گاندھی جی کے عدم تشددکا مثالی گاؤں کٹرانو

dami00گاندھی جی کے سوراج کا مطلب صرف سیاسی سطح پر غیر ملکی حکومت سے آزادی حاصل کرنانہیںہے، بلکہ اس میںثقافتی اور سیاسی آزادی کاتصور بھی موجود ہے۔ گاندھی جی کا سوراج ’غریب کا سوراج‘ ہے، جوحاشیہ پر رہ رہے لوگوں کی بھلائی کے لیے کسی کو آمادہ کرتا ہے۔ گاندھی جی کی نظر میںمثالی سماجی نظام وہی ہوسکتا ہے، جو مکمل طور پر عدم تشدد سماج ہو۔جہاں تشدد کاتصور ہی غائب ہوجائے گا، وہاں ’سزا‘ یا ’طاقت کے استعمال‘ کی کوئی ضرورت نہیںرہے گی۔ یعنی مثالی سماج میںسیاسی طاقت یا ریاست کی کوئی ضرورت نہیںہوگی۔ گاندھی جی تشدد اور استحصال پر مبنی موجودہ سیاسی ڈھانچے کو ختم کرکے، اس کی جگہ پر ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتے تھے، جوآدمی کی رضا مندی پر مبنی ہو اور جس کا مقصد عدم تشدد کے طریقوںسے عوامی فلاح میں تعاون دینا ہو۔
ان کے اس’ مول منتر‘ کوان کی’ کرم بھومی‘ چمپارن کے ہی ایک چھوٹے سے گاؤں نے بخوبی اپنایا ہے۔بہار میںچمپارن کے گوناہا ڈویژن علاقے میںایک چھوٹا سا گاؤں کٹرانو ہے۔ یہ جمنیا پنچایت کے تحت آتا ہے۔ 2000 کی آبادی والا یہ گاؤ ں آج ملک کے 125کروڑ لوگوں کے لیے ایک مثال بن گیا ہے۔ یہ گاؤں عدم تشدد کی عوامی طاقت کا نمونہ پیش کررہا ہے ۔ آزادی کے بعد سے اس گاؤں میں اب تک ایک بھی مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔ یہاںکے لوگ نہ تو تھانے گئے ہیں اور نہ ہی انھوں نے کبھی کورٹ کچہری کا چکر لگایا ہے۔
اس گاؤں میں اب تک ایسا کوئی جرم واقع نہیں ہوا ہے ، جس کے لیے تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہو۔ اگر ہلکا تنازع بھی ہوا تو اس کا نمٹارہ گاؤں کی سطح پر ہی لوگوں نے کرلیا ہے۔ گاؤں کے مکھیا سنیل کمار گڑھوال نے بتایا کہ اس گاؤں کے لوگ سمجھدار ہیں اور جب کبھی بھی کوئی تنازع ہوتا ہے تو آپس میں بیٹھ کر صلح صفائی کرلیتے ہیں۔ اس گاؤں میں کبھی پولیس نہیںآتی ہے۔ آج تک لوگ کورٹ کچہری نہیںگئے ہیں۔
گاؤں کی خاتون سیمپو دیوی کا کہنا ہے کہ گاؤں میںجھگڑا جھنجھٹ نہیں ہوتا ہے۔ اگر ہوتا بھی ہے تو گاؤں کے لوگ آپس میں نمٹا لیتے ہیں۔بچوںکو ان کے والدین خود شوق سے پڑھاتے ہیں۔
انگریزوںکی غلامی دیکھ چکے گاؤں کے ایک بزرگ کی مانیں تو آج تک اس گاؤں میںپولیس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ جے نارائن مہتو کا کہنا ہے کہ جب ملک آزاد ہواتب سے لے کر آج تک گاؤں میں کبھی کوئی بڑاجھگڑا جھنجھٹ نہیں ہوا اور اگر چھوٹا موٹا کبھی معاملہ ہوتا بھی ہے تو اسے آپس میں بیٹھ کر سلجھا لیا جاتا ہے۔ آدیواسی اکثریت والا یہ گاؤں کافی پچھڑا ہوا مانا جاتا ہے، لیکن اس گاؤںکے لوگوں کی سوچ اور جذبہ ان تمام جدید اور تعلیم یافتہ کہے جانے والے سماج سے کہیں آگے ہے۔
نرکٹیا گنج کے سب ڈویژن کے ایک پولیس عہدیدار امن کمار نے بتایا کہ کٹرانو گاؤںکا ابھی تک کوئی کیس درج نہیں ہوا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ گاؤں میں اس طرح کا کوئی تنازع نہیں ہوتا ہے کہ جس کے لیے مقدمہ درج ہو۔ لوگ اپنی ہی سطح پر معاملات کو سلجھا لیتے ہیں۔ ہم لوگ چاہیں گے کہ ایسے گاؤں کی تعداد اور بڑھے۔
یہاں تھارو لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ا ن لوگوں کے بیچ جوبھی چھوٹا موٹا تنازع ہوتا ہے تو لوگ آپس میں مل بیٹھ کر اسے نمٹالیتے ہیں۔ دراصل تھارو سماج کے ہرگاؤں میں ایک گُمستا ہوتا ہے جس میں گاؤ ں کے سبھی معاملے کانمٹارہ ہوتا ہے۔ اس گاؤں میں  بھی گمستا سطح پر ہی مقامی تنازع کو سلجھا یا جاتا ہے۔ ابھی تک کوئی ایسا معاملہ نہیں ہوا جو تھانہ یا کورٹ کچہری تک پہنچے۔ تھاروؤں میں یہ گاؤںایک مثال ہے کیونکہ یہ باپو کی زمین ہے۔ گاندھی بھتیہروا آشرم کی بغل میںیہ گاؤں واقع ہے۔
بھتیہروا سے مہاتما گاندھی نیبرطانوی راج کو چنوتی دی تھی ۔ 1917کا وہ سال جب ملک کی آزادی کی تحریک کے مرکز میں مہاتما گاندھی آجاتے ہیں۔ ملک میں باپو کے دو اہم آشرم ہیں احمدآباد میں سابرمتی اور مہاراشٹر میں وردھا لیکن بھتیہروا آشرم کی عظمت ان سب سے کئی معاملا ت میں زیادہ ہے۔
گاؤں کے بزرگ ویشنو مہتو کی مانیں تو گمستا کے ساتھ گاؤں کے لوگ بیٹھ کر تنازع کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس وقت قصوروار شخص کو گمستا اور گاؤں والوں کی رضامندی سے سزا بھی دی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص گمستا کا فیصلہ نہیں مانتا، تو اس کی پٹائی کی جاتی ہے۔ ابھی اس گاؤں کے گمستا شیو نارائن گورو ہیں۔ گاؤں کے ہی دیپا نارائن مہتو اور گنگا مہتو میں بھی 10-15سال پہلے زمین کو لے کر تنازع ہوا تھا، جسے گاؤں کے لوگوں نے مل بیٹھ کر گمستا سطح پر سلجھا لیا گیا تھا۔
یہ گاؤں حقیقت میںملک و دنیا کو ترقی اور بھائی چارے کا پیغام دے رہا ہے۔ امن کے ساتھ ترقی کی چاہ کے سبب کٹرانو گاؤں،دیگر گاؤں کے لیے نظیر ہے۔ دیہات کے لوگوں کے بھائی چارے کی مثال اسی گاؤں کو لے کر دی جاتی ہے کہ اس گاؤںمیںپولیس کبھی نہیں آئی ہے، اس گاؤں میں کوئی تنازع نہیں ہوتا ہے اور اگر کوئی تنازع ہوتا ہے تو اسے گاؤں میں ہی نمٹا لیا جاتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *