ہندوستان میں پاکستان کے دانشمند دلال

dami11-12-13 ستمبر کو میں کشمیر میں تھا۔بقر عید کشمیر میں منائی تھی۔بقر عید کے بعد میں نے وزیر اعظم کو ایک خط لکھا۔ اس خط میں ،میں نے وزیر اعظم کو کشمیریوں کی تکلیف، ان کی مانگیں، ان کی تشویش جو بھی میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سمجھا،لکھنے کی کوشش کی۔ اس خط کے آغاز میں، میں نے لکھا تھا کہ مجھے اس خط کا جواب ملنے کی امید وزیر اعظم کے دفتر سے نہیں ہے اور میرا وہ لکھا ہوا سچ ثابت ہوا۔ہم نے وزیر اعظم کو اس خط کی رجسٹرڈ کاپی بھیجی۔عام ڈاک سے بھی اور اسپیڈ پوسٹ سے بھی بھیجی اور اخبار میں کھلے خط کی شکل میں چھاپ بھی دیا۔لیکن وزیر اعظم صاحب یا وزیر اعظم کے دفتر سے، ایک عام سا جواب بھی نہیں آیا کہ’ آپ کا خط ملا‘، ’آپ کے خط پر غور کیا جائیگا‘،جو کہ ایک عام اصطلاح ہوتی ہے ،اس میں بھی ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔ کوئی بات نہیں، یہ وزیر اعظم صاحب کا فرض اور ان کے دفتر کی کارکردگی ہے۔
لیکن مجھے حیرانی دوسری بات سے ہوئی کہ اس خط کو ملک کے علاوہ دنیا کے بہت سارے اخباروں اور ویب سائٹ نے اٹھایا۔ جب ہم دنیاکہتے ہیں تو کئی سارے ممالک اس میں آجاتے ہیں، لیکن میں یہاں خاص طور سے پاکستان کا ذکر کرنا چاہوں گا۔پاکستان کے میڈیا نے جس میں پرنٹ اور ٹیلی ویژن دونوں شامل ہیں، جس طرح سے اس خط کو اٹھایا اور تقریباً 5سے 6 دنوں تک اپنے یہاں چرچائیں کیں، وہ میرے لئے زیادہ تشویشناک ہے۔پاکستان کے اخبار اور ٹیلی ویژن کی زیادہ تر ہیڈلائنس تھی’ہندوستانی صحافی نے کشمیر کی اصلیت بتائی‘،’ سنتوش بھارتیہ نے مودی کو آئینہ دکھایا‘۔ پورے پاکستان کا میڈیا ، جس میں ٹیلی ویژن کے وہ نام شامل تھے جنہیں ہم ہندوستان میں کافی احترام سے دیکھتے ہیں اور وہاں کے وہ اخبار جن کے مضامین ہم یہاں پڑھتے ہیں اور پاکستان کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں، ان سب نے میرے اس خط کو ہندوستان کے خلاف، ہندوستان کے عوام کے خلاف، ہندوستان کی سرکار کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ میں نے یہ خط لکھتے وقت یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرے اس خط کا استعمال پاکستان کا میڈیا اپنے حق میں کرے گا۔
دراصل یہ کشمیر کا درد تھا، جسے میں نے اپنے ملک کے لوگوں کو بتانے کی کوشش کی تھی۔ اگر یہ درد پاکستان کے عوام کے پاس پہنچتا تب بھی مجھے خوشی ہوتی ۔لیکن اس درد کا جس طرح سے مذاق پاکستان کے میڈیا نے یا پاکستان کی سرکار نے بنایا، اس کا مجھے بہت افسوس ہے اور دل سے اس کے لئے میرے دل میں دُکھ ہے ، اور تب میں نے پاکستان کی ذہنیت کا تجزیہ کرنا شروع کیا۔ میں نے پایا کہ پاکستان ہمارے درد کا فائدہ اٹھانے کی کوشش تو کرتا ہی ہے، اس درد کا کارو بار بھی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
دراصل کشمیر کے مسئلے کا جتنا نقصان پاکستان نے کیا ہے، اتنا دنیا میں کسی اور نے نہیں کیا ہے۔ کشمیر کے لوگ اپنی لڑائی ، چاہے وہ سیلف ریسپکٹ کی ہو، آزادی کی ہو، وقار کی ہو، حق کی ہو، بہت سالوں سے لڑ رہے ہیں۔ وہاں کے نوجوانوں کی اپنی تکلیفیں ہیں، جسے وہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ سرکار سنے۔لیکن پاکستان، کشمیر میں واقع ہونے والے کسی بھی واقعہ کو اپنے ذریعہ کیا ہوا بتانے لگتا ہے۔ کشمیر میں کوئی جلوس نکلے، فوراً پاکستان کی کوئی تنظیم آکر کہے گی کہ ہم نے لوگوں سے کہا کہ جلوس نکالو۔ کشمیر میں کہیں پتھر چلے تو پاکستان کا کوئی گروپ کہے گا کہ ہم نے کہا کہ پتھر مارو۔ کچھ بھی کشمیر میں ہوتا ہے ، کشمیر کے لوگ اپنے خون اور اپنی زندگی سے اس کی عبارت لکھتے ہیں ۔لیکن اس کوشش کو ہمیشہ پوری طرح چرانے کی کوشش پاکستان کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس سے ہوتا یہ ہے کہ یہ لڑائی کشمیریوں کی نہیں، پاکستان کی لڑائی بن جاتی ہے۔پاکستان وہاں پر کچھ کررہا ہے،پاکستان پیسے بھیج رہا ہے، پاکستان اسکول جلوا رہا ہے اور تب مجھے ہنسی آتی ہے کہ جو پاکستان اپنے کو نہیں سنبھال پا رہاہے، وہ پاکستان کشمیر کے نام پر اپنی تنظیموں، جس میں آئی ایس آئی، حزبل،جماعت الدعوۃ شامل ہیں، کو کھلی چھوٹ دیتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے درد کا دنیا میں کارو بار کریں۔پھر ہوتا کیا ہے کہ ساری دنیا میں پاکستان میں بیٹھی کچھ تنظیمیں مسلمانوں سے کشمیریوں کی مدد کے نام پر پیسے مانگتی ہیں اور ان پیسوں سے پاکستان میں ان کے محل کھڑے ہو رہے ہیں، ان کے بچے بیرونی ملکوں میں پڑھ رہے ہیں۔ وہ کشمیریوں کے درد کا جو کارو بار کرتے ہیں، اس کی کہانی خود پاکستان کے ٹیلی ویژن پر سنی جاسکتی ہے۔ جس مسئلے کو دونوں ملکوں کے لوگ محبت سے حل کرنا چاہتے ہیں، اس مسئلے کو پاکستان میں ہی بیٹھی کچھ تنظیمیں کارو بار کا ایک بہت کامیاب ذریعہ بنا چکی ہیں۔
جب میں نے دیکھا کہ پاکستان کا میڈیا میرے اس خط کا استعمال کشمیریوں کے درد کو بھٹکانے اور کشمیر سمیت پورے ہندوستان کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہاہے تو مجھے ان کے اوپر ،اپنے ملک کے اس میڈیا سے زیادہ غصہ آیا جو کشمیر کے مسئلے کو نہیں سمجھتے ہیں۔
میں یہاں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اگر پاکستان کی سرکار، پاکستان کا میڈیا اور پاکستان میں بیٹھی وہ تنظیمیں جو ہندوستان میں دہشت گرد بھیجتے ہیں، کشمیر کے مسئلے سے اپنے کو الگ کرلیں تو کشمیر کے لوگ اور ہندوستان کی سرکار اس مسئلے کو حل کرنے میں بہت زیادہ وقت نہیں لگائیں گے۔ اس مسئلے کو حل سے دور لے جانے کا کام پاکستان کے لوگ کر رہے ہیں۔
اتنا ہی نہیں، پاکستان میں اگر ہمت ہے، تو اسے ساری دنیا سے کہنا چاہئے کہ ہم پاکستان کے قبضے میں آنے والے کشمیر کے ہر حصے سے اپنی فوج ہٹا لیں گے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی تجویز میں ہے۔ ہم وہاں کے شہریوں کو یہ سہولت دیں گے کہ وہ ہندوستان کے حصے والے کشمیر میں جاکر، بات چیت کرکے، پورے کشمیر میں رائے شماری کی بات کریں۔ پاکستان نے تو آج تک اس کا کمٹمنٹ کیا ہی نہیں ۔صرف کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کبھی مشرف صاحب نے کہا تھا۔ مشرف صاحب نے جو کہا تھا، وہ پاکستان کی سرکار کا کمٹمنٹ نہیں تھا۔ اس کمٹمنٹ کو دوبارہ پاکستان کی سرکار کو دوہرانا چاہئے اور ہندوستان کی سرکار کے سامنے یہ تجویز دینا چاہئے کہ ہم یہ یہ چیزیں کرنے کے لئے تیار ہیں۔ آپ اس پر ہمیں جواب دیجئے۔ اس کی جگہ وہ کہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ پہلے حل کرو۔ کشمیر کا مسئلہ حل کیسے ہوگا؟پاکستان کی طرف سے بات چیت کے ٹرم آف ریفرنس کیا ہیں؟
ویسے پاکستان کا نصیب اچھا ہے۔ اسے ہندوستان میں دانشمند دلال ملے ہوئے ہیں۔ وہ دانشمند دلال اس کا کام بخوبی کررہے ہیں۔ پہلے، پاکستان کتنا طاقتور ہے، پاکستان کیسے ہندوستان کی ناک میں انگلی کر سکتا ہے، آنکھ میں انگلی کر سکتا ہے، یہ سمجھانے کے لئے اسے اپنا تشہیری میکانزم استعمال کرنا پڑتا۔لیکن ہندوستان میں دانشمند دلال، جو کانگریس اور بی جے پی دونوں میں ہیں، یہ پاکستان کا گانا گانے میں استاد ہیں۔ ہر چیز کے پیچھے پاکستان، ہر برائی کے پیچھے پاکستان، ہر کمزوری کے پیچھے پاکستان، ہر بد عنوانی کے پیچھے پاکستان۔پاکستان اتنا بڑا ہے، جو ہندوستان کو جب چاہئے تب ہلا دے۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ 125کروڑ کا ملک ہے، چاہے وہ منموہن سنگھ کا زمانہ رہا ہو یا نریندر مودی کا زمانہ ہو۔ کیا نریندر مودی جی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان اتنا طاقتور ہے کہ جب چاہے تب انڈیا کو ہلا دے، جب چاہے تب ہندوستان کی پالیسیاں بدلوا دے، جب چاہے تب ہندوستان کو بے عزت کر دے۔ میرا اپنا ماننا ہے کہ شاید ایسا نہیں ہے۔ لیکن پاکستان کو بڑا بنانے میں ہندوستان کے دانشمند دلالوں کا بہت بڑا رول ہے۔یہ ٹیلی ویژن میں بھی چیختے چلاتے ہیں اور پرنٹ میں بھی لکھتے ہیں۔ انہیں پہچاننا ضروری ہے اور یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان طاقتور نہیں ہے، ہندوستان طاقتور ہے۔ پاکستان کی حیثیت نہیں ہے، ہندوستان کی حیثیت ہے۔لیکن میں پھر کہوں گا کہ پاکستان اس مسئلے میں خوش نصیب ہے کہ اسے ہندوستان میں دانشمند دلال ملے ہیں، جو اس کی تشہیر اپنے پیسے پر، اپنی زبان سے بے خوف ، بغیر ہچک اور کھل کر کر رہے ہیں۔
یہی افسوس ہے کہ کشمیر کا مسئلہ روز بروز الجھتا جارہاہے۔ بلوچستان میں پاکستان جو کر رہا ہے، اس کا الزام وہ ہندوستان کی فوج کے اوپر لگاتا ہے۔ ہم اگر دونوں طرف کی بات صحیح مان لیں، تو ہندوستان کی فوج بھی جو کررہی ہے، اس سے زیادہ پاکستان کی فوج بلوچستان میں کررہی ہے۔ اسی شمارہ میں ہم نے بلوچستان کے لوگوں کی تکلیف بھی چھاپی ہے۔ کیا پاکستان میرے جیسے صحافی کو، میرے جیسے دوسرے صحافیوں کو، جیسے ہم کشمیر میں آزادی سے گئے، کیا وہ بلوچستان جانے کی آزادی دے گا؟کیا ہمیں پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں گھومنے کی اجازت دے گا؟اگر دے گا، تو ہم مانیں گے کہ پاکستان کے لوگ کشمیر کے مسئلے پر سنجیدہ ہیں اور کشمیر کے مسئلے کو بھٹکانا نہیں چاہتے ہیں، لیکن ہو الٹا رہا ہے۔ پاکستان کسی بھی ایسے موقع کو نہیں گنواتا، جس سے کشمیر کے لوگوں کی جدو جہد کی ساکھ ختم ہو جائے۔ وہ اسے اپنے ذریعہ کیا ہوا کارنامہ بتاتا ہے اور یہ کشمیریوں کو سب سے زیادہ دُکھی بھی کرتا ہے، سب سے زیادہ پریشان بھی کرتا ہے اور سب سے زیادہ مایوس بھی کرتاہے۔ اس لئے، آج میں انکساری سے پاکستان کے میڈیا اور سرکار سے کہنا چاہتا ہوں کہ برائے مہربانی، کشمیر کے مسئلے سے اپنا دھیان ہٹائیے اور اپنے قبضے والے کشمیر پر دھیان دیجئے اور بلوچستان پر دھیان مرکوز کیجئے۔ بلوچستان صرف وزیر اعظم نریندر مودی کے کہنے سے چرچا میں نہیں آیا۔ بلوچستان پہلے سے چرچا میں تھا، لوگوں کی نظر میں نہیں تھا۔ دنیا کی ساری سرکاروں کو اور خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان کی سرکاروں کو، اپنے اپنے زیر اثر علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے حقوق کے لئے زیادہ متنبہ ہونا چاہئے اور تبھی ہندوستان میں جمہوریت کامیاب ہوگی اور تبھی پاکستان میں،جو نام نہاد جمہوریت ہے، اس کو بھی کچھ ساکھ ملے گی۔

ہائی لائٹ:
اس لئے، آج میں انکساری سے پاکستان کے میڈیا اور سرکار سے کہنا چاہتا ہوں کہ برائے مہربانی، کشمیر کے مسئلے سے اپنا دھیان ہٹائیے اور اپنے قبضے والے کشمیر پر دھیان دیجئے اور بلوچستان پر دھیان مرکوز کیجئے۔ بلوچستان صرف وزیر اعظم نریندر مودی کے کہنے سے چرچا میں نہیں آیا۔ بلوچستان پہلے سے چرچا میں تھا، لوگوں کی نظر میں نہیں تھا۔ دنیا کی ساری سرکاروں کو اور خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان کی سرکاروں کو، اپنے اپنے زیر اثر علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے حقوق کے لئے زیادہ متنبہ ہونا چاہئے اور تبھی ہندوستان میں جمہوریت کامیاب ہوگی اور تبھی پاکستان میں،جو نام نہاد جمہوریت ہے، اس کو بھی کچھ ساکھ ملے گی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *