزام لگا دیتی ہے اورانہیں جیل بھیج دیتی ہے۔ چاہے ہندوستان ہو، چاہے پاکستان ،پولیس کا طریقہ ،دونوں ملک میںمساوی ہے۔ کم سے کم یہاں تو دونوں ملکوں نے عملی اتحاد دکھایا ۔

کشمیر کی پولیس اور آفیسر بھی ناخوش ہیں
یاسین ملک کے یہاں سے نکل کر میں پھر ہوٹل آیا اور سوچنے لگا کہ اب کیا کرنا چاہئے؟میں نے دن بھر کے سارے واقعات کا نوٹس لیا۔ نوٹس لے کر سوچتا رہا کہ اب مجھے اگلے دن کیا کرنا چاہئے؟ تبھی مجھے پتہ چلا کہ ایک پولیس آفیسر مجھ سے ملنے آئے ہیں۔ میں نے انہیں کمرے میں آنے کی دعوت دی۔ ہو سکتا ہے وہ ذاتی طور پرملنے آئے ہوں، سادے ڈریس میں تھے، لیکن ہوسکتا ہے جموں و کشمیر یا مرکزی سرکار نے انہیں بھیجا ہو ،یہ جاننے کے لئے کہ میں آج کہاں کہاں گیا؟میں نے ان کا استقبال کیا۔ ان سے بات چیت کی۔وہ 15 منٹ کے لئے آئے تھے، لیکن ایک گھنٹہ بیٹھ گئے۔ اس بات چیت میں مجھے پتہ چلا کہ جموں و کشمیر کے سرکاری آفیسر ، جموں و کشمیر کی پولیس ، سب اس صورت حال سے بہت ناخوش ہیں۔ ان سے لمبی بات چیت سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ سرکار اگر اپنی اس پالیسی کو نہیں بدلتی ،اسے ہر چیز کے جواب میں گولیاں چلانی ہے، تو ایک دن گولیاں چلانے والے لوگ کہیں گولی چلانے سے انکار نہ کردیں،مجھے یہ ڈر لگا۔ انہیں سے بات چیت میں مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ سرکار نے سختی کی اتنی انتہا کر دی ہے کہ لوگوں کے من سے اس کا ڈر نکل گیا ہے۔ لوگوں کے من سے جیل اور موت کا ڈر نکل گیا ہے۔ اب یہ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اکثر سرکاریں وہیں تک ظلم کرتی ہیں، جہاں تک ظلم کا ڈر بنا رہے، لیکن اگر ظلم اس حد کو پار کر جاتا ہے ،جہاں سے ظلم کا ڈر ہی ختم ہو جائے تو بڑی احمقانہ صورت حال مانی جاتی ہے۔ جموں و کشمیر میں تو کم سے کم سرکار اس صورت حال کو پار کر گئی ہے۔
جو 1952 یا 1954 میں کشمیر میں پیدا ہو ئے ان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔انہوں نے جب سے آنکھ کھولی ہے، تب سے کرفیو، لاٹھی چارج ، آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور اب پیلیٹ گنز دیکھے ہیں۔ اس سے زیادہ انہوں نے بندوقوں سے نکلی ہوئی گولیاں دیکھی ہیں،لاشیں دیکھی ہیں۔ان کے لئے یہی جمہوریت ہے۔ جو جمہوریت پٹنہ میں ہے، لکھنو میں ہے، ممبئی میں ہے، سہارنپور میں ہے، مظفر پور میںہے یا چنئی میں ہے، بنگلورو میں ہے، حیدر آباد میں ہے، اس جمہوریت کو تو وہ جانتے ہی نہیں کہ وہ کیا چیز ہے۔
ساری رات مجھے نیند نہیں آئی،صرف یہ سوچ کر کہ کیا سرکاریں سچ مچ بے ضمیر ہوتی ہیں، انکا ضمیر نہیں ہوتا۔ وہ لوگوں کا درد نہیں سمجھتے۔ کیا ملک کے لوگ بے ضمیر ہو گئے ہیں، جو کشمیر کی تکلیف کو جاننا ہی نہیں چاہتے۔ جوآرٹیکل 370 کو کشمیر کے ہندوستان سے الحاق میں ایک رکاوٹ مانتے ہیں۔370 کیا ہے، مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ کیا سمجھوتہ ہوا تھا، اس کی شرطیں کیا تھیں، اقوام متحدہ میں کون گیا تھا، کیا شرطیں تھیں اس کی؟ ان شرطوںکی تعمیل کن لوگوں نے نہیں کی یا نہیں ہونے دی۔ یہ تمام سوالات ملک کے لوگوںکو کیوں نہیں پتہ اور چونکہ یہ سوال لوگوںکو پتہ نہیں ہے، شاید اسی لئے پورا ملک اس وقت کشمیر کے ایک ایک آدمی کو پاکستانی مان رہا ہے اور یہ مانتا ہے کہ پاکستان میں شامل کرنے کے لئے سارے حریت کے لیڈر جی جان لگائے ہوئے ہیں۔
سید علی شاہ گیلانی سے ایک دلچسپ ملاقات
میں صبح اٹھا پھر سوچنے لگا کہ آج کیا کیا جاسکتا ہے، مجھے شام کو دہلی واپس جانا چاہئے اور میں جن لوگوں سے ملا ہوں، ان کی بات چیت کی بنیاد پر ایک تجزیہ اپنے اخبار میں لکھوں گا ۔میں ناشتہ کرنے کے بعد باہر نکلا تو ایک شخص ملا، اس نے مجھے پہچان لیا اور کہا ،آپ سچے آدمی ہیں۔ آپ پہلے ایسے آدمی ہیں، جس نے کشمیر کی سچائی کشمیریوں کے بھی سامنے رکھی، جس سے ہم کو لگا کہ آپ ہیں اور آپ کے وہ دو ساتھی کہاں ہیں؟میں نے کہا کہ میں انہیں بغیر بتائے یہاں آیا ہوں، اگلی بار وہ دونوں ساتھ آئیںگے۔ اس نے جس طرح سے اپنی باتیں کہی، مجھے لگا کہ یہ بھولے بھالے لوگ، انہیں تھوڑی سی روشنی کی چمک دکھائی دی، کسی نے ان کے حق میں باتیں کی، یہ اسے اپنا سب سے اچھا دوست ماننے لگے۔ اس کی بات چیت کے بعد میں نے طے کیا کہ مجھے تحریک حریت کے مقبو ل لیڈر علی شاہ گیلانی سے بھی ملنا چاہئے ۔ گیلانی صاحب سے پچھلی بار جب میں اور میرے دونوں صحافی ساتھی ملنے گئے تھے تو پولیس نے ہمیں ملنے نہیں دیا تھا۔ جس ذرائع نے مجھے پچھلی بار گیلانی صاحب سے ملنے کی صلاح دی تھی، جس کے جواب میںگیلانی صاحب نے پھر ہمیں ہوٹل میں فون کیا تھا۔میں نے انہیں سے گزارش کی کہ کیا کیا جا سکتا ہے؟اس نے مجھے کہا کہ آپ گیلانی صاحب کے یہاں پہنچئے، دیکھئے کوشش کرتے ہیں۔ پھر اتفاق سے ہم گیلانی صاحب کے یہاں گئے، وہاں ہمیںاندر جانے دیا گیا۔ یہ ہماری باضابطہ ملاقات تھی۔ میں گیلانی صاحب کے پاس گیا ۔انہوں نے شاید 15 یا 20 منٹ کا وقت دیا تھا۔ لیکن جب ہماری بات چیت شروع ہوئی ، تو بات چیت ڈیڑھ گھنٹے میں تبدیل ہو گئی۔جب ڈیڑھ گھنٹہ گزرا، تو گیلانی صاحب نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا۔ گیلانی صاحب اس وقت 87 سال کے ہیں، عمر کے آخری پڑائو پر ہیں اور وہاں سے بیٹھ کر وہ جس طرح سے سارے مسائل کو، کشمیر کو دیکھ رہے ہیں، میں نے اسی نظریئے سے ان سے بات چیت کی۔ اچانک مجھے لگا کہ یہ بات چیت تو گیلانی صاحب توسب سے کرتے ہوںگے اور تب میں نے گیلانی صاحب سے ان کی زندگی کے ان پہلوئوں کے بارے میں بات چیت کی جس کے بارے میں آج تک انہوں نے کسی سے بات نہیں کی۔ گیلانی صاحب کی اس بات چیت کو ہم ’’چوتھی دنیا ‘‘کے اگلے شمارہ میںچھاپیںگے۔جس میں گیلانی صاحب کیا کرنا چاہتے تھے، جو وہ نہیں کرپائے؟گیلانی صاحب کیا نہیںکرناچاہتے تھے یا گیلانی صاحب کو کس چیز کا غم رہا زندگی میں؟کون سی چیز ان کی زندگی سے چھوٹ گئی، جو اب ان کے پاس کبھی نہیں آسکتی؟انہیں چاند اور سورج کی روشنی سے کس طرح کااحساس ہوتاہے؟گیلانی صاحب اگر سری نگر میں نہیں ہوتے تو ملک کے کس حصے میںرہنا پسند کرتے یا دنیا کے کس حصے میںرہنا پسند کرتے؟ایسے سارے سوالات جو انسانی سوالات ہیں،ان سوالوں کومیں ہمت کرکے پوچھا اور گیلانی صاحب کے چہرے کے اوپر جو اثرات آرہے تھے، وہ اس زندگی سے ملی ہوئی تلخیوں کے اثرات تھے، زندگی سے ملی ہوئی خوشیوں کے رنگ تھے اور زندگی سے نہ مل سکے لمحوں کے افسوسناک سائے تھے۔
کشمیر جو 1947میں تھا
گیلانی صاحب کے یہاں سے جب لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد میں نکلا، تو مجھے لگا کہ میر واعظ مولوی عمر فاروق نے کل اور گیلانی صاحب نے آج یہ صاف کر دیا کہ وہ تو کبھی پاکستان میںملنے کی بات ہی نہیں کرتے۔ ان کا صرف یہ کہنا ہے کہ جو وعدے ہندوستان کی سرکار نے راجا ہری سنگھ جی سے کئے تھے اور جس کی بنیاد کے اوپرانہوں نے جو شرطیں یونائٹیڈ نیشنز میں دی تھی، ان پر عمل ہو اور وہ شرطیں صرف سری نگر کے لئے نہیں، وہ شرطیں پورے کشمیر کے لئے، جو کشمیر 1947 میں تھا، یعنی پاکستان کے قبضے والے تین حصے، بلوچستان، گلگت، مظفرآباد اور ادھر سری نگر، لداخ اور جموں۔یہ سارا حصہ۔ اس میں وہ شرطیں نافذ ہوں ۔ جو وعدے پورے ہوئے ہیں وہ ان ساری چیزوں میں، ان کا اثر ان تینوں چیزوںپر پڑے۔ جن کے لئے وہ کہتے ہیں کہ آپ اگر پاکستان سے بات نہیں کریں گے، توپاکستان کے قبضے والے تینوں حصوں میں وہ چیزیں کیسے لاگو ہوں گی؟اس لئے ان دونوں کا ماننا ہے کہ ہم پاکستان کا نام اس لئے لیتے ہیں کہ ایک حصہ ہندوستان کے پاس ہے، ایک حصہ پاکستان کے پاس ہے۔ کشمیر کو ایک مکمل کائی کی شکل میں دیکھنے کے لئے دونوں ملکوں کی سرکاریں بات کریں اور ہم کشمیر کے دونوں حصوںکے کشمیر کے لوگ ان کی باتوں کو سن کر یہ فیصلہ کریں کہ انہیں آگے کیا کرنا ہے۔
لیکن یہ بات تو ہندوستان کے لوگوں کو بتائی ہی نہیں جاتی۔ وہاں تو یہ کہا جاتاہے کہ کشمیر میں رہنے والا ہر آدمی پاکستان کا حامی ہے اور گیلانی صاحب اور حریت کے باقی لیڈر پاکستان کی وکالت کرتے ہیں۔میر واعظ نے کہا کہ یہاں لوگ جب پاکستان کا جھنڈا نکالتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ وہ ہندوستانی سرکار کو چِڑھانا چاہتے ہیںاور اب تو انہوں نے پاکستان اور چین دونوں کا جھنڈا نکال دیا ہے، تو کیا آپ مانتے ہیںکہ ہم لوگ چین کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ دراصل گیلانی صاحب اس معاملے میںبالکل صاف ہیںاور جب زندگی کے چند سال ان کے پاس ہیں، تو وہ چاہتے ہیںکہ اس مسئلے کا صحیح اور کشمیریوں کو کئے گئے وعدے کے حساب سے حل نکلے۔
گیلانی صاحب نے اپنی سوانح حیات اور اپنے ذریعہ لکھی ہوئی تمام کتابوں کی کاپیاں مجھے سونپی۔ایک کتاب پر انہوں نے اپنے دستخط کئے اور میںجب وہاں سے نکلا تو گیلانی صاحب اپنی عادت کے خلاف مجھے باہر سڑک پر جہاں دور میری گاڑی کھڑی تھی، وہاں تک چھوڑنے آئے۔ وہ جب باہر سڑک پر نکلے تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کبھی باہر ٹہلنے نکلتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہاں کبھی کچھی نکلتا ہوں۔ تھوڑا سا دو قدم آگے جاتا ہوں، تو یہ مجھے واپس لے آتے ہیں اور جب میں کہتا ہوں کہ نہیں دو قدم اور چلوں گا تو یہ مجھے تھانے میں لے جاتے ہیں۔ ہم ہنسے اس پر، جب گیلانی صاحب میری کار کے پاس آئے تو میں نے مذاق میں کہا کہ گیلانی صاحب، چلئے گاڑی میں بیٹھئے ، ہم گاڑی میں بھاگ چلتے ہیں۔ ابھی یہ لوگ پیچھا کریںگے۔ گولیاں یہ چلائیںگے نہیں ، کیونکہ آپ یہاں بیٹھے ہیںاور چاروں طرف شور ہو جائے گا کہ ہندوستان کا ایک صحافی گیلانی صاحب کو لے کر فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ گیلانی صاحب کھل کر ہنسے۔مجھے لگا کہ 87 سال کا ایک آدمی اس مذاق کو بھی کس طریقے سے انجوائے کررہا ہے، اس کا لطف لے رہا ہے۔
میں دوبارہ میر واعظ سے کیوں ملا
گیلانی صاحب کے یہاں سے نکلتے وقت بھی میرے دماغ میں ایک بات چل رہی تھی کہ کیا میر واعظ مولوی عمر فاروق سے ایک ایسی بات نہیں ہو سکتی جس سے میں حرف بہ حرف ان کا نوٹ کر لوں، تب مجھے افسوس ہوا کہ کل جب میں میر واعظ مولوی عمر فاروق کے پاس گیا تو میں کیوں کاغذ،قلم نہیں لے گیا۔ میں نے پھر کوشش کی اور سب سے پہلے شام کا ٹکٹ کینسل کرایا۔ گیلانی صاحب کے یہاں سے میں شاید 4بجے نکلا اور وہاں سے نکلنے کے بعد میں نے پھر چشمہ شاہی کی طرف دوڑ لگائی۔ راستے میں میںنے اپنے سارے ذرائع سے کہا کہ سرکار سے ، غیر سرکار سے، صاحب سے ، نوکر سے، جس سے بھی ہو، مجھے کسی طرح سے میر واعظ مولوی عمر فاروق سے آدھے گھنٹے ملنے کا موقع مل جائے۔ میں نے کہا، نہیںملے گا تو میںوہاں انتظار کروں گاسڑک پر، جہاںسے چشمہ شاہی کا راستہ شروع ہوتا ہے۔ میں اس ماحول کو دیکھنا چاہ رہا تھا۔ رات کے اندھیرے میںوہ علاقہ کیسا لگتا ہے؟ جسے کتابوں میں کہانیوں میں زمین کی جنت سے تعبیر کیا جاتا ہے، وہ رات میں کیسا لگتا ہے؟ کرفیو والی راتوں میں کیسا لگتا ہے؟ سردی کی راتوں میں کیسا لگتا ہے؟
کیا اسے میں اپنی خوش قسمتی کہوں یا دوستوںکی مدد کہوں، مجھے پھر کسی طرح جیل میں جانے کا موقع مل گیا ۔ میں کاغذوں کا ایک پلندہ لے کر چشمہ شاہی والی سڑک پر چڑھا۔ اس بار مین گیٹ پر تعینات، جہاںبیریئر لگا ہے، سپاہی نے پوچھا، تو میں نے اسے اپنے سابق رکن پارلیمنٹ ہونے کا کارڈ دکھایا اس نے فوراً اندر جانے دیا۔ جیل کے ملازمین مجھے میر واعظ مولوی عمر فاروق کے پاس لے گئے۔ انھوں نے کہا کہ ارے آپ پھر کیسے آئے؟ میں نے کہا، مولوی صاحب، یہی تو ہمارا ہنر ہے ۔میں نے مذاق میں بتایا کہ کس طرح میں نے کیسے کیسے ان لوگوں سے اپنے صحافتی زندگی میں ملاقات کی، جن سے کوئی دوسرے کبھی ملاقات کر ہی نہیں پارہے تھے۔ ان میں ڈاکو بھی تھے، انڈر ورلڈ کے لوگ بھی تھے، ایسے سیاستداں بھی تھے جو کچھ کرکے چھپے ہوئے تھے۔ جن میں سُکُر نارائن بکھیا اور حاجی مستان جیسے لوگ، مادھو سنگھ، پھولن دیوی جیسے ڈاکو اور وہ سارے وزیر اعلیٰ ، وہ سارے وزیر جنھوں نے کچھ ایسا کیا جس کو میں نے رپورٹ کیا اور جس سے ان کے عہدے کے اوپر آنچ آئی۔ کم سے کم دو وزرائے اعلیٰ کے استعفے میری رپورٹ پر ہوئے او رسات یا آٹھ کابینی وزیروں کا مجھے یاد ہے، یا تو ان کے استعفے ہوئے یا ان کے محکمے بدلے گئے۔ میںنے یہ مذاق مذاق میں میر واعظ مولوی عمر فاروق کو جب بتایا تو انھوںنے کہا ، لیکن میں آپ کو انٹرویو نہیں دوں گا۔ میںنے کہا، میر واعظ صاحب، انٹرویو اگر نہیں دیں گے تو میری ساری محنت بیکار چلی جائے گی۔ میں یہاں اخبار کے لیے آیا ہوں، میں اس میں آپ کی کہی ہوئی بات چھاپنا چاہتا ہوں۔ میر واعظ مولوی عمر فاروق نے کہا، ہم نے طے کیا ہے کہ میں، گیلانی صاحب اور یاسین ملک صاحب، ہم تینوں آپس میں مشورہ کرکے ہی کوئی بات کہیں گے۔ میں نے کہا، وہی کیجئے۔ میں آپ سے بیان دینے کی بات نہیں کررہا ہوں۔ میں آ پ سے صورت حال کا اندازہ لگانے کی بات کررہاہوں، جس کی وجہ سے یہ 106 دنوں کا کرفیو لگا ہوا ہے، لڑکے جیل میں ہیں، لوگ مارے گئے ہیں، پیلیٹ گن سے لوگوں کی آنکھیں گئی ہیں۔ سرکار بند ہے، ڈل جھیل سونی ہے، سڑکوں پر ٹیکسیاں نہیں چل رہی ہیں، طلبہ کے امتحان نہیں ہورہے ہیں، جو زخمی ہیں ان کا علاج نہیں ہورہا ہے۔ کشمیر کے اس بند کی وجہ سے ان لوگوں کی موت اس کھاتے میں نہیں لکھی جارہی ہے جنھیں ڈائلیسس کرانا تھا لیکن جن کی ڈائلسس نہیں ہوئی اور ان کی جانیںچلی گئیں۔ میں اس میں انھیںنہیںجوڑ رہا ہوں، جن کو کینسر تھا جنھیں علاج کے لیے ہاسپٹل آنا پڑتا ہے، وہ نہیں آپائے اس لیے ان کی موت ہو گئی۔ تب میر واعظ مولوی عمر فاروق نے مجھ سے بات کرنی شروع کی۔ میں نے اس بات کی ایک ایک چیز کو جلدی جلدی کاغذ میں نوٹ کیا۔ نوٹ کرنے کے بعد میںنے میر واعظ مولوی عمر فاروق سے کہا کہ میںنے جو نوٹ کیا ہے اور جو میری یادداشت میں رہے گا، اس کو لے کر میں اسٹوری کروں گا۔ اگر کہیں کوما، فل اسٹاپ اِدھر اُدھر ہوجائے تو برائے کرم مجھے معاف کیجئے گا۔ میر واعظ مولوی عمر فاروق اپنی متانت کی ہنسی ہنسے۔ میں وہاں سے نکل کر باہر آیا۔ غنی سے میںنے کہا، مجھے پھر آج سری نگر گھومنا ہے۔غنی لڑکا ہے،ڈرائیور ہے، ٹیکسی چلاتا ہے۔ میں نے پھر اس کے ساتھ بیٹھ کر ڈل جھیل کا چکر لگایا۔ سنسان، بیابان شہر میں گھوما۔ وہ جمعہ کا دن تھا اور میں آپ کو بتاتا ہوں کہ گزشتہ دنوں کچھ گلیوں میں دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ لیکن اس جمعہ کو ان گلیوں کی دکانیں بھی بند تھیں۔ حریت نے کہا تھا کہ جمعہ کو تو کچھ بھی کھلا نہیں ہونا چاہیے۔ چائے کا ایک کپ اگر کہیں اس دن مل جاتا، تو شاید لاکھ روپے کا ایک کپ ہوتا۔ نہیںملا کہیں۔ کھانے کے لیے لوگ ترس جاتے ہیںکیونکہ ساری دکانیں بند، دوائیوں کی دکانیں بند، سب کچھ بند۔
میر واعظ کا انٹرویو اور یشونت سنہا کا کشمیر دورہ
رات میںمیںنے میر واعظ کے دیے ہوئے انٹرویو کے پوائنٹس بنائے۔ اپنے دماغ میں جتنا یاد تھا، وہ سب میں نے لکھا اور سوال و جواب کی شکل میں ایک تہائی کام میں نے پورا کر لیا۔ اگلے دن صبح سے پہلے ہوائی جہاز سے، جو صبح سات بجے وہاں سے دہلی کے لیے اڑتا ہے۔ میںاس سے دہلی آگیا۔ راستے بھر میںسوچتا رہا کہ کاش کشمیر کا یہ درد دہلی کی سمجھ میں آجائے۔ دہلی پہنچتے ہی میں نے ای ٹی وی کو بتایا کہ میں کشمیر ہوکر آیا ہوں، میںنے میر واعظ کا انٹرویو چھاپا ہے۔ وہ شام کو میرے پاس آئے۔ تب تک اخبار چھپ کر آچکا تھا ۔انھوںنے اخبار کے صفحات کی تصویریں لیں اور ٹی وی پر دکھائیں۔ انہوں نے مجھ سے بات چیت کی اور اسے ٹی وی پر دکھایا ۔ ’’کشمیر نیوز‘‘ جو شام سات سے آٹھ بجے تک آتی ہے،پھر اس میں تفصیل سے دکھایا۔ نتیجے کے طور پر پورے کشمیر کو یہ پتہ چل گیا کہ میر واعظ مولوی عمر فاروق کاانٹرویو ہوا ہے او رمیر واعظ اس انٹرویو میں یہ یہ یہ کہہ رہے ہیں۔ اُس انٹرویو میں میر واعظ مولوی عمر فاروق نے یہ کہا، جو میں نے ٹی وی پر بتایا کہ اٹل بہاری واجپئی نے جہاں سرا چھوڑا تھا،اُسی سرے سے اس سرکار کو کام شروع کرنا چاہیے، تبھی کشمیر کا کوئی حل نکلے گا۔ دوسری صورت میںحل نکلنا مشکل ہے۔ شاید اُس انٹرویو کو کشمیر میں محبوبہ مفتی اور دہلی میں ہوم منسٹری نے دیکھا اورتب یہ طے ہوا کہ یہاں سے ایک فوراً اسٹڈی گروپ کشمیر بھیجا جائے۔
سابق وزیر خارجہ اور وزیر مالیات یشونت سنہا کی قیادت میں وجاہت حبیب اللہ ، صحافی بھارت بھوشن، سابق ایئر وائس مارشل کپل کاک اور سشوبھا باروے کشمیر گئے۔ یہ لوگ بروز پیر (23 اکتوبر) کی صبح سری نگر کے لیے چل دیے۔ وہاں جا کر انھوںنے گیلانی صاحب، میر واعظ مولوی عمر فاروق، پروفیسر بٹ سے ملاقات کی۔ یاسین ملک نے ان سے ملنے سے منع کردیا۔ یہ لوگ سول سوسائٹی کے لوگوں سے بھی ملے۔ یہ لوگ وکیلوں سے ملے۔ وہاں کے تاجروں کے کچھ گروپ سے ملے۔ لیکن ان لوگوں نے کہا کہ وہ یہاں سرکار سے بات کر کے نہیں آئے ہیں۔ ان کا کوئی سرکاری ایجنڈا نہیں ہے۔ اچھا ہوتا اگر یہ اس بات کو کھول دیتے کہ ہاں،ہم سرکار سے بات چیت کریں گے۔ اس میں برا کیا ہے؟ سرکار کو چاہیے کہ وہ بات چیت کے راستے کھولے۔ ایک راستہ اس میں یہ بھی ہے۔ لیکن انھوں نے بار بار یہ اسٹینڈ لیا کہ سرکار نے ہمیں نہیں کہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ کو سرکار نے نہیں جانے کے لیے کہا ہے تو پوری سرکار آپ کے لیے سہولیات کیسے پیدا کررہی ہے اور ’چوتھی دنیا‘ کو دیے ہوئے انٹرویو میں میر واعظ مولوی عمر فاروق نے یہ کہا کہ جب تک سیاسی لوگ نہیں چھوڑے جائیں گے، سیاسی سرگرمیاں نہیں ہوں گی۔ یہ ان کی مانگ تھی۔ شاید اس کی وجہ سے سرکار نے میر واعظ مولوی عمر فاروق کو اتوار کی رات جیل سے نکال کر ان کے گھر میں بھیج دیا۔ لیکن یہ اتفاق تھا کہ پہلے جیل میں ہونے کی وجہ سے کل جماعتی وفد سے ان میں سے کوئی لیڈر نہیں ملا تھا۔ اس بار جیل سے باہر ہونے کی وجہ سے ، اپنے گھر پہنچنے پر میر واعظ مولوی عمر فاروق، یشونت سنہا کی قیادت والے گروپ سے ملے۔ گیلانی صاحب بھی ان سے ملے۔ انھوںنے اپنی اپنی باتیں ان کے سامنے رکھیں۔
وزیر اعظم کو فوری طور پر سری نگر جانا چاہئے
کیونکہ مسئلے کا حل صرف ان کے پاس ہے
کشمیر ایک درد کے دھند کے بیچ گھرا ہوا علاقہ ہے۔ 60 لاکھ لوگ یہاں ہیں۔ سرکار کوئی بھی فیصلہ کرے تو یہ مان کر کرے کہ وہ 60 لاکھ لوگوں کو یا تو اپنے حق میں کرنا چاہتی ہے یا 60 لاکھ لوگوں کو اپنیخلاف کرنا چاہتی ہے ۔ کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں بند ہیں۔ کوئی رکن اسمبلی اپنے انتخابی حلقے میں نہیں جاسکتا ہے۔ وزیراپنے دفتروں میں آرام سے نہیں جاسکتے ہیں۔ ساری سیاسی سرگرمیاں بند ہیںاور حالت یہ ہے کہ جب سری نگر میں ایک کل جماعتی میٹنگ ہوئی تب حریت نے کہہ دیا کہ آپ چپ بیٹھئے، جب آپ لوگ سرکاروں میں تھے تب آپ نے کیا کیا،اس کے بعد کسی سیاسی لیڈر کا وہاں پتہ نہیں ہے۔ کشمیر کے لوگ ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ ہم لاؤس، چین، سوڈان، یمن کی فکر کرتے ہیں۔ اپنے لوگوں کی بھی فکر کرلیں او رمیں اس صورت حال کے اندازے کو اس درخواست کے ساتھ مانتا ہوں کہ وزیر اعظم صاحب آپ کے ہاتھ میں چابی ہے، آپ برائے کرم سری نگر جائیں، دودن وہاں بیٹھیں اور وہیں فیصلہ لیں کہ کشمیر کے لیے کیا کرنا ہے۔ آپ نے ایک دیوالی سری نگر میںمنائی تھی۔ اس سے زیادہ ضروری، اس دیوالی پر یا اس کے کچھ دن بعد کشمیر کے لوگوں کو دیوالی کا تحفہ دینا آپ کا فرض بنتا ہے۔

کشمیر درد سے چیخ رہا ہے
سنتوش بھارتیہ
میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ کشمیرمیں کیاہو رہا ہوگا؟میں اپنے دو صحافی دوستوں اشوک وانکھیڑے اور ابھے دوبے کے ساتھ جب 11سے 13 ستمبر کو سری نگر میں تھا تو سری نگر کی وہ تصویر سامنے آئی، جس کا دہلی میں بیٹھ کر احساس ہی نہیں ہوسکتا ، تب لگا کہ جو لکھنو، پٹنہ ، کولکاتا، حیدرآباد، بنگلورو یا چنئی میں ہیں، وہ تو کشمیر کے آج کے حالات کا تصور ہی نہیں کرسکتے کہ کیوں دکانیں بند ہیں، کیوں لڑکے پتھر چلا رہے ہیں، کیوں لڑکے سڑک پر پتھر رکھ کر سڑک کو بند کر رہے ہیں اور کیوں اپنے آپ پتھر صاف کر کے سڑکیں کھول دیتے ہیں؟ کیوں دکاندار ٹھیک شام کے چھ بجے دکانیں کھول دیتے ہیں، سرکاری بینکوں نے کیوں اپنا وقت شام چھ بجے سے کر دیا ہے۔یہ سارے سوالات آندھی کی طرح دماغ میں اس لئے اڑنے لگے کہ ہمیں تو سری نگر جا کر ان سوالوں کا جواب مل گیا لیکن کیا ملک کے لوگ کبھی اس سچائی کو سمجھ پائیں گے؟پھر ایک اور سوال ابھرا کہ پورے ملک میں کہیں بھی ایک دن کا بازار بند کرانے کا نعرہ جب کوئی سیاسی پارٹی دیتی ہے، تو لوگ دکانیں نہیں بند کرتے ہیں، ان دکانوں کو بند کرانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کے نوجوان کارکنان لاٹھی لے کر سڑک پر نکلتے ہیں، تب وہ ایک دن کے لئے دکانیں بند کرا پاتے ہیں۔ لیکن کشمیر 105دنوں سے بند تھا۔ صرف ایک کاغذ کا پرچہ کیلنڈر کی شکل میں نکلتا ہے اور لوگ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔
سری نگر میں میں نے جو دیکھا
ان تمام سوالوں نے مجھے بے چین کیا تو میں نے اگلے دن پھر سے سری نگر جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ 27 اکتوبر سے سرکار چار یا پانچ مہینے کے لئے جموں چلی جاتی ہے اور سری نگر سرکاری افسروں ، سرکاری اہلکاروں،وزیر اعلیٰ اور وزیروں سے خالی ہو جاتاہے۔ تمام لوگ جموں میں ہوتے ہیں۔ یہاں رہ جاتے ہیں وہ جو وہاں نہیں جا سکتے ہیں، جن کا یہاں کارو بار ہے، جنہیں سری نگر میں پڑھنا ہے، جنہیں سری نگر میں رہنا ہے اور سرکار سے کوئی خاص کام نہیں ہے۔ مجھے لگا کہ اس صورت حال کو دیکھنا چاہئے۔
میں جب سری نگر پہنچا ، مجھے لینے سری نگر کے ہمارے سینئر نامہ نگار ہارون ریشی آئے ہوئے تھے۔ ہارون ریشی نے راستے میں بتایا کہ دکانیں ویسے ہی بند ہیں، پتھر چلنے کم ہو گئے ہیں، لیکن سڑکوں پر گاڑیاں نہیں چل رہی ہیں۔ توقع ہے کہ پرائیویٹ گاڑیاں بھی کم چلیں،لیکن وہ گاڑیاں جن میں مسافر چلتے ہیں، وہ تقریباً نہیں کے برابر چل رہی تھیں۔ پولیس کا پہرہ کہیں کہیں تھا۔لیکن پولیس کا پہرہ اس لئے نہیں تھا کہ دکانیں بند ہوں، کرفیو اس لئے نہیں لگا تھا کہ دکانیں بند ہوں، بلکہ پولیس کا پہرہ اور کرفیو اس لئے تھا کہ اگر لوگ چاہیں تو اپنی دکانیں کھول لیں،سرکار ان لوگوں کو روکے گی، جنہیں عام زبان میں دکانیں بند کرانے والا کہا جاتا ہے۔لیکن لوگ اپنی دکانیں نہیں کھول رہے تھے۔اس کا مطلب، سری نگر کے لوگوں کی ہمت اور صبر میں کمی نہیں آئی تھی۔ہندوستانی سرکار کا یہ اندازہ کہ ہڑتال کرتے کرتے لوگ تھک جائیں گے اور پھر وہ اپنی دکانیں کھول دیں گے، غلط ثابت ہوا۔ ہندوستانی سرکار کا یہ اندازہ ، جسے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ وہ 7 دن میں صورت حال کو نارمل کر دیں گے اور انہوں نے سیکورٹی دستوں کو یہ حکم دیا تھا کہ سات دنوں میں انہیں کشمیر کی صورت حال نارمل ملنی چاہئے اور اس وقت لوگوں کو یہ لگا تھا کہ سرکار کیا کرے گی، کیا سرکار گولیاں چلائے گی، لوگوں کو مزید جیل میں بھرے گی، لوگوں کی جان کو اور خطرہ بڑھ جائے گا۔راجناتھ سنگھ کا 11 ستمبر کو کیا گیایہ اعلان، 12تاریخ کے اخباروں میں سری نگر میں چھپا تھا۔ اب اکتوبر ختم ہو رہا ہے۔ راجناتھ سنگھ کا ایک ہفتہ ، ایک مہینے سے زیادہ وقت لے چکا ہے۔ لیکن وہ ایک ہفتہ نہیں آیا، جس میں صورت حال سرکار کی اور حفاظتی دستوں کی توقعات سے نارمل ہوئی ہو۔ اس درمیان سرکار نے بات بھی نہیں کی، کسی وفد کو نہیں بھیجا۔ وزیر اعلیٰ نے بھی کسی سے بات نہیں کی۔ وزیر اعلیٰ بات کر کے کرتیں بھی کیا؟ لوگوں کی توقعات تو دہلی کی سرکار سے تھی اور دہلی کی سرکار نے اپنے آنکھ اور کان دونوں بند کر لئے تھے۔
پروفیسر بٹ نے میر واعظ سے ملنے کی صلاح دی
میں نے سوچا کہ مجھے شہر میں پروفیسر عبد الغنی بٹ سے آغاز کرنی چاہئے جو جیل سے باہر حریت کانفرنس کے سب سے بڑے لیڈر ہیں۔ میں سیدھے پروفیسر بٹ کے پاس گیا اور ان سے میں نے پوچھا کہ اب کیا حالات ہیں اور اب کیا ہونا چاہئے؟ غنی بٹ پروفیسر رہے ہیں، چیزوں کو مدلل طریقے سے سمجھتے ہیں، ان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک لمبا تجزیہ مجھے دیا۔ لیکن ساتھ ہی میرے سر پر ہاتھ رکھ کر اس بات کی شاباسی دی کہ آپ نے جو کام کیا ہے، کشمیر کی تکلیف کو جس طرح آپ کشمیر سے باہر لے گئے ہیں،وہ قابل تعریف ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں ایک صحافی ہوں،میرا کام بریک تھرو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ صحافی کے ساتھ انسان بھی ہیں اور ہمارا جو درد ہے، آنسو ہے، اگر ان کی جانکاری، ان کی مصیبتیں ،ملک کے باقی حصے کے لوگوں کو ہو جائے گی تو میرا ماننا ہے کہ ضرور اس درد کو کم ہونے میں اس سے مدد ملے گی۔ میں نے پروفیسر بٹ سے پوچھا کہ طلباء کا ایک سال خراب ہونے والا ہے، بورڈ کاا یگزام وہ نہیں دے پائیں گے، تو انہوں نے کہا کہ ہاں، بورڈ کا ایگزام وہ نہیں دے پائیں گے۔ لیکن یہاں تو زندگی کے ایگزام میں ہی فیل ہونے کا یا پاس ہونے کا سوال پیدا ہو گیا ہے۔لیکن اگر مان لیجئے کہ بورڈ کے اسکول کے ایگزام کا سوال اٹھایا بھی جائے تو کون ایگزام دے گا؟ بچے تو جیل میں ہیں۔ انہوں نے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر تین بار چائے پلانے اور بسکٹ کھلانے کے بعد یہ تجویز دی کہ مجھے ہر حالت میں میر واعظ مولوی عمر فاروق سے ملنا چاہئے، جو جیل میں بند ہیں۔ میں نے کہا کہ میں کیسے مل سکتا ہوں ان سے؟ تو انہوں نے کہا کہ کوشش کیجئے۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ جس طرح کے صحافی ہیں، اگر ٹھان لیں گے تو آپ ضرور میر واعظ مولوی عمر فاروق سے مل پائیں گے۔
پروفیسر بٹ کی باتوں نے من کو اور متفکر کردیا ،اور میں وہاں سے ہوٹل پہنچا، سامان رکھا۔ پہلے میں نے سوچا تھا کہ میں سرکار سے گزارش کروں گا کہ مجھے نسبتاً کم خرچے والے سرکٹ ہائوس میں رہنے کے لئے کسی طرح جگہ دلوائے۔لیکن پھر میں نے سوچا کہ جیسے ہی میں سرکار سے گزارش کروں گا اور اگر سرکٹ ہائوس میں مجھے جگہ مل گئی تو میرے اوپر یہ شک پیدا ہو جائے گا کہ میں کہیں سرکار کی ملی بھگت سے تو سری نگر میں نہیں گھوم رہا ہوں ، اس ایک تشویش نے میرے پائوں ایک ہوٹل کی طرف موڑ دیئے۔
میر واعظ سے ملنا ایک کرشمہ تھا
ہوٹل میں میں نے سوچنا شروع کیا کہ میں کیسے میر واعظ مولوی عمر فاروق سے مل سکتا ہوں ،کیوںکہ پروفیسر بٹ نے مجھے میر واعظ مولوی عمر فاروق سے ملنے کی صلاح دی تھی۔ میں نے اپنے صحافی دوستوں، آفیسر دوستوں ،سب سے بات کی۔ لیکن کوئی بھی میری مدد کرنے کے لئے تیار نہیں ہوا۔ لیکن تبھی ایک کرشمہ ہوا۔ ایک شخص نے کہا کہ آپ اگر موبائل فون نہ لے جائیں، اپنی پہچان کا ڈھنڈورا نہ پیٹیں تو میں کوشش کرتا ہوں کہ کسی طریقے سے آپ کی ملاقات میر واعظ مولوی عمر فاروق سے ہو جائے۔ میں نے اس سے کہا کہ نیکی اور پوچھ پوچھ۔ اس ایشور کے بندے نے پتہ نہیں کہاں، کیسے ، کیا چلایا کہ مجھے میر واعظ مولوی عمر فاروق سے ملنے کی منظوری ملنے کا اندازہ ہو گیا۔ پھر مجھے فون آیا کہ میں فوراً جہاں میر واعظ مولوی عمر فاروق جیل میں بند ہیں ، وہاں آئوں۔ اس شخص نے کہا کہ میں آپ کو وہاں ملوں گا اور کوشش کروں گا کہ میر واعظ مولوی عمر فاروق سے آپ کی ملاقات ہو جائے۔ میں ٹیکسی میں بیٹھا، ٹیکسی سے ڈل جھیل کے کنارے ہوتا ہوا، اوپر پہاڑوں کی طرف گیا۔ سری نگر کا سب سے مشہور ٹورسٹ اسپاٹ چشمہ شاہی ہے۔ چشمہ شاہی کی تعریف یہ ہے کہ وہاں لگاتار پانی آتا رہتاہے۔ کہاں سے آتا ہے، کسی کو نہیں پتہ۔ اس چشمہ شاہی سیاحتی مقام کے پاس ایک چھوٹا سا ہٹ بنا ہوا ہے جس میں میر واعظ مولوی عمر فاروق قید ہیں۔ میرا ڈرائیور غنی ڈل جھیل کے کنارے ہوتے ہوئے چشمہ شاہی کی طرف اوپر چڑھا۔ وہاں سے پولیس کے سپاہی ،کچھ جیل کے سپاہی دکھائی دیئے، سنسان ،کوئی نہیں۔ ایک جگہ مجھے ایک شخص نے روک دیا کہ آپ اس سے آگے نہیں جاسکتے۔ پھر مجھے اپنے اس ذرائع سے بات کرنی پڑی، پتہ نہیں اس نے کس طرح سے مینیج کیا کہ مجھے کُٹیا ( ہٹ) تک جانے کی اجازت مل گئی۔ کٹیا میں مجھ سے درخواست لی گئی۔ اس درخواست کے اوپر آفیشیل پرمیشن لکھی گئی اور میں میر واعظ سے ملنے چلا گیا۔ بہت پہلے میں میر واعظ سے ملا ہوں گا، لیکن انہیں اس بات کا علم تھا کہ جو تین صحافی یہاں آئے تھے، اس اندھیرے میں انہوں نے جس طرح ایک موم بتی جلانے کی کوشش کی تھی، اس موم بتی کی روشنی نے پورے سری نگر کے لوگوں کے من میں ایک امید کی چمک پیدا کر دی تھی۔
میر واعظ نے مجھے گلے لگایا اور مجھے اندر کٹیا میں لے گئے۔ ہم آپس میں ملک، دنیا ، کشمیر کے حالات کی بات چیت کرنے لگے اور تب میر واعظ نے مجھے بتایا کہ تین مہینے میں آپ پہلے شخص ہیں، جو پتہ نہیں کیسے میرے پاس تک آگئے، جبکہ ہفتہ میں ایک بار میرے گھر کے لوگ مجھ سے ملنے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے کسی باہری آدمی کا چہرہ نہیں دیکھا ہے۔ میں نے پوچھا تو یہاں ملنے کون آتا ہے؟تو انہوں نے کہا یہاں بھالو آتے ہیں،جنگل میں جگہ ہے۔میں نے پوچھا،چوہے؟ انہوں نے چھت کی طرف اشارہ کیا کہ اس چھت کے اندر، لکڑی کی چھت ہے ، کے اندر جب چوہے دن میں دوڑتے ہیں تو پتہ نہیں چلتا ،لیکن رات میں جب سنسان ، جب ہوا کی آواز بھی تیز لگتی ہے، تب یہ چوہے دوڑتے ہیں، تو بالکل بھوتیا آواز کی شکل میں وہ ماحول تبدیل ہو جاتاہے ۔ میں دیکھ رہا تھا کہ میر واعظ عمر فاروق ،جو کشمیر کے سب سے زیادہ عزت والے مذہبی پیشوا ہیں، میر واعظ عمر فاروق، جو حریت کانفرنس کے چیئرمین ہیں، میر واعظ عمر فاروق جو کافی پڑھے لکھے ہیں، کافی جینٹل ہیں،چیزوں کو سمجھتے ہیں اور ہندوستانی سرکا ر کی طرف سے اٹل بہاری جی کے زمانے میں وہ مظفر آباد اور اسلام آباد بھی گئے تھے تاکہ اٹل بہاری واجپئی جی کے ذریعہ مجوزہ تجاویز کے تئیں ان لوگوں کو تیار کر سکیں۔ آج وہ میر واعظ اکیلے ایک کٹیا میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ میں سوچنے لگا کہ انہیں یہاں لا کر سرکار کو کیا ملا؟سرکار انہیں ان کے گھر میں نہیں رکھ سکتی تھی؟ کم سے کم آرام سے سوتے ، یہ جو جیل کے ملازم ان کے ساتھ ہیں، انہیں زبردستی وہاں جیل ہو گئی۔دور بیٹھے ہوئے ہیں، وہ بھی اپنے یہاں رہتے۔
سینٹرل جیل میں یاسین ملک سے میری ملاقات
میر واعظ سے تقریبا ایک، ڈیڑھ گھنٹے بات کرنے کے بعد میں وہاں سے نکلا اور نکلنے کے بعد میں پھر ہوٹل کی طرف چلنے لگا کہ راستے میں مجھے لگا کہ کیا میں کوشش کرسکتا ہوں کہ یاسین ملک سے بھی مل لوں۔ یاسین ملک سینٹرل جیل میں بند تھے۔ میں نے اپنے اوپر مہربانی کرنے والے کچھ آدمیوں کو فون کیا اور کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں سینٹول جیل میں یاسین ملک سے ملاقات کر لوں۔ بہت سارے لوگ ملنے جاتے ہوںگے جیل میں، میں بھی ایک جا سکتا ہوں پرمیشن لے کر ، وہ ہنسے اور بولے کہ اچھا ٹھیک ہے آپ سینٹرل جیل کی طرف اپنی گاڑی موڑیئے۔ میں دیکھتا ہوں، کیا کر سکتا ہوں۔ لیکن یہ یقینی نہیں ہے کہ آپ کی ملاقات ہو ہی جائے۔
چشمہ شاہی سے تقریباً20-25 منٹ چلنے کے بعد ہم سری نگر سینٹرل جیل پہنچے اور وہاں پر کسی طرح ہاتھ جوڑتے ، گزارش کرتے جیلر صاحب سے ملتے، پولیس کے چیف سے ملتے، اپنے کو ایک عام آدمی بتاتے ہوئے ملاقات کرنے کی گزارش کی۔ پتہ نہیں اس دن کیسے ایشور مہربان تھا کہ یاسین ملک سے ملنے کی اجازت بھی مجھے مل گئی۔ میں اندر گیا۔ میرا سارا سامان باہر رکھوا لیا گیا۔ یہاں تک کہ پرس جس میں پیسے اور کریڈٹ کارڈ تھے، بھی باہر رکھوا لیا گیا۔ بغیر سوچے میں نے اسے باہر چھوڑ دیا کہ غائب ہو جائے گا۔یہ کارڈ غائب ہو سکتا ہے، پیسے غائب ہو سکتے ہیں، کچھ بھی نہیں سوچا۔میں سیدھا اندر گیا،اندر جیلر کے کمرے میں، وہ کس کا کمرہ تھا،مجھے نہیں پتہ ، لیکن کسی آفیسر کا کمرہ تھا، میں بیٹھا ہوا تھا۔ آفیسر بھی بیٹھے ہوئے تھے، مجھے گھور رہے تھے۔ مسکراتے ہوئے گھور رہے تھے، تبھی میں نے دیکھا کہ کمبل اوڑھے یاسین ملک دھیرے دھیرے کمرے کے اندر آئے۔ انہیں مجھے پہچاننے میں کچھ وقت لگا، لیکن جب پہچان لیا تو ہم پاس بیٹھے۔ میں نے ان سے بات چیت شروع کی۔ یاسین ملک بہت سمجھدار شخص ہیں۔ یاسین ملک اس ٹیم کے لیڈر ہیں، جس ٹیم نے کشمیر کے سوال کو دنیا کے سامنے پہنچانے کے لئے ہاتھ میں ہتھیار اٹھا لئے تھے۔ جب کلدیپ نیر اور جسٹس سچر 90 کے ابتدائی دور میں سری نگر گئے تھے تو انہوں نے سمجھایا تھا کہ آپ لوگ اگر ہتھیار رکھ دیں گے تو آپ کے ساتھ ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بہت کچھ کر سکیں گے۔ یاسین ملک نے ان لوگوں کی بات مان لی تھی۔ میں اس شخص کو دیکھتا رہا، بیمار ہونے کے باوجود چہرے پر ایک سختی، جو اسی دن سے جیل میں بند ہے، جس دن برہان وانی والی واردات ہوئی۔ برہان وانی کے قتل ، شہادت یا ان کے انکائونٹر میں مارے جانے کے دو گھنٹے کے بعد یاسین ملک کو قید کر لیا گیا۔
میں نے یاسین ملک سے پوچھا کہ اس کا بریک تھرو کیا ہے؟انہوں نے کہا کہ کیا بریک تھرو ہوگا؟جو سچویشن ہے، دنیا کے سامنے ہے، پاکستان کے بھی سامنے ہے، ہندوستان کے بھی سامنے ہے۔ جب سرکار کا وزیر اعظم یہ کہے کہ ہم ملک کو اسرائل بنانا چاہتے ہیں، جس طریقے سے اسرائیل اسٹرائک کرتا ہے ، ہم ویسے ہی اسٹرائک کررہے ہیںاور کشمیر کا مسئلہ اس اسٹرائک اور اسرائیل کے جملوں کے بیچ غائب ہو جاتاہے تو میں کیا بات کروں؟ میں کیا سوچوں؟بہت تلخ تھے یاسین ملک صاحب، بہت ہی تلخ ۔شاید اس نوجوان کے من میں ہتھیار رکھتے ہوئے کلدیپ نیر اور جسٹس سچر کے وعدوں کے ٹوٹنے کا ملال رہا ہوگا۔ہر کسی واقعہ کے وقت سب سے پہلے انہیں پکڑ کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، اس کا ملال رہا ہوگا۔ ان کی بات کو کشمیر کے باہر نہ سنے جانے کا دکھ رہا ہوگا۔ انہیں اپنے ساتھ ہوئی ہر ناانصافی کے لمحے یاد آتے ہوںگے۔ مجھے لگا کہ یہ تلخی اور یہ سختی ایک فطری نتیجہ ہے۔ میں اسے غیر فطری نتیجہ بھی کہہ سکتا ہوں۔
یاسین ملک سے ملتے ہوئے جب میں باہر آنے لگا، تو جو پولیس آفیسر جیل کا ملازم مجھے باہر چھوڑنے آیا، میں نے اس سے پوچھا کہ جیل میں سب سے پرانا قیدی کون ہے؟اس نے کہا کہ اس میں حریت کے ہی ایک لیڈر بند ہیں، جو 23سال سے جیل میں ہیں۔ میں نے کہا کہ 23سال سے جیل میں بند ہیں؟ کہنے لگا کہ ہاں، وہ ایک معاملے میںچھوٹ کر باہر نکلتے ہیں، تب تک پولیس دوسرا معاملہ لگا دیتی ہے۔ جب تک وہ دوسرے سے نکلتے ہیں، تو تیسرا لگا دیتی ہے۔ آج 23سال سے وہ جیل میں بند ہیں ، تب مجھے لگا کہ پولیس کا طریقہ پورے ملک میں ایک جیسا ہے،وہ کشمیر میں الگ ہے، ایسا نہیں ہے ۔ کسی نے مجھے بتایا کہ پاکستان میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ سرکار جیل سے نکلتے ہی کوئی دوسرا الزام لگا دیتی ہے اورانہیں جیل بھیج دیتی ہے۔ چاہے ہندوستان ہو، چاہے پاکستان ،پولیس کا طریقہ ،دونوں ملک میںمساوی ہے۔ کم سے کم یہاں تو دونوں ملکوں نے عملی اتحاد دکھایا ۔

کشمیر کی پولیس اور آفیسر بھی ناخوش ہیں
یاسین ملک کے یہاں سے نکل کر میں پھر ہوٹل آیا اور سوچنے لگا کہ اب کیا کرنا چاہئے؟میں نے دن بھر کے سارے واقعات کا نوٹس لیا۔ نوٹس لے کر سوچتا رہا کہ اب مجھے اگلے دن کیا کرنا چاہئے؟ تبھی مجھے پتہ چلا کہ ایک پولیس آفیسر مجھ سے ملنے آئے ہیں۔ میں نے انہیں کمرے میں آنے کی دعوت دی۔ ہو سکتا ہے وہ ذاتی طور پرملنے آئے ہوں، سادے ڈریس میں تھے، لیکن ہوسکتا ہے جموں و کشمیر یا مرکزی سرکار نے انہیں بھیجا ہو ،یہ جاننے کے لئے کہ میں آج کہاں کہاں گیا؟میں نے ان کا استقبال کیا۔ ان سے بات چیت کی۔وہ 15 منٹ کے لئے آئے تھے، لیکن ایک گھنٹہ بیٹھ گئے۔ اس بات چیت میں مجھے پتہ چلا کہ جموں و کشمیر کے سرکاری آفیسر ، جموں و کشمیر کی پولیس ، سب اس صورت حال سے بہت ناخوش ہیں۔ ان سے لمبی بات چیت سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ سرکار اگر اپنی اس پالیسی کو نہیں بدلتی ،اسے ہر چیز کے جواب میں گولیاں چلانی ہے، تو ایک دن گولیاں چلانے والے لوگ کہیں گولی چلانے سے انکار نہ کردیں،مجھے یہ ڈر لگا۔ انہیں سے بات چیت میں مجھے یہ بھی اندازہ ہوا کہ سرکار نے سختی کی اتنی انتہا کر دی ہے کہ لوگوں کے من سے اس کا ڈر نکل گیا ہے۔ لوگوں کے من سے جیل اور موت کا ڈر نکل گیا ہے۔ اب یہ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اکثر سرکاریں وہیں تک ظلم کرتی ہیں، جہاں تک ظلم کا ڈر بنا رہے، لیکن اگر ظلم اس حد کو پار کر جاتا ہے ،جہاں سے ظلم کا ڈر ہی ختم ہو جائے تو بڑی احمقانہ صورت حال مانی جاتی ہے۔ جموں و کشمیر میں تو کم سے کم سرکار اس صورت حال کو پار کر گئی ہے۔
جو 1952 یا 1954 میں کشمیر میں پیدا ہو ئے ان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔انہوں نے جب سے آنکھ کھولی ہے، تب سے کرفیو، لاٹھی چارج ، آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور اب پیلیٹ گنز دیکھے ہیں۔ اس سے زیادہ انہوں نے بندوقوں سے نکلی ہوئی گولیاں دیکھی ہیں،لاشیں دیکھی ہیں۔ان کے لئے یہی جمہوریت ہے۔ جو جمہوریت پٹنہ میں ہے، لکھنو میں ہے، ممبئی میں ہے، سہارنپور میں ہے، مظفر پور میںہے یا چنئی میں ہے، بنگلورو میں ہے، حیدر آباد میں ہے، اس جمہوریت کو تو وہ جانتے ہی نہیں کہ وہ کیا چیز ہے۔
ساری رات مجھے نیند نہیں آئی،صرف یہ سوچ کر کہ کیا سرکاریں سچ مچ بے ضمیر ہوتی ہیں، انکا ضمیر نہیں ہوتا۔ وہ لوگوں کا درد نہیں سمجھتے۔ کیا ملک کے لوگ بے ضمیر ہو گئے ہیں، جو کشمیر کی تکلیف کو جاننا ہی نہیں چاہتے۔ جوآرٹیکل 370 کو کشمیر کے ہندوستان سے الحاق میں ایک رکاوٹ مانتے ہیں۔370 کیا ہے، مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ کیا سمجھوتہ ہوا تھا، اس کی شرطیں کیا تھیں، اقوام متحدہ میں کون گیا تھا، کیا شرطیں تھیں اس کی؟ ان شرطوںکی تعمیل کن لوگوں نے نہیں کی یا نہیں ہونے دی۔ یہ تمام سوالات ملک کے لوگوںکو کیوں نہیں پتہ اور چونکہ یہ سوال لوگوںکو پتہ نہیں ہے، شاید اسی لئے پورا ملک اس وقت کشمیر کے ایک ایک آدمی کو پاکستانی مان رہا ہے اور یہ مانتا ہے کہ پاکستان میں شامل کرنے کے لئے سارے حریت کے لیڈر جی جان لگائے ہوئے ہیں۔
سید علی شاہ گیلانی سے ایک دلچسپ ملاقات
میں صبح اٹھا پھر سوچنے لگا کہ آج کیا کیا جاسکتا ہے، مجھے شام کو دہلی واپس جانا چاہئے اور میں جن لوگوں سے ملا ہوں، ان کی بات چیت کی بنیاد پر ایک تجزیہ اپنے اخبار میں لکھوں گا ۔میں ناشتہ کرنے کے بعد باہر نکلا تو ایک شخص ملا، اس نے مجھے پہچان لیا اور کہا ،آپ سچے آدمی ہیں۔ آپ پہلے ایسے آدمی ہیں، جس نے کشمیر کی سچائی کشمیریوں کے بھی سامنے رکھی، جس سے ہم کو لگا کہ آپ ہیں اور آپ کے وہ دو ساتھی کہاں ہیں؟میں نے کہا کہ میں انہیں بغیر بتائے یہاں آیا ہوں، اگلی بار وہ دونوں ساتھ آئیںگے۔ اس نے جس طرح سے اپنی باتیں کہی، مجھے لگا کہ یہ بھولے بھالے لوگ، انہیں تھوڑی سی روشنی کی چمک دکھائی دی، کسی نے ان کے حق میں باتیں کی، یہ اسے اپنا سب سے اچھا دوست ماننے لگے۔ اس کی بات چیت کے بعد میں نے طے کیا کہ مجھے تحریک حریت کے مقبو ل لیڈر علی شاہ گیلانی سے بھی ملنا چاہئے ۔ گیلانی صاحب سے پچھلی بار جب میں اور میرے دونوں صحافی ساتھی ملنے گئے تھے تو پولیس نے ہمیں ملنے نہیں دیا تھا۔ جس ذرائع نے مجھے پچھلی بار گیلانی صاحب سے ملنے کی صلاح دی تھی، جس کے جواب میںگیلانی صاحب نے پھر ہمیں ہوٹل میں فون کیا تھا۔میں نے انہیں سے گزارش کی کہ کیا کیا جا سکتا ہے؟اس نے مجھے کہا کہ آپ گیلانی صاحب کے یہاں پہنچئے، دیکھئے کوشش کرتے ہیں۔ پھر اتفاق سے ہم گیلانی صاحب کے یہاں گئے، وہاں ہمیںاندر جانے دیا گیا۔ یہ ہماری باضابطہ ملاقات تھی۔ میں گیلانی صاحب کے پاس گیا ۔انہوں نے شاید 15 یا 20 منٹ کا وقت دیا تھا۔ لیکن جب ہماری بات چیت شروع ہوئی ، تو بات چیت ڈیڑھ گھنٹے میں تبدیل ہو گئی۔جب ڈیڑھ گھنٹہ گزرا، تو گیلانی صاحب نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا۔ گیلانی صاحب اس وقت 87 سال کے ہیں، عمر کے آخری پڑائو پر ہیں اور وہاں سے بیٹھ کر وہ جس طرح سے سارے مسائل کو، کشمیر کو دیکھ رہے ہیں، میں نے اسی نظریئے سے ان سے بات چیت کی۔ اچانک مجھے لگا کہ یہ بات چیت تو گیلانی صاحب توسب سے کرتے ہوںگے اور تب میں نے گیلانی صاحب سے ان کی زندگی کے ان پہلوئوں کے بارے میں بات چیت کی جس کے بارے میں آج تک انہوں نے کسی سے بات نہیں کی۔ گیلانی صاحب کی اس بات چیت کو ہم ’’چوتھی دنیا ‘‘کے اگلے شمارہ میںچھاپیںگے۔جس میں گیلانی صاحب کیا کرنا چاہتے تھے، جو وہ نہیں کرپائے؟گیلانی صاحب کیا نہیںکرناچاہتے تھے یا گیلانی صاحب کو کس چیز کا غم رہا زندگی میں؟کون سی چیز ان کی زندگی سے چھوٹ گئی، جو اب ان کے پاس کبھی نہیں آسکتی؟انہیں چاند اور سورج کی روشنی سے کس طرح کااحساس ہوتاہے؟گیلانی صاحب اگر سری نگر میں نہیں ہوتے تو ملک کے کس حصے میںرہنا پسند کرتے یا دنیا کے کس حصے میںرہنا پسند کرتے؟ایسے سارے سوالات جو انسانی سوالات ہیں،ان سوالوں کومیں ہمت کرکے پوچھا اور گیلانی صاحب کے چہرے کے اوپر جو اثرات آرہے تھے، وہ اس زندگی سے ملی ہوئی تلخیوں کے اثرات تھے، زندگی سے ملی ہوئی خوشیوں کے رنگ تھے اور زندگی سے نہ مل سکے لمحوں کے افسوسناک سائے تھے۔
کشمیر جو 1947میں تھا
گیلانی صاحب کے یہاں سے جب لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد میں نکلا، تو مجھے لگا کہ میر واعظ مولوی عمر فاروق نے کل اور گیلانی صاحب نے آج یہ صاف کر دیا کہ وہ تو کبھی پاکستان میںملنے کی بات ہی نہیں کرتے۔ ان کا صرف یہ کہنا ہے کہ جو وعدے ہندوستان کی سرکار نے راجا ہری سنگھ جی سے کئے تھے اور جس کی بنیاد کے اوپرانہوں نے جو شرطیں یونائٹیڈ نیشنز میں دی تھی، ان پر عمل ہو اور وہ شرطیں صرف سری نگر کے لئے نہیں، وہ شرطیں پورے کشمیر کے لئے، جو کشمیر 1947 میں تھا، یعنی پاکستان کے قبضے والے تین حصے، بلوچستان، گلگت، مظفرآباد اور ادھر سری نگر، لداخ اور جموں۔یہ سارا حصہ۔ اس میں وہ شرطیں نافذ ہوں ۔ جو وعدے پورے ہوئے ہیں وہ ان ساری چیزوں میں، ان کا اثر ان تینوں چیزوںپر پڑے۔ جن کے لئے وہ کہتے ہیں کہ آپ اگر پاکستان سے بات نہیں کریں گے، توپاکستان کے قبضے والے تینوں حصوں میں وہ چیزیں کیسے لاگو ہوں گی؟اس لئے ان دونوں کا ماننا ہے کہ ہم پاکستان کا نام اس لئے لیتے ہیں کہ ایک حصہ ہندوستان کے پاس ہے، ایک حصہ پاکستان کے پاس ہے۔ کشمیر کو ایک مکمل کائی کی شکل میں دیکھنے کے لئے دونوں ملکوں کی سرکاریں بات کریں اور ہم کشمیر کے دونوں حصوںکے کشمیر کے لوگ ان کی باتوں کو سن کر یہ فیصلہ کریں کہ انہیں آگے کیا کرنا ہے۔
لیکن یہ بات تو ہندوستان کے لوگوں کو بتائی ہی نہیں جاتی۔ وہاں تو یہ کہا جاتاہے کہ کشمیر میں رہنے والا ہر آدمی پاکستان کا حامی ہے اور گیلانی صاحب اور حریت کے باقی لیڈر پاکستان کی وکالت کرتے ہیں۔میر واعظ نے کہا کہ یہاں لوگ جب پاکستان کا جھنڈا نکالتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ وہ ہندوستانی سرکار کو چِڑھانا چاہتے ہیںاور اب تو انہوں نے پاکستان اور چین دونوں کا جھنڈا نکال دیا ہے، تو کیا آپ مانتے ہیںکہ ہم لوگ چین کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ دراصل گیلانی صاحب اس معاملے میںبالکل صاف ہیںاور جب زندگی کے چند سال ان کے پاس ہیں، تو وہ چاہتے ہیںکہ اس مسئلے کا صحیح اور کشمیریوں کو کئے گئے وعدے کے حساب سے حل نکلے۔
گیلانی صاحب نے اپنی سوانح حیات اور اپنے ذریعہ لکھی ہوئی تمام کتابوں کی کاپیاں مجھے سونپی۔ایک کتاب پر انہوں نے اپنے دستخط کئے اور میںجب وہاں سے نکلا تو گیلانی صاحب اپنی عادت کے خلاف مجھے باہر سڑک پر جہاں دور میری گاڑی کھڑی تھی، وہاں تک چھوڑنے آئے۔ وہ جب باہر سڑک پر نکلے تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کبھی باہر ٹہلنے نکلتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہاں کبھی کچھی نکلتا ہوں۔ تھوڑا سا دو قدم آگے جاتا ہوں، تو یہ مجھے واپس لے آتے ہیں اور جب میں کہتا ہوں کہ نہیں دو قدم اور چلوں گا تو یہ مجھے تھانے میں لے جاتے ہیں۔ ہم ہنسے اس پر، جب گیلانی صاحب میری کار کے پاس آئے تو میں نے مذاق میں کہا کہ گیلانی صاحب، چلئے گاڑی میں بیٹھئے ، ہم گاڑی میں بھاگ چلتے ہیں۔ ابھی یہ لوگ پیچھا کریںگے۔ گولیاں یہ چلائیںگے نہیں ، کیونکہ آپ یہاں بیٹھے ہیںاور چاروں طرف شور ہو جائے گا کہ ہندوستان کا ایک صحافی گیلانی صاحب کو لے کر فرار ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ گیلانی صاحب کھل کر ہنسے۔مجھے لگا کہ 87 سال کا ایک آدمی اس مذاق کو بھی کس طریقے سے انجوائے کررہا ہے، اس کا لطف لے رہا ہے۔
میں دوبارہ میر واعظ سے کیوں ملا
گیلانی صاحب کے یہاں سے نکلتے وقت بھی میرے دماغ میں ایک بات چل رہی تھی کہ کیا میر واعظ مولوی عمر فاروق سے ایک ایسی بات نہیں ہو سکتی جس سے میں حرف بہ حرف ان کا نوٹ کر لوں، تب مجھے افسوس ہوا کہ کل جب میں میر واعظ مولوی عمر فاروق کے پاس گیا تو میں کیوں کاغذ،قلم نہیں لے گیا۔ میں نے پھر کوشش کی اور سب سے پہلے شام کا ٹکٹ کینسل کرایا۔ گیلانی صاحب کے یہاں سے میں شاید 4بجے نکلا اور وہاں سے نکلنے کے بعد میں نے پھر چشمہ شاہی کی طرف دوڑ لگائی۔ راستے میں میںنے اپنے سارے ذرائع سے کہا کہ سرکار سے ، غیر سرکار سے، صاحب سے ، نوکر سے، جس سے بھی ہو، مجھے کسی طرح سے میر واعظ مولوی عمر فاروق سے آدھے گھنٹے ملنے کا موقع مل جائے۔ میں نے کہا، نہیںملے گا تو میںوہاں انتظار کروں گاسڑک پر، جہاںسے چشمہ شاہی کا راستہ شروع ہوتا ہے۔ میں اس ماحول کو دیکھنا چاہ رہا تھا۔ رات کے اندھیرے میںوہ علاقہ کیسا لگتا ہے؟ جسے کتابوں میں کہانیوں میں زمین کی جنت سے تعبیر کیا جاتا ہے، وہ رات میں کیسا لگتا ہے؟ کرفیو والی راتوں میں کیسا لگتا ہے؟ سردی کی راتوں میں کیسا لگتا ہے؟
کیا اسے میں اپنی خوش قسمتی کہوں یا دوستوںکی مدد کہوں، مجھے پھر کسی طرح جیل میں جانے کا موقع مل گیا ۔ میں کاغذوں کا ایک پلندہ لے کر چشمہ شاہی والی سڑک پر چڑھا۔ اس بار مین گیٹ پر تعینات، جہاںبیریئر لگا ہے، سپاہی نے پوچھا، تو میں نے اسے اپنے سابق رکن پارلیمنٹ ہونے کا کارڈ دکھایا اس نے فوراً اندر جانے دیا۔ جیل کے ملازمین مجھے میر واعظ مولوی عمر فاروق کے پاس لے گئے۔ انھوں نے کہا کہ ارے آپ پھر کیسے آئے؟ میں نے کہا، مولوی صاحب، یہی تو ہمارا ہنر ہے ۔میں نے مذاق میں بتایا کہ کس طرح میں نے کیسے کیسے ان لوگوں سے اپنے صحافتی زندگی میں ملاقات کی، جن سے کوئی دوسرے کبھی ملاقات کر ہی نہیں پارہے تھے۔ ان میں ڈاکو بھی تھے، انڈر ورلڈ کے لوگ بھی تھے، ایسے سیاستداں بھی تھے جو کچھ کرکے چھپے ہوئے تھے۔ جن میں سُکُر نارائن بکھیا اور حاجی مستان جیسے لوگ، مادھو سنگھ، پھولن دیوی جیسے ڈاکو اور وہ سارے وزیر اعلیٰ ، وہ سارے وزیر جنھوں نے کچھ ایسا کیا جس کو میں نے رپورٹ کیا اور جس سے ان کے عہدے کے اوپر آنچ آئی۔ کم سے کم دو وزرائے اعلیٰ کے استعفے میری رپورٹ پر ہوئے او رسات یا آٹھ کابینی وزیروں کا مجھے یاد ہے، یا تو ان کے استعفے ہوئے یا ان کے محکمے بدلے گئے۔ میںنے یہ مذاق مذاق میں میر واعظ مولوی عمر فاروق کو جب بتایا تو انھوںنے کہا ، لیکن میں آپ کو انٹرویو نہیں دوں گا۔ میںنے کہا، میر واعظ صاحب، انٹرویو اگر نہیں دیں گے تو میری ساری محنت بیکار چلی جائے گی۔ میں یہاں اخبار کے لیے آیا ہوں، میں اس میں آپ کی کہی ہوئی بات چھاپنا چاہتا ہوں۔ میر واعظ مولوی عمر فاروق نے کہا، ہم نے طے کیا ہے کہ میں، گیلانی صاحب اور یاسین ملک صاحب، ہم تینوں آپس میں مشورہ کرکے ہی کوئی بات کہیں گے۔ میں نے کہا، وہی کیجئے۔ میں آپ سے بیان دینے کی بات نہیں کررہا ہوں۔ میں آ پ سے صورت حال کا اندازہ لگانے کی بات کررہاہوں، جس کی وجہ سے یہ 106 دنوں کا کرفیو لگا ہوا ہے، لڑکے جیل میں ہیں، لوگ مارے گئے ہیں، پیلیٹ گن سے لوگوں کی آنکھیں گئی ہیں۔ سرکار بند ہے، ڈل جھیل سونی ہے، سڑکوں پر ٹیکسیاں نہیں چل رہی ہیں، طلبہ کے امتحان نہیں ہورہے ہیں، جو زخمی ہیں ان کا علاج نہیں ہورہا ہے۔ کشمیر کے اس بند کی وجہ سے ان لوگوں کی موت اس کھاتے میں نہیں لکھی جارہی ہے جنھیں ڈائلیسس کرانا تھا لیکن جن کی ڈائلسس نہیں ہوئی اور ان کی جانیںچلی گئیں۔ میں اس میں انھیںنہیںجوڑ رہا ہوں، جن کو کینسر تھا جنھیں علاج کے لیے ہاسپٹل آنا پڑتا ہے، وہ نہیں آپائے اس لیے ان کی موت ہو گئی۔ تب میر واعظ مولوی عمر فاروق نے مجھ سے بات کرنی شروع کی۔ میں نے اس بات کی ایک ایک چیز کو جلدی جلدی کاغذ میں نوٹ کیا۔ نوٹ کرنے کے بعد میںنے میر واعظ مولوی عمر فاروق سے کہا کہ میںنے جو نوٹ کیا ہے اور جو میری یادداشت میں رہے گا، اس کو لے کر میں اسٹوری کروں گا۔ اگر کہیں کوما، فل اسٹاپ اِدھر اُدھر ہوجائے تو برائے کرم مجھے معاف کیجئے گا۔ میر واعظ مولوی عمر فاروق اپنی متانت کی ہنسی ہنسے۔ میں وہاں سے نکل کر باہر آیا۔ غنی سے میںنے کہا، مجھے پھر آج سری نگر گھومنا ہے۔غنی لڑکا ہے،ڈرائیور ہے، ٹیکسی چلاتا ہے۔ میں نے پھر اس کے ساتھ بیٹھ کر ڈل جھیل کا چکر لگایا۔ سنسان، بیابان شہر میں گھوما۔ وہ جمعہ کا دن تھا اور میں آپ کو بتاتا ہوں کہ گزشتہ دنوں کچھ گلیوں میں دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ لیکن اس جمعہ کو ان گلیوں کی دکانیں بھی بند تھیں۔ حریت نے کہا تھا کہ جمعہ کو تو کچھ بھی کھلا نہیں ہونا چاہیے۔ چائے کا ایک کپ اگر کہیں اس دن مل جاتا، تو شاید لاکھ روپے کا ایک کپ ہوتا۔ نہیںملا کہیں۔ کھانے کے لیے لوگ ترس جاتے ہیںکیونکہ ساری دکانیں بند، دوائیوں کی دکانیں بند، سب کچھ بند۔
میر واعظ کا انٹرویو اور یشونت سنہا کا کشمیر دورہ
رات میںمیںنے میر واعظ کے دیے ہوئے انٹرویو کے پوائنٹس بنائے۔ اپنے دماغ میں جتنا یاد تھا، وہ سب میں نے لکھا اور سوال و جواب کی شکل میں ایک تہائی کام میں نے پورا کر لیا۔ اگلے دن صبح سے پہلے ہوائی جہاز سے، جو صبح سات بجے وہاں سے دہلی کے لیے اڑتا ہے۔ میںاس سے دہلی آگیا۔ راستے بھر میںسوچتا رہا کہ کاش کشمیر کا یہ درد دہلی کی سمجھ میں آجائے۔ دہلی پہنچتے ہی میں نے ای ٹی وی کو بتایا کہ میں کشمیر ہوکر آیا ہوں، میںنے میر واعظ کا انٹرویو چھاپا ہے۔ وہ شام کو میرے پاس آئے۔ تب تک اخبار چھپ کر آچکا تھا ۔انھوںنے اخبار کے صفحات کی تصویریں لیں اور ٹی وی پر دکھائیں۔ انہوں نے مجھ سے بات چیت کی اور اسے ٹی وی پر دکھایا ۔ ’’کشمیر نیوز‘‘ جو شام سات سے آٹھ بجے تک آتی ہے،پھر اس میں تفصیل سے دکھایا۔ نتیجے کے طور پر پورے کشمیر کو یہ پتہ چل گیا کہ میر واعظ مولوی عمر فاروق کاانٹرویو ہوا ہے او رمیر واعظ اس انٹرویو میں یہ یہ یہ کہہ رہے ہیں۔ اُس انٹرویو میں میر واعظ مولوی عمر فاروق نے یہ کہا، جو میں نے ٹی وی پر بتایا کہ اٹل بہاری واجپئی نے جہاں سرا چھوڑا تھا،اُسی سرے سے اس سرکار کو کام شروع کرنا چاہیے، تبھی کشمیر کا کوئی حل نکلے گا۔ دوسری صورت میںحل نکلنا مشکل ہے۔ شاید اُس انٹرویو کو کشمیر میں محبوبہ مفتی اور دہلی میں ہوم منسٹری نے دیکھا اورتب یہ طے ہوا کہ یہاں سے ایک فوراً اسٹڈی گروپ کشمیر بھیجا جائے۔
سابق وزیر خارجہ اور وزیر مالیات یشونت سنہا کی قیادت میں وجاہت حبیب اللہ ، صحافی بھارت بھوشن، سابق ایئر وائس مارشل کپل کاک اور سشوبھا باروے کشمیر گئے۔ یہ لوگ بروز پیر (23 اکتوبر) کی صبح سری نگر کے لیے چل دیے۔ وہاں جا کر انھوںنے گیلانی صاحب، میر واعظ مولوی عمر فاروق، پروفیسر بٹ سے ملاقات کی۔ یاسین ملک نے ان سے ملنے سے منع کردیا۔ یہ لوگ سول سوسائٹی کے لوگوں سے بھی ملے۔ یہ لوگ وکیلوں سے ملے۔ وہاں کے تاجروں کے کچھ گروپ سے ملے۔ لیکن ان لوگوں نے کہا کہ وہ یہاں سرکار سے بات کر کے نہیں آئے ہیں۔ ان کا کوئی سرکاری ایجنڈا نہیں ہے۔ اچھا ہوتا اگر یہ اس بات کو کھول دیتے کہ ہاں،ہم سرکار سے بات چیت کریں گے۔ اس میں برا کیا ہے؟ سرکار کو چاہیے کہ وہ بات چیت کے راستے کھولے۔ ایک راستہ اس میں یہ بھی ہے۔ لیکن انھوں نے بار بار یہ اسٹینڈ لیا کہ سرکار نے ہمیں نہیں کہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ کو سرکار نے نہیں جانے کے لیے کہا ہے تو پوری سرکار آپ کے لیے سہولیات کیسے پیدا کررہی ہے اور ’چوتھی دنیا‘ کو دیے ہوئے انٹرویو میں میر واعظ مولوی عمر فاروق نے یہ کہا کہ جب تک سیاسی لوگ نہیں چھوڑے جائیں گے، سیاسی سرگرمیاں نہیں ہوں گی۔ یہ ان کی مانگ تھی۔ شاید اس کی وجہ سے سرکار نے میر واعظ مولوی عمر فاروق کو اتوار کی رات جیل سے نکال کر ان کے گھر میں بھیج دیا۔ لیکن یہ اتفاق تھا کہ پہلے جیل میں ہونے کی وجہ سے کل جماعتی وفد سے ان میں سے کوئی لیڈر نہیں ملا تھا۔ اس بار جیل سے باہر ہونے کی وجہ سے ، اپنے گھر پہنچنے پر میر واعظ مولوی عمر فاروق، یشونت سنہا کی قیادت والے گروپ سے ملے۔ گیلانی صاحب بھی ان سے ملے۔ انھوںنے اپنی اپنی باتیں ان کے سامنے رکھیں۔
وزیر اعظم کو فوری طور پر سری نگر جانا چاہئے
کیونکہ مسئلے کا حل صرف ان کے پاس ہے
کشمیر ایک درد کے دھند کے بیچ گھرا ہوا علاقہ ہے۔ 60 لاکھ لوگ یہاں ہیں۔ سرکار کوئی بھی فیصلہ کرے تو یہ مان کر کرے کہ وہ 60 لاکھ لوگوں کو یا تو اپنے حق میں کرنا چاہتی ہے یا 60 لاکھ لوگوں کو اپنیخلاف کرنا چاہتی ہے ۔ کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں بند ہیں۔ کوئی رکن اسمبلی اپنے انتخابی حلقے میں نہیں جاسکتا ہے۔ وزیراپنے دفتروں میں آرام سے نہیں جاسکتے ہیں۔ ساری سیاسی سرگرمیاں بند ہیںاور حالت یہ ہے کہ جب سری نگر میں ایک کل جماعتی میٹنگ ہوئی تب حریت نے کہہ دیا کہ آپ چپ بیٹھئے، جب آپ لوگ سرکاروں میں تھے تب آپ نے کیا کیا،اس کے بعد کسی سیاسی لیڈر کا وہاں پتہ نہیں ہے۔ کشمیر کے لوگ ہمارے اپنے لوگ ہیں۔ ہم لاؤس، چین، سوڈان، یمن کی فکر کرتے ہیں۔ اپنے لوگوں کی بھی فکر کرلیں او رمیں اس صورت حال کے اندازے کو اس درخواست کے ساتھ مانتا ہوں کہ وزیر اعظم صاحب آپ کے ہاتھ میں چابی ہے، آپ برائے کرم سری نگر جائیں، دودن وہاں بیٹھیں اور وہیں فیصلہ لیں کہ کشمیر کے لیے کیا کرنا ہے۔ آپ نے ایک دیوالی سری نگر میںمنائی تھی۔ اس سے زیادہ ضروری، اس دیوالی پر یا اس کے کچھ دن بعد کشمیر کے لوگوں کو دیوالی کا تحفہ دینا آپ کا فرض بنتا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *