نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کیسے بنے گا امریکہ پھر ایک عظیم ملک

damiچاہے کوئی پسند کرے یا نہ کرے، پوری دنیاکو چونکاتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کے تاجروسیاست داں 70سالہ ڈونالڈ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کی کبھی خاتون اول اور سکریٹری آف اسٹیٹ رہی ہیلری کلنٹن کو شکست دے دی ہے ۔ ٹرمپ کو 290 اور ہیلری کو 218 الیکٹورل ووٹ ملے ہیں۔ ٹرمپ 20جنوری 2017 کو براک اوبامہ سے امریکہ کے 45ویں صدر کے طور پر حلف لیں گے۔ انتخابی مہم کے دوران سیاسی حکمت عملی سے بے پرواہ ہوکر مشہور تاجر اور دی گرانڈ حیات ہوٹل کے مالک نیز 1987 میں بیسٹ سیلر کتاب ’ دی آرٹ آف دی ڈیل‘کے مصنف ڈونالڈ ٹرمپ نے اندرون امریکہ ایک بڑی آبادی اور بیرون ملک پوری دنیاکواپنا مخالف بنا لیا تھا۔ لہٰذا ان کی کامیابی کے بعد اندرون ملک مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے اور متعدد امریکیوں نے اپنے ہی ملک کا پرچم بھی جلایا۔ بیرون ملک جرمنی و دیگر ممالک میں بھی سنسی رہی۔مسلم ممالک بھی سہمے رہے۔مگر ڈونالڈ ٹرمپ نے نتائج کے اعلان کے بعد جس طرح بردباری اور وسعت نظری دکھائی، اس سے سپر پاور کے آئندہ سربراہ کے خلاف برہمی اور مایوسی کے بادل یقینا چھٹے۔ٹرمپ نے اپنی پہلی تقریر میں خود کو ہر ایک امریکی کا صدر بتایا اور معتدل انداز میں باتیں کی۔ان کی تقریر میں اسلام، مسلم اور امیگریشن مخالف باتیں کہیں موجود نہیں تھیں۔توقع ہے کہ ان کا یہ انداز مستقبل میں باقی رہے گا اور یہ ضروری بھی ہے کیونکہ وہ اب اپنے ملک کی صرف ایک بڑی سیاسی پارٹی کے لیڈر ہی نہیں بلکہ واحد سپر پاور کے سربراہ ہوں گے۔
ویسے انہوں نے جس طرح اپنی کامیابی کو یقینی بنایا،اس سے دنیاکے بڑے بڑے مبصرین یقینا حیرت زدہ ہیں۔ بظاہر لگتا تھا کہ وہ غیر سنجیدہ ہیں اور وہ کب کیاکہہ دیں گے اور کب کیاکریں گے، کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ اندر سے بہت ہی سنجیدہ تھے اور بہت ہی سنجیدگی سے اپنے انتخابی ایجنڈے کو تیار کیا۔ انہوں نے امریکہ کے سفید فام مزدوروں کے غصہ کو پہچانا جن کا خیال تھا کہ ملک غلط سمت میں جارہا ہے۔ امیگریشن کے متعلق لوگوں کے خدشات کو محسوس کیا کہ وہ کنٹرول سے باہر ہے۔یہ بھی محسوس کیا کہ تجارتی معاہدوں سے امریکہ کے محنت کش مزدوروں کو نقصان پہنچا ہے اور یہ ڈیموکریٹس ان کی بندوقیں ان سے چھین لیں گے اور یہ کہ سپریم کورٹ کو مزید لبرل سمت میں جھکایا جائے گا۔
ذرا غور کیجئے ان کی اس حکمت عملی کو جو انہوں نے برہگزیٹ کے تناظر میں اپنے ملک کے لئے بنائی۔ انہوں نے صاف طور پر ’برہگزیٹ پلس پلس ‘ کا وعدہ کیا۔ اندرون و بیرون ملک لوگ سمجھ ہی نہیں پائے کہ یہ کیا ہے؟ٹرمپ کا یہ ماننا تھا کہ جب برطانیہ جیسا ہوش مند اور قدامت پسند ملک مستقبل کی پرواہ کئے بغیر برہگزیٹ کے حق میں ووٹ دے سکتا ہے تو امریکیوں کا بھی ذہن اس بات کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے کہ وہ بھی اپنے مسائل پر زیادہ دھیان دیں۔ تبھی تو انہوں نے نعرہ دیا ’میک امریکہ گریٹ اگین ‘ یعنی امریکہ کو پھرسے عظیم بنائیں۔ یہاں ان کا اشارہ امریکہ کو اندر سے عظیم بنانے کا تھا۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بات کو اہمیت دی کہ امریکہ بہت تیزی کے ساتھ بدل رہا ہے اور واشنگٹن میں بیٹھے سیاست داں اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس لئے سیاست کے باہر کے فرد کے طور پر ان کے پیغام کو لوگوں میں بازگشت سنائی دینے لگی کہ وہ اسٹبلشمنٹ کی دیوار گرا کر اس کی اینٹوں سے جنوبی سرحد پر ایک دیوار بنائیں گے۔ اس طرح امریکہ کی تاریخ میں ایک نیااور حیرت انگیز باب لکھا گیا۔اب ایک شخص جسے حکومت کا کسی بھی طرح کا کوئی تجربہ نہ ہو اور کبھی کسی منتخب عہدے پر نہیں رہا ہو، وہ امریکہ کا نیا صدر ہوگا۔ اب یہ زبردست قوت کے ساتھ وہائٹ ہائوس میں داخل ہوں گے جہاں صدارت کے ساتھ ساتھ سینیٹ اور ایوان نمائندگان ریپبلکن پارٹی کے زیر کنٹرول ہوں گے۔ اس طرح ان کے پاس عہد وفا کرنے کے ذرائع ہوں گے۔ وہ اپنے نامزد شخص سے سپریم کورٹ کی خالی جگہ پُر کریںگے۔ انہیں اس ڈیڈ لاک کا شکار نہیں ہونا پڑے گاجس کا صدر براک اوبامہ کو سامنا تھا۔ انہوں نے امریکہ کو عظیم بنانے کا وعدہ کیا ہے اور اب انہیں اس کو نبھانا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اب دنیا مطمئن ہولے کہ اب بیرون ممالک میں امریکہ اپنی دخل اندازی نہیں کرے گا، جمہوریت کے نام پر کہیں حملے نہیں کرے گا، عراق، لیبیا اور افغانستان جیسے تجربات سے باز آئے گا اور بین الاقوامی طور پر سبھوں کے ساتھ مل کر پُر امن دنیا کی تعمیر کرے گا؟
ہند نژاد امریکیوں نے تاریخ بنائی
ہند نژاد امریکیوں کے لئے امریکہ کے عام انتخابات بہت اچھے اور خوش آئند رہے۔ پانچ ہند نژاد امریکی پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہوئے ہیں۔ اس سے قبل کبھی بھی ایک سے زیادہ ہند نژاد امریکی کو عام انتخابات میں کامیابی نہیں ملی تھی۔ محض ایک فیصد آبادی والے ہند نژاد امریکیوں کی یہ کامیابی امریکی سیاست میں ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی علامت ہے۔ ان کامیاب افراد میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ کیلی فورنیا سے جیتنے والی کملا ہیرس سینیٹ کے لئے منتخب کی جانے والی پہلی ہند نژاد ا امریکی ہیں۔اسی طرح پرملا جے پال بھی ایوان نمائندگان کے لئے منتخب ہونے والی پہلی ہند نژاد خاتون ہیں۔ ان کے علاوہ رادھا کرشنن، روہت کھنہ اور ایمی بیرا بھی ایوان نمائندگان پہنچے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ روایتی طورپر ہند نژاد افراد ڈیموکریٹک پارٹی کے حامی مانے جاتے ہیں اور یہ پانچوں ہند نژاد نو منتخب ارکان پارلیمنٹ اب اپوزیشن بنی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ویسے اس بار کچھ لوگوں نے ریپبلکن پارٹی کو بھی ووٹ دیا ہے۔ ہند نژاد افراد نے ان دونوں پارٹیوں کے لئے کام کیا ہے۔ جنتا دل (یونائٹیڈی ) کے ترجمان کے سی تیاگی کے صاحبزادے بھی ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ٹرمپ کے لئے کام کرنے والی این جی او سے منسلک تھے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *