ہونڈا مزدور تحریک مزدوروں کے خلاف ظلم و بربریت

damiمیک انڈیا کے دور میںاگر کوئی کمپنی ایک ساتھ تین ہزار مزدوروںکونوکری سے نکال دے اور مزدوروں پر جھوٹے مقدمے دراج کرائے تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ راجستھان کے الور ضلع میں ہونڈا موٹر سائیکل اینڈ اسکوٹر پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی ہے۔ یہ کمپنی یہاںپر دو پہیہ گاڑی بناتی ہے۔ ہونڈا ایک ملٹی نیشنل کمپنی ہے جس کے اسکوٹر و موٹر سائیکل کی ملک میں ریکارڈ فروخت ہوتی ہے۔
16 فروری 2016 کو یہاں پر ایک مزدور سے مارپیٹ ہوئی اور اسے اوور ٹائم کرنے سے روکا گیا۔مزدوروں کو جب اس بات کا علم ہوا تو مزدور یونین نے کمپنی انتظامیہ سے بات کی۔ مزدوروں نے قصوروار انجینئر پر کارروائی کرنے کی مانگ کی۔ لیکن مزدوروں کی شکایت سننے کے بجائے کمپنی نے اپنے لوگوں کے ذریعہ مزدوروں سے مارپیٹ کی۔ مزدوروں کا الزام ہے کہ کمپنی نے باؤنسر بلاکر ان کے ساتھ مارپیٹ کی۔ اس کے بعد وہاں پولیس بھی آگئی اورپھرپولیس نے بھی مزدوروں پر پولیسیا کارروائی کی۔ اس معاملے میں بڑی تعداد میںمزدور زخمی ہوئے۔ اس کے بعد مزدوروں پر 307,395 جیسی دفعات لگائی گیں۔ انھیںجیل بھیجا گیا اور کمپنی نے تقریباً 3000ٹھیکہ مزدوروں اور 200مستقل مزدوروں کو نوکری سے نکال دیا۔مزدوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں کے مزدور اپنے لیے ایک یونین بنانے کی کوشش کررہے تھے اور انتظامیہ نہیںچاہتا تھاکہ مزدور یونین بنائی جائے، اس لیے یہ سب ڈرامہ کیا گیا۔
ہونڈا کے مزدوروںنے 6 اگست 2015 کو یونین بنانے کا عمل شروع کیا تھا۔ کمپنی میں 450مستقل اور 3000کے قریب عارضی مزدور کام کرتے ہیں۔ اس پلانٹ میں روزانہ 4500 بائک، اسکوٹرتیار ہوتے ہیں۔ مستقل مزدورکی تنخواہ جہاں 16000 روپے ہے وہیں عارضی مزدور کی 8000 روپے۔ چھٹی لینے پر پیسے بھی کاٹے جاتے ہیں۔ اس پلانٹ میںتین شفٹوں میںکام ہوتا ہے اور عموماً مزدوروںکو اوور ٹائم کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی مزدور اوور ٹائم کرنے سے منع کردیتا ہے تو اس کے ساتھ زیادتی ہونا ایک عام واقعہہے۔
اسی کے سبب یہاںکے مزدورںنے اپنے لیے ایک یونین بنانے کا فیصلہ کیا۔ کمپنی کے مزدور بتاتے ہیںکہ کمپنی انتظامیہ نے یونین بنانے کی بات سنتے ہی ہمیں اور زیادہ ہراساںکرنا شروع کردیا۔ اسی بیچ ہونڈا کمپنی نے گجرات میں اپنا ایک نیا پلانٹ بنانا شروع کردیا۔ اس کے بعد فروری 2016 کا واقعہ ہوا اور ایک ساتھ تین ہزار سے زیادہ مزدوروںکو کام سے نکال دیا گیا۔
کمپنی کے اس فیصلے کے خلاف مزدور منظم ہوئے او رمزدوروںنے دھرنا پردرشن شروع کردیا۔ آج 7 ماہ بعد بھی مزدوروں کی انصاف پانے کے لیے لڑائی جاری ہے۔ مزدورںکی یہ لڑائی راجستھان کے الورسے شروع ہوکر اب دہلی کے جنتر منتر پر پہنچ چکی ہے، جہاںیہ مزدور گزشتہ ایک مہینے سے لگاتار انشن پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ابتدائی مرحلے میں جب یہ مزدور راجستھان میںمظاہرہ کررہے تھے تب ان پر مینجمنٹ کی طرف سے کئی طرح کے دباؤ ڈالے جاتے تھے۔، پولیس بھی ان مزدوروں کو مظاہرہ کرنے سے روکتی تھی۔ لیکن اب یہ مزدور دہلی آکر اقتداراور میڈیا کو اپنے ساتھ ہوئی ناانصافی کی کہانی سنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ٹپوکیڑا ہونڈا کے مزدوروں نے 28 ستمبر سے 2اکتوبر تک دھاروہیڑا، مانیسر، گڑگاؤںاور دہلی کے بیچ ’سنگھرش ریلی‘ نکالی جو 2 اکتوبر کو جنتر منتر پر ایک بہت بڑا جلسہ عام کی شکل میںختم ہوئی۔ 2 اکتوبر کے بعد سے یہ لوگ لگاتار انشن پر بیٹھے ہیں۔ پھر بھی ان مزدوروں کے چہرے پرکوئی شکن تک نہیں ہے ۔ یہ مزدور اپنی اس لڑائی کو انجام تک پہنچانے کے لیے پوری طرح تیار دکھائی دے رہے ہیں۔
2 اکتوبر کو جنترمنتر پر ان مزدوروں کا ایک بڑا جلسہ عام ہوا جس میں ہونڈا مزدور یونین نے 5 ہونڈا پروڈکٹس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ۔ ہونڈا کے ان آندولن کاریوںنے ہونڈا پروڈکس کے سبھی خریداروں سے اپیل بھی کی ہے کہ ہونڈا، ٹپکڑا، راجستھان نے گزشتہ ساتمہینہ پہلے تین ہزار ہنرمند کارکنوںکو ہٹادیا تھا اور غیر ہنرمند کارکنوں کی بھرتی کرلی تھی جس کے سبب ہونڈا کے پروڈکٹس ٹھیک طریقے سے نہیںبن رہے ہیں، اس لیے گاہک ان پروڈکٹس کا بائیکاٹ کریں۔ مزدوروں کے اس دعوے کی سچائی کیا ہے یہ تو کمپنی ہی بتا سکتی ہے یاپھر خود صارفین ، لیکن مزدوروں نے مخالفت کا ہر ممکن طریقہ اپناناشروع کردیا ہے۔
مزدور یونین کے لیڈر اور ہونڈا پلانٹ ٹپوکیڑا سے برخاست کیے گئے مزدور لیڈر نریش مہتہ بتاتے ہیں کہ ہونڈا سے نکالے گئے مزدوروں کی بھوک ہڑتال کو ایک مہینہ ہوگیا ہے لیکن ہونڈا مینجمنٹ کی طرف سے کوئی نتیجہ نہ آتے دیکھ کر اب ہمارے خاندانوں او ر ہمارے حامیوں نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ ہماری حمایت میں پورے ہندوستان میں ہر ضلع کے ڈی سی آفس کے سامنے ایک دن کی بھوک ہڑتال کریں گے اور اس سے بھی بات نہیںبنی تو اسے انشن میں تبدیل بھی کریں گے۔ نریش مہتہ عام لوگوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اگر عام آدمی بھی ہونڈا مزدوروں کے اوپر ہورہے مظالم کے خلاف مدد کریںگے تو مزدوروںکو انصاف ملنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *